نویں جماعت کے طالب علم چلارہے ہیں کتابوں کی  ویب سائٹIhavereadthebook.com

0

کتاب کے ساتھ میری پہلی یاد کا اگر یہاں میں تذکرہ کروں تو اتنا کہہ پاونگی کہ ایک ہاتھ میں اینیڈ بلائیٹن کی ضخیم ناول تھی تو دوسرے ہاتھ میں اسی ناول کو سمجھنے کے لئے ایک موٹی سی آکسفورڈ ڈکشنری ۔اس وقت سے ڈکشنری میری مشکل کی ساتھی رہی ہے گو کہ ناولوں کے مطالعے میں ڈکشنری کی زیادہ ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔  تاہم جب بھی میں ادب کا رخ کرتی ہوں ادب و ثقافت سے متعلق کسی کتاب کا مطالعہ کرتی ہوں اور لٹریچر کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں ۔۔اور ادب سے متعلق جائیزے اور تجزیئے زیر مطلعہ رکھنا چاہتی ہوں تو آج بھی مجھے ایک موٹی سی آکسفورڈ ڈکشنری کی ضرورت محسوس ہونے لگتی ہے ۔وہ بھی پوری شدت کے ساتھ ۔

مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی عار نہیں ہے کہ جائیزے اور تجزئے کے لئے آج بھی جو زبان استعمال ہوتی ہے خاص طور پر میرے لئے وہ بہت ہی  پیچیدہ ہوتی ہے ۔یہ تو ہے میری اپنی کہانی ہے ۔لیکن جب میں نے ایک نویں جماعت کے طالب علم سے جو اتنی سی عمر میں بچوں کی کتابوں کی ایک ویب سائیٹ چلاتے ہیں اور بہت خوبی سے چلاتے ہیں یہی معلوم کرنے کی کوششکی تو مجھے لگا کہ وہ بھی اسی احساس سے دوچار ہیں اور انہیں بھی اس مشکل کا سامنا رہا ہے ۔ تو ٓائیے دوستو،  آج ہم اسی کم سن طالب علم کے اس انوکھے کارنامے کی روداد سناتے ہیں ۔

 اتھرو پاٹل چھ سال کی عمر سے کتابوں کے مطالعے کا شوق رکھتے ہیں اور اسی شوق نے انہیں اس بات کی جلا بخشی کہ اور بچوں کے لئے ایک آن لائ’ین لائبریری چلائیں۔  جب ہم نے اس خیال کے حوالے سے ان سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ کتابیں پرھنے کا تو انہیں بہت شوق تھا، مگر کتابوں کے انتخاب میں انہیں بہت مشکلات کا سامنا تھا اور دوسری بات کتاب کے انتخاب کے بعد مطلوبہ کتاب کا ملنا بھی ایک مشکل مرحلہ ہی ثابت ہوتا ۔ یہی بات انہیں کتابوں کی آن لائین لائیبریری بنانے کا خیال پیدا کرگئی ۔وہ کتابوں پر کتابیں پرھتے چلے جاتے، مگر جب جائیزوں کی بات آتی جب تجزئیے کی بات آتی تو انہیں شدت سے احساس ہوتا کہ یہ کتابیں بچوں کے مطابق یا تو نہیں ہیں یا پھر ابھی بچوں کے ذہن کو ٹھیک سے سمجھا نہیں گیا ہے ۔اسی احساس کے تحت انہوں نے از خود اس سلسلے میں کوئی حل نکالنے کا سوچا اور یہ سوچ بچوں کی پہلی بک ریویو سائیٹ ” بکس بائی کڈس فار کڈس “ :آئی ہیاو ریڈ دی بک ڈاٹ کام ۔۔Ihavereadthebook.com کی شکل میں سامنے آئی ۔

اتھرو پاٹل ممبئی کے علاقے چیمبور میں واقع سینٹ گریگوریس ہائی اسکول کے نویں جماعت کے طالب علم ہیں ۔انہوں نے اس ڈاٹ کام کے حوالے سے کہا کہ وہ جب چھ برس کے تھے اس وقت سے ہی کتابوں کے مطالعے کا شوق رکھتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ سن دو ہزار چودہ میں رات کے کھانے کے وقت کھانے کی میز پر تبادلہ خیال کے دوران انہیں یہ خیال آیا۔

 ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک کتاب خریدنا چاہتے ہیں مگر کتاب خریدنے سے پہلے وہ اس کا سرسری مطالعہ کرنا چاہتے تھے اور انہیں اس بات کا احساس تھا کہ اس نوعیت کی سہولت انہیں میسر نہیں ہے ۔وہ کہتے ہیں نا کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے اور اسی ضرورت نے انہیں اس کام کے لئے راغب کیا ۔

پاٹل کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے اپنے والد سے اپنی پسندیدہ کتاب کے سرسری مطالعے کی خواہش ظاہر کی تو ان کے والد نے انہیں انٹر نیٹ پر سرچ کرنے کا مشورہ دیا ۔

 '' میں نے جب انٹر نیٹ پر سرچ کیا تو مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ کتابوں کے جائیزے کی بہت ساری سائیٹس موجود ہیں ،مگر یہاں اگر شدت سے کمی محسوس کی جاتی ہے تو بچوں کی کتابوں کی سائیٹ کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ بڑوں کے لئے بہت ساری کتابیں ہیں مگر بچوں کے لئے سہل زبانوں میں کتابوں کا فقدان ہے۔  یہ دیکھنے کے بعد میں نے اپنے والد سے کہا کہ کیا میں انٹر نیٹ کے ذریعہ بچوں کی سہولت کے اس فقدان کی کیا پا بجائی کرسکتا ہوں۔  کیا میں بچوں کے لئے ان کی اپنی زبان میں اور ان کے مزاج کے عین مطابق کوئی سائیٹ شروع کر سکتا ہوں ۔؟میرے والد نے میرے اس خیال کی بہت حوصلہ افزائی کی اور انہوںنے اس نوعیت کی سائیٹ کے لئے بڑی مدد کی ۔

اتھرو اس وقت مشکل سے تیرہ سال کے تھے ۔ان کے اس غیر معمولی سوچ اور جذبے کو دیکھتے ہوئے ان کے والد نے حامی بھردی۔ اتھرو کہتے ہیں،

'' میں نے اپنے والد کے ساتھ مل کر اس سائیٹ پر کام کرنا شروع کردیا ہم لوگ ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنا چاہتے تھے،  جہاں سے بچوں کو ان کے مقصد کی ان کی اپنی زبان میں کتابیں مل جائیں ۔ہر قسم کی بچکانی کتابیں۔ ایسی کتابیں جو بچوں کی ہوں اور ایسی بھی کتابیں جو بچوں نے لکھی ہوں ۔''

اور پھر اس کے بعد اتھرو نے کام شروع کیا بہت ہی منظم طریقے سے انہوں نے ملک کے تمام اسکولوں سے ڈیٹا جمع کرنا شروع کیا اور پھر جون اور دسمبر سن دو ہزار چودہ کے بیچ انہوں نے ملک کے کوئی بارہ ہزار اسکولوں میں دستیاب کتابوں کے ڈیٹا نیٹ پر لوڈ کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ۔جب انہیں کرسمس کی چھٹیاں ملیں تو وہ اپنے والدین کے ساتھ مل بیٹھ کر ایک منصوبہ تیار کرنا شروع کیا ۔ ہم نے ویب سائیٹ ڈیولپر کی خدمات ہائیر کرنے کا فیصلہ کیا ۔تاکہ تین مہینے کے مختصر عرصے میں ہماری ویب سائیٹ ایک حقیقت کی شکل اختیار کرلے ۔”Ihavereadthebook.com “ کی رجسٹریشن ایک مشکل کام تھا جو ابھی تک زیر تکمیل تھا ۔

مئی 2015 کو ہم نے فیصلہ کیا کہ تمام اسکولوں سے رابطہ کیا جائے اور پھر ہم نے بارہ ہزار اسکولوں کو مکتوب لکھے ۔اس وقت پڑوسی بچوں نے ہماری خوب مدد کی انہوںنے لفافے مہر بند کرنے میں اور انہیں پوسٹ کرنے میں بھی ہم سے بھر پور تعاون کیا اس سمے ہمارا گھر کاغذوں کا سمندر بن گیا تھا جدھر دیکھوں کاغذ کے ٹکڑے بکھرے نظر ٓٓتے ۔

آتے مگر اس کے بعد کے حالات بہت ہی حوصلہ افزا رہے ان خطوط کا جو ردعمل تھا وہ حیرت انگیز تھا ۔جن جن کو بھی ہم نے خط لکھے تھے تقریبا تمام ہی نے ہم سے جڑنے سے اتفاق کرلیا تھا ۔اور انہوںنے اپنے بہترین طلبا کی بھی تخلیقی خدمات پیش کی تھیں ۔اس طرح مجھے تخلیق کاروں اور لکھنے والوں کا ایک گروپ مل گیا ۔

اس کے بعد اتھرو نے ایک پلیٹ فارم تیار کیا جہاں طلبہ نہ صرف سائین اپ کر سکتے تھے بلکہ اپنی تخلیقات بھی روانہ کر سکتے تھے ۔یہ ایک مرحلہ وار عمل تھا ۔وہ اپنی جائیزے اپ لوڈ کرتے اور ہم انہیں سائیٹ پر پڑھنے کے لئے ڈال دیتے ۔ایک کے بعد ایک یہ سلسلہ چلتا رہا ۔ہم نے ایک مفت سافٹ وئیر کے ذریعہ ان جائیزوں کی تنقیح اور جانچ کا ایک سسٹم بنالیا تھا ۔ہم دیکھتے کہ کسی بھی جائیزے میں اگر اوریجنالٹی ساٹھ فیصد سے کہیں کم پائی جاتی تو ہم ان طلبہ کو ریویو دوبارہ لکھنے کے لئے لوٹادیتے اگر پندرہ دن کے اندر ان کے پاس سے کوئی جواب نہیں ملتا تو ہم اسے فوری سائیٹ سے ہٹادیتے ۔یقین بھروسہ تصدیق اور سند ہمارا میعار تھا اور اس میں ہم کسی بھی قسم کا سمجھوتہ کرنا نہیں چاہتے تھے ۔اتھر کہتے ہیں ہم طلبہ سے کہتے کہ وہ اپنی ہی زبان میں اپنے طریقے سے جائیزے لکھیں اور ان طلبہ کی جانب سے لکھے ہوئے تجزیات میں ہم رتی برابر بھی تبدیلی نہیں کرتے ۔ یہی ہماری ویب سائیٹ کی خوبصورتی تھی اور ہمہ جہتی بھی ۔

اتھرو کا کہنا ہے کہ ملک بھر سے اب تک انہوںنے چار سو تریسٹھ جائیزے شائیع کئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ طلبہ کے رجسٹریشن کی مانیٹرنگ اور رجسٹریشن ان کو میل روانہ کرنے کے لئے روزانہ وہ دس سے بارہ گھنٹے کام کرتے رہے ہیں سسٹم نے اب رفتار پکڑ لی ہے اور کام فلو میں آگیا ہے جس کے بعد اب انہیں محض چار گھنٹے ہی اس سارے کام میں صرف کرنے پڑ رہے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ اب ویب سائیٹ اپ ڈیٹ کرنے کے لئے بھی انہیں زیادہ وقت نہیں لگتا ۔

زندگی اور کام کے درمیان توازن بہت ٓاسان نہیں ہے ۔

اتنی زبردست مصروفیت کے باوجود اتھرو نے لکھنے کے اپنے بھر پور شوق کو ترک نہیں کیا ہے ۔جب بھی انہیں فرصت ملتی ہے کاغذ اور قلم لے کر وہ لکھنا شروع کردیتے ہیں آحر اسی شوق نے تو انہیں یہ سب کچھ کرنے کے لئے مجبور کیا ہے وہ ازخود بھی تبصرے لکھتے ہیں تجزیئے کرتے ہیں اور جائیزے پیش کرتے ہیں ۔وہ کہتے ہیں زندگی کی دیگر ضروریات اور کام کے مابین توازن اتنا ٓاسان بھی نہیں ہے ۔جب وہ کام اور زندگی سے اپنے لئے بہتر ین چاہتے ہیں تو وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ اس کی برقراری میں ان سے کوئی غلطی نہ ہو اور وہ بھی اپنی بہترین خدمات فراہم کریں ۔اتھرو کہتے ہیں ان کی اس محنت سے بہت سارے لوگ متاثر ہیں اور وہ انہیں داد وتحسین بھی دیتے ہیں بنگلور کے ایک شحص کے ان کو لکھے گئے تعریفی خط کا حوالہ دیتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ اس شخص نے اتنی کم عمری میں بچوں کی کتابوں پر مشتمل سائیٹ شروع کرنے پر مجھے مبارک باد دی ۔اس نے اعتراف کیا کہ آج کے دور میں بچے مطالعے کی عادت تقریبا ترک کرتے جارہے ہیں ۔ا

انہوں نے اعتراف کیا کہ میری تیار کی ہوئی ویب سائیٹ ان بچوں میں مطالعے کا شوق دوبارہ پیدا کررہی ہے ۔اور انہیں اس بات کی ترغیب دے رہی ہے کہ وہ دوبارہ سے کتاب اٹھائیں ۔اتھرو کا کہنا تھا کہ اس خط نے انہیں اپنے آپ سے اور زیادہ پیار کرنے کا باعث بنا ہے ۔ یہ میرے لئے ایک انوکھا تجربہ ہے ۔ یہ کہتے ہوئے اتھرو کی باچھیں کھل اٹھی تھیں اتھرو نے کہا کہ انہوںنے اپنی سائیٹ کو مزید فروغ دینے کے لئے اسکولسٹک اور کراس ورڈس کے سی ای اوز سے بھی ملاقات کی ہے ۔

اتھرو کا کہنا تھا کہ اس نے گذشتہ مہینے--2016 e.Summitکے IIT_B's پر تین ٹائکون کا ٹائٹل جیتا ہے۔اس خطاب کو انہوں نے بڑی کامیابی قرار دیا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ اس مقابلے میں ملک بھر کے دو سو پچاس اسکولوں کے طلبہ نے حصہ لیا تھا ۔اتھرو کا کہنا تھا کہ ان کی سائیٹ آئی ہایو ریڈ اے بک نے امیزن اور فلپ کارٹ سے الحاق کرلیا ہے اور اتھرو کا کہنا تھا کہ اگر ان کی کتاب بکتی ہے تو انہیں یہ کمپنیاں از خود دس فیصد منافع فراہم کردیتی ہیں ۔اتھرو کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی سائیٹ منافع پانے والی بنے اور اس کے لئے نئے منصوبوں پر توجہ دی جارہی ہے ۔اتھرو کا مستقبل کے حوالے سے کہنا ہے کہ جہاں وہ چاہتے ہیں کہ ان کی یہ ویب سائیٹ جاری رہے وہیں ان کی یہ بھی خواہش ہے کہ وہ بڑے ہوکر ادیب یا پھر سائینسدان بنیں ۔

اتھرو کا کہنا تھا کہ teenpreneur ایک سیزنڈ انٹر پرینیر کی طرح کام کررہی ہے اور آخر میں اتھر کا کہنا تھا کہ اس ویب سائیٹ سے انہوںنے بہت کچھ سیکھا ہے کہ کیسے کسی کام کلی کامیابی کے لئے اگر آپ کو قدم پیچھے لینے پڑتے ہیں تو بھی پیچھے لینا چاہیہ اور کیسے صبر اور تسلسل کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے اتھرو کا کہنا تھا کہ دیانت داری میعار ٹائیم منحجمنٹ وقت کی پابندی وقف ہوجانے کا جذبہ اور پیسے کی اہمیت کا احساس ہی کسی کو ترقی کی راہ پر بلندی عطا کرسکتا ہے ۔اتھرو نے کہا کہ بروقت فیصلہ اور اٹل ارادے بھی کامیابی کی کنجی میں سے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مصنف ۔بنجال شاہ 

ترجمہ۔سجادالحسنین

اس جیسی اور بھی دلچسپ کہانیاں پڑھنے کے لئے آپ ہمارے فیس بک پیج

FACEBOOK     پر جائیں اور کلک کریں لائیک کریں ۔

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے کلک کریں۔

اردو یور اسٹوری ڈٹ کوم