شہرت کی نئی بلندیوں کو چھونے والے فنکار : سلیم اللہ والے

0

وہ طبلہ نواز کے طور پر مشہور ہیں، لیکن جب محفل جمی تو ہارمونيم پر بھی اپنا کمال دكھايا اور پھر جب فرمائش ہوئی توغزلیں بھی سنائی۔ بات سلیم الله والے کی ہے۔ وہ بھوپال کی اس زمین کے باصلاحیت فنکار ہیں، جہاں کی صلاحیتوں کو دنیا بھر میں سراہا گیا ہے۔ آكاشوانی کے گریڈ ون طبلہ نواز تو ہیں ہی، لیكن دیگر موسیقی کے آلات پر بھی زور آزمائی کر لیتے ہیں اور کبھی کبھی تک دھنادھن کے سلسلے کو انگليوں سے گلے تک بھی لےجاتے ہیں۔

بھوپال سے نکل کر سلیم نے نہ صفرف ملک کی راجدھانی دہلی بلکہ جےپور، حیدرآباد، ممبئی، غرض ہر شہر میں اپنے فن کے جلوے بکھیرے ہیں، اپنی فنكاری کا مظاہرہ كرتے ہیں تو لوگ واہ واہ بولنے سے اپنے آپ کو روک نہیں پاتے۔

یور اسٹوری سے بات چیت کے درمیان ۔ سلیم الله والے بتاتے ہیں کہ ان کا تعلق دہلی اگراڑا اور فرخ آباد گھرانے سے ہے۔ دوسرے انہوں نے آگرہ اور پٹيالا گھرانے کا سبق بھی حاصل كيا ہے۔ بتاتے ہیں'

''اجداد دیواس کے مہاراجہ کے شاہی موسیقار ہوا کرتے تھے۔ موسیقی سمراٹ رجب علی خان کا کافی نام تھا۔ ان کے دادا نبی بخش خان گلوکار تھے۔ والد استاد ددو خان اندور کے آكاشوانی سنٹر سے جڑے تھے۔ ننهال (راجستھان) میں امین محمد خان بھی بڑے موسیقاروں میں گنے جاتے ہیں۔ اس طرح راجستھان اور مدھیہ پردیش دونوں جگہ سے جو کچھ وراست میں ملا میں نے اسے حاصل كيا۔''

سلیم نے رياض اور شوق سے اپنے فن کو نكھارا۔ اس فن کو وسعت دے کر انہوں نے اپنی نئی نسل تک بھی پہنچایا۔ آج ان کے بیٹے سمیع خان بھی کافی شہرت رکھتے ہیں۔

بھوپال ہندوستانی ثقافت کے لئے زرخیز زمین مانی جاتی ہے۔ سلیم الله والے بتاتے ہیں'

''یہاں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا، جس دن کوئی گیت، غزل یا موسیقی کا پروگرام نہ ہو۔ ایک تو بھارت بھون جیسی خوبصورت جگہ ہے، جہاں آئے دن ملک اور بیرون ملک کے آرٹسٹ اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ مشہور زمانہ موسیقار پنڈت روی شنکر کے استاد استاد علاء الدین صاحب کی یاد میں بنائی گئی اکیڈمی کا بھی یہی حال ہے، سال بھر میں 50 سے زیادہ پروگرام اکیڈمی کرتی ہے۔ بھوپال آرٹ اور ادب کا بڑا مرکز ہیں، جہاں بشیر بدر اور منظر بھوپالی جیسے شاعر ہیں تو حبیب تنوير جیسے ڈرامہ نگار رہ چکے ہیں۔ لطیف خان صاحب سارنگی کے بڑے استاد رہ چکے ہیں۔ شکیلہ بانو کی قووالياں لاکھوں لوگوں کی یادوں کا حصہ ہیں۔ منور معصوم نے بین الاقوامی سطح پر اپنی الگ شناخت بنائی ہے۔''

آکاشوانی کے ساتھ شمال مشرقی سروس میں سلیم صاحب نے ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کے لئے کافی کام كيا ہے۔ ان دنوں کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں، ''1989 میں میگھالیہ کے دارالحکومت شلانگ میں میرا تقرر کر دیا گیا تھا۔ یہاں میں نے دیکھا کہ پورا ماحول مغربی موسیقی میں رنگا ہوا ہے۔ لوگوں کے ہاتھوں میں مغربی آلات ہی نظر آتےہیں۔ وہاں میں سات سال تک رہا۔ میں نے ہزارہا لوگوں کوہندوستانی طبلہ سكھايا۔ ساتھ ہی مجھے بھی مغربی کلاسیکی موسیقی سے کئی چیزیں سیکھنے کو ملیں۔ خاص کر فیوژن کا ماحول بنانے میں وہاں کافی کامیابی ملي۔ ''

`ردمك 'کے عنوان سے سلیم نے موسیقی کو ایک نیا ذائقہ ديا ہے۔ ان کا یہ پروگرام كافی پسند كيا گیا ہے۔ اس کے بارے میں وہ بتاتے ہیں کہ کوئی بھی موسیقی، چاہے وہ ہندوستانی کلاسیکی ہو یا پھر مغربی کلاسیکی، اس سے جڑے کہیں نہ کہیں لوک موسیقی سے منسلک ہوتی ہیں، لیكن عام شخص کو لوک موسیقی میں جو مزہ آتا ہے، وہ کلاسیکی موسیقی کو اپنے اتنا قریب نہیں پاتا۔ اس فاصلے کو دور کرنے کے لئے انہوں نے ردمك کا سہارا ليا۔

`ردمك ' میں گھومر، بھانگڑا، اور مدھیہ پردیش، اڈيسا، اسميا کے لوک موسیقی کی اسناف سے شروعات کی جاتی ہے اور جب لوگ لوک دھنوں پر جھومنے لگتے ہیں تو آرٹسٹ لوک موسیقی سے کلاسیکی موسیقی کی تال میں اتر جاتے ہیں۔ اس سے سننے والے کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ لوک موسیقی سے کلاسیکی موسیقی میں کب داخل ہو گیا اور وہ دونوں سے یکساں طور لطف اندوز ہوتا ہے۔

`میں طبلے کی بنا نہیں جی سکتا۔ ' کہنے والے یہ فنکار غزل کو اپنی جان مانتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ان کے والد غزل بہت اچھا گاتے تھے، یہی وجہ ہے ان غزل گانے کا شوق بھی رہا اور اس میں بھی انہوں نے پہلا گریڈ حاصل كيا۔ ان کا خیال ہے کہ ۔۔۔

طبلہ بجانا کافی رياض طلب کام ہے۔ ایک طبلہ نوازاکیلے تواپنے فن کے کئی پہلو دكھاَ سکتا ہے، لیكن جب ہم آہنگ کرنا ہو تو آرٹسٹ کے گانے کی سطح تک پہنچ کر ان کا ساتھ دینا کافی مشكل ہوتا ہے۔ ایسے میں محنت، رياض، سپردگی اور ہر وقت کچھ نہ کچھ سیکھنے کا احساس ہی فنکار کو زندہ رکھتا ہے۔ وہ نئے پن کے ساتھ اپنی روایت کو جی سکتا ہے، جو لوگ ایسا نہیں کر پاتے وہ دوسروں کی نقل بھر تک سمٹ کر رہ جاتے ہیں۔

نوجوان فنکاروں کے لئے سالیم کی خاص شكايت ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں ہے، لیكن ريالٹي شوز میں حصہ لینے والے فنكار کاپی سے آگے نہیں بڑھ پا رہے ہیں۔ انہیں چاہئے کہ دوسروں کے گائے ہوئے گیتوں سے ہٹ کر اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارنے کی کوشش کریں۔ انہیں ان کی خودی سے مستقبل کو روشن بنانا ہوگا۔ نقل ان کے فن کو بہت دنو تک زندہ نہیں رکھ سکتی۔



کچھ اور دلچسپ کہانیوں کے لئے FACEBOOK پر جائیں اور لائک کریں۔


اردو سے بے پناہ محبت کا حیرت انگیز جزبہ .. ریختہ فاؤنڈیشن کے سنجیو سراف کی کہانی

یہ کہانی بھی پڑھئے۔

یہ کہانی بھی پڑھئے۔




پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem