موسیقی سے نوجوانوں میں شعور بیدار کرنے کی کوشش ... سورج نروان

0

سورج نروان اپنی موسیقی کے ذریعے کر رہے ہیں عوامی بیداری

خود گانا لکھتے ہیں، كمپوز کرتے ہیں اور پھر اسے گاتے ہیں سورج

حب الوطنی اور ایکجہتی اہم مقصد

4 سال کی عمر میں پہلی بار کیا تھا اسٹیج پر مظاہر

سماجی مسائل پر نغمات لکھ کر نوجوانوں کو جگاتے ہیں سورج

موسیقی کو سمجھنے کے لئے کسی زبان کی مہارت کی ضرورت نہیں ہوتی نہ ہی موسیقی کو کسی سرحد میں باندھا جا سکتا ہے۔ موسیقی تو وہ چیز ہے جو لوگوں کو آپس میں جوڑتی ہے۔ ان کے جذبات کوسُروں بھرے الفاظ میں ڈھالتی ہے اور ان کے خیالات کا اظہار کرتی ہے۔ موسیقی خود میں مکمل فن ہے۔

موسیقی جہاں شخص کی تھکان مٹا تی ہے، لوگوں کو صحت مند تفریح کی زریعہ ہے، وہیں حب الوطنی میں بھی موسیقی کے اہم شراکت ہمیشہ سے رہی ہے۔ آزادی کے زمانے میں بھی حب الوطنی کے کئی نغمے گائے گئے، جن سے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ وہ نغمے سن کر جوش سے بھرپور جدو جہد آزادی میں حصہ لیتے تھے۔ ملک کے لئے کچھ کر گزرنے کا جذبہ ان کے اندر آیا۔

ہندوستان کو نوجوانوں کا ملک کہا جاتا ہے۔ یہاں پر نوجوانوں کی آبادی دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا ہندوستان کی طرف کافی امید سے دیکھتی ہے۔ ہندوستان کے نوجوان بھی سب کی توقعات پر کھرے اتر رہے ہیں اور ملک ہی نہیں دنیا بھر میں ان کی صلاحیتوں کا ڈنکا بج رہا ہے۔ ایسے ہی ایک نوجوان ہیں سورج نروان، جو اپنی موسیقی کی صلاحیت کے ذریعے ملک اور معاشرے کو متحد کر رہے ہیں اور لوگوں کے اندر حب الوطنی کے جذبے کو بیدار کرنے کا کام کر رہے ہیں۔

اپنے لئے تو ہر کوئی جیتا ہے لیکن سورج ملک اور معاشرے کے لئے جو کام کر رہے ہیں، اس نے ان کے قد کو کافی بڑھا دیا ہے۔ 30 سالہ سورج کے آج ملک ہی نہیں دنیا بھر میں شائقین ہیں۔

سورج کو موسیقی وراثت میں ملی ہے۔ ان کی والدہ كتھک سے جڑی ہوئی ہیں۔ وہی ان کے والد مرحوم سبھاش نروان ایک بہترین موسیقار تھے۔ جب سورج محض 4 سال کے تھے تب انہوں نے پہلی بار اسٹیج پر مظاہرہ کیا تھا۔ سورج بتاتے ہیں،

"میرے دادا نے گانے کے لئے میری حوصلہ افزائی کی اور میرا حوصلہ بڑھایا اس کے بعد میں نے اسکول اور مختلف مقامات پر پرفارم کیا۔ جب میں 11 ویں میں تھا تب میں نے خود گانا لکھنے اور اسے كپوز کرنا شروع کر دیا تھا اور تب سے لے کر آج تک مسلسل اپنے کام کو انجام دے رہا ہوں۔ "

سورج دہلی گھرانے سے ہیں۔ وہ ایک تربیت یافتہ موسیقار ہیں۔ اور انہوں نے کئی نامورہندوستانی کلاسیکل فنکاروں کے ساتھ کام کیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ خود نغمے لکھتے ہیں كمپوز کرتے ہیں اور انہیں گاتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ کچھ سال پہلے وہ سیم گروپ سے منسلک۔ سیم یعنی سیلف اسسمینٹ اور مینجمنٹ ورکشاپ۔ سیم کا کام سماجی ہے۔ یہ مختلف ورک شاپ منعقد کرتا ہے، جہاں پر منشیات کے نشے کے خلاف اور مختلف چیزوں سے نوجوانوں کو بچانے کے لئے کام کیے جاتے ہیں۔ سیم میں شامل ہونے کے بعد سورج نے خود میں کافی تبدیلی دیکھی۔ انہیں کافی مواقی بھی ملے اور انہوں نے ٹھان لیا کہ وہ اب ہمیشہ معاشرے اور ملک کے لئے وقف رہیں گے۔

سورج اپنی موسیقی کے ذریعے نوجوانوں میں حب الوطنی جگانے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کی مسلسل بڑھتی ہوئی مقبولیت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان کی یہ کوشش رنگ لا رہی ہے۔

حال ہی میں ہوئے پٹھان کوٹ دہشت گرد حملے پر بھی سورج نے گیت لکھا ہے، جس کو انہوں نے حملے کے شہیدوں کے لئے وقف کیا اور نوجوانوں کے درمیان میں گایا۔ سورج بتاتے ہیں،

"گیت لکھتے وقت میں اس بات کا خاص خیال رکھتا ہوں کہ الفاظ سادہ ہوں لوگوں کو آسانی سے سمجھ میں آ جائیں، دل کی گہرائی تک اتریں۔ اور انہیں سوچنے پر مجبور کر دیں۔"

سورج بتاتے ہیں کہ وہ اپنی موسیقہ کے ذریعے اپنے دلی جزبات کا اظہارکرنا چاہتے ہیں۔ پٹھان کوٹ کے علاوہ بھی انہوں نے کئی گیت لکھے اور انہیں مختلف اسٹیج پر گایا ہے۔ نربھیا واقعے کے بعد جب ملک کا نوجوان سڑکوں پر اتر آیا تھا اس وقت بھی سورج نے اپنی موسیقی سے لوگوں کو جوڑنے کی کوشش کی تھی۔

سورج کو اپنا ہٹ هريانوی راک گیت 'راكِنی' کافی پسند ہے۔ اس گیت کو کافی کامیابی ملی اور اس سے ان کے اعتماد میں کافی اضافہ ہوا۔ اور اس کے بعد بطور كمرشيل سنگر ان کا کریئر تیزی سے آگے بڑھا۔

آج سورج دہلی یونیورسٹی میں 'فیکلٹی آف میوزک اور فائن آرٹس' میں فیکلٹی ممبر ہیں۔ سورج نے پنڈت برجو مہاراج، ڈاکٹر بال مورتی كرشنن، کمار گنیشن، سشمت سین وغیرہ بڑی ہستیوں کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔

سورج کہتے ہیں،

"صرف پیسہ کمانا میرا مقصد کبھی نہیں رہا اور نہ ہی کبھی رہے گا۔ میں صرف اپنی موسیقی کے ذریعے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتا ہوں اور ان کے اندر جوش لانا چاہتا ہوں تاکہ نوجوان سماج اور ملک کے لئے بڑھ چڑھ کر اپنا تعاون دیں۔"

قلمکار: نکتا پندیر

مترجم: ذلیخا نظیر

---------------------------------

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

کچھ اور کہانیاں پیش ہیں۔ 

شوق نے رسیپشنسٹ گیتا کو گلوکارہ بنایا

شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو....غزل گائیکی کی نئی ادا جنیوارائے