آلودگی پر کنٹرول کا'' طاق ۔ جفت '' فارمولا' نہایت خوبصورت

0

میرا یہ خیال تھا کہ آب و ہوا اور ماحولیات جیسے مسائل صرف انگریزی بولنے والے طبقہ اشراف کے لئے ہی موضوعات سخن ہیں ۔ مجھے ہمیشہ سے ایسا لگتا تھا کہ عام آدمی پہلے ہی اس سے بھی زیادہ اہم بہت سی دوسری چیزوں اور مسائل میں مصروف ہے۔ لیکن آج میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ میں غلط تھا ۔ کچھ دن پہلے دہلی ہائی کورٹ نے یہ تبصرہ کیا کہ قومی دارالحکومت دہلی ایک '' گیس چیمبر '' میں تبدیل ہوگیا ہے ۔ اس کے بعد دہلی کی عام آدمی پارٹی (آپ) حکومت نے اس '' ماحولیاتی ایمرجنسی '' سے نمٹنے کے لئے '' طاق - جفت فارمولا کا اعلان کیا ' جسے ''روڈ خلائی راشنگ'' کے نام سے بھی پکارا جا رہا ہے - گزشتہ چند دنوں میں اس فارمولے نے جتنے عوام کے ذہنوں پر راج کیا ہے اتنا شاید ہی کسی مسئلہ نے کیا ہو۔ اچانک ہی ہر کوئی اس بارے میں بات کر رہا ہے ۔ یہاں تک کہ ممبر پارلیمنٹ بھی ماسک پہنے دیکھے جا سکتے ہیں ۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دہلی میں آلودگی خطرناک سطح کو پار کر گئی ہے اور اس سنگین مسئلہ سے فوری طور پر نمٹنے کی ضرورت ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے دہلی کو سال 2014 میں160 عالمی شہروں کی فہرست میں سب سے زیادہ آلودہ شہر قرار دیاہے۔ دہلی کے افق پر ایک تلخ زہریلی پرت کو کبھی بھی دیکھا اور محسوس کیا جا سکتا ہے ۔ جیسے جیسے موسم سرما آ رہا ہے یہ زیادہ گھنی ہوتی جا رہی ہے ۔ اسی تناظر میں دہلی حکومت نے قدم بڑھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ موٹر سے چلنے والی گاڑیوں کے آخری نمبروں کو جفت اور طاق کی بنیاد پر متبادل دنوں میں باہر نکلنے دیا جائے گا ۔ اس کا سیدھا سا مطلب ہے کہ کسی بھی دن سڑک پر چلنے والے گاڑیوں کی تعداد کو کم کرکے نصف کر دیا جائے گا ۔ یہ ہندوستان کے لئے ایک نیا برانڈ تجربہ ہوگا' جس کی وجہ سے اس نے غیر مناسب توجہ اور کئی گنا خدشات کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد اس فارمولے کے کامیا ب ہونے پر مشکوک نظر آرہی ہے ۔ اس بے چینی اور فکرمندی کو چار اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔

1 ) طبی لحاظ سے ہنگامی صورت حال میں اگر گاڑی کا نمبر محدود کئے گئے نمبروں سے میل کھاتا ہے تو کیا ہوگا؟

2 ) اپنی نجی گاڑی رکھنے والے معذور اور کمزور لوگوں کا کیا ہوگا؟ اگر ان کی گاڑی کا نمبر محدود زمرے میں ہوگا تو وہ کس طرح سفر کریں گے؟ یہ ایک ایسا طبقہ ہے جنہیں پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتے ہوئے بہت مشکلوں کاسامنا پرنا پڑتا ہے۔ کیونکہ ہمارے شہر میں ان ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے نہیں کے برابر سہولیات ملتی ہیں ۔

3) ان ملازمت کرنے والی خواتین کا کیا ہوگا جو اپنی گاڑی چلاتی ہیں اور دیر رات تک کام کرتی ہیں؟ وہ ان دنوں کا انتظام کس طرح کریں گی جس دن وہ اپنی گاڑی وغیرہ سے سفر نہیں کر پائیں گی؟ کیا ان کی حفاظت کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور کہیں ان کی حوصلہ شکنی تونہیں ہوگی؟

4) ان والدین کے سامنے ایک بہت سنگین مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے جو اپنے بچوں کو اسکول بسوں اور مقامی سواریوں سے اسکول بھیجنے کے بجائے اپنی نجی گاڑی سے بچوں کو اسکول چھوڑتے ہیں ۔

یہ تمام مسائل نہایت سنگین ہیں اور ان کا مناسب حل دریافت کیا جانا چاہیے ۔ اس کے علاوہ میں یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ اسی لئے اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے مسلسل بیان دے کر الجھن بھی پیدا کی جا رہی ہے ۔ 'آپ' کے ایک نمائندے کے طور پر میں آپ سب کو یقین دلانا چاہوں گا کہ سب سے پہلے تو ابھی تک اس فارمولے کے طریقہ کارکے تعلق سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے ۔ ابھی تو صرف منصوبہ پیش کیا گیا ہے اور حقیقی نفاذ کی تاریخ کو لے کر صرف پالیسی فیصلہ کا اعلان کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے پرنسپل سکریٹری ۔ ٹریفک' سیکرٹری ماحولیاتی اور سیکرٹری ۔ آمدنی سمیت ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ یہ کمیٹی تمام اسٹیک ہولڈرز سے مذاکرات کرے گی ۔ ان کے خیالات' تجاویز اور سفارشات کو جمع کرے گی اور پھر اس کے بعد اس فارمولا کو لاگو کرنے کے لئے آخری طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کا کام کرے گی ۔ ایسے میں سب کو مشورہ دوں گا کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ ابھی آخری منصوبہ بندی کا انتظار کریں اور پھر اس کے بعد ہی اظہار خیال کریں ۔ یہاں تک کہ منصوبہ نافذ ہونے کے بعد بھی اگر کچھ خامیاں سامنے آتی ہیں تو انہیں بھی دور کیا جائے گا ۔ دو ہفتوں کے بعد اس کا جائزہ لیا جائے گا اور اس کے بعد منصوبہ میں تبدیلی کرکے خدشات کا ازالہ کیا جائے گا ۔

اگرچہ یہ ہندوستان کے لئے ایک بالکل ہی نیا تجربہ ہو سکتا ہے لیکن یہ دنیا کے کئی کونوں میں کامیابی کے ساتھ اس پر عمل کیا جا رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں بیجنگ اور پیرس میں بھی ایسا ہی نظام روشناس کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ میکسیکو سٹی' بگوٹا' سینٹیاگو' ساؤ پولو' لندن' ایتھنز' سنگاپور' تہران' سین ہوزے' وڈاروس' لا پاز وغیرہ شہر بھی اس فارمولے کو نافذ کر چکے ہیں ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایسا نہیں سوچا جانا چاہیے کہ یہ منصوبہ 365 دنوں تک نافذالعمل رہے گا ۔ اس فارمولا کا استعمال ہنگامی حالات میں کیا جا رہا ہے ۔ بڑھتی ہوئی آلودگی پر کنٹرول حاصل کرنے کی اس کوشش میں ضرورت کے وقت کے ساتھ ساتھ پبلک ٹرانسپورٹ سروس کو بہتر بنانے' آلودگی پھیلانے والی صنعتوں کو بند کرنے' آلودہ فیول والی گاڑیوں کو نمٹانے اور شہریوں کو نجی گاڑیوں کے استعمال نہ کرنے کی ترغیب دینے 'جیسی اسکیمیں بھی متعارف کرنے کی کوشش کریں گے' جیسے بوگاٹا میں یہ نظام ہفتہ میں دو دن لاگو ہوتا ہے ۔ ساؤ پولو میں یہ نظام سال 1997 سے موجود ہے اور بیجنگ میں بھی یہ ہفتہ میں ایک دن نافذ ہوتا ہے۔ سال 2008 میں صرف اولمپک کھیلوں کے وقت چین کی حکومت نے اس منصوبہ کو دو ماہ کے لیے بڑھا دیا تھا 'جس کے بدلے میں اس نے اپنے شہریوں کو تین ماہ کے لئے گاڑی ٹیکس سے چھوٹ فراہم کرتے ہوئے معاوضہ بھی دے دیا تھا ۔

ہر شہر کا ایک مختلف ماڈل ہوتا ہے ۔ ایتھنز نے اپنے علاقہ کو اندرونی اور بیرونی دو حصوں میں تقسیم کیا ہے اور آلودگی کے نقطہ نظر سے پورے شہر پر 24 گھنٹے کڑی نظر رکھی جاتی ہے ۔ آلودگی کے خطرہ کی سطح تک پہنچتے ہی ایمرجنسی کا اعلان کر دیا جاتا ہے ۔ اس کی معلومات ریڈیو' ٹی وی اور عوامی نشریات کے نظام کے ذریعہ کرتے ہوئے اندرونی علاقے میں نجی گاڑیوں کو بند کر دیا جاتا ہے ۔ صرف صرف طاق اور جفت فارمولے پر ٹیکسی کو منظم کیا جاتا ہے۔ بیرونی علاقے میں ٹیکسیاں تو عام طور پر چلتی ضرورہیں لیکن نجی گاڑیاں طاق اور جفت کی بنیاد پر ہی چلائی جاتی ہیں ۔ کچھ شہروں میں یہ منصوبہ پورے دن کے لئے نافذ کیا جاتا ہے ۔ کچھ شہروں میں ٹریفک کے زیادہ دباؤ والے وقت جیسے صبح 8:30 سے 10:30 تک اور شام کو 5:30 سے 7:30 تک اوقات میں یہ سسٹم نافذ ہوتا ہے ۔ کچھ ناقدین نے اس بات کا جھوٹا پروپگنڈہ کر دیا ہے کہ جفت ۔ طاق چوبیس گھنٹوں کے لئے لاگو کیا جائے گا' جو بالکل سفید جھوٹ ہے ۔ پیرس' جہاں اس پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے وہاں بھی یہ نظام صبح کے 5:30 بجے سے رات کے 11:30بجے تک نافذ ہے ۔ اس کے علاوہ کئی دیگر شہروں میں یکساں اصول لاگو ہیں ۔

لندن اور سٹاک ہوم جیسے شہروں نے آلودگی پرقابو پانے کے لئے ایک بالکل مختلف طریقہ اختیارکیا ہے ۔ انہوں نے اپنے نقل وعمل کے نظام کو مضبوط کیاہے ۔ ''اس ایلذیڈ'' (کم اخراج علاقہ) ماڈل کہا جاتا ہے ۔ ایسے شہر اپنے اہم مراکز کو زون میں تبدیل کر دیتے ہیں جہاں ایک معیار سے زیادہ آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں پر پابندی عائد ہے اور مجرم پائے جانے والوں پر بھاری جرمانہ عائد کیاجاتا ہے۔ اس کے علاوہ لوگوں کو آلودگی کے نقطہ نظر سے اپنی گاڑی کو مسلسل اعلی معیاری بنانے کے لئے حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ پارکنگ کو انتہائی مہنگا بنا دیا جاتا ہے۔ لندن میں ایسے علاقوں میں بہت بھاری پارکنگ فیس وصول کی جاتی ہے ۔ پہلے کے 10 پونڈ فی گھنٹہ کی فیس کو بڑھا کر 10 پونڈ کر دیا گیا ہے ۔ اس طرح لندن نے 2 بلین پونڈ سے زیادہ رقم حاصل کی ہے ۔ یہ سرمایہ انہوں نے اپنے نقل و حمل کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے صرف کیا ہے۔

اسی طرح سنگاپور نے بھی ایک گاڑی کا لائسنس اور خلائی لائسنس نظام رائج کیا ہے ۔ سنگاپور میں ایک گاڑی خریدنے سے پہلے کسی بھی شخص کو ایک لائسنس لینا ہوتا ہے تاکہ وہ گاڑی خرید سکے اور اس کار کی قیمت سے بھی زیادہ لائسنس کی قیمت ہوتی ہے ۔ اس کے بعد کسی خاص علاقے میں داخل ہونے کے لئے اسے ایک بھاری بھرکم رقم بھی ادا کرنی پڑتی ہے ۔ بیجنگ میں خرید داروں کے لئے ایک مختلف کارجسٹریشن نظام ہے جو ایک لاٹری کی بنیاد پر نافذہے جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ سڑکوں پر صرف ایک مخصوص تعداد میں گاڈیاں چلتی رہیں ۔

اس طرح سڑکوں پر موٹر چلنے سے والی گاڑیوں کی تعداد کم کرنے کے یہ کچھ مقبول طریقے ہیں ۔ جفت ۔ طاق کا فارمولا بھی ان میں سے ہی ایک ہے جو خاص طور ہنگامی حالات میں کافی کارگر ثابت ہوا ہے ۔ دہلی بھی ایسے ہی حالات میں پہنچتا جا رہا ہے لیکن یہ زیادہ ماحول دوست بنانے کے لئے اس کے عالمی سطح پر مقبول کچھ دوسرے ماڈلو سے کچھ سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے امید ہے کہ ایک نئی شروعات کی جائے گی ۔ وسائل کی قلت ہونے کے باوجود تجویز انتہائی خوبصورت ہے ۔ لہٰذا آئیے اس جرائت مند اور حسین پہل کو کامیاب بنائیں ۔ ایسا اسی وقت ممکن ہے جب دہلی کے باشندے اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کے لئے ان کی زندگی میں کچھ اصول و ضوابط کے پابند ہوجائیں گے ۔ آئیے ہم سب مل کر اس منصوبہ کوکامیاب کرتے ہیں !!!!

(یہ مضمون بنیادی طور انگریزی میں لکھا گیا ہے اور اس کے مصنف ہیں ایک سے زیادہ چینلز میں بڑے عہدوں پر رہے سینئر صحافی اور عام آدمی پارٹی کے قومی ترجمان اشوتوش)

مترجم:شفیع قادری