کسانوں کو نئی راہ دکھانے کا'ذریعہ' بنی نشا

0

ودربھ میں دیہاتیوں کے بہتر زندگی کی

کپاس کسانوں کو ٹریننگ دی اور بنایا خود کفیل

ودربھ ہندوستان کا وہ علاقہ ہے جو گزشتہ کچھ برسوں سے کسانوں کی خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے خبروں میں بنا ہوا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں یہاں کے تقریبا دو لاکھ کسان خودکشی کر چکے ہیں اور یہ اعداد و شمار مسلسل بڑھتے جا رہےہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ کسانوں کی غربت، خواندگی کا فقدان، حکومت کی غلط پالیسیاں وغیرہ۔ اس علاقے میں کپاس کی پیدوار کافی ہوتی ہے، لیکن ان کسانوں کو کپاس کا بہت کم پیسہ ملتا ہے۔ کیونکہ کپاس کو مارکیٹ تک لانے میں کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اور کسان صرف پیداوار تک محدود رہتے ہیں۔ اس وجہ سے کسانوں کو ان کی محنت کا بہت کم پیسہ دیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی یہ ملز کافی دور دراز کے علاقوں میں واقع ہیں جس کی وجہ سے وہاں سے سامان لانے اور لے جانے میں کافی پیسہ خرچ ہوتا ہے اور اس کے چلتے منافع بہت کم رہ جاتا ہے۔ ایک بڑی بات یہ بھی ہے کہ اس صنعت میں درمیانی افراد کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اس وجہ سے بھی کسانوں کو ان کی محنت کا پورا حق نہیں مل پاتا۔

کسانوں کی اس مسئلہ کو دیکھتے ہوئے نشا نٹراجن نے اس علاقے میں اپنی طرف سے کوشش کرنے کا من بنایا۔ نشا 'ذریعہ' برانڈ کی پھاوںڈر ہیں اور مانتی ہیں کہ اس سمت میں بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ نشا سب سے پہلے مائكروسپن نام کی ایک اسٹارٹپ سے جڑیں اس کی شروعات لكشمی ناراین نے کی تھی۔ مائكروسپن میں کاشتکاروں کو بھی کام میں لگایا جاتا تھا تاکہ پروڈکشن کے دوران ان کا حصہ کسی اور کی جیب میں نہ جائے۔ دو سو سے زیادہ کسان ان کے ساتھ جڑ چکے ہیں، جو پیداوار کے ساتھ ساتھ اس کے پروڈکشن کا بھی کام کر رہے ہیں۔ نشا ڈیزائن کا کام کیا کرتی تھیں۔ وہ اپنے دوستوں اور خاندان کے ارکان کے لئے ڈیزائن کرتی تھیں وہ بھی صرف شوقیہ طور پر۔ اس وقت تو انہیں پتہ بھی نہیں تھا کہ ان کا یہ شوق ایک دن ان کا پیشہ بن جائے گا۔ نشا نے کرائسٹ یونیورسٹی سے ہوٹل مینجمنٹ کی تعلیم حاصل کی اور پھر کوچین میں کام شروع کیا اور اماجن جیسے بڑے برانڈ کی کے ساتھ کام کیا۔ لیکن ان کا دل وہاں نہیں لگ رہا تھا۔

نشا نے يورسٹوری کو بتایا،

''میری ایک دوست نے مجھے مشورہ دیا کہ میں وہ کام کروں جس سے مجھے محبت ہے اور جس کام کو میں دل سے کرنا چاہتی ہوں۔ اس بات نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ آخر وہ کام کیا ہو سکتا ہے۔ کیونکہ ایسے بہت سے کام تھے جو مجھے پسند تھے۔ اسی درمیان 2013 میں میں نے اپنی ایک دوست کی شادی کے کپڑے ڈیزائن کئے۔ اس کو لباس بہت اچھے لگے اور اسی وقت میرے دماغ میں فوری طور پر یہ خیال آیا کہ کیوں نہ میں ڈیزائن کے شعبے میں کام کروں۔''

اس طرح نشا نے اپنے کام کاآغاز میں دو کاریگروں کے ساتھ 'ذریعہ' برانڈ نام سے کیا۔ پھر نشا نے سوچا کہ وہ کیوں نہ اس کام کو معاشرے کے مفاد سے جوڑا جائے تاکہ دوسروں کا بھی کچھ فائدہ ہو سکے۔

تقریبا ایک ماہ بعد نشا نے مائكروسپن کا دورہ کیا تو وہاں وہ ایک کسان سے ملیں جس کے والد نے فصل خراب ہونے کی وجہ سے خود کشی کی تھی۔ کیونکہ اس کے والد کے اوپر قرض ادا کرنے کا دباؤ بڑھتا جا رہا تھا اور ان کے پاس پیسہ نہیں تھا۔ یہ بات کسانوں کا درد بتانے کے لئے کافی تھی۔ اس وقت وہ آدمی پونا میں بطور کنسٹرکشن ورکر کام کر رہا تھا۔ لیکن والد کی موت کے بعد اس کے پاس گھر واپسی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔ اسی دوران اس کی ماں نے اسے مائكروسپن میں کام کرنے کے لئے کہا۔ یہاں کام کرنے کے سات ماہ بعد اس نے ایک کائنیٹک لونا موٹر سائیکل بھی خریدی۔ اس کےلونا موٹر سائیکل اگرچہ چھوٹی چیز تھی، لیکن اگر آپ ان کسانوں کی اقتصادی حالت پر نظر ڈالیں تو سمجھ سکتے ہیں کہ لونا ان کے لئے کتنی بڑی چیز تھی۔ یہ سب دیکھ نشا کو لگا کہ مائكروسپن کہیں غریبوں اور کسانوں سے بہت اچھی طرح منسلک ہے اور ان کے درد کو سمجھ رہا ہے۔ ان کی زندگی بہتر رہا ہے۔ پھر نشا نے طے کیا کہ وہ اب مائكروسپن کے ساتھ جڑ کر کام کریں گی اور غریب کسانوں کی مدد کریں گی۔

پھر نشا نے ایک مہم کا آغاز کیا۔ نشا اپنی کمپنی کو دوسری فیب انڈیا یا ویسٹسائڈ نہیں بنانا چاہتی تھیں۔ وہ کسانوں کی طرف سے ہی سب کام کروانا چاہتی تھیں تاکہ درمیانی افراد کو اسٹاک نہ دینا پڑے۔ مائكروسپن میں کسان ہی کام کر رہے تھے اور انہیں ہی تربیت دی جا رہی تھی، یہ کام کمپنی کے لئے بھی سستا اور فائدہ بخش بھی تھا۔

نشا کے پاس ڈذائننگ کی کوئی ڈگری نہیں تھی نہ ہی انہوں نے کوئی ٹریننگ ہی لی تھی، لیکن اس بات نے انہیں ذرا بھی پریشان نہیں کیا۔ وہ جانتی تھیں کہ کتابی علم اور حقیقت میں کافی فرق ہوتا ہے۔ انہیں خود پربھروسہ تھا انہوں نے چیزوں کو دیکھ کر سیکھا اور خود پر اعتماد برقرار رکھا جس کی وجہ سے وہ آگے بڑھتی چلیں گئیں۔ مستقبل میں نشا اپنے کلیکشن کا ایک بڑا ذخیرہ کھولنا چاہتی ہیں جہاں وہ مناسب داموں میں عمدہ چیزوں کو فروخت کر سکیں اور اس غریب کسانوں کی مدد بھی ہو سکے۔

نشا کے پہلے کے تمام کلیکشن فروخت ہوچکے ہیں۔ نشا کو اب بلک میں آرڈر مل رہے ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ایک بہت بڑا طبقہ ہے جو ہینڈ لوم پسند کرتا ہے اور ہاتھ سے بنے بنے ہوئے عمدہ ڈیزائن خریدنے کے لئے ہمیشہ تیار رہتا ہے۔

نشا کو بھی کام کے دوران بہت سے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چونکہ یہ ایک ایسی انڈسٹری ہے جہاں مرد زیادہ ہیں۔ ایسے میں کئی بار کاریگروں سے کام کروانے میں تھوڑی دقت بھی آتی ہے۔ چونکہ نشا کی عمر بھی کم ہے اس وجہ سے کئی بار جب وہ ڈیزائن بناتی ہیں تو کاریگر انہیں مشورہ دینے لگتے ہیں کہ یہ ایسے نہیں ہوتا اور وہ ہمیشہ اس طرح سے ہی کام کرتے آ رہے ہیں۔ یہ چیزیں لوگوں کو زیادہ پسند آتی ہیں۔ اس طرح اگر کاریگر ہی ہر کام میں سوال کھڑے کرنے لگیں تو انہیں سمجھانا اور ان سے کام کرانا مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ سب دقتیں نشا کو ان کے کام سے نہیں ڈگا سکیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ کسی بھی کام میں کچھ نہ کچھ دقتیں تو آتی ہی ہیں۔ ایسے میں بہتر ہے کہ انسان اپنی غلطیوں سے مسلسل سیکھتا رہے اور اپنی محنت جاری رکھے۔ یہی وجہ ہے کہ نشا مسلسل آگے بڑھتی جا رہی ہیں اور اپنی محنت اور لگن کو ہی وہ اپنی کامیابی کی جز مانتی ہیں۔

قلمکار: آشوتوش کھنتوال

مترجم: زلیخا نظیر