’كپ شپ‘ اشتہارات کی دنیا میں منفرد پیش قدمی

0

ہم سب کی زندگی میں اشتہارات کی اپنی ایک الگ ہی اہمیت ہے۔ بچپن سے لے کر آج تک ہم نہ جانے کتنے اشتہارات دیکھتے، پڑھتے اور سنتے آئے ہیں ۔ ان میں سے کئی اشتہارات کافی متاثر کُن اور پُر کشش ہوتے ہیں اور ہمارے دل و دماغ پر اس قدر چھا جاتے ہیں کہ بھلائے نہیں بھولتے ۔ گزرتے وقت کے ساتھ ایڈورٹائزنگ کےشعبےمیں بھی کافی ترقی دیکھی گئی ہے ۔ ٹیکنالوجی کے اس دور میں مشتہرین حضرات اور کمپنیاں اپنے اشتہارات لوگوں تک پہنچانے اور انہیں اپنی طرف متوجہ کرنے کے سلسلے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہیں، لیکن اگر ماہرین کی بات پر غورکریں تو یہ پتہ چلتا ہے کہ برعکس ذہنیت کی وجہ سے آج کے گاہک ایسی تمام چیزوں کو ذہنی طور پرمسترد یا پھر’ بلاک‘ کر دیتے ہیں جو انہیں اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے زیادہ کوشش کرتی ہیں، جیسے کہ 3D ایفیکٹ وغیرہ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ آج کے گاہکوں کو ایسے اشتہارات پسند آتے ہیں جو کہ قابلِ دید ہوں اور ایسی جگہ پر ہوں جہاں وہ ان کی قطعی توقع نہ کر رہے ہوں۔

ایم بی اے میں زیرِ تعلیم’ ساحِل جین‘ اور’ سدھارتھ‘ نے لوگوں تک اشتہارات پہنچانے کا ایک عجب غضب طریقہ سوچا جس نے اشتہارات کی دنیا میں ایک نیا مقام حاصل کیا۔ایک نئی سوچ اور ٹیکنیک سے بنائے گئے اِس اشتہار نے لوگوں کو کافی متاثر کیا۔ ’سدھارتھ ‘کہتے ہیں کہ چائے ہندوستانیوں کے لئے خاص اہمیت کی حامل ہے اور دن بھرلوگوں کے درمیان ہونے والی گفتگو اور بحث چائے کا لُطف لیتے ہوئے ہی ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ بھی جب زیرِ تعلیم تھےتو اُن کے دن کا ایک اہم حصّہ چائے کی کارنر شاپ یا اسٹال پر فلموں اور سیاست جیسے موضوعات پر باتیں کرتے گزرتا تھا۔ تبھی انہیں احساس ہوا کہ یہ 15 منٹ کا وقت انتہائی آرام دہ، بے فکر، آزاد اور پُر تعیش تھا۔ یہ کسی بھی برانڈ کو فروغ دینے کے لئے ایک مثالی وقت اور صورت حال ہو سکتی ہے۔ تبھی اُن کے ذہن میں یہ خیال آیاکہ اگر وہ چائے کے کپ کے ساتھ چائے اسٹال کو برانڈ کریں تو بہت متاثر کن تشہیر کرسکتے ہیں۔

اپنی آخری سہ ماہی میں، انٹرپرنرشِپ کا کورس منتخب کرکے انہوں نے’ كپ شپ‘ کے آئیڈیا پر کام شروع کر دیا اورعوامی، سماجی سطح پر ایک چھوٹا سا مارکیٹ سروے کرنے کا فیصلہ کیا۔

اپنے ایک نزدیکی چائے والے سے انہوں نے اپنے اِس ’ كپ شپ‘ آئيڈيا کی شروعات کی۔ اس کے لئے انہوں نے 100 کپ خریدے ،جس پر انہوں نے ایک غیر حقیقی ، یعنی محض خیالی برانڈ اور پیشکش کے اِسٹکرز لگائے اور ان کپس کو اس چائے والے اسٹال پر تقسیم کروایا۔ بس یہیں سے شروع ہوا اُن کے اِس’ كپ شپ ‘ آئيڈيا کی کامیابی کا خواب۔

