ایجو اسپورٹس کے ذریعے اسکول کے بچّوں کو جسمانی تعلیم اور کھیلوں کےتئیں بیدار کرتے سومِل مجمدار

0

تقریبا ًتین برسوں تک ’وِپرو ‘کے ساتھ ایک مارکیٹنگ ایكزيكيوٹیوکے طور پر کام کرنے کے بعد سو مِل مجمدار نے سن 1998 میں’ لرن ایٹ @ ہوم‘ (Learn@Home) کے ساتھ کاروباری دنیا میں قدم رکھا جو کہ ذاتی کمپیوٹر تربیت سے متعلق بزنس تھا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد جون 1999 میں انہوں نے ایک اور انٹرپرائز’ كيوسپورٹ‘ (QSupport) قائم کی۔

سومِل کا کہنا ہے کہ’ كيوسپورٹ‘ امریکہ میں بیٹھے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ صارفین کو ریموٹ سسٹم کے ذریعے تکنیکی تعاون فراہم کروانے والی کچھ ابتدائی کمپنیوں میں سے ایک تھی۔ انٹرپرائزکےتئیں جنون نے انہیں جون 2013 میں’ا سپورٹس وِلیج‘(SportzVillage) کے قیام کی تحریک دی۔’ا سپورٹس وِلیج‘ ہندوستان میں ابھرتے ہوئے کھیلوں، صحت اورفِٹ نیس سے متعلق مارکیٹ پر اپنی توجہ مرکوز رکھتاہے اور اس طرح سے انہوں نے خود کو ایک سلسلہ وارکاروباری (Serial entrepreneur)کے طور پر مستحکم کیا۔

ایجو اسپورٹس (EduSports) کا سفر

’ایجو اسپورٹس ‘شروع کرنے کا خیال سومِل کے دماغ میں اس وقت آیا جب ایک دن اُن کے دوست نے اُن کی توجہ اِس طرف دلائی کہ ان کا 6 سالہ بیٹا جسمانی سرگرمیوں سے منہ چراتا ہے اور وہ اپنا زیادہ تر وقت ٹی وی اور کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر گزارتا ہے۔ کئی دنوں کی سخت کوششوں کے بعد بھی اُن کا دوست اس قسم کے مسائل کو حل کرنے میں موثر اور مناسب معاشرتی ذرائع تلاش کرنے میں ناکام رہا۔

’ا سپورٹس وِلیج‘ کے ذریعے سومِل بچّوں، اسکولوں، کمپنیوں، مختلف برانڈز، کھیل کے ٹکٹ،مختلف اسباب و اشیاء اورصلاح و مشورہ دستیاب کروانے والوں کے رابطے میں رہ چکے تھے اور 2003 سے لے کر 2009 تک 6 برسوں کے اپنے وسیع تجربے اور تربیت کے سہارے انہوں نے کھیل کو ہر بچّے کی تعلیم اور پرورش کا ایک لازمی حصّہ بنانے کے نقطۂ نظر کے ساتھ جنوری 2009 میں ’ ایجو اسپورٹس‘ قائم کی۔

ایک منافع بخش اورترقی پذیر کاروبار کاماڈل تیار کرنے کے سلسلے میں سومِل نے کئی بالواسطہ بی 2 سی ماڈلوں کو بنانے کے کئی طریقوں پر کام کیا۔ اِس کے بعد انہیں اِس بات کا احساس ہوا کہ بچّوں کو کھیلوں کے جادو سے متعارف کروانے کے لئے اسکولوں سے بہتر پارٹنر اور کوئی نہیں ہو سکتا۔

سال 2010 میں جب ’ سيڈفنڈ‘ نے’ ایجو اسپورٹس‘ میں7کروڑ 50لاکھ روپئے کی سرمایہ کاری کی تب اِس اسٹارٹ اپ کے اکاؤنٹ میں صرف 10 اسکول ہی تھے۔ آج 550 ملازمین کے ساتھ’ ایجوا سپورٹس‘ چار ممالک کے 100 سے بھی زائد شہروں میں 400 کے قریب اسکولوں کے3 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ بچوں کے ساتھ منسلک ہے۔

سومِل کہتے ہیں، ’’ کارکردگی کی سطح پر اگر ہم دیکھیں تو ہمارے پاس دوبارہ آنے والے صارفین کی شرح 90 فیصد سے بھی زیادہ ہے اور ہمیں مختلف فورمز سے بھی کئی ایوارڈز مِل چکے ہیں۔ہم نے ہندوستان کے علاوہ نیپال، متحدہ عرب امارات اور قطر کے قریب 400 اسکولوں کے ساتھ ہاتھ ملایا ہے۔ ہم ہر سال اپنے ساتھ 100 اسکولوں کو شامل کر رہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ آنے والے وقت میں اِس شرح میں اضافہ ہو گا۔‘‘


ہم بچوں کو کھیلنے کا موقع دیتے ہیں!

’ایجو اسپورٹس‘ بچوں کی ذہنی اور عملی قابلیت کے ساتھ جسمانی نشو نما کے لئے ایک تعلیمی آلہ کے طور پر بنائے گئے ڈھانچے کے مطابق جسمانی سرگرمیوں اور کھیلوں کا بخوبی استعمال کرتی ہے۔ ’ایجواسپورٹس ‘کے پروگرام مختلف اقسام کے اصولوں پر مبنی ہوتے ہیں جن میں عمر کی مناسبت، تمام بچوں کو مصروف رکھنے کے لئے کافی سامان، تشخیص کا عمل جہاں ہر بچے کا انفرادی تجزیہ کئے جانے کے علاوہ اس کی قابلیت اورصحت کے معیار کو پرکھا جاتا ہے اور صحت مند اور فِٹ بچّوں کو تیار کرنے کے عمل میں اُن کے والدین کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔

اُن کے پروگرام میں ’ڈیلی لیسن پلانس‘ کو سی بی ایس ای، آئی سی ایس ای، آئی بی، وغیرہ جیسے مختلف بورڈز کے حساب سے بنانے کیلئے ابتدائی کلاسوں سے لے کر ہائی کلاسوں تک کے حساب سے ڈھالا گیا ہے اور اُسی کے مطابق مناسب کورس بھی تیار کیا گیا ہے۔

سومِل کہتے ہیں، ’’ ہم اس بات کا یقین کرنا چاہتے ہیں کہ اسکولوں کے اُستاد اور سرپرست بچّوں کی مکمل شخصی تشکیل میں جسمانی تعلیم کی اہمیت کو سمجھیں تاکہ وہ بچّوں کی حوصلہ افزائی کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم مختلف ورکشاپس منعقد کرتے رہتے ہیں جہاں بچوں کو جسمانی سرگرمیوں اور کھیلوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ہمیں امید ہے کہ اگر ہم والدین اور اساتذہ کو دوبارہ کھیل کے جادو سے روبرو کروا سکیں تو وہ اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔‘‘

بزنس ماڈل

اسکول اپنے ٹائم ٹیبل میں ’ایجو اسپورٹس‘ کو شامل کرتے ہیں اور ایسے میں ’ایجو اسپورٹس‘ اسکولوں کی طرف سے بچوں کو فراہم کئے جانے والے مجموعی تعلیمی تجربہ کا ایک حصہ بن جاتی ہے۔ اسکول بچّوں کی فیس میں سے ہی ’ایجو اسپورٹس‘ کو ماہانہ ادائیگی کرتے ہیں۔ سومِل واضح کرتے ہوئے بتاتے ہیں،’’ اسکول بچّوں کی تعلیم کے بدلے اُن کے والدین سے وصولی جانے والی فیس میں سے ہی ہمیں ادا ئیگی کرتے ہیں۔ عام طور پر یہ رقم فی طالب علم ماہانہ 150 سے 200 روپئے کے درمیان رہتی ہے (500 بچّوں کی بنیاد پر)۔ اسکولوں کے پروگراموں میں جہاں اسکول ہمیں فی طالب علم کی بنیاد پر ادائیگی کرتے ہیں، ہم کھیل پرمبنی ایونٹس، ورک بُکس، اسکول کے بعد کے پروگراموں،سمر کیمپس، وغیرہ کا بھی انعقاد کرتے ہیں۔

توسیع کے منصوبے

اس حقیقت کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ 1500 روپے ماہانہ کی ٹیوشن فیس لینے والے تقریباً 1500 نجی اسکول موجود ہیں، اِن کا ارادہ آنے والے 48 مہینوں میں 1000 اسکولوں کو اپنے ساتھ جوڑتے ہوئے ایک ملین بچوں کو کھیل کے جادو سے متعارف کروانے کاہے۔

حال ہی میں ’ایجو اسپورٹس ‘نے ترقی کے نئے مواقع کی تلاش میں اور اپنے موجودہ کاروباری ڈھانچے کو توسیع دینے کے سلسلے میں غزہ کیپٹل سے 10 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیابی پا ئی ہے۔

سومِل بڑے یقین سے کہتے ہیں، ’’ ہمارا کورس مکمل طور پرہمارے ذریعے ہی ہندوستانی بچّوں اور ہندوستانی اسکولوں کے حوالہ جات کو ذہن میں رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے کیونکہ یہ محدود وقت اور محدود مقام کا ہوتا ہے۔ ہم نے پروگرام کی مسلسل نگرانی کے علاوہ اس کے معیار کو برقرار رکھنے کے لئے ایک مضبوط ٹیکنالوجی پر مبنی ماڈل اور پروسیس میں سرمایہ کاری کی ہے۔‘‘