جدوجہد اور لگن سے اپنی الگ شناخت بنانے والے میرمحتشم علی خان

محتشم کی زندگی میں اہم موڑ اس وقت آیا جب انھوں نے رامنتاپور میں ایک باڈی بلڈنگ مقابلہ میں ٹائٹل جیت لیا۔ اس ٹائٹل کو حاصل کرنے پر ان کے والد نے ان سے کہاکہ صرف لکڑی کے ٹکڑے کے علاوہ تمہیں اور کچھ حاصل ہوا؟ یہ بات محتشم کے دل کو لگی۔ انھوں نے فیصلہ کرلیا کہ وہ اب کچھ کر کے دکھائیں گے۔

0

مسلسل جدوجہد کامیابی کی کنجی ہوتی ہے۔ انسان اگر کوشش کرے سب کچھ ممکن ہے۔ ان باتوں کو اپنے عمل سے سچ کیا ہے میر محتشم علی خان نے۔ 26 جون 1976ء کوپرانا شہر حیدرآباد کے حسینی علم میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم عالیہ اسکول گن فاﺅنڈری عابڈس سے مکمل کی اور اس کے بعد جب محتشم باڈی بلڈنگ کی جانب راغب ہوئے تو انھوں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ ان کے راستے میں کتنی مشکلیں آئیں گی۔ ان کے ذہن میں بچپن میں صرف کسرت کرنے کی دھن سوار تھی۔

والد میر عبدالمعنی خان آرٹی سی کے ملازم تھے۔ چاچا میر ایوب علی خان جو سعودی گزٹ اخبار سے وابستہ تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ محتشم میڈیسن میں اپنا نام روشن کرے۔ لیکن محتشم کو اپنی منزل کہیں اور نظر آئی۔ یوئر اسٹوری سے ملاقات کے دوران انھوں نے اپنے بچپن کے اس واقعہ کا تذکرہ اس طرح کیا،

”میرے چاچا میر ایوب علی خان نے مجھے میڈیسن میں اپنا مستقبل بنانے کے لئے کہا اور میرے والد کی بھی خواہش تھی کہ میں میڈیسن کے شعبہ میں اپنا نام روشن کروں، جب کہ باڈی بلڈنگ اس کے بالکل مخالف ہے“۔

انھوں نے ایک ایسے شعبہ میں اپنی شہر، ریاست اور ملک کا نام روشن کیا ، جسے وقت کے ساتھ بہت سارے روپ دیکھنے کو ملے۔ ایک زمانہ تھا جب کہ باڈی بلڈنگ کو بعض لوگ معیوب نظروں سے دیکھتے تھے۔ سڑک چھاپ آوارہ اور لینڈگرابر جیسے نام دیئے جاتے تھے۔

باڈی بلڈنگ کا شعبہ منتخب کرنا ان کے لئے نہایت مشکل تھا اس کاتعلق سے وہ جذباتی انداز میں بتاتے ہیں،”شروع میں گھر میں کوئی بھی یہ نہیں چاہتاتھا کہ میں باڈی بلڈنگ کو اپناﺅں، گھر والے مجھے میڈیسن کے شعبہ میں دیکھنا چاہتے تھے۔ “ ۔ ابتدائی مقابلوں میں انھیں دو تین مرتبہ شکستوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا۔ اس وقت کے باڈی بلڈر عیسیٰ مصری سے نے ٹائٹل جیتا تھا ۔ لیکن شکست نے ان کے حوصلے کم نہیں کئے بلکہ وہ ناکامی کو کامیابی سے بدلنے کی جدوجہد کرنے لگے۔

منزل پر جن کی نظر ہوتی ہے وہ راستہ کی تکالیف کو نہیں دیکھتے۔ محتشم کے راستے میں کافی تکالیف آئیں۔ سب سے اہم مسئلہ ڈائٹ کا تھا۔ جیسا کہ اس شعبہ کو جاننے والے اس بات سے واقف ہوں گے کہ یہاں پر بہت پیسے خرچ کرنے پڑتے ہیں،اس تعلق سے پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ”باڈی بلڈنگ کے لےے ڈائٹ بہت اہم ہوتی ہے۔ انڈا، جوس ، چکن وغیرہ کے لےے روزانہ 400تا500 روپے اور ماہانہ لگ بھگ 40000روپے خرچ کرنا پڑتا تھا۔ پیسوں کے انتظام کے لےے ابتدائی دنوں میں جم میں بطور کوچ خدمات انجام دینا پڑا، کسی کی اسپانسرشپ بھی نہیں تھی“۔

محتشم کی زندگی میں اہم موڑ اس وقت آیا جب انھوں نے رامنتاپور میں ایک باڈی بلڈنگ مقابلہ میں ٹائٹل جیت لیا۔ اس ٹائٹل کو حاصل کرنے پر ان کے والد نے ان سے کہاکہ صرف لکڑی کے ٹکڑے کے علاوہ تمہیں اور کچھ حاصل ہوا؟ یہ بات محتشم کے دل کو لگی۔ انھوں نے فیصلہ کرلیا کہ وہ اب کچھ کر کے دکھائیں گے۔

انتھک محنت کے بعد انھوں نے مسٹر ورلڈ کا رنراَپ ایوارڈ حاصل کیا۔ 2008ءمیں لاس ویگاس امریکہ میں مسٹر ورلڈ مقابلہ میں حصہ لینا ان کے لےے بڑے فخر کی بات تھی۔ انھیں جب اس کی اطلاع ملی تو ملک کے لےے ایک اعزاز کو حاصل کرنے کے لےے کافی پرعزم تھے لیکن ساتھ ہی انھیں کافی مشکلیں بھی پیش آئیں۔ امریکہ جانے کے لےے معاشی مشکلیں بھی پیش آئیں کیوں کہ کسی نے بھی انھیں اسپانسر نہیں کیا تھا۔ تمام تر کوششوں کے بعد وہ تیسرے مقام پر تھے لیکن پہلا نمبر حاصل کرنے والا کھلاڑی ڈوپنگ ٹسٹ میں مثبت پایا گیا جس کی وجہ سے دوسرے نمبر والے کو پہلا اور تیسرے نمبر والے کو دوسرا دیا گیا۔اس طرح محتشم علی خان دوسرے نمبر پر آگئے۔جب وہ ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد اپنے وطن واپس آئے تو چاروں طرف خوشیاں ہی خوشیاں تھی۔ اس تعلق سے انھوں نے بتایاکہ وہ کافی خوشی محسوس کررہے تھے کہ انھوں نے ریاست اور ملک کا نام روشن کیا ہے۔ ان کی کامیابی سے نوجوانوں میں صحت اورجسمانی فٹنس کی طرف کافی توجہ دی جانے لگی۔ یہ بھی ان کی کامیابی کا ایک اثر تھا۔

پھر کیا تھا اس کے بعد انعامات اور ایوارڈوں کا سلسلہ چل پڑا۔ محتشم نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا۔ 2009ءمیں مسٹر یونیورس مقابلہ جو فلوریڈا امریکہ میں منعقد ہوا تھا اس میں VI مقام حاصل کیا۔ 2007اور2008 ءمیں دو مرتبہ مسٹر انڈیا کا میاب رہے۔ اور انھیں برانز میڈل ملا۔ مسٹر ساﺅتھ انڈیا تین بار منتخب ہوئے۔ مسٹرساﺅتھ سنٹرل ریلوے کا ایوارڈ 8 مرتبہ 1998سے2006ء تک حاصل کیا۔ مسٹر حیدرآبادکا ایوارڈ 11 مرتبہ حاصل کیا۔ ہندوستانی باڈی بلڈنگ ٹیم کے کیپٹن 2008اور 2009ءمیں رہے۔

باڈی بلڈنگ کے مہنگے پروفیشن کو پورا کرنے کے لےے کہیں سیٹ ہونا ضروری تھا۔ ایک ایسا موقع محتشم کو بھی ملا۔ ریلوے نیلام سکندرآباد میں ہیوی ویٹ زمرے میں ایک نشست خالی تھی۔ جس کے لےے محتشم نے بھی کوشش کی۔ سیلکشن کے وقت پتہ چلا کہ سنتوش کمار کا انتخاب ہوگیا ہے۔

اس اہم موقع کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ”جب مجھے پتہ چلا کہ میں منتخب نہیں ہوا ہوں تو میں نے دل میں کہا ’الحمدللہ‘ ۔ اللہ میرے لےے کچھ بہتر ہی کرے گا۔ جب میں واپس جانا والا تھے کہ سنتوش کمار نے آکر یہ خوشخبری دی کہ تمہارا بھی سلکشن ہوگیا ہے“۔

1993ء سے باڈی بلڈنگ میں مسلسل جدوجہد کرنے والے محتشم نے قومی اور بین الاقوامی ایوارڈ حاصل کئے۔ انھوں نے اپنی محنت سے آج چار جم بھی قائم کئے ہیں۔ اب وہ چاہتے ہیں کہ باڈی بلڈنگ اکیڈیمی قائم ہو اور حیدرآباد سے ملک اور بیرون نوجوانوں کو مقابلوں کے لےے بھیجا جائے اور ریاست اور ملک کا نام روشن کیاجائے۔ میر محتشم علی خان کی زندگی جدوجہد سے عبارت ہے۔ انھوں نے اپنی محنت، لگن اور جدوجہد سے یہ ثابت کردےا کہ کوشش کرے انسان تو سب کچھ حاصل ہوسکتاہے۔