جیسے پریوں کی کہانی ہو... 'اسٹاگرام'

0

نئی دنیا میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ ہماری زندگی کا حصہ بن چکے ہیں، اور ٹیکنالوجی کے استعمال نے دنیا کو سمیٹ کر ہمارے ہاتھ میں رکھ دیا ہے۔ انٹرنیٹ ہماری معمول کا حصہ بن چکا ہے اور روزانہ دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے اس کے ذریعے استعمال کر کامیابی کی نئی عبارت لکھ رہے ہیں۔

فیس بُک اور اس کے بانی مارک جكربرگ کے نام سے تقرباً ہر کوئی واقف ہے۔ گزشتہ کچھ عرسے سے مارک اور 'اسٹاگرام' انٹرنیٹ اور میڈیا کی شہ سرخیوں میں بنے ہوئے ہیں۔ مارک نے اسٹاگرام نام کی اس نئی ایپلیکیشنز کے لیے 10 کروڑ ڈالر کی ایک موٹی رقم ادا کرکے فیس بک کے ساتھ ضم کر دیا ہے۔ انٹرنیٹ کی دنیا کے ماہرین کے مطابق یہ اب تک کا سب سے بڑا تجارتی لین دین ہے۔

آخر کیا ہے یہ اسٹاگرام اور اس ایپلیکیشنز میں ایسا کیا خاص ہے کہ اس نے پورے انٹرنیٹ کی دنیا کو چونکا دیا ہے؟

اسٹاگرام کی کامیابی کی کہانی کو جاننے کے لئے ماضی کے کچھ صفحات پلٹنے ہونگے۔

اب سے کچھ سال پہلے نیكسٹ اسٹاپ نامی کمپنی میں مارکیٹنگ کا کام کرنے والے کیوِن اسٹرام نے کبھی خواب میں بھی اتنا مشہور ہونے کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔ ان کے پاس نہ تو انجینئرنگ کی کوئی ڈگری تھی اور نہ ہی انہیں کمپیوٹر پروگرامنگ کا خاص تجربہ اور معلومات تھی۔

کیوِن ایسے ہی وقت گزارنے کے لیے شام کے وقت دوسروں کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے اور رات کے وقت پروگرامنگ سیکھتے۔ جلد ہی ان کی لگن اور محنت رنگ لائی اور انہوں نے ایک کمپیوٹر پروگرام بنانے میں کامیابی حاصل کی، جسے انہوں نے' بَربن' کا نام دیا۔ بَربن نام کی یہ ایپلیکیشن تو بس آغاز تھا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کیون بربن کو اور بہتر بنانے کی کوشش میں لگے رہے۔ اسی دوران وہ اس ایپلی کیشنز کے بارے میں لوگوں کو بتاتے اور اس کی مارکیٹنگ کرتے۔ آخر کار انہیں اپنی محنت کا انعام مل ہی گیا اور بیسلائن اور اینڈرسن ہروتز نے ان کے ساتھ ہاتھ ملایا اور قریب 5 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ اب کیوِن ایک نئے جوش کے ساتھ اپنے کام میں جٹ گئے، لیکن انہیں اب بھی اپنے جیسے جنونی ساتھیوں کی تلاش تھی۔

کیوِن کو جلد ہی ساتھ ملا مائیک كريگر کا، جو ميبوں میں اپنی نوکری چھوڑ کر آئے تھے۔ ان دونوں نے آپس میں مل کر اس ایپلیکیشن کی تعمیرنو کی۔

کیون اور مائیک نے ساتھ مل کر اس ایپلیکیشن کووسعت دینے کے بارے غور کیا اور کئی دنوں تک اس پر آپس میں تبادلہء خیال کرتے رہے۔ اس کام پر انہوں نے خوب محنت کی۔ اس دوران یہ دونوں بربن کو منظم کر ایچ ٹی ایم ایل -5 کی طرح موبائیل ایپلی کیشنز کی شکل دینے میں کامیاب رہے۔ اس موبائل ایپلی کیشنز میں صارف اپنا لوکیشن معلوم کر سکنے کے علاوہ اپنا دن بھر کا پروگرام بھی طے کر سکتے تھے۔ بربن میں دوستوں کے ساتھ وقت خرچ کرنے پر کچھ پوائنٹس بھی ملتے اور ساتھ ہی تصاویر بھی دوسروں کے ساتھ شئر کر سکتے تھے۔

موبائیل کے لئے بربن ایپلیکیشن بنانے کے بعد ان دونوں کو کچھ نیا کرنے کی سوجھی۔ یہ وہ دور تھا جب کیمرے والے موبائیل مارکیٹ میں نوجوانوں میں خاصے مقبول ہو رہے تھے۔ بربن استعمال کرنے والے موبائیل فون کیمرے سے کھینچی تصویر کو انٹرنیٹ پر براہ راست ڈال سکتے تھے اور یہی ان کی کامیابی کا سب سے بڑا سبب ثابت ہو رہا تھا۔

اس بات سے حوصلہ افزاء ان لوگوں نے سوچا کہ کیوں نہ ایک ایسی ایپلیکیشن تیار کی جائے جو صرف تصاویر کے لئے ہی بنی ہو۔ ان دونوں نے ایک نئی ایپلیکیشن پر کام کرنا شروع کیا، لیکن اس بار کامیابی ان سے مسلسل فاصلہ بنائے ہوئے تھی۔

دونوں نے رات دن ایک کر کے بربن کو نئی شکل دی، حالانکے وہ خود ہی اس کی کامیابی کو لے کر خدشات کا شکار تھے۔ اسی خدشہ میں انہوں نے بربن کی خصوصیات کو آہستہ آہستہ کم کرنا شروع کیا تاکہ اسے مزید صارفین تک پہنچایا جا سکے۔

ایک وقت ایسا آیا جب بربن میں صرف تین ہی آپشن، تصویر شیئرنگ یعنی انٹرنیٹ پر تصویر ڈالنا، تصاویر پر تبصرہ کرنا اور اس تصویر کو پسند یا ناپسند کرنا۔ اس کے بعد ان دونوںنے اسی بربن کو 'اسٹاگرام ' کے طور پر ایک نیا نام دیا ۔

6 اکتوبر 2010 کو اسٹاگرام پہلی بار دنیا کے استعمال کے لئے ایپلیکیشنز اسٹور پر ڈالا گیا اور تین ماہ سے کم وقت میں اس ایپلیکیشن نے 10 لاکھ سے زیادہ صارفین تک پہنچنے کا رکارڑ بنایا۔

حقیقی کمال ابھی باقی تھا۔ کچھ عرسہ بعد اسٹاگرام کو اینڈرائڈ کے لئے شروع کیا گیا تو یوزرس نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور ایک ہی دن میں ركارڈ 10 لاکھ لوگوں نے اسے اپنے موبائل میں لوڈ کیا۔

فیس بک کے بانی مارک جكربرگ نے اسٹاگرام کا وجود اپنے لئے سب سے بڑا چیلنج محسوس کیا اور انہوں نے فوری طور پر اس پر اپنی اجارہ داری کا انتظام کر لیا۔ کیون اور مائیک، دو نوجوان جنہوں نے کچھ نیا کرنے کی ٹھانی اور اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا آج اپنی محنت کی واجب قیمت اور دنیا میں شہرت پا کر ساتویں آسمان پر ہیں۔

انہوں نے ثابت کیا کہ محنت اور لگن کے ساتھ قسمت ساتھ دے تو دنیا میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem