تین سال اور تین اسٹارٹپ کی بانی ارپتاکھداریا کے ’سائنٹسٹ‘ نے مچائی دھوم

0

ہندوستان آج انٹرپرینیورشپ اور اسٹارٹپ کے دورسے گذررہاہے اور خواتین بھی اس شعبے میں اپنا نمایاں کرداراداکررہی ہیں ۔ انھیں خواتین میں سے ایک ہیں ارپتاکھداریا۔ آج سے چارسال پہلے تک ارپتابڑی کمپنیوں کی برانڈ منیجر تھیں ۔ ٹی اے پی ایم آئی سے ایم بی اے کرنے کے بعد وہ فاسٹ ٹریک اور ٹائٹن جیسی بڑی کمپنیوں کے ساتھ وابستہ ہوکر انھوں نے کامیابی کے زینے طے کئے۔ آج وہ تین الگ الگ اسٹارٹپ کی بانی ہیں ۔ زندگی کو مضحکہ خیز بتانے والی ارپتاکا کہناہے کہ ہمیں نہیں معلوم ہوتاکہ زندگی ہمیں کس موڑ پر لے جائے گی۔ ارپتاکے ایپ ’سائنٹسٹ‘ کا انتخاب ہندوستان کی جانب سے موبائل پریمیئر ایوارڈ کے لئے ہواہے۔ اس سلسلے میں وہ بہت پرجوش ہیں ۔ یہ ایوارڈ رواں مہینے کے آخر میں بارسلونا میں دیئے جائیں گے۔

’سائنٹسٹ‘ کو ارپتاکی گیم اور ایپ بنانے والی کمپنی ’بیزیرک‘ نے تیارکیاہے۔ یہ ایک منطقی کھیل ہے۔ ’سائنٹسٹ‘ کو بنانے کا آئیڈیاانھیں ایک دن ٹی 9فون کو استعمال کرتے ہوئے آیا۔ انھوں نے دیکھا کہ ایک کی کو بارباردبانے پر الگ الگ لفظ آتے ہیں اور اسی کو جب الٹادباتے ہیں تو وہ ایک گیم کا پیٹرن بن جاتاہے۔ اس سے وہ حیران ہوگئیں ۔ تب انھوں نے کاپی رائٹ کے لئے 135ممالک میں درخواست گذاری جس کے بعد وہ بہت ہی مسرور تھیں ۔ انھوں نے اپریل 2015میں فلپ کارٹ پر اس گیم پزل بک کو لانچ کردیا۔ بغیر کسی تشہیر کے ہی اس پزل بک کو لوگوں کے درمیان کافی پزیرائی ملی اور انھوں نے اس کی ڈیڑھ لاکھ کاپیاں فروخت کردیں ۔ ارپتانے دیکھاکہ ان کی 80فیصد فروخت ان اسٹالوں پر ہوئی جو انھوں نے لگائی تھیں ۔

پھرانھوں نے اس ایپ کے اینڈرائڈ ورژن کو دسمبر 2015میں لانچ کردیااور جنوری 2016میں اس کا آئی اوایس ورژن بھی لانچ کردیا۔ ارپتاکا کہناہے کہ اس گیم کا استعمال بچوں کی منطقی قوت بڑھانے کے لئے کیاجاسکتاہے۔ فی الحال وہ مختلف اخبارات سے بات چیت کررہی ہیں تاکہ وہ ایک کھیل کو کراس ورڈ کے طورپر پیش کریں ۔ ساتھ ہی ان کے اس گیم کو فیس بک اسٹارٹ بکسٹیپ ٹریک پروگرام کے تحت فہرست بند کیاگیاہے جس میں فاتح کو 30ہزار ڈالر کا انعام دیاجائے گا۔

بیزیرک چاررکنی اِ ن ہاؤس ٹیم ہے۔ ’سائنٹسٹ‘ کی ریٹنگ اینڈرائڈ میں 4.6ہے۔ ایپل نے 12 ممالک میں سب سے اچھے نئے گیم کی شکل میں اسے نشرکیاہے۔ اب تک اس گیم کے 25ہزار ڈاؤن لوڈ ہوچکے ہیں ۔ ’سائنٹسٹ‘ نے اس کی تشہیر ایک ٹیگ لائن ’دماغ کی بتی جلادے‘سے کی ہے۔ ارپتااس بات کو بخوبی جانتی ہیں کہ کسی بھی کمپنی کی نشر واشاعت میں اشتہارکا بڑاکردارہوتاہے۔ کیوں کہ انھوں نے بھی اپنے کام کی شروعات ایک اشتہارایجنسی ’میکین ایرکسن‘ سے کی تھی۔ بوجھل ماحول اور غیر معاون باس کے سبب انھوں نے 2012 میں اپنی ملازمت چھوڑدی۔ مارواڑی کنبے کی ہونے کے ناتے کاروبار ان کے خون میں شامل تھا۔ اپنے شوہر پرومت اور دوستوں کے تعاون سے انھوں نے زندگی کی ایک نئی شروعات کی۔

جب آپ نیچے گرتے ہیں تبھی اوپر اٹھنے کا راستہ ملتاہے۔

’بیئر فٹ‘ کاقیام ستمبر 2012 میں ہواتھا۔ ارپتاکے مطابق یہ ان کے کریئر کا آغاز تھا۔ بیئر فٹ اسٹارٹ اپ کے لئے ایک برانڈ کنسلٹنسی فرم ہے۔ یہ ان بڑی کمپنیوں کے برانڈوں کی نشر واشاعت کرتی ہے جو انھیں ہائر کرتی ہیں ۔ لیکن وہ نئی کمپنیاں جو اپنے برانڈ کی تشہیر زیادہ ریٹ کی وجہ سے نہیں کرپاتیں یہ ان کمپنیوں کو مناسب ریٹ پر مشاورتی خدمات فراہم کرتی ہے۔ ارپتااپنے گاہکوں کو اچھی خدمت فراہم کرنے کے لئے ایک وقت میں پانچ یا چھ گاہکوں کا ہی کام لیتی ہیں تاکہ وہ ان کے کام پر زیادہ توجہ دے سکیں ۔ اس وقت بیئر فت کے پاس آریہ فرم،اسیٹج گروپ،لووے ٹریکٹس کے گاہک ہیں ۔ اس کام کو دیکھنے کے لئے بیئر فٹ میں چارافراد ہیں ۔ ساتھ ہی ڈیزائن کی ضرورتوں کو سنبھالنے کے لئے انھوں نے 15 فری لانسر بھی رکھے ہیں ۔

ارپتااپنے کام میں تال میل بٹھانا بخوبی جانتی ہیں ۔ انھیں گھومنا بہت پسند ہے۔ چھٹیوں میں گزارے لمحات کو وہ ڈائری میں محفوظ کرتی رہتی ہیں ۔ انھوں نے بہت ہی خوبصورتی سے ان لمحوں کو اپنے ٹریویل بلاگ میں ریکارڈ کیاہے۔ جنوری 2016 میں انھوں نے بغیر کسی فائدے کے لئے ایک اسٹارٹ اپ ’گیو فریلی‘ شروع کیاہے ۔ ان کا کہناہے کہ این جی او اور خیراتی اداروں سے وابستہ لوگ اکثر عطیات کی رقم کا غلط استعمال کرتے ہیں ۔ اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک خیال آیا کہ کیوں نہ پیسے کی جگہ لوگوں سے سامان اوراشیاء لی جائیں ۔ انھوں نے ایک ایسا پلیٹ فارم بنایاجس میں کوئی بھی شخص 20 کلو چاول،آٹایا فرنیچر کچھ بھی عطیہ کرسکتاہے۔ اس کے علاوہ وہ ویب اور سوشل میڈیاکے ذریعے بھی ایسی رضاکار تنظیموں سے رابطہ قائم کرکے ان کواپنے ساتھ جوڑتی ہیں ۔ گذشتہ دنوں چنئی میں آئے بھیانک سیلاب میں وہاں کے لوگوں کی ضرورتوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے بہت ہی کم وقت میں لوگوں تک مدد پہنچائی ۔ ارپتانے اس کام کو اپنے بچت کے پیسے لگاکر کیا۔ انھیں امید ہے کہ بڑے ادارے ان کے خیراتی اسٹارٹ اپ کے لئے کام کریں گے۔ یہ ان کے سی ایس آر(کارپوریٹ سماجی ذدمہ داری) پروگرام کے تحت ہوگا۔

کامیابی کا منتر

ارپتا رچرڈ برینسن کی بڑی مداح ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے ابھی بس شروعات کی ہے ،وہ چاہتی ہیں کہ انھیں ایک کامیاب انٹر پرینیورر کی حیثیت سے جاناجائے۔ ان کی زندگی کا اصول ہے کہ ’بڑاسوچواورکام کی شروعات ہمیشہ چھوٹے سے کرو‘۔ ان کا کہناہے کہ چھوٹے کام میں صبر وتحمل کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے غلطیاں کم ہوتی ہیں ۔ جس سے کامیاب ہونے کے مواقع بڑھ جاتے ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ زندگی میں کامیابی سے ضروری ہے کہ آپ جو بھی کام کریں وہ صحیح ہو۔ انھوں نے اپنے ملازمین ،وینڈر اور گاہکوں کے درمیان بہت ہی اچھاتعلق بنا کررکھاہے۔ کئی بار جب وہ بڑے اداروں کے ساتھ ڈیل کررہی تھیں تب بھی انھوں نے اس بات کا خیال رکھاکہ کوئی بھی ڈیل بیئر فٹ کے اصولوں کے خلاف نہ ہو۔ ارپتاکہتی ہیں کہ کسی بھی کام میں برقراررہنے کے لئے محنت اور سچائی ہی کام آتی ہے۔ کامیابی کا کوئی بھی شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔

.....

کچھ اور دلچسپ کہانیوں کے لئے FACEBOOK پر جائیں اور لائک کریں۔

یہ کہانیاں بھی ضرور پڑھیں۔

ارادے مضبوط ہوں تو ’دیپا‘کی طرح آپ بھی اپنی زندگی میں جلاسکتے ہیں دیپ

آخر ہم 'آئی لو یو' کہنے میں اتنا شرماتے کیوں ہیں؟

.......

قلمکار : شارکانائر

مترجم : محمد وصی اللہ حسینی

Writer : Sharika Nair

Translation by : Mohd.Wasiullah Husaini

Related Stories