تعنوں نے بدل دی زندگی ، جنون کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے کامنی سراف نے کمایا فیشن کی دنیا میں بڑا نام

حیدرآباد کی جانی مانی صنعتکار خاتون کامنی سراف نے آج سے دس بارہ سال پہلے اس وقت فیشن کی نمائشوں کے شعبے میں قدم رکھا تھا، جب لوگ اس کے بارے میں چھوٹے چھوٹے شوز سے آگے کی نہیں سوچتے تھے۔ ان کے بنائے برانڈ 'فیشن یاترا' کو آج سب جانتے ہیں، لیکن اس کے پیچھے چھپی کہانی شاید ہی کسی کو معلوم ہو، ایک ایسی کہانی جو جنون کی حد تک اپنے شوق کو پروان چڑھانے کی عمدہ مثال ہے -

0

زندگی میں گاڑی، بنگلہ، نوکرچاکر، عیش و آرام ہی سب کچھ نہیں ہوتا، بہت کچھ ہونے کے باوجود جب کوئی سکون اور اطمینان کی تلاش میں نکل پڑتا ہے، تو اسے اس کا جذبہ شوق اور خوشی آواز دینے لگتی ہے اور اس آواز کو سن کر اس سمت میں آگے بڑھنے والے لوگ نئی تاریخ لکھتے ہیں۔ اپنے قدموں کے نشان کچھ اس طرح چھوڑجاتے ہیں کہ لوگ اس پر آسانی سے چل کر بھی کامیابی حاصل کریں۔ آج جب تجارتی رپورٹیں بتا رہی ہیں کہ دنیا میں نمائش کا بازار 55 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گا، تو بہت سارے لوگ اس صنعت میں آ رہے ہیں، لیکن حیدرآباد کی کامنی سراف نے آج سے دس بارہ سال پہلے اس وقت فیشنبل اشیاء کی نمائش کے علاقے میں قدم رکھا تھا، جب لوگ اس کے بارے میں چھوٹے چھوٹےشوز سے زیادہ نہیں سوچتے تھے۔

کامنی سراف کو بچپن میں اپنوں کے تعنے بہت تنگ کرتے تھے۔ شہر میں رہنے والے ان كذنس اکثر انہیں گاؤں کا مان کر اپنے سے چھوٹا سمجھتے تھے۔ ان کسے جانے والے فقروں کا کامنی پر یہ ہوا کہ انہوں نے انہِیں سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ کامنی نے طے کیا کہ وہ شہروں میں رہنے والے اپنے كذنس کو کچھ ایسا کر دكھائیں گی جو انہوں نے کبھی سوچا نہیں ہو گا، یہی وجہ ہے کہ کامنی کا دل روایتی صنعت میں نہیں لگا۔ اسٹیل کی بڑی بڑی فیکٹریوں میں شور کرتی مشینوں یا ائیرکنڈشنڈ دفاتر میں وہ اپنا دل رما نہیں پائی اور اس دنیا میں اپنا مقام بنانے نکل پڑیں، جہاں لوگ ایک جھلک سے بے پناہ خوشی پا لیتے ہیں۔ اپنی پسند کا ایک کپڑا خرید کر یا اپنا بنایا ہوا ایک ڈیزائن بیچ کر انمول خوشی حاصل کرنے والوں کے درمیان پُل بننے کے لئے اپنا سفر شروع کیا اور آج انہوں نے اپنے مقصد کو پا لیا ہے، جو بہت سے لوگوں کی صرف خواہش ہی بنا رہتا ہے۔ کامنی سراف فیشن سفر کی بانی تو ہیں ہی ساتھ ہی انہوں نے حیدرآباد میں مشہور ڈذانرو کو جگہ دینے والا اپنا شو روم اگسوتر قائم کیا ہے۔

كامنی سراف کا بچپن بڑا دلچسپ رہا۔ جھارکھنڈ کے دھنباد میں ایک چھوٹی،مگر بہت مشہور جگہ، بكارو سٹیل سٹی، جھریا کول مائنس اور سدھیر پھرٹلاذر کے آس پاس کا وہ علاقہ جو بڑے شہروں میں نہ رہنے کے باوجود کم مشہور نہیں تھا۔ اپنے اس بڑے سے خاندان کو یاد کرتے ہوئے کامنی بتاتی ہیں،

بیسایکڑ پر پھیلا گھر، پھول اور سبزیوں کے باغ، کئی پھیكٹرياں اور ٹاٹا جیسی کمپنیوں کے مالکان کا گھر آنا جانا، ایک بڑے سے مشترکہ خاندان کے 5 لڑکیوں اور تین لڑکوں میں وہ ہر کام میں آگے رہتی تھی۔ چچا، دادا، تایا چاچا سب مجھے فیکٹری گھماتے تھے۔ دوائی دینا ہوتا تو دادا بولتے کہ پہلے دوائی کے بارے میں پڑھو، اس کا استعمال کیا ہے اور اس کے سائیڈ ایفیكٹ کیا ہیں اس کے بارے میں جانو اور پھر کھلانا۔

ایک بڑے صنعتی خاندان میں پلی بڑھیں کامنی کو صبح 7 بجے اٹھنا پڑتا اور اپنے دادا کے خط لکھنے پڑتے، اسٹینو بننا پڑتا۔ اسی سادےپن کو دیکھ شہروں میں رہنے والے ان کے كذنس انہیں کم نگاہ سے دیکھتے تھے۔ وہ بتاتی ہیں،

- كذنس، دہلی ممبئی اور کولکتہ میں رہتے تھے، جب ہم وہاں جاتے تھے وہ ہمارے ساتھ ایسا ٹریٹ کرتے تھے کہ ہم گاؤں سے آئے ہیں، ان سے کمتر ہیں۔ حالانکہ میں ہمیشہ ڈیزائن میں ان سے بہتر تھی۔ ماسی، پھوپھی، چاچی تمام لوگ مجھے کچھ نہ کچھ کام لگا ہی دیتے، گھر کے پردے صحیح لگا دو، شادی ہے تو بلاز ٹھیک کر دو، پرانی ساڑھی کو ٹھیک کرنا ہے، جیسے بہت سے کاموں کے لئے میرا نام آگے رہتا تھا۔ اس کے باوجود میں ان کے لئے گاؤں کی تھی۔ میرے كذنس کا خیال تھا کہ میں چھوٹی جگہ سے ہوں تو پالش نہیں ہوں۔ اسی دن میں نے سوچ لیا تھا کہ ایک دن میں بتا دوں گی کہ میں کیا ہوں، تم مجھے خود بلاوگے اور میں تم سے اوپر پہنچ کر بتاوگی۔

آج جو لوگ دبلی پتلی صحت مند کامنی سراف کو دیکھتے ہیں، انہیں شاید ہی پتہ چلے گا کہ کبھی وہ اپنے موٹےپن کی وجہ ساتھی ہم جماعت طالبات کے تعنوں کا شكار بھی رہی ہوں گی۔ اپنی عمر کے گھر کے دوسرے بچوں کو پڑھانے والی، دادا کے نوٹس لکھنے والی ذہین سمجھی جانے والی کامنی سراف جب ساتویں کلاس میں پڑھ رہی تھیں، اچانک ان کا وزن بڑھنے لگا تھا۔ ساتھی لڑکیاں ان کا موٹاپا کو چڑھانے لگی تھیں۔ اپنے موٹاپے کے باوجود کامنی کلاس میں اول آتی تھیں۔ ایک دن ایسا واقعہ پیش آیا کہ انہوں نے طے کر لیا کہ وہ دبلی ہو کر دكھائیں گی۔ اس واقعہ کو یاد کرتے ہوئے کامنی بتاتی ہیں،

- حالانکہ ہمارا خاندان اس چھوٹی سی جگہ کے بادشاہ کے طرح تھا۔ پھر بھی بچپن میں میں گھر میں خاموش نہیں رہتی تھی۔ اس کے باوجود اچانک میرا وزن بڑھنے لگا تھا۔ اسکول میں یہ روایت تھی کہ اول آنے والے کو دوسرے طالبات پالکی میں بٹھا کر گھماتے۔ جب میں سب سے اول آئی تو لڑکیوں نے تعنہ مارا کہ اب اس بھینس کو پالکی میں اٹھانا پڑے گا۔ میں نے یہ سنا اور پالکی میں بیٹھنے سے انکار کرتے ہوئے کہا، ۔۔۔ بفیلو ہوں نا ایک دن ضرور تم کو میں بکری بن کر بتا دوں گی۔ اور پھر روزانہ جاگنگ کو جانا شروع کیا۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ میں نے اسے اپنی زندگی کا معمول بنا رکھا ہے۔ ان دنوں جم بھی جاتی ہوں، بغیر کسی رکاوٹ کے۔

کامنی سراف کو بچپن ہی سے کتابیں اور رسائل پڑھنے کا شوق تھا۔ وہ ملک اور دنیا کے بارے میں خوب جانتی تھیں۔ 12 ویں کے بعد آگے کی تعلیم کے لئے وہ کولکتہ آ گئیں۔ یہاں انہوں نے فیشن اسکول میں داخلہ لیا، لیکن یہ کورس مکمل نہیں کر پائی۔ فیشن اسکول میں دو تین ماہ ہی جا پائیں تھیں کہ ان کی شادی حیدرآباد کے ایک کاروباری خاندان میں کر دی گئی۔ یہاں انہوں نے کچھ دن بعد اپنے خاندان کی فیکٹریوں کا کام بھی دیکھا۔ جب رادھا سمینٹرس لمیٹڈ کی شروعات ہوئی تو انہوں نے برینڈنگ اور ایڈورٹازنگ کی ذمہ داری سنبھالی، پھر بھی ان کا ذہن اس طرف زیادہ نہیں لگا۔ فیشن کی دنیا میں کچھ کام کرنے کی دھن کے چلتے انہوں نے اپنی سہیلیوں، دوستوں اور جان پہچان والی خواتین کیے بنائے گئے کپڑوں کے چھوٹے چھوٹے شوز مقامی سطح پر منعقد کرنے لگیں۔ کامنی بتاتی ہیں،

- فیشن میرا جذبہ تھا، میرا دل یہاں تھا، یہاں مجھے خوشی ملتی تھی۔ میں نے چھوٹے شوز شروع کی۔ دہلی اور کولکتہ سے جب حیدرآباد لوگ آتے، میں ان کے لئے گھریلو سطح کی نمائش کا اہتمام کرنے لگی۔ میں نے اپنے دوستوں جان پہچان والوں کو نمائشوں میں بلانا شروع کیا۔ وہ بہت بڑے ڈیزائنر نہیں تھے، گھریلو سطح پر چیزیں بناتے تھے، کولکتہ میں گھر میں بیٹھ کر کپڑے بنانے والی خواتین تھیں، ہاؤس وائف تھیں، وہ بہت اچھے کپڑے پہنتی تھی، میں نے ان سے کہا کہ ڈذانگ شروع کر دو میں فروخت کرونگی۔ بہت عورتیں سامنے آئیں اور آج وہ گلیمرس ساڈياں بنا رہی ہیں۔ میری ایج کی بھی اور مجھ سے بڑی بھی۔ ایسے میں جان پہچان بڑھی اور اتنے لوگ رابطے میں آئے کہ ان کے مختلف شوز کرنا مشکل ہونے لگا۔ تین چار لوگوں کے لئے کر سکتی تھی، سب کے لئے کس طرح کروں۔ نہ کروں تو لوگ مغرور اور نہ جانے کیا کیا کہنے لگے۔ سال 2004 میں خیال آیا کہ کیوں نہ سب لوگوں کو ایک جگہ جمع کروں اور پھر شرو ہوئی فیشن یاترا۔

فیشن یاترا کی پہلی بڑی نمائش 2006 میں منعقد کی گئی۔ كامنی بتاتی ہیں کہ یہاں ان کے ایک سہولت کار کا کردار میں کام کرکے خوشی ہونے لگی۔ ان کا خیال تھا کہ سب اپنا اپنا فروخت کریں گے۔ ایک روپیہ ان کی اپنی جیب سے نہیں گیا، سب نے اپنا اپنا کام کیا۔ پہلی نمائش میں حیدرآباد میں 25 ڈیزائنر تھے دوسرے سال 45 ڈیزائنرز نے حصہ لیا۔ اتنا نام ہوگیا کہ انہیں فیشن یاترا کو چنئی، جے پور کولکتہ، ممبئی، سنگاپور اور دبائی لے جانا پڑا۔ وہ کہتی ہیں،

- اس نے میرے جذبے کی پیاس بجھائی۔ میں اس میں خوش ہوتی تھی۔ اس کو کبھی کام کی طرح دیکھا ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چاہے ہسپتال میں ہو یا گھر میں یا سفر میں، ہر جگہ بیٹھ کر میں نے منصوبہ بنایا کرتی تھی۔

کامنی سراف نے اتنی ساری كاميابيوں کے باوجود مشکل دور بھی دیکھا۔ ان کے بھائی کی اچانک موت کے بعد ان کے میکے کی ذمہ داری بھی ان پر آ گئی تھی۔ شوہر کی علالت کی وجہ سے بھی انہیں مشکل دور سے گزرنا پڑا۔ انہیں خود بھی کچھ دن کے لئے ٹیومر کا مسئلہ نے آ گھیرا، لیکن انہوں نے اپنے جذبہ کو دبنے نہیں دیا۔ خاندان کا مکمل تعاون ان کے ساتھ رہا، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے فیشن یاترا کو سمیٹتے ہوئے اپنے خاندان کو بھی کچھ وقت دینے کی ذمہ داری قبول کی۔ آج وہ یہ نمائش صرف حیدرآباد میں کر رہی ہیں۔ انہوں نے اسے بند نہیں کیا۔ اس وجہ سے بھی کہ اس سے ننہی کلی نامی ادارے کی غریب لڑکیوں کی تعلیم کے لئے تعاون جاتا ہے۔ 500 لڑکیاں ان کے تعاون سے اپنی تعلیم آگے بڑھا رہی ہیں۔ اسکول کے لئے واٹر ٹینک اور بلڈ بینک کے لئے عمارت بنانے کا کام بھی فیشن یاترا کی آمدنی سے ہوا ہے۔ اب انہوں نے انگ سوتر پر زیادہ توجہ دینا شروع کیا ہے۔ یہ ان کا برانڈ اسٹور بن گیا ہے۔ یہ اسٹور منیش ملہوترا، نیتا للّا، ارون بہل، پلوی بھیروی جے کشن، پائل سنگھل جیسے مشہور ڈیزائنرز کے لباس کا مرکز بن گیا ہے۔ اسی طرح کے کچھ اور اسٹور وہ کھولنے کی منصوبہ رکھتی ہیں۔ بہت سے ڈیزائنرز کے لئے انگسوترا کے مختلف اسٹور کھولنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

فیشن یاترا کے پیچھے اپنے مقاصد کا ذکر کرتے ہوئے کامنی سراف بتاتی ہیں کہ خواتین کو زیادہ حوصلہ افزائی، ان کو مڈل مین سے بچانا، گاہکوں کے ساتھ براہ راست رابطہ اور بات چیت کا ماحول تیار کرنا ان کا بنیادی مقصد ہے۔ ان کا خیال ہے کہ فروخت کرنے والے لوگ ہوں اور خریدنے والی بھیڑ ہو تو نمائش کامیاب ہوتی ہے۔ نئے لوگوں کو وہ بتانا چاہتی ہیں کہ لوگوں کا خود پر اعتماد بنا رہنا ضروری ہے، کیونکہ آپ پر وہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ کوئی بھی شو صرف آمدنی کو ذہن میں رکھ کر نہ کریں۔ اگر آپ بازار میں بنے رہنا چاہتے ہیں تو مستقبل کو ضرور دیکھیں۔ مناسب اور مفید اخراجات اور سرمایہ کاری کے ساتھ برینڈنگ پر کام کرنا ضروری ہے۔ پلاننگ میں وقت کی پابندی لازمی ہے۔ ڈیزائنرز کو خدمات فراہم کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔ کیونکہ وہ دن ہمارے لئے ایک سال کی کمائی ہو سکتی ہے، لیکن ڈیزائنر کے لئے تو وہ ایک سال کی سرمایہ کاری ہوتی ہے وہ اپنا کلیکشن بنانے کے لئے 6 ماہ سے ایک سال لگا دیتے ہیں ان کے لئے اگر نمائش میں صحیح اور بر وقت انداز میں کام نہ ہو تو پھر ان کا نقصان ہو جائے گا۔

کامنی بتاتی ہیں کہ نمائش کے وقت پر توجہ دینا ضروری ہے تاکہ ان کا کلیکشن فروخت کرن کے لئَے بہت ہوم ورک کرنا ضروری ہے، یہ اس لیے نہیں کہ ہمیں پیسہ کمانا ہے، بلکہ ان کے لئے جو محنت کرتے ہیں، اپنا پیسہ لگا کر ڈیزائن بناتے ہیں، وہ مایوسی نہ ہو۔ وہ کہتی ہیں کہ جو آپ کو صحیح لگتا ہے وہی کرنا چاہئے۔

كہانياں مجھے وراثت میں ملی ہیں. ماں، باپ، چچا، چاچی،خالہ، پھوپھی، نانی دادی، سب کی مختلف کہانیاں تھیں. اسی وراثت کو پاس پڑوس، دوست رشتہ دار، نکڑ، گلی، محلہ، شہر، ملک اور بیرون ملک کے چہروں میں چھپی کہانیوں کے ساتھ ملا کر پیش کر رہا ہوں۔ پسند آئے تو مسکرانا ضرور۔

Related Stories