ممبئی کی طرح تبدیل ہوں گے حیدرآباد کے پرانے صنعتی علاقے!

كلپترو کا پہلا منصوبہ حیدرآباد میں اپریل میں

0


عمارتوں کی تعمیر کے معاملے میں حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ مغربی اور شمالی علاقہ جتنی تیزی سے آگے بڑھا ہے، اتنی تیزی مشرقی اور جنوبی علاقے میں ترقی نہیں ہوئی ہے۔ شہر کے درمیانے علاقے میں اس کی امکانات اس لئے بھی کم ہیں کہ یہاں جگہ دستیاب نہیں ہے۔ ملک کی اقتصادی راجدھانی ممبئی میں تو جگہ کا مسئلہ مستقل ہے، اس کے باوجود وہاں عمارتوں کی تعمیری صنعت نے نئے نئے امکانات کو تلاش کیا ہے اور اس میں کامیابی بھی حاصل کی ہے۔ ممبئی کی مشہور تعمیری کمپنی كلپترو اپنی اسی خصوصیت کے ساتھ حیدرآباد میں داخل ہونے جا رہی ہے۔ اس کا پہلا منصوبہ شہر کے پرانے صنعتی علاقے صنعت نگر میں ایک ماہ کے اندر شروع ہو جائے گا۔ یہاں 9.9 ایکڑ زمین میں سے 5.5 ایکڑ زمین پر اپنے پہلے منصوبہ میں صرف گرین بلڈنگ ٹکنالوجی بلکہ تخلیقی طور پر بھی نیاپن لانے کی کوشش کمپنی کر رہی ہے۔

كلپترو کے منیجنگ ڈائریکٹر پراگ منوت ممبئی میں حیدرآبادی نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران بتاياك ممبئی کی گھنی آبادی والے علاقوں میں جہاں صنعتی مِلیں بند پڑی تھیں، اس جگہ نئے امکانات کو تلاشا گیا اور آج بہت سی بند پڑی مِلوں کی جگہ اسامان چھوتی رہائشی اور کمرشیل عمارتیں موجود ہیں۔ آہستہ آہستہ پرانی مِلیں اور اور فیکٹریاں نئی شکل میں تبدیل ہو رہا ہے۔ بڑی عمارتوں کی تعمیر کا کام تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ان کی کمپنی نے جب پہلی بار حیدرآباد میں قدم رکھنے کا فیصلہ لیا تو نئے علاقوں میں قدم رکھنے کی بجائے اسی ترکیب کو آزمایا اور صنعت نگر میں ایک پرانی مل خریدی۔ اسی مقام پر آئندہ اپریل کے مہینے میں وہ اپنے رہائشی منصوبے کا آغاز کر دیں گے۔

كلپترو گروپ ممبئی کے بڑے تعمیری گروپوں میں سے ایک ہے۔ گزشتہ چالیس برسوں میں اس نے 93 بڑے منصوبوں کو کھڑاکیا ہے۔ تعمیر کے علاوہ توانائی، رہائشی سروس اور دوسری صنعتوں میں بھی کمپنی نے کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔اس کمپنی کی شروعات مفتلال منوت نے کی تھی۔ 

پراگ منوت نے بتایا کہ کمپنی نے اب تک 12000 خاندانوں کو رہائش گاہ فراہم کرائی ہیں۔ 15000 ملازمین ممبئی کے علاوہ، پونے، اندور، جے پور اور چنئی میں کام کرر ہے ہیں۔ 17 ملین مربہ فٹ کے علاقے میں تعمیراتی کام کیا ہے۔ حیدرآباد میں کمپنی کا یہ پہلا منصوبہ ہوگا۔

پراگ منوت 
پراگ منوت 

حیدرآباد میں تعمیر کی صنعت کے امکانات کے بارے میں پوچھے جانے پر پراگ منوت نے کہا کہ ان کی كمپنی کو ممبئی میں اپنے وقت کی سب سے اونچی عمارت بنانے کا کریڈٹ حاصل ہے، لیکن کمپنی نے کبھی بھی معیار کو بالائے طاق نہیں رکھا ۔ حیدرآباد میں بھی وہ اپنی اسی خصوصیت کے ساتھ داخل ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد صرف آئی ٹی اور فارمیسی نہیں، بلکہ صنعت اور خدمات کے شعبے میں بھی تیزی سے ابھرا ہے اور ایک اچھے اورترقی یافتہ شہر ہونے کے سارے امکانات موجود ہیں۔

کبھی سمجھا جاتا تھا کہ بنجارہ ہلز اور جوبلی ہلز ہی پاش علاقوں کا حصہ ہیں، لیکن آئی ٹی نے گچی باولی كونڈاپور اور مادھاپور کی شکلن ہی بدل دی۔ پراگ منوت کا خیال ہے کہ شہر کے درمیان خصوصیات پر مشتمل رہائش کا اپنا الگ مقام ہوگا۔ اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے انہوں نے صنعت نگر کا انتخاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی کے وہ علاقے جہاں کبھی مِلیں اور فیكٹرياں تھیں اور آج بند پڑی جگہوں کا مطالبہ اب کافی بڑھ گیا ہے۔ اسی طرح حیدرآباد میں بھی ہو سکتا ہے۔
مفت لال منول 
مفت لال منول 

كلپترو کی گورےگاوں اور ملاڈ کے قریب لکژری منصوبے پنیكل میں تین اور چار بیڈروم فلیٹ کی قیمت حیدرآباد کے بنجارہ ہلس میں واقع ایک عام بنگلو سے زیادہ ہے۔ ایسے میں حیداراباد میں وہ قیمتوں میں کس طرح ہم آہنگی بنا پائیں گے؟ اس سوال کے جواب میں پراگ نے بتایا کہ ان کے منصوبے کے بارے میں وہ اپریل میں حیدرآباد میں تفصیل سے معلومات فراہم کریں گے، لیکن اتنا طے ہے کہ حیدرآباد میں عام چلن سے ان کی تعمیر کچھ الگ ہو سکتی ہیں۔ ڈذان اور معیار لوگوں کو اپنی طرف زیادہ متوجہ کریں گے۔

قابل ذکر ہے کہ ممبئی کے ملاڈ اور ورلی میں واقع د و فلکبوس عمارتوں کے دورے کے دوران ہم نے پایا کہ وہاں حیرت انگیز تعمیری اسٹائل کا استعمال ہوا ہے۔ پہلی منزل ہی چودھویں منزل کی اونچائی پر ہے۔ اس طرح تیس منزلہ عمارت میں صرف 15 منزلیں بنائی گئی ہیں۔ اس طرح نئی تخلیقی صلاحیتوں کی طرف سے لکژری پسند طبقے کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پراگ نے بتایا کہ حیدرآباد میں امیزان، اوبر، گوگل اور مائیکرو سافٹ جیسی کمپنیوں کے قائم ہونے سے یقیناً نوجوان طبقے کی بھی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے ان کی قوۃ خرید بھی بڑھی ہے۔ اچھی خدمات کے تئیں ان کی توجہ بڑھی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں ترقی کے کافی امکانات ہیں۔ لیکن یہ ترقی نئے علاقوں کے ساتھ ساتھ آبادی والے علاقوں میں بھی ہونا چاہئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج       (FACEBOOK ) پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔۔۔

ماٹی کہے کمہار سے، منسكھ لال 'مٹی كول' بنا دے موہے

لامکان ...حیدرآباد کامنفرد ثقافتی مرکز

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories