معذوری کے باوجود بنے عالمی چمپئن...پیارا ایتھلٹ آنند اور گریش نے ملک کے لئے حاصل کئے گولڈ اور سلور میڈل

0

حال ہی میں پیرو میں منعقد ہوئے پیارا بیڈمنٹن میں ہوئی بیڈمنٹن چمپئن شپ میں طلائی اور چاندی کا تمغہ جیتنے والے آنند کمار اور گریش کمار نے معذوری کو ہراتے ہوئے نئی تاریخ رقم کی ہے۔ حالانکہ انہیں ملک کی حکومتوں سے کسی طرح کی حمایت یا حوصلا افزائی نہیں ملی ہے، لیکن وہ زندگی آگے بڑھنے کا پر جوش حوصلہ رکھتے ہیں۔

 حیدرآباد میں ان دو نوجوان معذور کھلاڑیوں کو آدتیہ مہتا فاؤنڈیشن کی طرف سے اداکارہ لکشمی منچو نےاعزاز سے نوازا۔ لکشمی منچو نے دونوں کھلاڑیوں کی جدوجہد کو سلام کرتے ہوئے کہا کہ وہ مشکل حالات میں بھی کھیل کے جزبے کو بیدار رکھے ہوئے ہیں۔

ایے ایم ایف کے بانی آدتیہ مہتا نے کہا کہ حکومت کی طرف سے جو تعاون حاصل ہونا چاہئے، نہیں مل رہا ہے، لیکن وہ مایوس نہیں ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ حیدرآباد میں معذوروں کے لئے ایک کھیل اكادمی قائم کریں اور اس کے لئے کوششیں جاری ہیں.

گریش شرما کی کہانی کافی تکلیف دہ ہے. جب وہ صرف 2 سال کے تھے تو ریل حادثے میں ان کا پیر کٹ گیا۔ وہ بتاتے ہیں،''مجھے جب ہوش آیا تو میں نے ایک پیر کٹا ہوا پایا۔ گھر والوں نے بتایا کہ مدھہ پردیش کے پیپل منڈی میں ماما کے گھر کے سامنے تریک کے پاس کھیل رہا تھا کہ اس حادثے کا شکار ہو گیا۔ والدین مجھے لےکر ایک سال تک اسپتالوں میں رہے تھے- والد کا تعلق ریلوے سے تھا، اچھی تعلیم و تربیت میں کوِئی کثر نہیں چھوڑی۔ لیکن کے آگے مینں نہیں پڑھ پایا۔''

انٹر کے دوران ہی ایک دن ریلوے کلب میں انہیں بیاڑمنٹن سے لگاو ہوا تو انہوں نے والد سے سفارسش کی٫ اور پھر ایک پیر سے معذور گریش نے زندگی کے نئے دور کا آغاز کیا۔ وہ بتاتے ہیں،ہمارے خاندان کا تعلق راجستھان کے نندوائی سے ہے، لیکن والد ریلوے میں ہونے کی وجہ س گجرات میں رہتے تھے۔ یہاں پر کلب میں بیاڑمنٹن کھیلنے میں ایک پیر سے دوڑنا سٹروک لگانا مشکل ہونے لگا تو کوچ نے کہا کہ میں دوڑنے کا کام آچھل کر کر سکتا ہوں اور اس طرح معذوری کا ہرانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ 2007 میں میں نے پہلا نیشنل مڈل جیتا۔ اسی سال ازرائیل جانے کا موقع ملا اور وہاں انٹرنیشنل مڈل جیتنے سے حوصلہ اور بڑھا۔ ''

تب سے 2012 تک مسلسل ملک کے لئے انرنیشنل میڈل جیتنے کا سلسلہ جاری رہا، لیکن مالی امداد نہ ملنے کی وجہ سے 2012 میں جیت کا سلسلہ منقتع ہو گیا،''گریش بتاتے ہیں، بہت کوشش کے باوجود بیرون ملک جانے کے لئے روپے نہیں جٹا سکا۔ 2014 میں کورٹرفاِئنل تک پہںچا تھا کہ چکن پاکس کی بیماری نے آ گھیرا۔ وہ سال بھی گیا۔ اس سال آدتیہ مہتا نے مدد کی اور پہلے بار وہیل چیَر میں مڈل جیتنے میں کامیاب ہو گیا۔''

گریش کا مڈل جیتنے کی خوشی کے باوجود اس بات کا غم ہے کہ حوکومتیں ان کی مدد نہیں کر رہی ہیں۔ انہوں نے نے کہا، ''بین الاقوامی سطح پر جو کامیابی ہم نے حاصل کی ہے، یقیناً وہ ملک کے لئے ہے۔ ملک سے باہر اپنی جیت کا پرچم لہراتے ہوئےہم فخر محسوس کرتے ہیں، لیکن جب ہم اپنے ملک لوٹ آتے ہیں تو ہمیں اس بات کا دکھ جھیلنا پڑتا ہے کہ نہ ہی ہمارا دوسرے کھلاڑیوں کی طرح خیر مقدم کیا جاتا ہے اور نہ کوئی مبارکباد کا پیغام بھیجا جاتا ہے۔ کئی بار ہمیں کھیلنے کے لئے بیرون ملک جانے کے لئے دفاتر کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔ دوسری طرف عام کھلاڑیوں کو ساری خدمات پیش کی جاتی ہیں.''

گریش شرما بتاتے ہیں کہ وہ وہیل چیئر پر 2020 اولمپکس میں بیڈمٹن کا طلائی تمغہ جیتنے کا خواب رکھتے ہیں، لیکن ان کے پریکٹس کے لئے ملک میں ایک بھی میدان کی سہولت نہیں ہے. عام میدان پر انہیں پریکٹس کرنےکی اجازت اس لئے نہیں ہے کہ ان وہیل چیئر سے میدان کی گھاس خراب ہو جائے گی.

آنند کمار کا تعلق کرناٹک سے ہیے۔ وہ پولیو کا شکار ہیں، ان کے جسم کا آدھا حصہ یعنی ایک ہاتھ اور ایک پیر صحیح کام نہیں کرتا۔ گھر اور دوستوں سے انہیں کوئی شکایت نہیں ہے، کیں کہ انہوں نے تو جو ہو سکتا تھا کیا اور انہی کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے وہ آگے بڑھ پائے، لیکن حکومت اپنی زمہ داری نہیں نبھا رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں، ''میں نے پیرو میں پیارا بیڈمنٹن چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل جیت لیا ہے، اس کے باوجود ملک میں اس طرح استقبال نہیں ہوا، جس طرح کرکٹ یا دیگر کھلاڑیوں کا ہوتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ کھلاڑیوں کو کوچ اور تربیت کی سہولت فراہم کریں تاکہ انہیں بھی اپنے ملک کی حکومتوں پر فخر ہو۔''

انہوں نے آدتیہ مہتا فاؤنڈیشن کا اظہار تشکر کیا کہ فاؤنڈیشن کی وجہ سے انہیں آگے بڑھنے کا حوصلہ ملا ہے۔

دونو کھلاڑی اپنے اپنے میدان میں بڑے عزائم رکھتے ہیں۔ وہ معذوروں کے لئے بننے والی اکادمی میں اپنا اہم رول ادا کرنا چاہتے ہیں۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories