مہنگی کاروں میں بڑھ رہی ہیں ہندوستانی خواتین کی دلچسپی

0


ہندوستانی خواتین کے بارے میں معاشرے میں کمزور، صنف نازک، چار دیواری کے اندر قید رہنے والی اور نہ جانے کیا کیا کہا جاتا ہے، لیکن معروف جرمن کار ساز کمپنی مرسڈیز بینز کے منیجنگ ڈائرکٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر رولینڈ فولگر کی مانیں تو ہندوستانی خواتین مہنگی کاروں کو خریدنے میں اپنیدلچسپی دکھا رہی ہے۔

رولینڈ فولگر .....تصویر  بشکریہ دی ہندو
رولینڈ فولگر .....تصویر  بشکریہ دی ہندو

رولینڈ فولگر نے حیدرآباد میں منعقدہ ایک پروگرام میں اپنی مہنگی کاروں میں سے ایک ایس 400 ہندوستان کے بازارمیں لانچ کی۔ مادھاپر میں مہاویر موٹرز کے گروپ چیئرمین یشونت جھابك کے ساتھ گاڑی کے لانچ کے بعد نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان مرسڈيزبینز کے ترجیحات میں سے ایک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی گاڑیوں کو کمپنی نے جرمنی کے علاوہ صرف ہندوستان میں ہی لانچ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی اس وقت بڑے بڑے شہروں میں ہے، لیکن جلد ہی دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں میں بھی ڈیلروں کو مقرر کرے گی۔ تاہم ان شہروں میں ابھی مہنگی کاروں کی مانگ زیادہ نہیں ہے، لیکن کچھ لوگوں میں جو قوۃ خرید اور خواہش ابھر رہی ہے، اس کی تکمیل کے لئے مرسڈيز کو ان شہروں میں لے جانے کا منصوبہ ہے. فی الحال ہندوستان میں کمپنی کے 40 ڈیلر ہیں، جن کی تعداد اس سال 50 تک پہنچائی جائے گی۔

فولگر نے ایس درجے کی لگژری کاروں میں آج جو ایس 400 لانچ کی ہے، ہندوستان کے بازار میں اس کی ایکس شوروم قیمت 1.31 کروڑ روپے ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہندوستان میں. گاہکوں میں مہنگی کاروں کے تئیں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ بالخصوص مرسڈيز خریدنے والوں میں بھی خواتین کی پر کشش کی تعداد دیکھی گئی ہے۔

خواتین میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کی وجوہات کے بارے میں پوچھے جانے پر فولگر نے کہا کہ ہندوستان میں صنعت کے میدان میں خواتین کی شراکت میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس موضوع پر مغرب اور مشرقی ممالک بالخصوص ہندوستان سے موازنہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے فولگر نے کہا کہ خواتین کے لئے مغربی اور ہندوستانی ماحول میں کافی فرق ہے۔ ہندوستان میں آج بھی مشترکہ خاندانوں کی روایت مضبوط ہے اور صنعتی گھرانوں کی خواتین کی شراکت بڑھ رہی ہے، لیکن مغرب میں تنہا زندگی جینے والی خواتین کی تعداد کافی زیادہ ہے۔

فولگر نے کہا کہ سابق میں مرسڈيز خریدنے والوں کی عمر عام طور پر 45 سال سے زیادہ تھی، جو اب گھٹ کر 35 تک آ گئی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اقتصادی ماحول میں تبدیل ہو رہا ہے۔ نوجوانوں کی شرا کت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج      (FACEBOOK ) پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں....     اردو  یور اسٹوری ڈاٹ کوم