ارادے مضبوط ہوں تو ’دیپا‘کی طرح آپ بھی اپنی زندگی میں جلاسکتے ہیں دیپ

0

پیشے سے کنسلٹنٹ ڈیولپر ہیں دیپا ...

خواتین کو مضبوط بنانے میں مصروف دیپا...

کیا آپ جنم کنڈلی میں یقین رکھتے ہیں ؟اگر ہاں تو اپنے اس اعتماد کو اس کہانی کے آخر تک برقرار رکھئے گا ۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کو اپنے فیصلہ پر دوبارہ غور کر نا پڑ جائے ۔ دیپا پٹن گڈی کا کمپیوٹر اور ٹیکنا لوجی سے ناطہ انگریزی لٹریچر کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ہوا۔ وہ بارہویں کے امتحان میں اچھے نمبرات نہیں لا سکیں تو گھر والے پریشان ہوگئے ۔ ایسے میں انہوں نے سہار ا لیا جیوتشی کا ۔جس نے ان کی جنم کنڈلی پـڑھ کر بتایا کہ دیپا کو اپنے بہتر مستقبل کے لئے کمپیوٹر سائنس کے شعبے میں مزید پڑھائی جاری رکھنا چاہیے ۔ لیکن دیپا نے فیصلہ کیا کہ وہ سب کو غلط ثابت کریںگی چناں چہ انہوں نے مغربی بنگال کے بول پور میں شانتی نکیتن یونیور سٹی میں انگریزی ادب میں داخلہ لے لیا۔

شانتی نکیتن یونیورسٹی میں تعلیم حاصلکر تے ہوئے دیپا نے کئی بار اپنی یونیورسٹی کی نمائندگی کر کے نام روشن کیا ۔ اس کی وجہ سے دیپا جب کالج کی پڑھائی ختم کرکے باہر آئیں تو ان میں بڑھتی خود اعتمادی صاف جھلک رہی تھی۔ گریجویشن کی تعلیم کے بعد ان کو کوئی ملازمت نہیں ملی ،اس لئے وہ ایسے کورس کی تلاش میں سرگرداں ہوگئیں جو ان کو بہتر ملازمت دلاسکے ۔ جب انہوں نے اپنے آس پاس کاجائزہ لیاتو کافی سارے بچے این آئی آئی ٹی جاتے ملے ۔ انہوں نے بھی اس میں قسمت آزمائی پر غورکیا۔دیپا نے 2000میں این آئی آئی ٹی میں تین سال کا جی این آئی آئی ٹی کورس میں داخلہ لے لیا ۔ یہ کورس مکمل کر نے کے بعد دیپا کو اپنے آبائی شہر کالی کٹ میں ہی این آئی آئی ٹی میں ملازمت کی پیش کی جس کے لئے انہوں نے فوری حامی بھر دی۔ بعد میں ان کا تبادلہ بنگلور کر دیا گیا ۔

دیپا کو بڑا موقع اس وقت ملا جب اوریکل نے ان کو انسٹرکشنکل ڈیزائن فیکلٹی میں ملازمت کا آفر دیا ۔ اس کے بعد انٹر پرائزیز اور اپلی کیشن لیول کے تئیں ان کاموہ ان کو VMware,Cloud That Technologiesجیسی کمپنیوں میںلے گیا ۔ آخر کار وہ یو کییلپٹس سسٹم سے وابستہ ہوئیں ۔ وہاں وہ کنسلٹنٹ کورس ویئر ڈیولپر کے طور پر ملازمت کر رہی ہیں ۔ وہ یہاں پروڈکشن کے فروغ ، پروجیکٹ مینجمنٹ اور ڈاکیو منٹیشن ٹیم کے ساتھ کام کر رہی ہیں ۔ دیپا کے مطابق وہ اپنے کام میں نکھار لانے کے لئے کئی طرح کے طریقے اور تصورات استعمال کر تی ہیں ۔ ان کے ساتھ ایک ٹیکنیکل ٹیم بھی وابستہ ہے جو یوکیلپٹس کے پروڈکشن اور فروغ کے کام کو دیکھتی ہے ۔ اس کے علاوہ وہ کمپنی کے دیگر شعبوں کا م کاج بھی سنبھالتی ہیں ۔ دیپا نے گذشتہ 10برسوں کے دوران کئی جگہ ہاتھ ڈالا اور وہ ایک چیز پر ٹک نہیں پائیں۔ ان کے مطابق وہ ٹیکنالوجی سے شادی نہیں کر رہی ہیں لیکن وہ کمپیوٹر کے ساتھ کھیلنا جاری رکھیںگی اور نئی تکنیکوں کو سمجھنے کی کوشش نہیں چھوڑیںگی۔ کئی معاملوں میں دیپا بے باک انسان ہیں اور یہ ان کی پیدائشی خصوصیت ہے ۔ دیپا کی پیدائش جمشید پور میں ہوئی تھی۔ اسکو ل کے دنوں میں بچے ان کو جنوبی ہند کی ہونے کے ناطے اپنے سے دور رکھتے تھے لیکن جب انہوں نے کیرل میںاپنی تعلیم شروع کی تو یہاں کے بچے ان کو شمالی ہند کی ہونے کی نظر سے دیکھنے لگے ۔ وہ اپنے والد سے کافی زیادہ متاثر رہی ہیں ۔ ان کے والد نے دیپا کی کامیابی میں بڑا کردار ادا کیا ہے ۔ دیپا کے والد ٹسکو میں کام کر تے تھے ۔ متوسط طبقہ کا ہونے کے باوجود انہوں نے اپنے بچوں دپیا اور اس کے بھائی کو ہر وہ چیز مہیا کرائی جسے وہ چاہتے تھے ۔ دیپا نے آج بھی ایسی کئی چیزوں کو محفوظ کر کے رکھا ہے جو اس کے دل کے کافی قریب ہیں ۔

والد سے وراثت میں ملی کئی خوبیوںکے سلسلےمیںان کو اپنے آپ پر فخر ہے ۔ ایمانداری کے سبب ان کو کئی بار فائدہ ہو اتو نقصان بھی اٹھانا پڑا لیکن آخر میں ان کے آس پاس موجود لوگوں نے تسلیم کیا کہ دیپا سے جو بھی رائے ملے گی اس میں وہ ایماندار ہوںگی ۔ وقت کے ساتھ ساتھ دیپا نے سیکھا کہ کیسے ایماندار رہتے ہوئے بھی غیر مہذب نہیں ہونا چاہئے ۔انہوں نے اپنے والد کو سخت محنت کر تے ہوئے دیکھا تھا یہی خوبی آج دیپا میں بھی ہے ۔ دیپا تعلقات کے انتخاب میں بڑی احتیاط بر تتی ہیں ۔ وہ اپنے دوستوں کے بارے میںاور دوست ان کے بارے میں کافی کچھ جانتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ دیپا کا کہنا ہے کہ اگر وہ اپنے میں کچھ کمی نہیں ڈھونڈ پاتی ہیں تو ان کے دوست اس کمی کو بتا کر اسے دور کرنے میں مدد کر تے ہیں ۔

دیپا نے کبھی بھی کسی کی طرح بننا نہیں سیکھا ۔ لیکن وہ کئی لوگوں سے کافی متاثر ہیں ۔ جیسے جے آر ڈی ٹا ٹا، ان کے والد ، ژیف بے جوس اور شیرل سینڈ برگ ۔ وہ کہتی ہیں کہ لوگ بات نیکی کی کر تے ہیں لیکن انہوں نے تو یہ حقیقت میں دیکھا ہے ۔ وہ جے آر ڈی ٹا ٹا کے بارے میں کہتی ہیں کہ انہوں نے دیکھا کہ کیسے انہوں نے تیر اندازی کے لئے اولمپک ٹیم بنائی اور ان کے لئے جھارکھنڈ میں اکادمی قائم کی ۔ اس کے علاوہ وہ ژیف بے جوس کا احترام کر تی ہیں ۔ دیپا نے عورت ہوتے ہوئے کبھی بھی اپنے کو کمزور نہیں سمجھا کیوں کہ ان کے کنبے کو ان سے بہت امیدیں وابستہ تھیں ۔وہ چاہتے تھے کہ وہ خوب محنت کریں اور کسی بھی کام کو اچھے سے اچھا کریں۔ حالانکہ تکنیک میں خواتین کے لئے زیادہ کچھ نہیں ہے اس کے باوجود کئی باتیں ہیں جو دیپا کو دوسروں سے الگ کر تی ہیں ۔

دیپا اپنی پسند کی ٹیکنالوجیز سے متعلق کئی پروگراموںمیں حصہ لیتی رہتی ہیں اور ہر موقع پر سیکھنے کی کوشش کر تی ہیں ۔ انہوں نے کبھی بھی اپنے جوش کے آگے اپنے کنبے یا تہذیب کو بہانہ نہیں بنایا ۔ اپنی کوششوں سے اور اسفار کے ذریعے وہ آئے دن مختلف سیمیناروں میں نہ صرف حصہ لیتی ہیں بلکہ لوگوں سے ملنا جلنا نہیں چھوڑتی ہیں ۔ دیپا ہر چیز کو شاندار طریقے سے کر نا چاہتی ہیں لیکن شادی کے بعد اب ایسا نہیں ہے ۔ ان کے مطابق اگر وہ اچھا کھانا نہیں بنا سکتیں تو وہ پریشان نہیں ہوتیں ۔ جب کہ پہلے وہ ہر چیز بہتر کر نا چاہتی تھیں ۔ اب وہ جو سوچتی ہیں وہی کر تی ہیں ۔ دیپا کو ادب سے گہری دلچسپی ہے ۔ خالی وقت میں وہ کھانا پکانا اور پینٹنگ میں اپنا وقت گذارتی ہیں ۔ ان کو پڑھنا بہت پسند ہے ۔وہ دوسری خواتین سے بھی کہتی ہیں کہ ان کو شیرل سینڈ برگ کی ’لین اِن‘کتاب پڑھنی چاہئے ۔ دیپا خواتین کی ترقی کے لئے کچھ کر نا چاہتی ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ ایسی خواتین جن کی عمر 40سے 60سال کے درمیان ہے ان میں گھر سنبھالنے سے لے کر کھانا پکانے ، پینٹنگ اور دوسری کئی چیزوں کی صلاحیت ہوتی ہے لیکن ان کو موقع نہیں ملتا۔ اس کے لئے وہ ایسی خواتین کی حوصلہ افزائی کے لئے ایک پلیٹ فار م دینا چاہتی ہیں تاکہ دوسرے لوگ بھی ان سے کچھ سیکھ سکیں ۔ اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے انہوں اپنی ایک دوست کی ماں جو اچھی پینٹنگ بناتی ہیں ان کے لئے ایک ویب سائٹ تیار کی ہے ۔ ان کے مطابق خواتین کو آگے بڑھانے کے لئے وہ کسی بھی طرح کی کوئی فیس نہیں لیتی ہیں ۔ بس وہ چاہتی ہیں کہ ان کے اس آئیڈیا سے زیادہ سے زیادہ خواتین وابستہ ہوں اور ان کو فائدہ ہو۔

........

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

یہ دلچسپ کہانیاں بھی آپ کو ضرور پسند آئیں گی۔

جادو ٹونا اور توہم پرستی کے خلاف ایک ڈاکٹر کی مہم

'دی سلک روٹ کنسلٹنگ گروپ' تجارت کے خواہاں کشمیری نوجوانوں کی رہنمائی میں مشغول

چار سوروپے تنخواہ پر کام کرنے والے کے پاس اب 250 کروڑ روپے کا آئی پی او

........................


قلمکار : ہریش بشٹ

مترجم : محمد وصی اللہ حسینی

Writer : Harish Bisht

Translation by : Mohd.Wasiullah Husaini