سیلس مین سے شروع ہوا تھا شاعروادیب رفیق جعفر کا قلمی سفر

''حیدرآباد کے عا بڈس میں زمرودتھیٹر کے سامنے جہاں کتابیں بکتی تھیں، وہاں جے سی پنٹو اینڈ کمپنی کے نام سے ٹائمس آف انڈیا کا ایجینٹ تھا، اسی میں ادبی ٹرسٹ کا اسٹال ہوا کرتا تھا۔ وہیں پر میں نے 30 روپے ماہانہ اجرت پر سیلس مین کا کام شروع کیا۔ اس کے پاس ہی سریش اوبیرائے کی دوکان تھی، جو بعد میں فلموں میں چلے گئے۔ سریش اوبیرائے کے والد میڈکل اسٹور چلاتے تھے۔ ڈراما گروپ کے کئی لوگ وہاں آتے تھے۔ وہیں پر ادیبوں شاعروں اور ڈراما گروپ سے جڑے کئی لوگوں سے میری ملاقاتیں ہوئیں ۔ اسی دوران میں نے بچوں کے لئے کہانیاں لکھنی شروع کر دی تھیں، جو رہنماء، ملاپ اور دوسرے اخباروں میں چھپتی تھیں۔ شاعری کا شوق بھی یہیں سے ہوا۔''

0

پھر زندگی کی فلم ادھوری ہی رہ گئی

وہ سین کٹ گئے جو کہانی کی جان تھے

یہ شعر ممبئی کی فلم انڈسٹری میں کافی مشہور ہوا۔ شعر کے خالق کو حالانکہ فلموں میں بہت بڑی کامیابی نہیں ملی، لیکن زندگی کی الجھنوں کو وہ اپنی قلم کے سہارے ہی سلجھاتے رہے۔ رفیق جعفرکو ان دنوں لوگ پونے کے شاعر کے طور پر جانتے ہیں، لیکن انہیں حیدرآبادی ہونے کا شرف حاصل ہے۔ چار کتابوں کے مصنف ہیں۔ فلمیں لکھ چکے ہیں۔ ای ٹی وی اردو کے سریل `ہماری زینت' کے لئے انہوں نے راپا کا ایوارڈ بھی حاصل کیا۔ طنزو مزاح کے تین ستون(مجتبٰی حسین، مشتاق احمد یوسفی اور یوسف ناظم) اور اردو ادب کے تین بھائی(محبوب حسین جگر، ابراہیم جلیس اور مجتبٰی حسین) جیسی تحقیقی کتابوں کے لئے انہیں سراہا گیا۔ ندا فاضلی نے ان کے بارے میں کہا ہے که ان کا ادبی کردار انہیں کے شب و روز کی دھوپ چھاؤں نے تعمیر کیا ہے۔

پونے کا اعظم کیمپس اور وہاں کا ادبی ماحول رفیق جعفر کے بغیر مکمل نہیں سمجھا جا سکتا۔ لیکن ان کا بچپن اور جوانی حیدرآباد میں بیتا۔ وہ اپنے بچپن کے بارے میں بتاتے ہیں، ''آبا و اجداد فوج سے تعلق رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے که بچپن بھی فوجی انداز میں بیتا، لیکن فوج کا سلسلہ والد صاحب تک ہی چلا۔ دادا حضرت صوبیدار میجر تھے۔ بوئن پلی سکندرآباد کی کنٹونمینٹ کی پینشن لین میں مکان تھا۔ سارا ماحول فوجیوں کا تھا، یہی وجہ ہے که کئی سارے معاملوں میں اس ماحول کا اثر مجھ پر رہا۔ اچانک والد صاحب بیمار ہوئے اور اس کی وجہ سے خاندان بکھر گیا۔ لمبی بیماری کی وجہ سے غربت نے آ گھیرا۔ بوئن پلی سے ہم چاچا کے پاس بیگم پیٹ پولیس کوارٹر میں منتقل ہو گئے۔ چاچا نے سرپرستی تو کی، لیکن تعلیمی سلسلہ جاری نہیں رہ سکا۔ میٹرک کے بعد کسی طرح بی اؤا یل تک پہنچا جا سکا۔

رفیق صاحب آج حالانکہ ایک شاعر اور ادیب کے طور پر ملک بھر میں جانے جاتے ہیں، لیکن کبھی انہیں سیلس مین کے طور پر بھی کام کرنا پڑا ہے۔ ان دنوں کی یاد کرکے وہ کہتے ہیں؛

''عا بڈس میں زمرودتھیٹر کے سامنے جہاں کتابیں بکتی تھیں، وہاں جے سی پنٹو اینڈ کمپنی کے نام سے ٹائمس آف انڈیا کا ایجینٹ تھا، اسی میں ادبی ٹرسٹ کا اسٹال ہوا کرتا تھا۔ وہیں پر میں نے 30 روپے ماہانہ اجرت پر سیلس مین کا کام شروع کیا۔ اس کے پاس ہی سریش اوبیرائے کی دوکان تھی، جو بعد میں فلموں میں چلے گئے۔ سریش اوبیرائے کے والد میڈکل اسٹور چلاتے تھے۔ ڈراما گروپ کے کئی لوگ وہاں آتے تھے۔ وہیں پر ادیبوں شاعروں اور ڈراما گروپ سے جڑے کئی لوگوں سے میری ملاقاتیں ہوئیں ۔ اسی دوران میں نے بچوں کے لئے کہانیاں لکھنی شروع کر دی تھیں، جو رہنماء، ملاپ اور دوسرے اخباروں میں چھپتی تھیں۔ شاعری کا شوق بھی یہیں سے ہوا۔''

رفیق جعفر کو حالات اور ماحول نے بہت کچھ سکھایا، بلکہ یہی ان کے استاد بھی رہے۔ سیاست کی بانی ایڈیٹر عابد علی خان اور محبوب حسین جگر صاحب نے حوصلہ افزائی کی۔ کبھی کبھی تو جگر صاحب موضوع دیکر مضمون لکھاتے تھے۔ ریڈیو پر بھی موقع ملنے لگا۔ جگر صاحب ریڈیو سنا کرتے تھے۔ جب پروگرام کے بعد ان سے ملا قات ہوتی تو جیب سے ایک چٹھی نکالتے اور بتاتے که ریڈیو کے فیچر میں زبان و بیان کی کیا غلطیاں ہوئی ہیں۔ لوگوں کی اصلاح کے لئے ایسی کئی چٹھیاں ان کی جیب میں رہتی تھیں۔ سیاست ان دنوں حیدرآباد کا پہلا اخبار تھا، جس میں مضامین لکھنے والوں کو پیسے دیے جاتے تھے۔ یہی دور تھا جب مجتبٰی حسین اور مصطفٰے کمال سے ان کی ملا قات ہوئی۔ حیدرآباد سے باہر کے اخبارات میں بھی چھپنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ انہیں دنوں ہفتہ وار منصف شروع ہوا تھا۔ اس میں تبصرے اور موضوعات دیکر مضامین اور کتابوں پر تبصرے لکھوائے جاتے۔ 

رفیق جعفر بتاتے ہیں؛  ''تبصرے پر پانچ روپے ملا کرتے تھے۔ امجد باغی نے نیا 'عدم' اخبار شروع کیاتھا۔ ساتھ ہی وہ انڈین نیوز نام سے ایک ایجینسی بھی چلاتے تھے۔ اس کے لئے میں نے رپورٹنگ شروع کی۔ احسن علی مرزا اس معاملے میں رہنمائی کرتے تھے۔ انہیں دنوں میری شادی ہوئی۔ جب شادی ہوئی تو ما ہانا آمدنی 40 روپے کے آس پاس ہوا کرتی تھی۔ گھر کا کرایا اور دوسری پریشانیاں سب اسی سے دور کرنے کی کوشش کی جاتیں۔ کچھ دنوں تک انتخاب پریس میں بھی کام کیا۔''

ممبئ صرف فلم میں اداکاری کرنے والوں کے لئے پرکشش نہیں ہے، بلکہ بڑی تعداد میں شاعر اور ادیبوں کو بھی اس شہر نے اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔ رفیق جعفر اس فہرست میں شامل ہیں۔ وہ بتاتے ہیں،''1971 میں بامبے (اب ممبئی) جانے کے بارے میں سوچا۔ اس بارے میں نے عابد علی خان اور جگر صاحب کو بتایا تو انہوں نے ایسا کرنے سے منع کر دیا، لیکن بعد میں جب میں نے اپنا فیصلہ سنایا تو انہوں نے خواجہ عبدالغفور اور حیدرآبادی ادا کا ر چندرشیکھر کے نام ایک خط دیا، تاکہ وہاں کچھ مدد مل سکے۔ میں ان کا یہ احسان کبھی نہیں بھول سکتا کیونکہ اسی خلوص نے مجھے ممبئی میں اسٹرگل کرنے کا حوصلہ دیا۔ خواجہ صاحب مہاراشٹر کی حکومت میں سیکریٹری تھے۔ میں ان سے ملا ضرور، لیکن کبھی کوئی مدد حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ وہاں بھی اپنا سائیبان حیدرابادی لوگ ہی رہے۔ افسانہ نگار نعیم زبیری کے چھوٹے بھائی شمیم زبیری انقلاب میں صحافی تھے۔ بعد میں انقلاب کے ایڈٹر بھی بنے۔ وہ کہکشاں فلمی پرچہ نکالتے تھے۔ اس کے لئے لکھنے کا آفر دیا۔ اس سے خاطر خواہ آمدنی نہیں ہوا کرتی تھی۔ ہندوستان اور اردو ٹائمس کے لئے رپورٹنگ شروع کی۔ اس بہانے فلم والوں سے ملنے لگا۔ ''

''امین سیا نی ریڈیو سلون کے اناؤنسر اور پروڈیوسر تھے۔ ان سے رابطہ ہوا تو انہوں نے کام دینا شروع کیا۔ وہ اپنے حساب کی تحریریں لکھواتے۔ اس طرح کمرشیل رائٹنگ کا تجربہ ہوا۔ 4 برس تک ان کے لئے لکھتا رہا۔ امین صاحب کے پاس روز کوئی نہ کوئی ایکٹر، ڈایریکٹر آیا کرتا۔ ان کے پاس جب وقت نہیں ہوتا تو ان کے رائٹرس گروپ کی جانب سے ہی ان کی میزبانی ہوا کرتی۔ انہیں دنوں میری ملاقاتیں، نوشاد، امیتابھ بچن، راجیندر کمار سمیت چھوٹے بڑے فنکاروں سے ہوئی۔ ممبئی میں کمرشیل رائٹنگ کے دوران بھی میں نے کہانیاں اور شاعری لکھنا نہیں چھوڑی۔ ہندی رسالوں میں کہانی کار اور شاعر کے طور پر پہچان ملی۔''

ہندی فلموں میں جگہ حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔ رفیق جعفر کو بھی فلموں میں ذاتی طور پر اسٹرگل کرنا پڑا۔ وہ جلیل مانک پوری کے چھوٹے بیٹے مشتاق جلیلی کے اسسٹینٹ بن گئے۔ ان کے ساتھ کئی فلموں کے لئے کام کیا۔ خصوصاً راجیش کھنہ کی 'اوتار' کے علاوہ 'دو مسافر'، 'ایک محل ہو سپنوں کا' جیسی فلموں کے لئے اسسٹینٹ کے طور پر کام چلتا رہا۔ انہیں دنوں ٹی وی سریل خزانہ کا کام ملا۔

عزیز قیسی کے لئے اسکرین فٹر لکھے، اسٹوری اسسٹینٹ کے طور پر کام کیا- انہیں دنوں ان کی پہلی کتاب شائع ہوئی۔ وہ بتاتے ہیں،

''1980 میں میری کہانیوں کا مجموعہ `البم' شایع ہوا۔ حالانکہ یہ کتاب مہاراشٹر اکادمی کے تعاون سے شایع ہوئی، لیکن حیدرآباد میں شایع ہونے کی وجہ سے اس کی رسم اجراء بھی حیدرآباد میں ہی ہوئی۔ شگوفہ کے ایڈٹر ڈاکٹر مصطفٰے کمال نے اجرائی کی تقریب منعقد کی۔ عوض سعید، مسیح انجم، احمد جلیس، پرویز یداللہ مہدی، عاتق شاہ اور دیگر لوگوں نے اس میں شرکت کی۔''

ان دنوں گوئل سنے کارپوریشن اسٹوڈیو کے اسٹوری ڈپارٹمینٹ کے ہیڈ مشتاق جلیلی تھے۔ اجے گوئل فلم `رشتہ کاغذ کا' بنا رہے تھے۔ اس کے لئے انہوں نے رفیق جعفر کواپنا اسسٹینٹ بنا لیا۔ راج ببر اور رتی اگن ہوتری فلم میں کام کر رہے تھے۔ مجروح نے گیت لکھے تھے اور روی کا سنگیت تھا۔ اسسٹینٹ ڈایرینکٹر کے طور پر وہ ان کی پہلی فلم تھی۔ انہیں دنوں ایک دلچسپ واقعہ ہوا۔ اس کے بارے میں رفیق جعفر بتاتے ہیں،

''گوئل جہاں بھی ضرورت ہوتی سین کے حساب سے اسکرپٹ لکھانے کے لئے مجھے کام دینے لگے۔ انہیں دنوں نوتن سے ملا قات ہوئی۔ ایک دن انہوں نے کہا، `کب تک اسسٹینٹ بنے رہوگے۔ خود آگے بڑھو۔'پھر انہوں نے راج کھوسلا کے پاس بھجوایا۔ نوتن اس وقت نامی اداکارہ تھیں۔ ایک بار ایک ڈایریکٹر کنور جگدیش کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ ہیروئن کے طور پر کس کو لیں یہ بات جم نہیں رہیں تھی۔ میں نے نوتن کا نام لیا تو انہوں نے کہا که وہ بڑی ہیروئن ہیں، چھوٹے بجٹ کی فلم میں کام کیسے کریں گی۔ لیکن میں نے کہا، میں ان کو راضی کر لوں گا۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا، لیکن نوتن سے جب میں پروڈیوسر اور ڈایریکٹر کے ساتھ ملا تو انہوں نے بغیراسکرپٹ دیکھے کہا که رفیق بھائی نے لکھی ہے تو اچھی ہی ہوگی اور کام کے لئے راضی ہو گئیں۔ پہلی بار میں نے ذاتی طور پر کام کیا اور `اولاد کی خاطر' فلم بن کر تیار ہو گئی۔ فلم نے اوسط بزنیس کیا۔ اس کے بعد `ٹیسٹ ٹیوب بیبی'، `اگنی پریم'،`پتوہو بٹیا' جیسی کئی فلمیں لکھی۔ کچھ تو بن کر منظرے عام پر آئیں اور کچھ تو ڈبے کا شکار ہوگئیں۔ بھوجپوری، گجراتی اور پنجابی فلموں کے لئے بھی لکھ کر کام چلا لیا۔''

سریلوں کا زمانہ شروع ہوا تووہ ایکتا کپور کے گروپ میں شامل ہو گئے۔ وہ بتاتے ہیں، ''ٹیلی سریلوں کے لئے لکھنا فلموں سے الگ تھا۔ اتہاس کے 8 سے 10 ایپیسوڈ لکھے۔ یہاں تجربہ اور روپیہ دونوں ملے لیکن نام نہیں، کیونکہ ایکتا کپور کئی لوگوں سے لکھواتیں اور کسی کا نام نہیں دیتیں۔ کچھ ایپیسوڈ میں ہی نام دیا گیا۔ ای ٹی وی جب نیا نیا شروع ہوا تھا۔ ساجد اعظم اس کے لئے سریل بنا رہے تھے۔ مجھ سے `ہماری زینت' کے ڈائلاگ لکھوائے۔ اس سریل نے کئی ایوارڈ جیتے۔ ممبئی میں ایک ایوارڈ کے جلسے میں ای ٹی وی کی طرف سے میں نے ہی ایوارڈ حاصل کیا۔ اس سریل کو کافی سراہا گیا۔ میں نے کئی لوگوں کے لئے گھوسٹ رائٹنگ بھی کی۔ یہاں کسی کا نام اس لئے بھی نہیں لینا چاہتا، کیونکہ گھوسٹ رائٹر کو گھوسٹ ہی رکھنا ٹھیک ہے۔''

ممبئی میں گزارے دنوں کی یادیں تازا کرتے ہوئے رفیق جعفر کہتے ہیں، ''یوں تو کئی دن اکیلے ہی گزارے۔ پھر کچھ حالات سازگار ہوئے تو بیگم کو بھی بلا لیا۔ کرائے کے گھروں میں رہے۔ عرب گلی، گرینیڈ روڑ، ماہیم، باندرہ کئی محلے بدلتے رہے۔ بعد میں ملاڑ میں زمین لے کر اپنا ایک گھر بنایا۔ قلم ہی کی کمائی سے دو لڑکوں اور ایک لڑکی کی شادی کی۔ بیٹی کی شادی کے دوران ہی پونے آئے۔ ممبئی کا گھر بیچ کر یہاں تلیگانوں میں نیا گھر بنایا۔

فلموں میں کام کم ہوا تو شاعری کا رجحان چل پڑا۔ پھر شاعری نے افسانہ نگار اور اور فلم رائٹر کو دبا دیا۔ `موسم سوچ نگر کا' مجموعے کلام کو بہت سراہا گیا۔ پھر تحقیق کا کام شروع ہوا۔ ادب کے تین بھائی اور طنزو مزح کے تین ستون' دو کتابیں اسی تحقیق کی دین ہیں۔''

ان دنوں رفیق جعفر کی ادبی زندگی پر پی ایچ ڈی کے لئے گلبرگہ یونورسٹی سے تحقیق جاری ہے۔

........

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔


کثیر صلاحیتوں کے حامل ۔۔۔۔ عابد سورتی

ایک مکالمے نے بنا دی زندگی... حیدرآبادی اداکار اکبر بن تبر کی دلچسپ کہانی

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem