یہ حوصلوں کی اڈان ہے - ہندوساتان کی پہلی خاتون بلیڈ رنر کرن كنوجيا

- ہندوستان کی پہلی خاتون بلیڈ رنر ہیں کرن كنوجيا ...- ہندوستاں میں منعقد تقریباً میراتھن دوڑ میں حصہ لے چکی ہیں کرن- 2011 میں ہوئے ایک حادثے میں ان کو اپنا ایک پیر گوانا پڑا تھا ...

0


دوڑ کے علاوہ حیدرآباد میں انفوسس کمپنی میں کام کرتی ہیں کرن ...

ناممکن لفظ شاید ان کے لئے نہیں بنا۔ ہارنا تو وہ جانتی ہی نہیں اور رکنا انہوں نے سیکھا نہیں۔ جی ہاں ہم بات کر رہے ہیں ہندوستان کی پہلی خاتون بلیڈ رنر کرن كنوجيا کی، جنہوں نے اپنی ہمت اور صبر کے بل پر ملک میں نام کمایا اور لوگوں کو مشکلات کا مقابلہ کرنے اور آگے بڑھنے کے لئے حوصلہ افزائی کی۔

کرن فرید آباد کی رہنے والی ہے انہوں نے MCA کیا ہے اور وہ حیدرآباد میں انفوسس کمپنی میں کام کرتی ہے۔ سال 2011 میں جب وہ اپنی سالگرہ منانے کے لئے حیدرآباد سے اپنے گھر فرید آباد آ رہی تھی، پلول اسٹیشن کے قریب دو بدمعاشوں نے ان کا سامان چھیننے کی کوشش کی، کرن نے جدوجہد کی لیکن اسی دوران وہ نیچے ٹریک پر گر گئی انہیں فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا جہاں علاج کے دوران ڈاکٹر کو ان کی ایک ٹانگ کاٹنی پڑی۔

یہ کافی مصائب والے لمحات تھے لیکن کرن نے ہار نہیں مانی وہ زندگی بھر رحم کی صورت نہیں بننا چاہتی تھی، انہوں نے دل ہی دل سوچا کہ جو ہوا اس کو وہ اب بدل نہیں سکتی، لیکن اپنے مستقبل کی کہانی وہ خود لكھے گی اپنی کمزوری کو ہی اپنا ہتھیار بنائےگی اور ملک میں ہی نہیں دنیا بھر میں نام کمائیں گی۔

کرن ہمیشہ سے ہی فٹنس کے تئیں کافی توجہ دیتی تھی ۔ وہ ایروبكس کیا کرتی تھی ۔ 6 ماہ کے وقفے کے بعد جب وہ اٹھی تو وہ پھر گر پڑی اور انہیں دوبارہ ہسپتال لے جایا گیا جہاں پھر ان کا آپریشن ہوا اور ڈاکٹر نے انہیں کہا کہ اب انہیں دوڑ دھوپ سے بالکل بچنا ہوگا۔ ان الفاظ کو کرن نے ایک چیلنج کے طور پر لیا اس کے بعد جب وہ اپنے گھر پہنچیں تو سب بھول چکی تھی اور نئے سرے سے اپنی زندگی کو آگے بڑھانا چاہتی تھی ۔ چونکہ کرن گھر کی سب سے بڑی بیٹی تھی وہ خاندان کے متعلق اپنی ذمہ داری کو سمجھتی تھی وہ واپس نوکری کرنے گئی جہاں انہیں ان کے ساتھیوں نے مکمل تعاون کیا۔ انہوں نے ارٹیفیشیل لیگ کا استعمال شروع کیا جس سے ابتدء میں ان کو دقت بھی ہوی۔ حیدرآباد میں انہیں اپنے جیسے بہت سے لوگ ملے کرن ساوتھ ریهیبلٹیشن سنٹر گئی وہاں انہوں نے دیکھا کہ لوگ چل رہے ہیں اور رننگ کے لیے بلیڈ کا استعمال کر رہے تھے وہاں کے ڈاکٹر نے ان کا بہت حوصلہ بڑھایا اور ان کو بلیڈ استعمال کرنے کی ترغیب دی۔ بلیڈ کو لگانے کے بعد کرن نے دیکھا کہ وہ اب اسانی سے چل سکتی تھی ۔اس کے بعد وہاں کے باقی لوگوں نے ایک گروپ بنایا اور ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرنے لگے یہ سب جب ایک ساتھ میراتھن کے لئے نکلے تو انہیں دیکھ کر لوگوں نے بھی ان کا بہت حوصلہ بڑھایا۔ اس 5 کلومیٹر نے سب کو کافیکانیڈنس دیا۔

اس دن کے بعد کرن نے آہستہ آہستہ دوڈنے کی پریکٹس شروع کی، وہ تھوڑا تھوڑا تیز دوڈنے لگی اب حالات ان کے لئے تھوڑی آسان ہونے لگے۔ حیدرآباد رنرس گروپ کے لوگ بھی انہیں کافی سپورٹ کیا کرتے تھے۔ پہلے وہ 5 کلومیٹر دوڈی کچھ وقت کے بعد انہوں نے اپنا ہدف بڑھایا اور 10 کلومیٹر کر لیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنا مقصد 21 کلومیٹر کر دیا۔ وہ خود ہی اپنے آپ سے مقابلہ کرنے لگی اور خود کو اور مضبوط بنانے لگی۔ صبح پریکٹس میں جانا اب کرن معمول بن چکا تھا اور وہ کافی لطفاندوز ہو رہی تھی۔

کرن بتاتی ہیں کہ اگرچہ انہوں نے اپنا ایک پیر گنوایا لیکن اس واقعہ نے انہیں ایک مضبوط انسان بنا دیا۔ زندگی کے تئیں ان کا نظریہ اب کافی مثبت ہو گیا ہے اب وہ زندگی کو زیادہ کھل کے جینا چاہتی ہیں اور اب وہ صرف اپنے لئے ہی نہیں بلکہ باقی لوگوں کی حوصلہ افزائی کر کے ان کی زندگیوں میں بھی تبدیلی لانا چاہتی ہے ۔

آج کرن ہندوستاں کی پہلی خاتون بلیڈ رنر ہے۔ انہوں نے ممبئی، حیدرآباد، دہلیا اور کئی شہروں میں ہونے والے میراتھن دوڈ میں حصہ لیا ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ اس پورے سفر میں افراد خاندان دوست احباب وہ لوگ جو انہیں کبھی نہیں جانتے تھے کا بھرپور تعاوں ملا جو انہیں دوڈتا دیکھ کر ان کے پاس آتے ہیں اور نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔

کرن اب اپنے جیسے لوگوں کی مدد کرتی ہے وہ انہیں آگے بڑھنے کے لیے تربیت دیتی ہے اور ان کا حوصلہ بڑھاتی ہیں۔

دوڈنے کے علاوہ وہ فل ٹائم کام بھی کر رہی ہیں اور دونوں کاموں کو وہ بخوبی انجام دے رہی ہیں۔ کرن بتاتی ہے کہ جیت اور ہار صرف ہمارے زہن میں ہوتی ہے اگر ہم خود پر اعتماد کریں اور زندگی کو مثبت طریقے سے لگیں گے تو کوئی کام مشکل نہیں ہے۔ ہم لوگوں کو خود پر بھروثہ کرنا ہو گا اگر وہ خود پربھروثہ کریں گے تو دنیا ان پر اعتماد کرے گی اور اپنے اچھے کام سے وہ باقی لوگوں کے لئے حوصلہافزای کا ذریعہ بن جائیں گے۔

کرن آنے والے وقت میں بیرون ملک جا کر مختلف میراتھن ریس اور پیرااولمپكس میں حصہ لینا چاہتی ہے اور تمغہ جیت کر ملک کا ناماونچا کرنا چاہتی ہیں۔ کرن بتاتی ہے کہ وہ متوسط خاندان سے ہے اور بلیڈس اور ٹریننگ کا حصول کافی مہنگا ثابت ہو رہا ہے ایسے میں وہ اسپانسرس یا حکومت سے مالی مدد کی امید کرتی ہے تاکہ وہ بیرون ملک جاکر اپنے ملک کا نام روشن کر سکے۔کرن صرف ایک عورت ہی نہیں ہے بلکہ وہ ایک امید ہے۔ کرن لاکھوں لوگوں کو زندگی جینے کا حوصلہ دے رہی ہے۔ وہ ہار نہ ماننے کا دوسرا نام ہے اگر آپ ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو کوئی بھی اس لنک پر کلک کر ان کی مدد کر سکتا ہے۔

https://www.generosity.com/sports-fundraising/kiran-kanojia-for-marathon

تحریر:اسوتوش کھانتوال