چار نوجوانوطلباء نے شروع کیا 'ڈیل والے'

0

نوجوان کاروباری اودیش اگروال، کرشنا اگروال، شبھانك گپتا اور امنگ تولساريا

تجارتی اداروں سے معاہدہ

فی مہینہ کوپن کی 2000 کوپن فروخت کرنے کا امکان

ڈسکاونٹ ڈیل ہے، جو بغیر پہچھَ مل جاتی ہے


ملک بھر کے نوجوانوں میں ابتدائیہ صنعتوں (اسٹارٹپس) میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ حیدرآباد شہر کے چار نوجوان طلباء نے شہر میں نئے کاروبارون کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے `ڈيل والا ' کمپنی شروع کی ہے۔ ڈيل والا نے شہر کے تقریبا 300 تجارتی اداروں سے معاہدہ کیا ہے، جن کے لئے وہ رعایتی کوپن جاری کریں گے۔

نوجوان کاروباری اودیش اگروال، کرشنا اگروال، شبھانك گپتا اور امنگ تولساريا نے اپنے کاروبار کا لوگو جاری کیا۔ انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد کے تقریبا 300 کاروباری ان کے ساتھ منسلک ہیں اور ان کے پاس ڈیل والا کے کوپن پر 10 سے 50 فیصد کی رعایت حاصل کی جا سکتی ہے۔

19 سالہ شبھانک بی بی اے آخری سال کا طالب علم ہے، اس کا ارادا ہے کہ تجارت میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون سے کاروبار کے مسائل حل کئے جا سکتے ہیں، بلکہ کامیابی کی بلندیوں کا بھی پہنچا جا سکتا ہے۔

امنگ تولساريا ایس پی جانی اسکول آف گلوبل مینجمینٹ می بی بی اے تیسرے سال کا طالب علم ہے۔ امنگ کو نیے چالنج کا سامنا کرنے میں خوشی موحسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چاروں ساتھی بی بی اے آخری سال کے طالب علم ہیں۔ انہوں نے یہ منصوبہ ایک تجربہ کے طور پر شروع کیا ہے۔ اس کے تحت انہیں فی مہینہ کوپن کی 2000 کوپن فروخت کرنے کا امکان ہے۔ ایک کوپن کی قیمت انہوں نے 399 روپے رکھی ہے۔

اودیش اگروال کا ماننا ہے کہ اس طرح وہ اپنی نئی کمپنی سے ان لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں، جو اپنے کاروبار کوذیادہ لوگوں تک پہنچا نہیں پا رہے ہیں۔

شبھانک کہتے ہیں کہ کاروباریوں مییں رابطہ بڑھا کر نہ صرف آمدنی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، بلکہ گاہکوں سے بہتر رشتے استوار کئے جا سکتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں، ''اس کاروبار میں کافی امکانات ہیں۔ ہم نے جو فہرست بنائی ہے، وہ 300 تک پہنچی ہے۔ اس وہ ہزار یا دو ہزار تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ اس کے لئے ہم کوشش کر رہے ہیں کہ گاہک کے لئے بھی اور کاروباری کے لئے بھی برابر کا فائدہ ہو- کئی لوگ شوروم یا رسیتراں میں ڈسکاونٹ پوچھتے ہیں اور نہ سن کر انہیں مایوسی ہوتی ہے۔ ڈیل والے کے کوپن خریدنے والے گاہک کے لئے اب ڈسکاونٹ پوچھنے کے ضرورت نہیں رہےگی۔ بلکو بٰغیر پوچھے ہی وہ اپنا کوپن نکال کر دیگا اور اسے ڈسکاونٹ مل جائے گا۔ ''

اودیش کے مطابق ڈیل والا ہندوستانی بازار کا رخ بدل رہا ہے اور اس کے مطابق ہی ان چاروں دوستوں نے مل کریہ پروجکٹ بنایا ہے۔ اس کے پیچھے اہم مقصد ڈسکاونٹ ڈیل ہے، جو بغیر پہچھَ مل جاتی ہے۔ دوسرے کاروباری کا گاہک بڑھ جاتے ہیں تو اس کی آمدنی بھی بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تو انہوں نے ایک کوپن بک شائع کی ہے، لیکن بہت جلد ایک ایپ بھی تیار کریں گے۔ ایپ سے ڈیل گاہک کے موبائل پر موجود ہوگی۔

اودیش بتاتے ہیں کہ شہر کے 109 بڑی برانڈ ان کے ساتھ ہیں، بیت جلد اس فہرست میں اضافہ ہوگا اور گاہک کو بھی اس سے فائدہ ہوگا۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem