ترقی کے لئے پروفیشنل کریئر چھوڑکر 22 سالہ مونا کوروبنیں خاتون سرپنچ ،سال بھر میں بدل دی تصویر

0

اکثر کہاجاتاہے کہ اس دنیامیں کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو خود کے لئے نہیں بلکہ سماج کی بہتری کےلئے ،دوسروں کو اچھا بنانے کے لئے ،پریشان لوگوں کے چہرے پر خوشی لانے کے لئے جیتے ہیں۔اس طرح کے لوگوں میں اپنے کام کے تئیں ایساجنون ہوتاہے کہ وہ ہر تما م حالات کو اپنے حساب سے ڈھال دیتے ہیں اور اپنا سب کچھ جھونک دیتے ہیں۔آپ یقین کریں گے کہ ایک 22سالہ طالبہ شہر جاکر ایک پروفیشنل کریئر بنانے کے بجائے گاؤں میں رہ کر سماجی خدمت کا راستہ منتخب کرتی ہے۔لوگوں کو بہتر زندگی دینے کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کردیتی ہے۔اتناہی نہیں جب اس طالبہ کو یہ محسوس ہوا کہ بدعنوان انتظامی ملازمین اور عوامی نمائندے ہی گاؤں کی ترقی میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ سرپنچ بننے کے ایک سال کے اندر ہی انھوں نے گاؤں کی جو تصویر بدلی وہ دوسروں کے لئے نظیرہے۔نام ہے مونا کورو۔

مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال سے تقریباً 200کلو میٹر کے فاصلے پر واقع نرسنگھ پور ضلع کی ایک نوجوان سرپنچ ریاست سمیت پورے ملک کے لئے رول ماڈل بن کر ابھری ہے۔ضلع کے چاورپاٹھاترقیاتی بلاک کے گاڈرواڑا تحصیل کے تحت آنے والے سڈومر گاؤں کے باشندوں نے پہلی بار پنچایتی راج میں خودحکمرانی یعنی حکومت میں عوامی حصہ داری کا مطلب سمجھاہے۔اب تک صرف لیڈروں کے یقین دہانیوں میں ہونے والی ترقی کا گاؤں کے لوگوں نے اب اپنی انکھوں کے سامنے ہوتے دیکھااور محسوس کیاہے ۔گاؤں کی ترقی کا یہ کارنامہ کردکھایاہے اسی گاؤں کی بیٹی مونا کورونے۔22سالہ اس سرپنچ نے اپنی صرف ایک سالہ مدت کار میں ترقی کی ایسی مثال قائم کی ہے جو گذشتہ کئی دہائیوں سے گاؤں کے مردسرپنچ نہیں کرپارہے تھے۔گذشتہ ایک سال میں گاؤں میں بجلی ،پانی ، صاف پینے کا پانی اور سڑکوں کی تعمیر کا کافی کام ہواہے۔ضرورت مندوں کو سرخ اور زرد کارڈ ملنے کے علاوہ اندراگاندھی رہائش اسکیم کے تحت مکان اور بزرگوں کو ضعیفی پنشن ملنے لگاہے۔حکومت کے ذریعے دیہی ترقی کے لئے چلائی جانے والی زیادہ تر اسکیموں کا اس گاؤں میں نفاذہورہاہے۔پنچایت میں کئے گئے سرپنچ مونا کوروکے بے نظیر کاموں نے عوامی نمائندوں سمیت انتظامیہ کے حکام کی بھی توجہ مبذول کی ہے۔ان کے کاموں کی ہرطرف ستائش ہورہی ہے۔اچھے کاموں کے لئے انھیں انعامات سے بھی نوازاجاچکاہے۔حالاں کہ مونا کہتی ہیں ،انھیں ابھی گاؤں کے لئے بہت کچھ کرناہے۔گاؤں کو توانائی گاؤں بنانا ہے اور حیاتیاتیکھیتی کے لئے کسانوں اور دیہی باشندوں کو راغب کرناہے۔اس لئے ابھی گاؤں مین 10گوبر گیس بنوائے گئے ہیں ۔گاؤں کو صاف ستھرارکھنے کے لئے تقریباً 122نئے بیت الخلاء بنوائے گئے ہیںاور 109بیت الخلاء کی مرمت کرائی گئی ہے۔گاؤں کے سبھی وارڈوں میں سڑکیں ہوں ، گاؤں کا جلسہ پنچایت گھر میں ہواس کی بھی کوشش جاری ہے۔مونا کہتی ہیں:

’’ آنگن باڑی اسکول میں بچوں کو اچھی تعلیم ،اچھامڈڈے میل ملے اس کی بھی مسلسل کوششیں ہورہی ہیں اور نتیجے نظر آرہے ہیں کہ جو بچے پڑھنے نہیں جاتے تھے وہ برابر اسکول جانے لگے ہیں ۔گاؤں میں انھیں ابھی آدھارکارڈ،پنشن اسکیم،اندراآواس،پانی ،بجلی اور دیگر سرکاری اسکیموں کے صد فیصد ہدف حاصل کرناہے۔''

ڈاکیومنٹری فلم میں ترقی کی برانڈ امبیسڈر ہوں گی مونا

سرپنچ مونا کورو ریاست میں خواتین کو مضبوط بنانے اور بیٹیوں کی کامیابی نمایاں کر نے والی دستاویزی فلم میں ترقی کی برانڈ امبیسڈر کی طرح نظر آئیںگی ۔ اس میں دکھایا جایا جائے گا کہ مونا کی طرح ریاست کی بیٹیا ں کس طرح معاشرے میں آگے آکر کام کر رہی ہیں ۔ ریاستی حکومت کے ایک منصوبے میں ریاست کی سب سے نوجوان سرپنچ مونا کو ریاست سے 16فروری کو راجستھا ن بھیجے جانے والی ٹیم میں بھی ضلع سے شامل کیا گیا ہے ۔ دستاویز فلم بنانے سڈومر میں ریاست کےمحکمہ رابط عامہ کی تین رکنی ٹیم نے گائوں میں ہورہے ترقی کاموں کا جائزہ لے کر اس کی ویڈیو گرافی کی ۔ گائوں والوں کے درمیان بے باکی سے گائوں کی ضرورتوںاور حکومتوں کی اسکیموں کو نوجوان سر پنچ نے بتایا کہ سڈومر گائوں کی ترقی کے لئے سرپنچ بننے کے بعد مونا کورو کے کام خواتین تفویض اختیار کے شعبے میں اب بطور مثال پیش کئے جارہے ہیں جن کے ذریعے نہ صرف اسکیموں کی مانٹرنگ کی رہی ہے بلکہ معاشرے میں بٹیا گھر کی چہار دیواری سے نکل کر کس طرح گائوں کی ترقی میںکر دار ادا کر رہی ہیں اس کی مثال دکھائی دی جارہی ہے ۔

...تاکہ دوسروں کو ملے ترغیب

ڈاکیومنٹر بنانے آئی ٹیم کے سربراہ شیو کمار شرما کہتے ہیں کہ تقریبا دو منٹ کی فلم میں مونا کے کام دکھانے کا مقصد یہ ہے کہ سڈومر کے کام دوسرے لوگوں کو نظر آئیں اور مونا کے کاموں سے ریاست کی دوسری بیٹیوں اور خواتین کو بھی تحریک ملے کہ وہ کس طرح اپنے گائوں و معشرے کی ترقی میں رول ادا کر سکتی ہیں ۔

اپنے اعزازیہ سے اٹھاتی ہیں دوسرے کی پڑھائی کا خرچ

گائوں کی بیٹیوں کو پڑھنے میں دقت نہ ہو اس کے لئے سرپنچ مونا نے گائوں کی دونوں ہاتھوں سے معذور دسویں جماعت کی طالبہ سونم کی پڑھائی کا خرچ بھی اٹھانے کی ذمہ ار ی لے ہے ۔ طالبہ کو حکومت سے دیگر امداد تو مل رہی ہیں لیکن اس کی تعلیمی فیس سمیت دیگر چھوٹی ضرورتوں کو پورا کر نا ہے تاکہ اس مستقبل سنور سکے ۔

تصفیہ مہم سے مسائل کا ازالہ

مونا گائوں میں نقص تغذیہ کے شکار بچوں کے لئے ’سمادھان‘ نام سے ایک مہم چلاتی ہیں ، جس کے تحط ان بچوں کی نشاندہ کر کے انہیں مناسب غذئیت سے بھر پور کھانے کا انتظام کراتی ہیں ۔ گائوں میں بچوں کے نقص تغذیہ کو انہوں نے تقریبا ختم کردیا ہے ۔ نقص تغذیہ کے شکار تقریبا 13بچے ابھی خصوصی نگہداشت میں رکھے گئے ہیں ۔ بچوں میں نقص تغذیہ کو دور کر نے کے لئے مونا اپنی پڑھائی یعنی کلینکل نیو ٹیشن کے علم کا بھی بھر پور استعمال کر تی ہیں ۔

....

مکتی دھام جاکر توڑی روایت

تقربا چار ہزار کی آبادی والے سڈومر گائوں میں تقریبا 2.50ایکڑ کا ایک رقبہ مکتی دھام و قبرستا ن کے لئے محفوظ ہے ۔ لیکن زیادہ تر رقبہ میں ناجائز قبضے ہیں اور گائوں میں جب کسی کی موت ہوتی ہے تو نوبت یہ ہوتی ہے کہ لاش کو نذر آتش کہیں اور کر نا پڑتا ہے ۔ لوگوں کی یہ تکلیف دیکھ کر نوجوان سرپنچ مونا نے مکتی دھام جا کر گائوں میں برسوں پرانی یہ روایت بھی توڑ دی کہ بیٹیاں اور خواتین شمشان گھاٹ نہیں جا سکتیں ۔ مونا کہتی ہیں کہ مکتی دھام کا معائنہ کیا گیا اور تحصیلدا ر کو میمورنڈم بھی دیا ہے کہ مکتی دھام کی پیمائش کرا ئی جائے تاکہ شیڈ کی تعمیر ہو سکے ۔

آسان نہیں ہے سرپنچ بننے کی راہ

گائو ں کے ایک عام کنبہ میں پیدا ہوئیں اور کیلینکل نیوٹریشن میں ایم ایس سی کے آخری سال میں تعلیم حاصل کر نے والے مونا کورو کی سرپنچ بننے کی کہانی آسان نہیں رہی ہے ۔ مونا کورو نے یور اسٹوری کو بتایا :

’’فروری 2015میں جب سرپنچ میں نے الیکشن لڑنے کا عزم کیا تو گائوں میں اس کی زبردست مخالفت ہوئی ۔ یہاں تک میرا کنبہ بھی دو خیموں میں تقسیم ہو گیا اور میری مخالفت میں میری ایک رشتہ کی ممانی ہی میدان میں اتر گئیں پولنگ تک گائوں میں خوب گروپ بازی ہوئی ۔ حریفوں کے درمیان شہ اور مات کا کھیل ہوا ۔ پولنگ کے دن گائوں میں گولیاں تک چلیں ، لیکن با لآخر میں اپنی قریب ترین حریف اپنی ہی ممانی کو 108ووٹوں سے شکست دی۔ ‘‘

مونا نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر کچھ کر نے کا جذبہ اور مضبوط حوصلہ ہو تو تمام رکاوٹیں انسان کے سامنے دور ہو جاتی ہیں ۔

حکومت اور انتظامیہ سے مل رہا ہے پازیٹیو رسپانس

مونا کورو کا کہنا ہے کہ الیکشن جیت کر سرپنچ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہیں سبھی لوگوں سے اچھا رسپانس مل رہا ہے ۔ گائوں کے سبھی لوگ ان کے ترقیاتی کاموں سے متعلق سبھی طرح کے فیصلوں کے تائید کر تے ہیں اور ان میں اپنی حصہ دار یقینی بناتے ہیں ۔ یہاں تک کہ انتظامیہ کے حکام بھی ان کے کاموں کی ستائش کر تے ہیں اور منصوبوں کے نفاذ میں ان کی مدد کر تے ہیں ۔ مونا کہتی ہیں :

’’لڑکیوںکو ہر فیلڈ میں آگے آنا چاہئے ، چاہے وہ ان کا پروفیشنل کر یئر ہو یا سماجی خدمت کا کوئی میدان ۔ شروعاتی دنوں میں تھوڑی بہت دقتیں آنے کے بعد سب کچھ صحیح اور آپ کے فیور میں ہو جاتا ہے ۔ ‘‘

یہاں سے ملی ترغیب

مونا بتاتی ہیں کہ تقریبا دو سال پہلے ان کے گائوں میں ایک بہت ہی بدعنوان پنچایت سکریٹری آگیا تھا ۔ اس کی وجہ سے گائوں میں ترقی کی کوئی بھی اسکیم زمینی سطح پر آنے سے پہلے سے بد عنوانی کی بھینٹ چڑھ جاتی تھی ۔ مونا نے گائوں کے کچھ لوگوں کے مل کر اس بد عنوان پنچایت سکریٹری کے خلاف قانونی کارروائی کرا کر اسے گائوں کے باہر کا راستہ دکھا یا ۔ اس کے بعد ہی انہیں گائوں کے لئے کچھ کر نے کی ترغیب اور حوصلہ ملا ۔

......

قلمکار : حسین تابش

مترجم : محمد وصی اللہ حسینی

Writer : Husain Tabish

Translation by : Mohd.Wasiullah Husaini