حالانکہ یہ اُن کے لئے اتنا آسان نہیں تھا۔ اپنے اس آئيڈيا کو عملی شکل دینے کے لئے انہیں کئی مشكلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ’كپ شپ‘ تینوں فریقین کے لئے نہایت مفید رہا۔ اُن لوگوں کے لئے جو چائے پیتے وقت ایک’ بائیو ڈِی گریڈایبل‘ پروڈکٹ استعمال کر رہے تھے اور دوسری طرف وہ چائے والے جنہیں مُفت میں اپنی دُکان کے لئے کپ مل رہے تھے، اور اس کے ساتھ ہی مشتہرین حضرات یا کمپنیوں کے اشتہارات چائے کے کپ کی شکل میں تمام لوگو ں تک ایک مؤثر طریقہ سے پہنچ رہے تھے ۔اِن سبھی کے لئے یہ آئیڈیا کامیاب اور منافع بخش ثابت ہوا۔

’سدھارتھ‘ کا کہنا ہے کہ ٹی وی اور ریڈیو پر دکھائے اور بتائے گئے اشتہارات کا لوگوں کی زندگی پر اتنا گہرا اثر نہیں پڑتا جتناکہ یہ پرنٹیڈ کپ لوگوں کے دماغ پر ایک تاثر مرتب کرتے ہیں اور اس کا اثر کافی دیر تک لوگوں کے ذہنوں میں برقرار رہتا ہے۔’ كپ شپ‘ اب ہندوستان کے سات شہروں میں 1,000 دفتروں، 400 سے زائد کالجوں، اور 2,000 سے زیادہ چائے فروشوں کا ایک مضبوط نیٹ ورک بن چکا ہے ۔’کپ شپ‘ نے ممبئی، پونے، حیدرآباد، بنگلورو، دہلی ، نوئیڈا اور گڑگاؤں جیسے شہروں میں اپنا نیٹ ورک بہت مضبوط بنا لیا ہے۔

مینوفیکچرنگ هب، آئی ٹی کمپنیوں اور کالجوں میں لوگوں نے ’كپ شپ‘ جیسے آئيڈيا کی کافی ستائش اور پذیرائی کی اور آگے بڑھنے کی ترغیب دی۔ سبھی اپنے کالج اور کمپنی کے باہر چائے کارنر پر چائے پینے جاتے اور ساتھ ہی ساتھ چائے کے کپ پر پرنٹیڈ برانڈزدیکھتے۔ 9 سے 6 اپنے آفس کا کام کرنے کے بعد’ ساحل‘ اور’ سدھارتھ‘ آدھی رات تک اپنے’ كپ شپ‘ آئیڈیا کومقبول و معروف بنانے کی کوششوں میں اپنا وقت صرف کرتے۔ وہ ’گوگل میپ‘ کے ذریعہ ایسا ٹی اسٹال ڈھونڈتے جہا ں کوئی کالج، کمپنی یا آئی ٹی مرکز ہو اور وہ لوگوں کے درمیان اپنے اس برانڈ کی تشہیر کر سکیں۔ 2014 میں ’پائلٹ كمپین‘ سے شروع ہوا یہ آئيڈيا آج بڑی بڑی کمپنیوں جیسے’کوکا کولا، اسنیپ ڈيل،ا ولا كیب، اربن كلیپ‘ کے ساتھ منسلک ہوچکاہے ۔

کامیابی کے قدم چومتے اس آئيڈيا نےاشتہارات کے تئیں لوگوں میں دلچسپی پیدا کی اور انہیں اپنی طرف متوجہ کیا ۔ ہم انہیں نیک خواہشات دیتے ہوئے یہ امید کرتے ہیں کہ ’ كپ شپ‘ مستقبل میں خوب ترقی کرے۔

قلمکار : پرینکا پاروتھی

مترجم : انور مِرزا

Writer : Priyanka Paruthi

Translation by : Anwar Mirza

Related Stories