بائی کی رائے سے بدل گئی راہ : پرکاش جھا

0


اپنی نوعیت کے مختلف، بھیڑ سے بھری ، پولیس، سیاست اور سماجی رشتوں کا مبنی فلمیں بنانے کے لئے مشہور ڈائریکٹر پرکاش جھا فلمی دنیا میں خاص پہچان رکھتے ہیں۔ اس بار وہ 'جے گنگا جل 'لے کر حاضر ہوئے ہیں۔ اس میں پريانكا چوپڑا اور مانو کول کے ساتھ ساتھ کئی اداکار ہیں، بلکہ فنکاروں کی بھیڑ ہے۔ یہ فلم 47 دنوں میں مکمل کر لی گئی ہے اور آئندہ 4 مارچ کو ریلیز ہونے والی ہے۔ فلم کی تشہیر کے لئے پرکاش جھا اپنی ٹیم کے ساتھ حیدرآباد آئے تھے۔ ان سے کئی موضوعات پرگفتگو ہوئی۔ پیش ہیں کچھ اقتباسات۔۔

یہ فلم پچھلی 'گنگاجل' فلم سے کتنی مختلف ہے؟ ا

پرانے اداکار جن کے ساتھ میں نے کام کیا تھا، وہ بھی اچھے تھے،آج جن کے ساتھ کام کیا ہے یہ بھی اچھے ہیں، اداکار چاہے نیے ہو پرانے، وہ مسئلہ نہیں رہتا، اصل چیالنج نئے مسائل کو فلموں سے جوڑنے کا رہتا ہے۔ 'جے گنگا جل' کی کہانی آج کی ہے۔ 2003 اور آج کے معاشرے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اس وقت بھاگل پورا کی مائننگ كا مسئلہ تھا۔ جو آج نہیں ہے۔ بہت نئے مسائل ہیں جو اس فلم میں اٹھائے گئے ہیں۔ پچھلی فلم کا ہیرو مرد تھا اور نئی فلم کی ہیرو عورت ہے۔ یہی اس فلم میں اور گنگا جل میں بڑا فرق ہے۔ اگر دونوں فلموں میں ایک جیسی باتیں تلاش کی جائے تو وہاں بھی پولیس اور معاشرے کے تعلقات تھے اور یہاں بھی پولیس اور معاشرے کے رشتے ہیں۔

آپ کی فلموں میں پولیس کے جو کردار ہوتے ہیں، اس سے لگتا ہے کہ پولیس سےآپ کا کوئی گہرا ذہنی رشتہ ہے؟

جتنے بھی سماجی مسائل ہیں، ان کا فلموں سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ چاہے وہ سیاستداں ہو، پولیس ہو یا بیوروکریٹ ہو۔ یہ سارے مسئلے فلموں کے لئے دلچسپی پیدا کرتے ہیں۔ پولیس کے کردار کے ساتھ میری ہمدردی تو رہتی ہے، کیونکہ ہم پولیس کا جس طرح سے استعمال کرتے ہیں، وہ کافی تشویش ناک ہے۔ ایک چھوٹا کانسٹیبل کس طرح کی زندگی جیتا ہے، لوگ اسے سمجھتے نہیں ہیں، نہ ہی اسے جاننے کی کوشش کرتے ہیں، بلکہ اسے خاکی میں دیکھتے ہیں اور پھر صرف ایک منفی تصویر ان کے دماغ میں ابھرتی ہے۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ وہ کتنے گھنٹے سے وہاں ڈيوٹی کر رہا ہے۔ وہ بیمار ہے کیا، اس کی بیوی اور بچے کیسے ہیں، وہ كن حالات میں رہتا ہے، اس کی تنخواہ کتنی ہے، کوئی سوچتا نہیں ہے، بلکہ اسے دیکھ کر عام آدمی کو یہی احساس ہوتا ہے کہ وہ یہاں کھڑا ہے تو اسے ڈيوٹی کرنی پڑے گی۔ اسے اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے، اس سے محبت سے بات نہیں کرتے، بلکہ پولیس والے کو وردی والے کو عام طور پر کرپشن کے نشان کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ مجھے بھی گر کوئی دن رات برا بولتا رہے تو میں اچھا تو نہیں کر پاؤنگا۔ میرا بھی معاشرے کے ساتھ ویسا ہی سلوک ہوگا، جیسا سلوک معاشرہ میرے ساتھ کر رہا ہے۔ پولیس والے، سب تو ویسے نہیں ہوتے، جیسے معاشرہ سمجھتا ہے، کچھ مجبوری میں ہو جاتے ہوں گے اور کچھ جان بوجھ کر بھی ہوں گے، لیکن میں نے دیکھا ہے، جو وزراء کے گارڈ رہتے ہیں، ان کے ساتھ وہ قابل احترام برتاؤ نہیں ہوتا، جیسا ہونا چاہئے۔ میری ہمدردی اس کردار کے ساتھ ہے۔

حالانکہ آپ سمجھتے ہیں کہ فلمیں سماجی تبدیلی کے مقصد کو سامنے رکھ کر نہیں بنائی جا سکتی، لیکن آپ نے اس تبدیلی کے مقصد سے سیاست کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا؟

وہاں تو سیاست ہے۔ میں تو سماجی اصول کی سوچ لےکر آیا تھا۔ میں سیاست نہیں کر سکتا۔ کوشش کی تھی کہ رکن پارلیمنٹ کی ذمہ داری ملتی ہے، تو معاشرے کے لئے براہ راست کچھ کام کروں گا، لیکن اس کے لئے تو كوالیفكیشن تو وہی چاہئے کہ عوام آپکا انتخاب کریں۔ اگر يوپی ایس سی امتحان کی طرح کچھ اختیار ہوتا تو میں کوشش کرتا اور شاید کامیاب بھی ہو جاتا۔ کہیں نہ کہیں فلموں میں وہ احساس ظاہرہوتا ہے۔ 'ستياگره' میں اجے دیوگن کا کردار سیاست میں داخل نہیں ہوتا۔ بنیادی طور پر سیاست میں عہدے اور کام تو صحیح ہوتے ہیں، لیکن ان کا استعمال غلط ہوتا ہے۔

آپ کے چاہنے والوں کا یہ خیال ہے کہ آپ نے دامل جیسی فلم دوبارہ بنانے کی کوشش نہیں کیا اور اس کے بعد دنیا داری کی راہ پر چلے؟

'مرتیودنڈ' میری نئی اور پرانی فلموں کے درمیان پل ہے۔ در اصل اس سے پہلے میں نے 'پرینتی' اور 'دامل' بنائی تھی۔ اب ہندی میں اگر ویسی فلم بنائی جائے گی تو نہیں چلے گی، ہاں صوبائی زبانوں میں اب بھی کچھ توقعات ہیں۔ کم لاگت میں فلم بنتی ہے، اور چھوٹی جگہوں میں ریلیز کرنا ہوتا ہے، لیکن ہندی کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔ ہندی کا سماج اور اس کی سوچ بہت بدلی ہے۔ ہر روز بدل رہی ہے۔ جہاں تک فلموں کے نظریے سے میں اس موضوع کو دیکھتا ہوں، وہ صوبائی زبانوں کے علاقے سے بالکل مختلف ہے۔ صوبائی زبان میں جس موضوع پر آپ فلم بنانے کی بات سوچ سکتے ہیں، وہ ہندی میں نہیں سوچ سکتے۔ بہت ہمت کرکے کچھ بناتے ہیں، اور کبھی کبھی چل بھی جاتی ہے، لیکن آم طور پر ایسی فلموں کی کامیابی کے امکانات کم ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ آج فلم کی تشہیر میں اتنا پیسہ خرچ ہوتا ہے، جتنا پیسہ فلم کو بنانے میں لگتا ہے۔ ان چیزوں سے آپ بچ نہیں سکتے، کیونکہ آپ کو کرنا ہی ہے۔ اگر لوگ آپ کی فلم کے بارے میں جانیں گے نہیں تو دیکھیں گے نہیں۔ سماج اور بازار کی ضرورتوں کا خیال رکھنا ہی ہوگا۔ مجھے ملٹپلیكس میں جانا ہے تو وہاں کے لئے فلم بنانی ہوگی۔ حالانکہ میں وہاں بھی ایک حقیقت کی ڈور سے بندھا رہتا ہوں۔ میں سنگھم نہیں بنا سکتا۔ میں کسی وزیر کوپیچھے سے لات نہیں مار سکتا، لیکن میرا کردار اس وزیر سے بات تو کر سکتا ہے۔

