ریحانہ بیگم ... خواتین کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے کوشاں

0

ہم اکثر سنتے رہتے ہیں کہ خواتین آدھی نیا ہیں۔ خواتین سے ہی تصویرِ کائنات میں رنگ ہے، لیکن خواتین آج بھی معاشرے میں وہ مقام حاصل نہیں کرپائیں جو انھیں ملنا چاہے۔ آج کے اس مہنگائی کے دور میں گھر خرچ اٹھانے کے لیے خواتین بھی آگے آرہی ہیں، لیکن کئی مقامات پر خواتین گھریلو مسائل سے پریشان ہوکر مجبوری کی زندگی گذار رہیں ہیں۔ خواتین کو قرض کے دلدل سے نکال کر انھیں ہنرمند بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہی فکر لے کر خواتین میں شعور بیدار کرکے انھیں ہنرمند بنانے میں مسروف ہےں ریحانہ بیگم۔ آئیے ہم آپ سے ان کا تعارف کراتے ہیں۔

ریحانہ بیگم کا تعلق نظام آباد کے کاماریڈی سے ہے۔ انھوں نے کاماریڈی میں زیک زیاک ایمبرائیڈری ٹیلرنگ اینڈ ٹریننگ سینٹر کے نام سے ایک ادارہ بھی قائم کیا ہے۔ یہ گورنمنٹ رجسٹرڈ ہے۔ یہاں پر کمزور بے سہارا کے علاوہ ہنرمند بننے کی خواہش مند خواتین کو مختلف ہنر سکھائے جاتے ہیں۔

اجمیری زیک زیاک سینٹر کے بارے میں انھوں نے بتایا، ”میں نے حیدرآباد آکر بہت سارے ہنر سیکھے۔ پھر مجھے خیال آیا کہ کاماریڈی میں بھی ایسا کوئی سینٹر بننا چاہےے جہاں پر خواتین کو ہنر سکھایاجائے۔ تقریباً 30 سال پہلے کاماریڈی میں میں نے اجمیری زیک زیاک ایمبرائیڈری ٹیلرنگ اینڈ ٹریننگ سینٹرکا آغاز کیا۔ اس مقصد خواتین ہنرمند اور خودمکتفی بنانا ہے۔ “

خواتین کے لیے جدوجہد کرنے والی ریحانہ بیگم نے شروع میں کم خواتین سے ہی سینٹر کا آغاز کیا، جس کے بعد خواتین کی تعداد بڑھنے لگی۔ آج بڑی تعداد میں خواتین ان کے سینٹر سے فیض یاب ہورہے ہیں اور کئی خواتین نے یہاں پر ہنر سیکھ کر اپنا کارروبار بھی قائم کرلیا ہے۔ فیس وغیرہ کے بارے میں پوچھنے پر انھوں نے بتایا، ”اجمیری زیک زیاک سینٹر میں فیس بہت کم لی جاتی ہے۔ بے سہارا اور کمزور خواتین کے لیے اس سے مستثنیٰ ہیں۔ خواتین میں شعور بیدار کرنا انھیں ہنر مند بنانا ہی مقصد ہے۔ بھاری فیس دے کر بعض لوگ حیدرآباد بھی جاتے تھے۔ اب یہاں پر ہی انھیں سب کچھ سیکھنے کو مل رہاہے تو اس سے بہترشاید وہ نہیں حاصل کرپاتے“۔

ٹیلرنگ ایسا ہنر ہے جسے گھر پر اور مکمل پردے میں رہتے ہوئے کیا جاسکتا ہے۔ ٹیلرنگ سیکھ کر کئی خواتین اپنے پیروں پر کھڑی ہوچکی ہیں۔ ایمبرائیڈری کے ذریعہ خوبصورت بیل بوٹے تیار کئے جاسکتے ہیں۔ نئے ڈیزائن یہاں پر بنائے جاتے ہیں۔ اس بارے میں ریحانہ بیگم نے بتایا،

”ہمارے یہاں نئے ڈیزائن سکھائے جاتے ہیں۔ موتی کے کام سے دیواروں کو سجانا ہمارے سینٹر کی انفرادی خصوصیت ہے۔ ہم یہاں پر مختلف فنون جیسے دستکاری، کشیدہ کاری اور موتی کے کام کے ڈیزائن سکھاتے ہیں۔ “

دستکاری کے ہنر کو جب تک پذیرائی نہ ملے اس کا حلقہ محدود ہوتا ہے۔خواتین کو ہنر سکھانے کے لیے علاوہ ان کے کام کو دور دور تک پہنچانے کے لیے ان کی کوششوں کے بارے میں انھوں نے بتایا، ”مائناریٹی ڈپارٹمنٹ کو اس طرح کے پروگرام منعقدکرنا چاہےے جہاں پر دستکاری کے کام کو مناسب دام مل سکے۔ فی الحال ہم مختلف مارکٹ میں تیار کردہ مال کی فروخت کے لیے رہنمائی بھی کرتے ہیں۔ باقی خواتین جس قدر کوشش کریں وہ اپنے ہنر کو منواسکتی ہیں“۔

ریحانہ بیگم حیدرآباد اکثر آتی رہتی ہیں۔ یہاں پر انھوں نے ہنر سیکھا ہے اور یہاں کی سماجی کارکن خواتین سے ان کے روابط ہیں۔ انھوں نے رہبر صنعت تجارت حیدرآباد میں بھی اپنے ہنر سے یہاں لوگوں کو فیضیاب کیا ہے۔ انھوں نے بتایا

”حیدرآباد میں کئی سماجی کارکن خواتین سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ حیدرآباد سیاست کے دفتر پر اکثر میں آتی ہیں۔ یہاں پر خواتین کے لیے جو پروگرام ہوتے ہیں ان میں میرا بھی حصہ ہوتاہے۔ یہاں پر محترکہ خدیجہ بیگم سے بھی میرے اچھے تجارتی مراسم ہیں۔ ہم نے خواتین کے لےے بہت سارے فلاحی پروگرام تیار کئے ہیں۔“

اکثر خواتین اپنے ہاتھ میں ہنر آنے کے بعد اسے اپنے گھر تک محدود کردیتی ہیں۔ ریحانہ بیگم کا کہنا ہے کہ اسے اپنے گھر تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ اسے دوسروں تک پہنچانا چاہیے۔ کئی ایسی خواتین ہیں جو بے حد پریشان ہیں۔ ہاتھ میں ہنر آنے کے بعد وہ بھی اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکتی ہیں۔ انھوں نے بتایا

”جس طرح ہم نے ہنر سیکھا اور دوسروں تک پہنچایا اسی طرح خواتین کو بھی چاہئے کہ وہ ہنر سیکھے اور دوسروں کو بھی اس کی جانکاری دیں اور انھیں بھی ہنر مندبنائیں۔ اس طرح خوشیاں باٹنے سے بڑھیں گی اور ہر گھر میں خوشحالی آئے گی“۔

جو لوگ اچھائی کے کام شروع کرنے میں سوچ بچار کررہے ہیں انھیں ریحانہ بیگم سے یہ سبق سیکھنا چاہے کہ اچھائی کو شروع کرنے کے لیے کسی انتظار کی ضرورت نہیں ہے بلکہ آپ کو صرف قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ باقی راستے خودبخود کھلتے جائیں گے۔ سماج کو کچھ لوٹانے کا صرف ارادہ کرنے کی ضرورت ہے۔