کینسر متاثرین کے لئے ممبئی کی لوکل ٹرین میں گٹار بجاتے ہیں سوربھ نِمبکر

0
’’ کئی مسافروں کی نظر میں میَں محض اچھے کپڑے پہننے اور گٹار بجانے والابھکاری ہوں لیکن بیشتر مسافرمجھے اور میرے اِس کام کو پسند کرتے ہیں۔‘‘
’’ ہر کسی انسان کے پاس کوئی نہ کوئی ہُنر ضرور ہوتا ہے ۔ اگرچہ مجھے موسیقی کا انتہائی کم علم ہے لیکن گٹار بجانے کے حوالے سے اب یہی ہُنر میری شناخت بن گیا ہے۔‘‘

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں دوسروں کے ہنستے مسکراتے چہرے دیکھ کر اطمینان محسوس ہوتا ہے ، پریشان لوگوں کی زندگی میں تھوڑی سی خوشیاں بکھیر کر انہیں سکون ملتا ہے ۔ ظاہر ہے کام مشکل ہے مگر اِس دنیا میں سب کچھ ممکن ہے ۔ دوسروں کی زندگی میں خوشیاں بکھیرنے والے ایسے ہی ایک انسان کانام ہے سوربھ نِمبکر ۔ ممبئی کے مضافاتی علاقہ ڈومبيولي میں رہنے والے سوربھ نِمبکر اپنے گٹار کے ساتھ اکثر ’امبر ناتھ‘ اور’ دادر‘ ریلوے اسٹیشنوں کے درمیان چلنے والی لوکل ٹرین میں دیکھے جا سکتے ہیں ۔ سوربھ لوگوں کو اُن کے پسندیدہ گانے سناتے ہیں اور اِس کے عوض میں مسافر انہیں پیسے دیتے ہیں ۔ جو پیسے سوربھ کو ملتے ہیں اُن پیسوں سے وہ غریب کینسر متاثرین اور اُن کے خاندان کی مدد کرتے ہیں ۔

بچپن سے ہے لوگوں کو تفریح فراہم کرنے کا شوق

23 سالہ سوربھ بتاتے ہیں ’’مجھے بچپن سے ہی لوگوں کو تفریح مہیا کرانا اچھا لگتا تھا ۔ کالج کے دِنوں میں میَں اور میرے دوست لوکل ٹرین میں گٹار بجاتے اور گانا گاتے ہوئے جاتے تھے ۔ کئی بار تو دیگر مسافر بھی ہمارے ساتھ گانا گاتے تھے ۔‘‘ سوربھ نے بائیوٹیک اور بائیو اینالیٹكل سائنسز میں گریجویشن کیا ہوا ہے اور فی الحال ایک فارما کمپنی ’اِنوینٹیا ہیلتھ کیئر‘ پرائیویٹ لِمیٹیڈ میں کام کررہے ہیں ۔ اپنے کیریئر کے اِس نازک موڑ پر ہونے کے باوجود سوربھ کئی ماہ سے مسلسل ہفتے میں تین دِن لوکل ٹرین میں مسافروں کی بھیڑ کے درمیان گانا گاتے ہیں ۔

کالج کے دنوں میں سوربھ نے گٹار کے کچھ نوٹس سیکھے تھے لیکن موسیقی کے تئیں محبت نے انہیں ایک اُستاد تک بھی پہنچا دیا تھا ۔ حالانکہ اُن کی آواز کبھی اتنی بہتر نہیں رہی کہ انہیں اسٹیج پر گانے کا موقع ملتا ۔ سال 2013 میں سوربھ کی ماں کو کینسر کی وجہ سے ممبئی کے ’پریل‘ علاقہ میں واقع ’کِنگ ایڈورڈ میموریل‘ اسپتال میں داخل کرنا پڑا ۔ سوربھ نے بتایا ’’جب میری ماں اسپتال میں تھیں تو ایک دن میَں وہاں اپنا گٹار لے کر چلا گیا ۔ جب میَں نے وہاں گٹار بجانا شروع کیا تو مریضوں کے رشتہ داروں کو کافی سکون کا احساس ہوا ۔ اِسی سکون بھرے احساس نے مجھے آئندہ بھی لوگوں کے لئے گٹار بجانے کی ترغیب دی ۔ اس کے بعد میں اکثر وہاں جاتا اور لوگوں کے لئے گٹار بجاتا ۔ اس بارے میں جب میَں نے اپنی ماں کو بتایا تو وہ بھی بہت خوش ہوئی تھیں ۔‘‘

نیا موڑ

اسپتال میں داخل کرنے کے ایک سال بعد سوربھ کی ماں کا انتقال ہو گیا اور سوربھ نے اسپتال جانا چھوڑ دیا، لیکن اس دوران وہ کینسر کے مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کو ہونے والی تکلیفوں کو اچھی طرح سے جان گئے تھے ۔

سوربھ کہتے ہیں ’’ہمارا معاشرہ سبھی جگہ غریب اور امیر کے درمیان امتیازی سلوک کرتا ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے کینسر مریضوں کے علاج کے بِل ادا کرنے کے وقت یہ امتیاز نہیں برتا جاتا جبکہ یہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے ۔ مریض کے علاج میں خرچ ہونے والی بڑی رقم کی وجہ سے ان غریب خاندانوں کی زندگی جہنم ہو جاتی ہے ۔ اگرچہ بہت سے اِدارے کینسر کے مریضوں کے علاج کا خرچ برداشت کرتے ہیں لیکن خاندان کی دیگر ضروریات انهیں توڑ کر رکھ دیتی ہیں ۔ کینسر کے مریض کے علاج میں بے شک 3 سے 4 لاکھ کا خرچ آتا ہے لیکن مریض کے ساتھ خاندان کے لوگوں کے رہنے کی وجہ سے یہ خرچ 2 سے 3 لاکھ روپئے اور بڑھ جاتا ہے۔ بڑا سوال یہی ہے کہ ایسے خاندانوں کی مدد کون کرے؟ ‘‘

اچھے لباس میں گٹار کے ساتھ بھکاری

سوربھ کہتے ہیں کہ میَں نے فیصلہ کیا کہ مجھے وہی کام کرنا چاہئے جو میَں اپنے کالج کے دِنوں میں کرتا تھا،یعنی لوکل ٹرین میں گٹار بجا کرمسافروں کی تفریح کرنا ، مگر اب میَں اُن سے ’دان‘( عطیہ )بھی لوں گا۔ مجھے پتہ تھا کہ میَں مدد کرنا چاہتا ہوں لیکن میرے سامنے کئی سوال تھے ۔ کیا لوگ مجھ پر یقین کریں گے؟ میَں اپنی سچائی کس طرح اُن پر ثابت كروں گا؟ اِن تمام مشکلات کا اندازہ لگاتے ہوئے سوربھ نے ایک غیر سرکاری تنظیم کے ساتھ منسلک ہونے کا فیصلہ کیا ۔ اس این جی او کے نام کے ساتھ سوربھ نے ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں مسافروں کی تفریح کیلئے گٹار بجانا شروع کیا ۔

آہستہ آہستہ سوربھ کی اِس کوشش میں عام لوگ بھی شامل ہونے لگے ۔ کچھ مسافر تو اُن سے اپنے پسندیدہ گانوں کا مطالبہ بھی کرنے لگے تاہم کچھ مسافراُن پر تنقید بھی کرتے ۔ سوربھ بتاتے ہیں کہ کئی مسافروں کی نظر میں میَں محض اچھے کپڑے پہننے اور گٹار بجانے والابھکاری ہوں لیکن بیشتر مسافرمجھے اور میرے اِس کام کو پسند کرتے ہیں۔ کئی بار ایسا بھی ہوتا کہ جب کوئی مسافر میرے گٹار بجانے پر اعتراض کرتا اورگانا بند کرنے کے لئے کہتا تو دوسرے مسافر اُسے ایسا کرنے سے روکتے اور مجھ سے گانا جاری رکھنے کے لئے اصرار کرتے۔

سوربھ بتاتے ہیں کہ میرے لئے وہ اچھّا دِن ہوتا ہے جب مجھے 800 سے 1000 روپے تک عطیہ مل جاتا ہے ۔ لوگ مجھے 10 سے لے کر 500 روپے تک عطیہ دیتے ہیں ۔ اِس رقم سے کینسر متاثرین کے خاندان کی مدد کی جاتی ہے ۔ سوربھ کے مطابق وہ سوچ سمجھ کر اور دیکھ بھال کر ہی کسی لوکل ٹرین میں سوار ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں ۔ زیادہ ہجوم والی ٹرین میں نہیں چڑھتے کیونکہ انہیں گٹار بجانے کے لئے جگہ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اِس کے علاوہ بالکل خالی ٹرین میں بھی انہیں سفر کرنا پسند نہیں ہے کیونکہ وہاں عطیہ دینے والے مسافر کم ہوتے ہیں ۔

سب مِل کر کچھ کر سکتے ہیں

سوربھ کہتے ہیں کہ ہر کسی انسان کے پاس کوئی نہ کوئی ہُنر ضرور ہوتا ہے ۔ اگرچہ مجھے موسیقی کا انتہائی کم علم ہے لیکن گٹار بجانے کے حوالے سے اب یہی ہُنر میری شناخت بن گیا ہے۔ سوچئے اگرکئی لوگ ایسا ہی کوئی ’آئیڈیا‘ لے کر سامنے آئیں تو کیا صورتِ حال ہوگی۔ کیا یہ صحیح نہیں ہو گا؟ اگر نہیں، تو پھر میرا خیال ہے کہ ہر شخص کو اپنی تنخواہ کا ایک فیصد حصّہ اپنے علاقے کی ایسی تنظیم کو دینا چاہئے جو معاشرے کی فلاح و بہبود کے لئے کچھ کام کر رہی ہو ۔اِس نیک خیال کو عملی جامہ پہنانا مشکل تو ہے لیکن ناممکن نہیں ہے ۔ سوربھ کے اِس فلاحی کام اورطریقے پر لوگ توجہ دے رہے ہیں اور اِس کے ساتھ ہی انہیں مختلف تجاویزاور طرح طرح کے صلاح و مشورے بھی دے رہے ہیں ۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں پیسہ جمع کرنے کے لئے اپنا ایک میوزکل بینڈ شروع کر دینا چاہئے ۔ جبکہ سوربھ کا کہنا ہے ’’ میوزکل بینڈ شروع کرنے سے میرا مقصد متاثر ہو سکتا ہے اور لوگوں کی نظروں میں اِس فلاحی کام کےمعنی و مطلب بدل سکتے ہیں۔ اپنے مقصد کے لئے تنہا کام کرتے ہوئے میَں لوگوں کو یہ احساس دِلاناچاہتا ہوں کہ میری ہی طرح انفرادی طور پرکوشش کرکے، اپنی صلاحیتوں کو بروئے کارلاکرہرانسان کسی ضرورت مند کی مدد کر سکتا ہے اور میرے کام کو دیکھ کر لوگ سوچنے لگے ہیں کہ وہ بھی کچھ کر سکتے ہیں۔