بھگت سنگھ پر آر ایس ایس بی جے پی کی گھٹیا سیاست !

0

شہید بھگت سنگھ یکایک چرچا میں آگئے ہیں۔ ہر سیاسی جماعت اُن کے تعلق سے بات کررہی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی سے لے کر راہول گاندھی اور اروند کجریوال تک ہر کسی کی زبان پر اُن کیلئے صرف تعریف و ستائش ہے۔ اکالی دل کی دانست میں بھگت سنگھ کو بعد از مرگ ’بھارت رتن‘ ملنا چاہئے۔ اور اس ضمن میں وہ صدرجمہوریہ سے رجوع ہونے پر غور کررہے ہیں۔ اکالیوں کو بناءپگڑی والے مجسمہ پر بھی اعتراض ہے جو دہلی اسمبلی کے احاطے میں نصب کیا گیا ہے۔ اسی طرح اکالی دل کی سیاسی شراکت دار بی جے پی کی سرپرست تنظیم آر ایس ایس بھی اُن کے تعلق سے بہت پُرجوش ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اچانک قوم پرستی کی بحث سے مربوط ہوگئے ہیں۔ وہ کسی کی بھی حب الوطنی کو جانچنے کی قطعی کسوٹی ہے اور اگر ششی تھرور جیسے کوئی لوگ کنہیا کمار کا تقابل بھگت سنگھ سے کرنے کی جرا¿ت کرتے ہیں تو اُن کی دھجیاں اُڑا دی جاتی ہیں۔ میں حال میں ایک ٹی وی مباحثہ میں شریک تھا، جہاں ایک نوجوان لڑکی اس تقابل پر اتنی برہم تھی کہ آپ اُس کی غضبناکی عیاں تھی اور منھ سے جھاگ نکل رہا تھا؛ میں نے اُس کی بے چینی اور اُس کی تڑپ محسوس کی۔


بھگت سنگھ بلاشبہ ہم ہندوستانیوں کیلئے ہمیشہ نہایت معزز شخصیت رہے ہیں۔ وہ جدوجہد ِ آزادی کے نمایاں کردار ہیں۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ انھوں نے گاندھی جی سے اختلاف رائے کیا۔ اور گاندھی جی نے حصولِ آزادی کیلئے اُن کے پُرتشدد طریقوں کو قبول نہیں کیا۔ لیکن 1931ءمیں بھگت سنگھ کی قربانی نے ساری قوم کو جھنجھوڑ ڈالا جب انھیں سکھدیو اور راج گرو کے ساتھ پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ اُن کی عمر محض 23 سال تھی۔ وہ آنے والی کئی نسلوں تک انقلابیوں کے لئے حوصلہ بنے رہے۔ لیکن آر ایس ایس بی جے پی اور اس کی دیگر ہمنوا تنظیموں نے جس طرح انھیں صرف اَپنا بنا لینے کی کوشش کی، اس سے کچھ مختلف اُسلوب سمجھ آرہا ہے جو زیادہ حوصلہ افزاءنہیں۔ بھگت سنگھ سے قبل اسی طرح کی سعی سردار پٹیل اور سبھاش چندر بوس کو ہتھیا لینے کی گئی۔ دونوں کا آر ایس ایس سے کوئی واسطہ نہ تھا اور آر ایس ایس نے بطور آرگنائزیشن جدوجہد ِ آزادی میں کبھی حصہ نہیں لیا۔ دونوں قائدین کانگریس پارٹی کی قدآور شخصیتیں تھے۔ میں سمجھ سکتا ہوں کہ سردار پٹیل کا آر ایس ایس کے ساتھ کسی حد تک نظریاتی تعلق رہا لیکن سبھاش چندر بوس مختلف کنارے پر تھے۔ وہ سوشلسٹ رجحانات رکھتے تھے اور انقلابی شخص تھے۔

اسی طرح بھگت سنگھ کا آر ایس ایس بی جے پی کے ساتھ کسی بھی قسم کا کوئی نظریاتی میلان نہیں ۔ درحقیقت، میرے ذہن میں ذرا شائبہ تک نہیں کہ آج اگر وہ زندہ ہوتے تو مودی حکومت اور آر ایس ایس کے سخت ترین نقاد ہوتے۔ آر ایس ایس مودی حکومت کا جے این یو کے بارے میں موقف بھگت سنگھ کو یقینا غصہ دلاتا۔ آر ایس ایس مودی حکومت نے جے این یو کی وقعت ختم کرنے کے لئے اسے دہشت گردی کا گڑھ اور غداروں کی آماجگاہ ثابت کرنے کی مہم چھیڑ رکھی ہے۔ آر ایس ایس کو کمیونزم سے باطنی نفرت ہے اور جے این یو کمیونسٹ آئیڈیالوجی کا طاقتور گڑھ ہونے کی وجہ سے آر ایس ایس کی نفرت انگیز مہم کا ہمیشہ ہی نشانہ رہی ہے۔ مخالف ہندوستان نعرے بازی نے موقع فراہم کیا کہ جے این یو کو لفنگوں کی ابتدائی آماجگاہ کے طور پر پیش کردیا جائے۔ اس لئے مجھے یہ جان کر حیرانی ہوتی ہے کہ آر ایس ایس بھگت سنگھ کو اپنے میں سے شمار کرنے کوشاں ہے اور انھیں قوم پرستی اور حب الوطنی کے لئے کسوٹی بنا رہی ہے۔

بھگت سنگھ کمیونسٹ تھے۔ کم عمری میں ہی انھوں نے کارل مارکس اور لینن کے افکار اپنائے۔ وہ ’انقلابِ بولشویک‘ سے متاثر تھے اور لینن اُن کے مثالی ہیرو تھے۔ وہ سویت یونین کے کمیونسٹ انقلاب میں آزادی کے بیچ اور ہندوستان کے مسائل کا حل ڈھونڈتے تھے۔ وہ یہی مانتے تھے کہ ”محنت کشوں کا غلبہ“ ہندوستانی غریب طبقہ کو اس کی سماجی و معاشی زنجیروں سے آزادی دلائے گا۔ وہ پمفلٹ جو انھوں نے سکھدیو اور راج گرو کے ساتھ مل کر اسمبلی میں پھینکا تھا، جس کے لئے وہ گرفتار اور پھر پھانسی پر لٹکائے گئے، اپنے آپ میں Das Capital اور کمیونسٹ منشور کے بنیادی جذبہ کی عکاسی کرتا ہے۔ اس پر تحریر تھا .... ”انسانیت اس وقت تک اپنی بیماریوں سے چھٹکارہ نہیں پاسکتی جب تک انسان کے ذریعے انسانوں کا استحصال اور قوم کے ذریعے قوموں کا استحصال جو سامراجیت کی اصل فطرت ہے، اسے ختم نہیں کردیا جاتا۔“ وہ کہا کرتے تھے کہ حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ سسٹم کو بدل دینا چاہئے۔ اُس پمفلٹ پر مزید تحریر تھا .... ”انسانیت صرف اسی وقت آزاد ہوسکتی ہے جب اس دنیا کو سرمایہ داریت کی لعنتوں اور سامراجیت پسند جنگ کی تباہی سے آزادی مل جائے۔“ آر ایس ایس نے صرف ہندو ایکتا کی بات کی ہے، محنت کشوں کے اتحاد کی نہیں۔ لیکن بھگت سنگھ کی رائے رہی کہ محنت کرنے والوں کو متحد ہوکر عوام کی حکومت قائم کرنا چاہئے۔

کمیونزم (اِشتراکیت) کا ماننا ہے کہ مذہب لوگوں کو تقسیم کرتا ہے اور مارکس نے کہا ہے کہ مذہب عوام کے لئے مانند افیون ہے اور مذہب اور خدا کی نفی کرتی ہے۔ غرض ، مذہب آر ایس ایس آئیڈیالوجی کی بنیاد ہے۔ ہندومت اس کا حوصلہ ہے۔ بھگت سنگھ کمیونزم اور سوشلزم کے حقیقی معنوں میں دہریہ تھے۔ اور اسے انھوں نے کبھی کسی سے پوشیدہ نہیں رکھا۔ اُن کا پمفلٹ ”میں دہریہ کیوں ہوں“ ہر کسی کے لئے تاریخی دستاویز ہے۔ اس سے ایک جھروکا کھلتا ہے کہ اُن کے ذہنی افکار کا مشاہدہ کیا جائے اور اُس شخص کو سمجھا جائے جو ”بھگت سنگھ“ تھا۔ وہ تو خدا کے وجود کو ہی چیلنج کرتے ہیں۔ وہ ایسے سوالات کیا کرتے تھے کہ اگر خدا ہے تو پھر اس دنیا میں اس قدر خستہ حالی کیوں ہے؟ غریب لوگ کیوں ہیں؟ وہ پمفلٹ میں لکھتے ہیں .... ”اگر تمہارا عقیدہ ہے کہ کوئی قادرِ مطلق، عالِم کُل اور ہرجا موجود خدا کا وجود ہے جس نے یہ دنیا بنائی، تو مجھے کوئی تو بتائے کہ کیوں اُس نے یہ دنیا بنائی ہے، جو دکھوں اور تکلیف سے بھری ہے؟ کوئی بھی شخص خوش نہیں ہے؟“

آر ایس ایس کا تو بالکلیہ برعکس ڈھنگ ہے۔ کیا میں پوچھ سکتا ہوں، آیا آر ایس ایس کو بھگوان اور مذہب سے بھگت سنگھ کا انکار قبول ہے؟ کیا وہ بھگت سنگھ کو کمیونسٹ سوچ و فکر کے ساتھ قبول کرتے ہیں؟ اگر ہاں تو پھر کیوں اس کے دوسرے سربراہ گرو جی گولوالکر اپنی کتاب ’ The Bunch of Thoughts‘ میں لکھتے ہیں کہ ہندوستان کے تین دشمنان ہیں اور اس زمرے میں کمیونسٹوں کو مسلمانوں اور عیسائیوں کے ساتھ شامل کرتے ہیں۔ یہ بجائے خود تضاد ہے۔ گولوالکر کی منطق دیکھیں تو آر ایس ایس اور بھگت سنگھ کا ساتھ نہیں ہوسکتا۔ ان دونوں کے درمیان پکڑ کا کوئی امکان نہیں۔

یہ بھی دلچسپ امر ہے کہ بھگت سنگھ تو جواہر لعل نہرو کے مداح تھے، جن سے آر ایس ایس مودی حکومت کو نفرت ہے۔ بھگت سنگھ نے نہرو اور سبھاش بوس کا تقابل کرتے ہوئے کہا کہ بوس جذباتی ہیں مگر نہرو بہت ہوشمند ہیں۔ وہ پنجاب کے نوجوانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ”نہرو کی تقلید کریں کیونکہ بوس اور نہرو کے درمیان تقابل کریں تو آخرالذکر شخص پنجاب کے نوجوانوں ذہنی خواہش کی تکمیل کرسکتا ہے“۔ کیا یہ آر ایس ایس کے لئے قابل قبول رہے گا؟ نہیں! آر ایس ایس نے سردار پٹیل اور سبھاش بوس کو اس لئے اُبھارا ہے کہ نہرو کی وقعت گھٹائی جائے اور اُن کے اثر کو ہندوستان کے عوامی ذہن سے مٹا دیا جائے کیونکہ یہ طے ہے کہ آر ایس ایس نظریات پر اجارہ داری اور نظریاتی غلبہ حاصل نہیں کرسکتا جب تک نہرو طرز کی فراخ دلی کا چرچا عظیم تر قومی مباحثہ میں ہوتا رہے۔ جب سے مودی حکومت نے قوم کی باگ ڈور سنبھالی ہے، اس نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ نہرو کے پیش کردہ ہندوستان کو رسوا کیا جائے۔ اس لئے کیا میں یہ باور کرلینے میں غلط ہوں کہ بھگت سنگھ کو ہتھیانا نہرو کے تعلق سے اُن کے خیالات کی تائید کرنا ہے؟ آیا اس کا مطلب ہے کہ آر ایس نے گولوالکر کے دلائل کے برخلاف کمیونسٹوں کے تعلق سے اپنے موقف پر نظرثانی کرلی ہے؟ کیا آر ایس ایس کی بھی رائے کہ مذہب رجعی ہوتا ہے جیسا کہ بھگت سنگھ نے ہمیں یقین دلانا چاہا؟

ان سوالات کے معاملے میں مجھے یقین ہے آر ایس ایس نے اپنا موقف نہیں بدلا ہے کیونکہ حقیقت ِ حال میں اس کا رویہ اور اس کے بیانات کچھ اور ہی ثابت کرتے ہیں۔ لہٰذا ، بھگت سنگھ کو ہتھیا لینے کی واحد ممکن وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ اُن کی قربانی کو آلہ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے دوسروں کو زیر کریں اور سیاسی مقاصد حاصل کئے جائیں۔ مگر میں کہہ دوں کہ بھگت سنگھ بہت بڑی شخصیت ہیں اور اُن کا نام گھٹیا سیاست میں نہیں گھسیٹا جانا چاہئے۔ یہ اُن کی میراث اور انقلابی چاہ کی بے ادبی ہوگی۔

................................................................

تحریر : ’عام آدمی پارٹی‘ لیڈر اشوتوش .... مترجم : عرفان جابری