میں ایک واقعہ بتاتا ہوں۔ دامل فلم ریلیز نہیں ہو پا رہی تھی ۔ کوئی ڈسٹريبيوٹر نہیں مل پا رہا تھا۔ این ایم ڈی سی سے جو قرض لیا تھا وہ واپس کرنا تھا۔ حالانکہ اس فلم کو سب سے بہتر فلم کا ایوارڈ ملا تھا۔ میں اطلاعات و نشریات کی وزارت کے پاس گیا اور کہا کہ آپ نے بہترین فلم کا ایوارڈ تو دیا، لیکن فلم کے لئے لیا گیا قرض میں ادا نہیں کر پا رہا ہوں۔ کیا کروں ۔انہوں نے ایک طریقہ نکالا کہ دور درشن پر فلم کے پريمير کے لئے 12 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔ ان 12 لاکھ روپے سے میں نے این ایم ڈی سی کا قرض چکایا۔ اس وقت دوردرشن ہی ایک چینل تھا اور اتوار کو لوگ اچھے اچھے کپڑے پہن کر ٹی وی کے سامنے فلم دیکھنے بیٹھ جاتے تھے۔ میرے گھر میں بھی کافی لوگ آئے۔ دوست لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر فلم دیکھی، گھر کی بائی بھی کافی خوش تھی، لیکن فلم دیکھنے کے بعد اس نے کچھ نہیں کہا۔ جب اس سے اس کا رد عمل پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ اگلی بار بناؤ توپکچر بنانا۔ وہ ایک طرح سے پیغام تھا، مجھے اپنے لئے نئی راہ منتخب کرنے کا۔ ایسی فلمیں بنانے کا جسے لوگ دیکھنا چاہتے ہیں۔

کافی طویل وقت آپ نےفلموں کو دیا ہے۔ آج اپنے آپ کو کس مقام پر محسوس کرتے ہیں؟

میں اب بھی زمین پر ہوں۔ چاہتا ہوں، کچھ اچھا کام کروں اور ہر روز سیکھتا رہوں۔ دو تین موضوعات پر کام چل رہا ہے۔

آپ فلم تو بہت کم وقت میں بناتے ہیں، لیکن اس سے پہلے کافی وقت فلم کی تیاریوں میں لگا دیتے ہیں؟

فلم کے بننے کا عمل چلتا ہے۔ ایکٹر سے ملنا آرٹ ڈائریکٹر سے ملنا، كیمیرا مین سے ملنا اور آہستہ آہستہ کہانی کو دماغ میں زندہ کرنا ہوتا ہے۔ آپ کہانی دیکھتے رہتے ہیں، صرف آپ ہی ہوتے ہیں جو اپنے دماغ میں بننے والی فلم کو دیکھتے رہتے ہیں۔ ایک ڈائریکٹر کے طور پر میرے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ میں جو دیکھ رہا ہوں، کیا میرے ساتھ کام کرنے والے آرٹسٹ وہ سب دیکھ رہے ہیں۔ جب مجھے لگتا ہے کہ وہ سب کے سب وہی سوچ رہے ہیں جو میں سوچ رہا ہوں، تب کام آسان ہو جاتا ہے، اور فلم کم وقت میں بن جاتی ہے۔

آپ اپنے فنکاروں کو کام کرنے کی کتنی آزادی دیتے ہیں؟

آرٹسٹ اپنے ساتھ کچھ نیا لیکر آتے ہیں۔ جو کہانی میں کچھ اپنا شامل کرتے رہتے ہیں، وہ کہانی کووسعت عطا کرتے ہیں۔ پہلے ببلو پانڈے موٹا موٹا ایسا ہی تھا، لیکن مانو کول نے اس میں اپنی خصوصیات ڈالی، اپنی صلاحیتوں کی سے اس کردار کو اپ گریڈ کیا۔ چاہے وہ ان کا بات کرنے کا طریقہ ہو، یا پھر ان کا رویہ۔ میں اکثر فنکاروں سے سوال کرتا رہتا ہوں۔ وہ کہانیاں پوچھتا رہتا ہوں، جوفلم کی کہانی میں نہیں ہیں۔ پريانكا کے والد کا کردار فلم میں کہیں نہیں دکھتا، لیکن ان کے والد کے بارے میں مکمل کہانی بنا کر رکھی تھی، اس لئے کہ وہ اپنے کردار کے والد کے بارے میں جانیں گی، اس کردار کے بچپن کے بارے میں جانےگي تو اسے اس کردار کو ادا کرنے میں مدد ملے گی۔

فلموں میں نئے ماحول کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

کافی نئے لوگ آ رہے ہیں۔ سب سے خوبصورت بات یہ ہے کام چلتا رہتا ہے۔ کوئی بیٹھتا نہیں ہے۔ جس طرح عمارت کی تعمیری شعبے میں سامان نہیں مل رہا ہے تو سب کام رک جاتا ہے، لیکن یہاں ایسا نہیں ہوتا۔ یہ خیالات کی صنعت ہے، خیال تو رکتے نہیں ہے، وہ تو چلتے رہے ہیں۔


کچھ اور دلچسپ کہانیوں کے لئے FACEBOOK پر جائیں اور لائک کریں۔

یہ کہانیاں بھی ضرور پڑھیں۔

آخر ہم 'آئی لو یو' کہنے میں اتنا شرماتے کیوں ہیں؟


پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem