مٹی میں جان ڈالنے کے فن میں ماہر 'کلے اسٹیشن'

0

کمہار جب پہیہ گھماتا ہے تو اس پہئیے کو گھومتا دیکھ کر کبھی آپ کے دل میں بھی مٹی سے خوبصورت اشیاء بنانے کا خیال آیاہو تو پھر آپ کے لئے ایک مثالی جگہ موجود ہے۔ جی ہاں، اس جگہ آکر آپ کو اپنی قوتِ متخیلہ کو پرواز کی آزادی دینے کے علاوہ اپنے فن کارانہ ہاتھوں سے مٹی کو شکل دینے یا پہیہ گھمانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ یہ جگہ ہے بنگلور میں اور اس جگہ کا نام ہے 'کِلے اسٹیشن' جس کے بانی ہیں گنیش منک وساگم جو پیشے سے ایک سافٹ وئر انجینئر ہیں۔

گنیش اپنی 12 سالہ بیٹی کے سامنے خود کو 'کلے اسٹیشن' کا بانی بتانے سے پرہیز کرتے ہین کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ دراصل اس اعزاز کی حقدار ان کی بیٹی ہے۔ اور ہو بھی کیوں نہ؟ یہ اس کا ہی خیال تھا جو آج سے کچھ برس قبل ان کے اپارٹمنٹ کے احاطے میں لگنے والے میلے میں چھوٹی سی میز پر پروان چڑھا تھا۔

یہ 2006 کے ابتداء کی بات ہے۔ امریکہ میں آئی معاشی مندی کے منفی اثرات ان ہندوستانیوں کو زیادہ بھُگتنے پڑرہے تھے جن کے کاروباری تعلقات اس سپر پاور کے ساتھ تھے۔ اسی دوران بنگلور کے رہنے والے گنیش ، جو ماضی میں ایک امریکی کمپنی ٹیکناٹس میں کام کرچکے تھے، اپنے پانچ پرانے دوستوں کے ساتھ مل کر ہندوستان میں ایک نئی کمپنی شروع کرنے کے بارے میں غور و فکر کر رہے تھے اور ان لوگوں کی اکثریت ایک ٹیک کمپنی کھولنے کے حق میں تھی۔

لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ گنیش بتاتے ہیں کہ "ہم لوگوں نے ایک امریکی کمپنی کے ساتھ شراکت کی بات شروع کی ہی تھی کہ اسی اثناء میں بازار لڑھک گیا اور آج جب مین ماضی کی طرف دیکھتا ہوں تو لگتا ہے کہ جو کچھ ہوا، وہ اچھا ہی ہوا۔ میں 2003 میں ہندوستان واپس آگیا اور ایک ڈاٹا اسٹوریج کرنے والی کمپنی کے لئے کام کرنا شروع کردیا۔"

گیشن اس زمانے کو یاد کرتے ہوئے کہتےہیں کہ 2006 میں اپنے پرانے دوستوں سے ہوئی ملاقات کے دوران وہ کچھ غیر تکنیکی کام کرنا چاہتے تھے۔ چونکہ ان کے سبھی دوست تکنیکی پس منظر کے حامل تھے اس لئے انہوں نے ان کی تجویز کو رد کردیا اور سبھی دوست اپنے اپنے راستے پر آگے بڑھ گئے۔

کچھ نیا کرنے کی مہم پروان نہ چڑھ سکی اور ایک دن فرصت کے لمحات میں ان کی بیٹی نے انہیں ایک ایسا خیال دیا جس نے ان کی زندگی ہی بدل کر رکھ دی۔ "ایک دن ایسے ہی میری بیٹی کاویہ نے ہمارے کامپلکس میں لگنے والے میلے میں ایک اسٹال لگانے کی فرمائش کی اور میں اسے انکار نہیں کرسکا۔ انہی دنوں ہم لوگ کمہاروں کی بستی سے مٹی سے بنی کچھ اشیاء خرید لائے تھے جنہیں ہم نے اپنے اسٹال پر مظاہرے کے لئے رکھنے کا فیصلہ کیا۔"

اس کے علاوہ ان لوگوں نے اپنے اسٹال پلر آنے والوں کے کھیلنے کے لئے کچی مٹی بھی رکھی۔ "ہمارا خیال تھا کہ ہمارے اسٹال پر آنے والے افراد اپنی قوتِ متخیلہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مٹی کو مختلف شکلیں دے سکیں۔ اسی وجہ سے ہم نے اپنے اسٹال کا نام رکھا 'کلے اسٹیشن'۔

میلے میں لگائے گئے اس چھوٹے سے اسٹال نے آنے والوں کا دھیان اپنی طرف مبذول کرنے میں کامیابی حاصل کی اور میلے کے اختتام کے بعد بھی کئی لوگ ان سے مٹی کے سامان کے بارے میں پوچھ تاچھ کرتے رہے۔ تبھی انہیں محسوس ہوا کہ مٹی سے بنی اشیاء کا ایک بڑا بازار ان کا انتظار کر رہا ہے۔ لوگوں کے ردِ عمل سے تحریک پاکر گنیش کر محسوس ہوا کہ اب ان کا بن واس ختم ہوگیا ہے اور انہوں نے بنگلور میں ایک فلیٹ کرائے پر لے کر دو کاریگروں کے ساتھ مٹی کے سامان تیار کرنے کا اپنا اسٹوڈیو شروع کردیا۔

2008 میں گنیش نے تجربہ کار، فعال اور مٹی سے کچھ نیا بنانے کی خواہش رکھنے والے کمہاروں کے لئے وقف کرتے ہوئے اس کا نام تبدیل کر کے 'کلے اسٹیشن آرٹس اسٹوڈیو پرائیویٹ لیمیٹیڈ' رکھ دیا۔ جلد ہی یہ جگہ آس پاس کے علاقوں میں مٹی کے فن کاروں اور فن کے پرستاروں کا پسندیدہ اڈہ بن گئی۔ لیکن ان کا سفر اتنا آسان بھی نہیں رہا۔ ایک سال گزرجانے کے بعد مالک مکان نے انہیں جگہ خالی کرکے اپنا اسٹوڈیو کسی دوسری جگہ لےمنتقل کرنے کو کہہ دیا۔

اپنے آغاز کے ایک برس کے اندر ہی 'کلے اسٹیشن' بنگلور کے فن فن کے پرستاروں کے دلوں میں اپنی جگہ بناچکا تھا۔ ایسے وقت میں ان میں سے کچھ خیر خواہ ان کی مدد کے لئے سامنے آئے۔ "میرے فن کار دوست اور معاون بانی آگسٹین زیوئر نے اس اسٹوڈیو کو تیار کرنے میں کافی وقت، پیسہ اور محنت صرف کیا تھا اور اسے کسی دوسری جگہ منتقل کرنا بڑا مشکل کام تھا۔ ایسے وقت میں میرے سابق طلباء ہماری مدد کے لئے آگے آئے۔ ایک خاتون نے ہمیں اپنا اسٹوڈیو شروع کرنے کے لئے اپنے گھر کی چھت دے دی۔ " حالانکہ اس جگہ کو اسٹوڈیو کی شکل دینے کے لئے بہت تبدیلیاں درکار تھیں لیکن یہ جگہ فن کاروں کے لئے ایک مثالی جگہ ثابت ہوئی۔

اس وقت یہ اسٹوڈیو مٹی کا سامان بنانے کے سبھی اوزاروں سے لیس ہے۔ کمہار کا پہیہ، مٹی، ٹیرا کوٹا، تیار سامان کو خشک کرنے کے لئے بھٹا جیسے سبھی ضروری سامان یہاں دستیاب ہیں۔ "اس کےعلاوہ یہ اسٹوڈیو ایک ایسا ڈِزائن سینٹر ہے جہاں فن کے پرستار لوگ آرڈر دے کر اپنی پسند کی اشیاء تیار کرواسکتے ہیں اور مٹی کے فن کار ان لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔"

اس کے علاوہ 'کلے اسٹیشن' مختلف عمر کے لوگوں اور خصوصی طور پر بچوں کے لئے خاص نصاب بھی چلاتا ہے جہاں آکر لوگ مٹی کی اشیاء بنانا سیکھ سکتے ہیں۔ "مٹی کی اشیاء کی تیاری کا ورکشاپ اور ایک فن کار کا مندر ہونے کے علاوہ یہ ایک ایسی جگہ کے طور پر بھی مشہور ہے جہاں سے فن کے پرستار مٹی کے فن سے متعلق کسی بھی سامان کو خرید کر اپنے گھر لے جا سکتے ہیں۔"

'کلے اسٹیشن' کو اس کی موجودہ شکل تک پہنچانے کا راستہ اتنا آسان نہیں رہا ہے۔ جدوجہد کے ایام کو یاد کرتے ہوئے گنیش بتاتے ہیں کہ ابتدائی دنوں میں کئی دوستوں نے انہیں معاشی مدد فراہم کی لیکن کچھ عرصے پہلے انہوں نے کاروبار کو فروغ دینے کے لئے سنگاپور میں رہنے والے بالاکرشنن سے معا شی مدد حاصل کی اور اب وہ ان کے ساتھ مینیجر ہیں۔

گنیش کے سفر میں سب سے زیادہ قابلِ ذکر بات یہ رہی کہ ایک 'نا فنکار' نے بغیر کسی تربیت کے اپنے سامنے آنے والے مواقع کو منافع کا ذریعہ بنالیا اور ملک بھر کے مٹی کے فن کاروں کے لئے ایک نیا راستہ کھول دیا۔ اس کے علاوہ وہ اس کام کے گُر سیکھنے کے لئے تقریباً تمام ملک کے کمہاروں کے پاس بھی جاچکے ہیں اور کئی ریاستوں کے کمہار ان کے ساتھ وابستہ ہوکر ترقی کر رہے ہیں۔

"میں 'اپنے کام کو لطف اور مزے سے کرنا چاہیے' کے اصول پر عمل کرتا ہوں۔ شائد یہی میری کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔ ایک وقت وہ بھی تھا جب مجھے اس کام کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا لیکن میں نے کمہاروں، فنکاروں اور دکانداروں سے بات چیت کے علاوہ یوٹیوب کا سہارا لیا اور زیادہ تر باریکیوں سے خود واقفیت حاصل کی۔"

اس کے علاوہ گنیش نے بازار کی تحقیق اور نئے مواقع کی تلاش میں کافی وقت لگایا اور اپنے تیار کردہ سامان کے ساتھ ہی وہ ایک جاپانی کمپنی 'شَمپو سیرامکس' کے بنائے سامان بھی ہندوستانی پرستارانِ فن کے لئے فراہم کروا رہے ہیں۔ انہوں نے بڑے پیمانے پر اپنے پروڈکٹس کو تیار کرنے کے لئے ایک بڑی کمپنی کے ساتھ انضمام بھی کیا تھا لیکن جلد ہی انہوں نے اپنے قدم واپس کھینچ لئے۔

یوں مٹی سے کھلونے بنانےاور اپنی قوتِ متخیلہ کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کےلئے شروع کیا گیا ایک کام اب پوری طرح سے ایک ارتقاء یافتہ اسٹوڈیو کی شکل اختیار کرچکا ہے اور تقریباً دم توڑچکی مٹی اور کمہار کے پہیہ کو ایک نئی دنیا سے متعارف کروارہا ہے۔

تحریر: نِشانت گوئل

مترجم: خان حسنین عاقبؔ