"ایکا" خواتین کی جانب سے چلائی جانے والی پہلی بائیوٹیک اور بایو کیمیکل انٹرپرایز۔

0

ايكا (Aeka) کی کہانی آج سے سات سال پہلے تر یوندرم کے سری چترا کالج آف انجینئرنگ میں اس وقت لکھی گئی جب اے چندرمولی اور گایتری تھكاچی وی نے اپنی تعلیم مکمل کی۔ اس ادارے کے بایو ٹیکنالوجی اور بایو کیمیکل انجینئرنگ ایس سی ٹی سی آئی بیاچ کی اس جوڑی اور ان کے دیگر ہم جماعت ساتھیوں کادیکھا ہوا خواب، ايكا بايوكیمكل پرائیویٹ لمیٹڈ کیرالہ کے تری ویندرم میں واقع پہلا ایسا بائیو ٹیکنالوجی اور بایو کیمیکل (biotech & biochemical) اسٹارٹپ انٹرپرائز ہے جن کی ملکیت مکمل طور پر خواتین کے ہاتھوں میں ہے۔

یہ کمپنی بائیو ٹیکنالوجی، بائیو کیمیائی اور (Enzyme) مصنوعات کے علاوہ حیاتیاتی اصل کیمیائی مصنوعات یاتیار کرتی ہے۔ چندرمولی کا کہنا ہے کہ ايكا کی ٹیم تخلیقی صلاحیتوں، ٹیم ورک، اخترائی سوچ اور اتحاد کو فروغ دینے کے سازگار ماحول تیار کرنے کا ارادہ لے کر کام کرتی ہے۔ چدرمولی آگے کہتی ہیں،'' بدلے میں ہمارے مقصد کی تکمیل کرنے والے مصنوعات، جو عام شخص کے لئے بہت مفید ہیں، کو تیار کرنے کے مقصد کو حاصل کرنے میں ہماری مدد کرتے ہیں. ''

مرکزی ٹیم

چندرمولی اور گایتری دونوں ہی تری وندرم کے ایس سی ٹی کالج آف انجینئرنگ سے بائیو ٹیکنالوجی اور بایو کیمیکل میں بیچلر کی ڈگری حاصل کر چکی ہیں. اس کے بعد دونون نے برطانیہ کے واروكک بزنس اسکول سے مکمل اسکالر شپ کے ساتھ مینیجمنٹ میں ماسٹرس ڈگری حاصل کی۔ چندرامولي اور گایتری کے لیے باالترتیب پروجیکٹ مینجمنٹ اور مارکیٹنگ اور بائیو ٹیکنالوجی مارکیٹنگ کے میدان میں کام کرنے کا خاصا تجربہ حاصل ہے۔

"ايكا" کی سائنسی ٹیم کی قیادت ندھن شری کمار کر رہے ہیں جو این آئی ٹی کالیکٹ سے پی ایچ ڈی کر رہے ہیں اور ساتھ ہی وہاین ای ٹی - سی ایس آی آر میں ایک ریسرچ فیلو بھی ہیں۔"ايكا" کیتجربہ گاہ جے رام کے ، سنبھالتے ہیں جنہوں نے ایس سی ٹی سی آی سے بائیو ٹیکنالوجی اور بائیو کیمیکل میں بی ٹیک کرنے کے بعد منپال یونیورسٹی سے صنعتی بائیو ٹیکنالوجی میں ایم ٹیک مکمل کیا۔ دونون کا کہناہے '' ہمارے ساتھ رہنمائی اور سائنسی مشیر کے طور پر تحقیق میں 42 سال کا تجربہ رکھنے والے ويپي پوٹٹی جڑے ہوئے ہیں جن کے نام سے 100 سے زیادہ پیپرس شائع ہو چکے ہیں۔

چیلنجز

کیرالہ جیسی جگہ میں جہاں بر بائیوٹیک کمپنیز کے لیے مماحولنہیں ہے ایک بائیوٹیک کمپنی کو قایم کرنا کافی مشکل کام رہا۔ وہ بتاتی ہیں کہ انہیں جس چیلنج کا سب سے زیادہ سامنا کرنا پڑا وہ ضروری قانونی اور ریگولیٹری طریقہ کار کے بارے میں معلومات دستیاب کروانے والا رہا ایک اور وسیع ذرائع کی کمی ہونے کے علاوہ "ايكا" جیسی کمپنی کے لئے ضروری لایسنس حاصل کرنا رہا۔ وہ بتاتی ہیں،مشیر صلحکاروں مقامی حکام کے تعاون اور تجربہ کار لوگوں سے حاصل ہونے والے قیمتی مشورہ نے ہمیں ابتدائی رکاوٹوں کو دور کرنے میں کافی مدد کی۔

تاہم چندرمولی کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں بہت خوش قسمت رہیں کہ حکام، صارفین اور عام عوام کے ساتھ زیادہ تر مذاکرات کے دوران انہیں انتہائی شائستہ اور دوستانہ ماحول حاصل ہوا، لیکن پھر بھی انہیں کئی بار منفی سوچ کے حامل طبقہ کے ساتھ بھی مقابلہ کرنا پڑا۔

چندرمولی کہتی ہیں،''یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ ہمارا سفر بہت آسان رہا ہے۔ کئی مواقع پر ہمیں ایسے افراد کا سامنا کرنا پڑا جو یہ جاننا چاہتے ہیں کہ 'اس منصوبوں کے پس پردہ کون ہے؟ انہیں اس بات کا بالکل بھی یقین نہیں ہے کہ دو لڑکیاں کاروبارشروع کرنے کے بارے میں سوچ بھی سکتی ہیں! ' ایسی مثال بہت کم ہے جس کو پیش کیا جا سکے۔

سہولتیں اور مصنوعات کی تیاری

3 اکتوبر 2014 کو مصنوعات کی پیداوار شروع کرنے کے صرف ایک ماہ کے بعد ہی نومبر میں "ايكا" کو کیرالہ فینانس کارپوریشن کے تعاون سے کیرالہ حکومت کی کیرالہ اسٹیٹانٹرپرونر ڈیولپمنٹ مشن اسکیم کے لئے منتخب کیا گیا۔

چندرمولی کا کہنا ہے کہ یہ ان کے لئے ایک سنگ میل ثابت ہوا کیونکہ اس کے ذریعے کمپنی اپنے قیام کے بعد پہلا بیرونی سرمایہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ اس کے بعد جنوری کے مہینے میں کمپنی نے تریوندرم میں اپنی لیبارٹری قائم کرتے ہوئے محدود سطح پرمینوفیکچرنگ کا اغاز کیا۔"ايكا" نے یہاں پر ایک تمام خصوصیات کی حامل لیبارٹری، بنیادی تجزیاتی لیبارٹری اور پائلٹ حیاتیاتی کیماوی پیداوار اكاي قائم کی۔

فروری کے مہینے میں انہوں نے اپنیماکٹنگ شعبہ "ايكا" لیب کی بنیاد رکھی جو ان سیلز سرگرمیوں کے علاوہ مارکیٹ کی تحقیقی کام کاج پر بھی نظر رکھتی تھی۔ ايكا لیبز کا جگاتھي میں اپنا دفتر ہے اور یہ بايوپراڈكٹس کے مارکیٹ پروموشن کے لئے بھی ذمہ دار ہے۔

اسی سال 1 جون کو کمپنی کے رہنماء اور سینئر سائنسدان ڈاکٹر وی پی پاٹٹی نے کمپنی کی نیی تعمیر کردہ لیبارٹری میں سائنسی تحقیی کاموں کا آغاز کیا۔ چندرمولی کہتی ہیں'' ہمارا یہ مرکز شہر کے قلب میں واقع ہے اور یہ ايكوفرینڈلی ، آلودگی سے پاک اور ہریالی سے بھرپور ہونے کے علاوہ مکمل طور محفوظ ہے۔ ہماری لیب اورتمام یونٹس مائكروبايولاجی، بايوٹےكنالوجي، کوالٹی کنٹرول اور کیمیائی (ویٹ لیب) کے کاموں کے لئے مکمل طور عصری تقاضوں سے لیس ہے۔''جولائی کے مہینے میں انہوں نے لیبارٹری کی سطح پر ٹیسٹ اور پیداوار شروع کیا اور آپنی کی مصنوعات کی سسيا (Sasya) سیریز کی شروعات کی۔

اسی سال ستمبر میں یہ اپنی نئی ویب سائٹ کو دنیا کے سامنے لانے میں کایاب ہے جس کی مدد سے یہ ٹیم آن لاین اور سوشل میڈیا کے میدان میں اپنی موجودگی کو زیادہ بہترانداز میں پیش کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ "ايكا" نے 9 اکتوبر 2015 کو محفوظ اور کیمیائی استعمال سے پاک کھیتی کو فروغ دینے کے لئے مايكروبيل پلانٹ گروتھ پرموٹرس کی سسيا سیریز کے تحت اپنی پہلی مصنوعات کی سیریز بھی شروع کی۔

ان اس سیریز میں مندرجہ ذیل مصنوعات ہوتے ہیں، جن میں سے ہر ایک مخصوص فصل اوراستعمال کے طریقوں کے ساتھ لخاص طور پر تیار کیا گیا ہے۔

سسيا سترا - بیج اور جڑوں کے علاج کے ذریعے نرسری اور باغ کے استعمال کے لئے

سسيا مترا - فولير کے ذریعے باورچی خانے، گھریلو یا چھت پر باغ، اور چھوٹے فارموں کے لئے

سسيا رکشا -فولير کے ذریعے باغات اور کھیتوں کے لئے

سسيا پوشک -فولير، بیج اور جڑوں کے ذریعے بڑے کھیتوں کے لئے

سسيا پوشک پلس - فولير، بیج اور جڑوں کے ذریعے بڈے فرمس کے لئے

ٹیم اور اس کا مقصد

ایک ٹیم کے طور پر "ايكا" ماحولیات کے تحفظ کو سب سے زیادہ اہمیت دینے میں یقین رکھتیہے۔چدنرمولي کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ ہی ساتھ ان کا سارا زور مقامی کمیونٹیز کی ضروریات کو پورا کرنے پر رہتا ہے اور پھر اس کے بعد وہ وسیع و عریض علاقوں پر اثر چھوڑنے والی مصنوعات کی تیاری اور ترقی پر توجہ دیتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ "ايكا" یومیا مقصد ایسے حل کی تلاش کرنا ہے جو سماجی اور ماحولیاتی ضروریات کے لئے حل تلاش کرنے میں معاون ثابت ہو۔ چندرمولي کہتی ہیں،'' ہم نے محدود سطح پر شروع کرنے کا ایک بہتر فیصلہ کیا ہے اور یہ سب کچھ کرتے ہوئے فضلہ اور توانائی کے نقصان کو کمترکم سے کم کرنا اب ہمارے ہاتھ میں ہے۔ گرین رہتے ہوئے کمیونٹی کی ترقی کے لئے اپنی طرف سے کچھ کرنا ہماری کوششوں کی بنیاد ہے۔''

آمدنی ماڈل اور مستقبل

اس کمپنی نے آمدنی کے لئے مینوفیکچرنگ ماڈل کو اختیر کیا جس کے تحت کمپنی چنندہ صارفین کے لئے مصنوعات تیار کرتی اور بیچتی ہے اور کمائی کرتی ہے۔آپنے پہلے ہی سال میں "ايكا" نے اپنی مصنوعات کی کامیاب تجارت کے ساتھ ساتھ آپنے ایم بی پی جی پی سیریز کی ترقی پر توجہ مرکوز کی ہے۔

"ايكا" کا ارادہ خود کو ایک ایسی کمپنی کے طور پر قائم کرنے کا ہے جو مقامی ضروریات کی تکمیل اس طرح کرے جو مقامی صارفین کے علاوہ عالمی صارفین کے لئے بھی فایدہ مند اور مفید ہو۔