ایک اسپتال جہاں جمعہ کے روز بچیوں کی پیدائش پر تمام سہولتیں مفت ملتی ہیں

0

جمعہ کے روز پیدا ہونے والی لڑکیوں کے لئے دیاوتی اسپتال، میرٹھ کی سہولتیں مفت

لڑکیوں کی پیدائش کے بعد والدین کو سوغات دینے کے لئے شروع کی گئی یہ خدمت

گزشتہ کچھ برسوں میں مردم شماری میں جس طرح لڑکیوں کی پیدائش کا تناسب لڑکوں میں مقابلے میں کافی کم دکھائی دیتا ہے جس سے سما ج کی اجتماعی سوچ کا اظہار ہوتا ہے۔ ایسے وقت میں مرکزی حکومت کی جانب سے بیٹیوں کے لئے چلائی جارہی اسکیموں نے لوگوں کو اس مسئلے کے تئیں بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس بیداری کا اثر نہ صرف سماج بلکہ اسپتالوں اور ڈاکٹروں پر بھی پڑا ہے۔ ہم آپ کو آج ایک ایسی شخصیت سے روشناس کروارہے ہیں جو اسپتالوں سے متعلق ایک عام سوچ کہ "اسپتال اب تجارتی اڈے بن گئے ہیں، کو غلط ثابت کردیں گے۔

آج ایک ایسے اسپتال کی کہانی لے کر ہم آپ کے سامنے ہیں جہاں جمعہ کے روز پیدا ہونے والی لڑکیوں کے والدین کو پیسوں کی ادائیگی نہیں کرنے ہوتی ہے۔ جی ہاں، آپ نے صحیح سنا ہے۔ یہ کوئی بڑے شہر کا بڑا اسپتال نہیں ہے۔ اس کہانی کو جاننے کے لئے آپ کو چلنا ہوگا مرکزی دارالحکومت دہلی سے تقریباً 75 کلومیٹر دور واقع شہر میرٹھ ۔ میرٹھ شہر 1857 کے انقلاب کی وجہ سے تمام ملک میں جانا جاتا ہے۔ لیکن آج ہم میرٹھ کا ذکر جس وجہ سے کر رہے ہیں وہ وجہ یہاں کا ایک اسپتال ہے۔

میرٹھ میں واقع 45 بستروں کے اس اسپتال کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہاں جمعہ کے روز پیدا ہونے والی بچیوں کی پیدائش پر انہیں ساری سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ بیٹی کی پیدائش کی خبر یہاں خوش خبری بن کر آتی ہے۔ پیدا ہونے والی بچیوں کے والدین کے لئے یہ جمعہ جشن کے دن جیسا ہوتا ہے کیونکہ انہیں اس دن اسپتال میں بل کی ادائیگی کی فکر نہیں کرنی پڑتی۔ اس دن اسپتال میں پیدا ہونے والی بچیوں کے والدین کو سرف دوائی کا خرچ دینا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ آپریشن تھیٹر سے لے کر ڈاکٹر تک، ساری سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ اس چھوٹے سے اسپتال نے اپنے اس بڑے اقدام کے ذریعے سماج کو ایک پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔ دیاوتی اسپتال نے یہ سہولت گزشتہ برس نومبر میں شروع کی اورلوگوں کے درمیان ان کے اس اقدام کا بے حد مثبت اور تعمیری پیغام پہنچ رہا ہے۔

یور اسٹوری سے بات کرتے ہوئے اسپتال کے بانی 42 سالہ پرمود بالیان کہتے ہیں،

"جب وزیرِ اعظم نریندر مودی نے "بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ" اسکیم کی شروعات کی اسی وقت سے ہمارے دماغ میں کچھ نیا کرنے کی بات چل رہی تھی۔ سو ، ہم نے جب اپنے اسپتال کے لئے اس اسکیم پر غور و فکر کے لئے اپنی ٹیم سے گفت و شنید کی تو ابتداء میں ہمارے ڈاکٹرس اور نرسیس اس کے لئے تیار نہیں تھے۔ لیکن جب میں نے ان سے اسپتال کے اس اقدام سے سماج میں ہمارے تعلق سے پہنچنے والے پیغام کے بارے میں بات کی تو وہ لوگ خوشی خوشی تیار ہوگئے۔"

بالیان کے مطابق یہاں نارمل اور سیزرین دونوں ہی طرح کی زچگی کی سہولتیں میسر ہیں۔ اس پر تقریباً 8 ہزار تا 12 ہزار روپئے خرچ ہوتے ہیں۔ لیکن جمعہ کو بچیوں کی پیدائش پر ہم یہ سہولتیں مفت فراہم کرتے ہیں۔ بالیان کہتے ہیں کہ بچیوں کے والدین کے لئے یہ کافی راحت افزاء خبر ہوتی ہے۔

اتنا ہی نہیں بلکہ میرٹھ کے آس پاس کے علاقوں میں بھی اس اسپتال کے ذریعے اُٹھائے گئے اس قدم کی سراہنا کی جارہی ہے۔ جمعہ کے روز پیدا ہونے والی ایک بچی کے والدین نے یور اسٹوری سے بات کی تو انہوں نے کہا،

"یہ سہولت ہمارے لئے کافی راحت بھری ہے۔ اسے یوں سمجھئے کہ میں آج اسپتال کے بِل کی ادائیگی کے لئے پیسوں کا انتظام کر رہا ہوتا لیکن لڑکی پیدا ہونے کی وجہ سے مجھے یہ تمام سہولتیں مفت حاصل ہورہی ہیں۔"

اسپتال کے بانی بالیان کے مطابق ، جمعہ کا دن نہ صرف ہندوؤں کے لئے بلکہ مسلمانوں کے لئے بھی متبرک اوراہم ہوتا ہے۔ اس پس منظر میں اس دن پیدا ہونے والے سبھی بچیوں کے لئے اسپتال کا بل صِفر ہونا ہماری جانب سے ان کے والدین کے لئے ایک چھوٹی سی سوغات ہے۔ بالیان کے مطابق،

"جب حکومت لڑکیوں کی ترقی کے لئے اتنا کچھ کر رہی ہے تو ہمیں بھی اپنے اپنے سماج کے لئے ایسے قدم اُٹھانے چاہئیں جو آگے چل کر لوگوں کو مثبت طور پر متاثر کر سکیں۔"

اس اسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹروں اور نرسوں کے لئے بھی یہ ایک نیا تجربہ ہے ۔ اس سے قبل وہ جہاں بھی کام کرتے تھے وہاں ایسا کوئی نظام نہیں تھا کہ لڑکیوں کی پیدائش پر اسپتال اپنا بِل صِفر کر دیتا ہو۔ حالانکہ یہ مانتے ہیں کہ ابتداء میں جب اسپتال کے مالک پرمود بالیان نے یہ اسکیم ان کے سامنے پیش کی تو وہ لوگ اس کے لئے تیار نہیں تھے۔ لیکن جیسے ہی انہیں اس اقدام سے لوگوں میں پہنچنے والے مثبت پیغام کے بارے میں سمجھایا گیا تو ان لوگوں نے اپنی رضامندی کا اظہار کرنے میں دیر نہیں کی۔

میرٹھ کے دیاوتی اسپتال کے ذریعہ آٹھائے گئے اس قدم کو سماج میں ایک مثبت پیغام پہنچانے کے لئے یور اسٹوری اسپتال کے اس اقدام کی سراہنا کرتی ہے۔ اور ہم اسپتال کے اس اقدام کو اپنی اسٹوری کے توسط سے اپنے قارئین تک پہنچانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔

تحریر: نیرج سنگھ

مترجم : خان حسنین عاقبؔ