حیدرآباد کی نمائش ... ایک کشش ہے جو کئی نسلوں کو اپنی جانب کھینچتی چلی آرہی ہے

0


کل ہند صنعتی نمائش ملک بھر کے شائقین، کاروباریوں و صنعتکاروں کو کئی نسلوں سے اپنی طرف متوجہ کرتی آ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے بیٹوں نے اپنے والد کے بعد اس نمائش کا رخ کیا ہے۔ کشمیر سے آنے والے خشک میواں کے تاجر، چنئی کی چاك لںگی اور حیدرآباد کے بڑے میاں كبابس انہی میں سے کچھ ہیں۔

کشمیر کے سرینگر سے آئے رئیس احمد مخدومی بتاتے ہیں کہ وہ سب سے پہلے جب اس نمائش میں آئے تھے توصرف 5 برس کے تھے۔ ان کے والد اسد اللہ مخدومی چاہے کوئی موسم ہو نمائش ضرور آتے تھے۔ حالانکہ ان دنوں سرینگر سے حیدرآباد آنا کافی مشکل ہوا کرتا تھا۔ کافی سارا وزن ساتھ لے کر پہلے دہلی اور پھر اس کے بعد قاضی پیٹ آنا پڑتا تھا۔ یہاں سے حیدرآباد کے لئے ڈبے تبدیل ہوتے تھے، لیکن والد صاحب نے نمائش آنا نہیں چھوڑا۔ رئیس بتاتے ہیں،

'' وہ غریبی کے دن تھے۔ 20 کلو میوے لاکر پاو پاو پو کلو کے پیکٹوں میں باندھ کر فروخت کرتے تھے۔ حیدرآباد میں اچھا کاروبار ہوا کرتا تھا۔ دوسری بات یہ کہ جو لوگ جانتے ہیں کہ اصلی ڈرائی فروٹ یہاں ملتے ہیں تو وہ ڈھوڈھتے ہوئے اس اسٹال پر ضرور آتے تھے۔ بعد میں تو ایسا ہوا کہ یہاں سے گزرنے والے اکثر چہرے جان پہچان کے نکلنے لگے۔''

نمائش میں بچوں کے گمنے، ڈھونڈنے اور بعد میں مل جانے کی عجیب وغریب یادیں ہزاروں لوگوں کے ساتھ ہیں۔ رئیس کے مطابق، وہ جب اپنے والد کے ساتھ آتے تھے تو اتنا یاد رکھتے تھے کہ ان کی دکان ریل پٹريوں کے پاس ہے۔ بس اگر کہیں گم ہونے کا احساس ہوتا تو پٹریوں کے کنارے، کنارے چلتے وہاں پہنچ جاتے۔ آج نمائش سے پٹرياں غائب ہیں۔ لیکن رئیس کو اس کی فکر نہیں ہے۔ کہتے ہیں کہ آج کل کے بچے سیل فون پر ان کے والدین کے رابطے میں رہتے ہیں۔

رئیس احمد بتاتے ہیں کہ حیدرآباد شروع سے ہی کشمیری تاجروں کی پسند رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں،''یہ چھوٹا ہندوستان ہے۔ یہاں سب طرح کے لوگ ملتے ہیں۔ لکھنؤ، دہلی، ممبئی، گجرات، راجستھان، بنگال، پنجاب ہر جگہ کا آدمی یہاں آتے ہیں۔یہا وجہ ہے کہ لوگ بعد میں بھی فون کر کے بھی ضروری چیزیں منگاتے ہیں۔''

رئیس بتاتے ہیں کہ کرگل سے جہ سلابجیت (پتھر کا پسینہ) آتا ہے، وہ بہت کم جگہ ملتا ہے، اس کےلئے بھی لوگ نمائش میں کشمیری دکانوں کی تلاش میں نکل جاتے ہیں۔ کشمیری بھی جب پہلے یہاں آتے تھے تو ہیاں سے جاتے ہوئے برقعے اور چوڑیاں لے جاتے تھے، لیکن اب یہ دونوں چیزیں وہان ملنے لگی ہیں۔ کشمیری شال، ساڈياں، اور دیگر اشیاء کے تاجروں کی بڑی تعداد نمائش میں ہوتی ہے۔

چنئی کی محمد ابوبکر چانك لںگی کی اسٹال بھی برسوں سے یہاں لگتی رہی ہے۔ اس کے مقامی ایجنٹ محمد ميراں بتاتے ہیں کہ چالیس سے پینتالیس سال سے ان کی اسٹال نمائش میں لگتی ہے۔ وہ بہت چھوٹے تھے۔ ان کے والد صاحب اس میں تعاون کرتے رہے ہیں۔ چنئی سے کمپنی خود اس کے لئے لوگوں کو بھیجتی رہی ہے۔ شہر میں ایسے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جو یہ جانتے ہیں کہ نمائش میں چانك لنگی کی اسٹال ہوگی اور وہ ضرور پہنچ جاتے ہیں۔

کھانے پینے کی اشیاء کی بہت سارے اسٹالس میں میں بڑے میاں كباب کافی بڑی اسٹال ہیں۔ اس کا اور نمائش کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جب سے نمائش ہے، اس وقت سے بڑے میاں کی اسٹال بھی ہے۔ '

اس خاندان کے کئی لوگ اب اسی نام سے الگ الگ ریستراں چلاتے ہیں۔ سراج الدین بتاتے ہیں کہ ان کے پڑدادا حاجی سید اسماعیل نے یہ کاروبار شروع کیا تھا۔ جب وہ کاروبار کرتے تھے تو لوگ ان کا نام نہیں جانتے تھے۔ ان کی عمر کو دیکھ کر لوگ انہیں بڑے میاں بلاتے تھے اور پھر ان کی برینڈ کا نام بھی وہی پڑ گیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ نمائش میں آج اسٹال لگانا کافی مہنگا ہے، لیکن ایک سلسلہ ہے جو جاری ہے اور بڑے میاں کی نئی نسل اسے جاری رکھنا چاہتی ہے۔

اس طرح کی کئی دکانیں ہیں، جنکی دو تین بلکہ چار نسلیں گزر گئی ہیں، لیکن حیدرآبادكی نمائش انہیں آج بھی اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem