ایک سوٹ كیس کے ساتھ ممبئی آئے سنجے وزرانی آج کروڑوں کے تاجر

ملک بھر میں پھیل رہا ہے فڈ لنک سروسز انڈیا پراویٹ لمیٹڈ کا کاروبار.... آئندہ 3 سالوں میں کرنا چاہتے ہیں 600 کروڑ کا کاروبار.,.....ریستوران، کیٹرنگ اور ضیافت کے کاروبار میں تین کمپنیوں کے مالک.....700 لوگوں کو دے رہے ہیں روزگار

0

سنجے وذرانی گجرات کے ایک چھوٹے سے شہر سے کچھ کپڑے اور ضرورت کے سامان ایک سوٹکیس میں لے کر ممبئی آئے تھے۔ انہیں شاید اس وقت پتہ بھی نہیں تھا کہ ایک دن وہ 700 لوگوں کو روزگار دینے والی کمپنیوں کے مالک بن جائیں گے۔ بہت جلد وہ اپنا ریستوراں اور ضیافت کا کاروبار ملک کے تمام اہم شہروں میں کھولنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

سنجے کی ابتدائی زندگی ایک عام ہندوستانی خاندان کے بچے کی طرح ہی رہی۔ وہ ایک فاریسٹ عہدےدار کے گھر پیدا ہوئے۔ حیدرآباد میں چائنا بسٹرو ریستراں کے افتتاح کے بعد یور اسٹوری سے بات سے بات چیت کے دوران سنجے نے بتایا،

''میرے والد گجرات اسٹیٹ فاریسٹ میں تھے۔ تو ہر دو سال کے بعد ان کی نوکری بدلتی تھی۔ ہم لوگ بھروچ، کچھ ، گودھرا، بھوج اور دھاگدرا جیسی چھوٹی جگہوں میں رہتے تھے۔ وہاں سے میں بمبئی آ گیا پڑھنے کے لئے، ہوٹل مینجمنٹ میں داخلا لیا نبےّ کی دہائی کے ابتدائی دنوں کی بات ہے۔ 1997-98 میں اپنا پہلا کاروبار یعنی کیٹرنگ کی تجارت شروع کی تھی۔ سال 2000 سے بیرونی کیٹرنگ کی شروعات ہوئی۔''

کوئی بھی کاروبار شروع کرنا اور اسے کامےابی کی بلندیاں عطا کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ سنجے گزشتو 15 برسوں میں اپنی کامیابی کی نئی کہانی لکھی ہے۔ اپنی اس کہانی کے بارے میں وہ کہنے ہیں،

''میرکہانی بڑی دلچسپ ہے۔ میرا سفر صفر سے شروع ہوا۔ چیمبور میں چھوٹی سی آفس سے کام کرتے تھے۔ کیٹرنگ نے ہماری زندگی بدل دی۔ یہ کام گيارہ بارہ لوگوں سے شروع ہوا تھا، آج بھی وہ سب میرے ساتھ ہیں۔ دنیا بھر میں جہاں بھی بڑی شادیاں ہوتی ہیں، ہماری کمپنی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ وہ شادیاں چاہے، فلارینس میں ہو، استنبول میں ہو یا تھائی لینڈ میں ، خاص طور پر ہندوستانی طریقے کی شادی کے لئے ہماری کمپنی سب سے بہتر چائس سمجھی جاتی ہے۔ امبانی، ادانی، جی وی كے جیسے بڑے خاندانوں کی شادیوں کی ذمہ داری ہمیں ملی۔''

وہ کیا چیزیں ہیں جو، کسی بھی کارابار میں کامیابی کا ضامن سمجھی جاتی ہیں۔ سنجے کے مطابق کام کرنے کا جذبہ اور محنت ہی كاميابی کی دلا سکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں،

''پہلے میں شیف تھا، کچن میں کام کرتا تھا، دو سال تک ہوٹل ہالی ڈے ان ریستوراں میں کام کرتا رہا۔ اس کے بعد ایک چھوٹے سے ریستوران میں کام کیا اور کچھ دن بعد میں نے اس کے مالک سے کہا کہ یہ ریستوران چلانے دی جئے میں اس کا فائدہ آپ تک پہنچاؤں گا۔ وہی زندگی کا اہم موڑ تھا، جسے ٹرنگ پوائنٹ کہا جا سکتا ہے۔ اس سے پہلے میرے پاس کار بھی نہیں تھی، میں سکنڈ ہینڈ موٹر سائیکل پر گھوما کرتا تھا۔''

اس کاروبار کے مسائل کے بارے مینں سنجے کہتے ہیں کہ سروس انڈسٹری میں رہتے ہیں تو ہر دن ہمارے لئے چیلنج ہے۔ گاہک خوش رہے، مطمئن رہے، یہی ہمارا چیلنج ہے۔ وہ کہتے ہیں،

''ہمارے مہمانوں کی فہرست میں مختلف علاقوں اور مختلف مزاج کے لوگ رہتے ہیں۔ ان میں انیتا امبانی بھی ہیں، پنکی ریڈی بھی ہیں اور گوتم ادانی بھی ہیں، ہرش گوينكا بھی ہیں۔ ہر اکاؤنٹ ہمارے لئے چیلنج ہے، ہر کام کے پہلے ہمارے دماغ میں چیلنج ہوتا ہے، یہی کہ ہر کام پہلے دن یا ابتدائی لمحوں کی طرح ہی کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں غربت کے دنوں سے یہاں آتے آتے کافی اچھے موقع ملے ہیں اور خدا نے ان موقعوں کے امتحان سے اچھے سے گزرنے کا ہنر بھی دیا۔ ہماری قسمت اچھی ہے کہ آج 750 لوگ ہمارے ساتھ ہیں۔ ڈیڑھ سال کے اندر 2000 ہو جائیں گے۔''

سنجے کی کمپنی 3 شہروں ممبئی، احمد آباد اور سورت میں مرکزی كيچن اور کیٹرنگ آفس چلاتی ہیں ۔ 31 مارچ تک ان کے ریستوران کی تعداد 11 ہو جائے گی۔ حیدرآباد میں تین ریستوران ہوں گے اگلے تین سال میں 8 سے 10 ریستوراں قاَئم کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ سنجے بتاتے ہیں'

''اچھا ریسپاس ملا ہے۔ ایک دوسرے سے سن کر ہی کافی لوگ آ رہے ہیں۔ پہلی جنریشن میں تجارت کرتے ہیں تو ہر دن چیلنج ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ میں ان 15 سالوں میں کبھی اپنی تجارت سے منقطع رہا ہوں۔ حالانکہ ہم نے چھٹیاں لی ہیں، لیکن اس دوران بھی روزانہ کے حال چال سے واقف رہا ہوں۔ یہ ہمارے لئے کام ہی نہیں ہے، شوق بھی ہے، کام کی طرح اگر دیکھتے تو صبح 6 بجے سے لے کر رات دیر گئے تک اس کی فکر کیوں کرتے۔ بہت مزہ آتا ہے، 15 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ آئندہ 5 سے 7 سال میں 500 سے 600 کروڑ روپے کے کاروبار کا ہدف ہے۔ کیٹرنگ کے شعبے میں انڈور کیٹرنگ میں آگے بڑھنے۔ حیدرآباد، بینگلور اور دہلی کے علاوہ ملک کے کئی شہروں میں پھیلنا ہے۔''

سنجے کہتے ہیں، ''میرے ساتھ جو لوگ رہتے ہیں، وہ خاندان کی طرح ہی ہیں۔''

شاید ان کی کامیابی کا راز بھی یہی ہے کہ اپنے ساتھ کام کرنے والوں کا اعتماد بہال رکھا اور وہ ان کی کامیابی کے شریک رہے۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories