صرف ایک روپئے میں... بچوں کو تعلیم اورکیریئر بنانے میں مدد

 تعلیم کے تئیں بھانوپریاکی انوکھی سوچ

0

ایم بی اے کی ڈگری حاصل کرکے بعدبھانوپریاچاہتیں توکسی اچھی کمپنی میں نوکری کرتیں اور عیش وآرام کی زندگی گذارتیں، لیکن اوروں کی طرح بھانوپریانے کبھی یہ خواب نہیں دیکھا۔ ان کا خواب توملک کے مستقبل کومزید بہتر بنانے اور گھر گھر میں تعلیم کی شمع جلانے کا تھا۔ مگرعام خاندان میں پیداہوئیںبھانوپریاکے پاس اتنا پیسہ نہیں تھاکہ وہ اپنے دم پر اسکول کھولتیں اور بچوں کو مفت تعلیم دیتیں۔ لیکن کہتے ہیں جہاں چاہ وہاں راہ۔ ان سب مشکلوں کے باوجود انھوںنے شکست نہیں مانی اور 2001میں’بھارتی سانگرہتا‘ کی شروعات کی۔ سب سے پہلے انھوںنے 20پروفیشنلز کی ایک ٹیم بنائی اور بچوں کوتعلیم دینے کا کام شروع کیا۔ الگ الگ شعبوں سے آنے والے یہ پروفیشنلزوقت نکال کران بچوں کی رہنمائی کرتے ہیں اور بھانوپریا کی اس نیک کام میں مدد کرتے ہیں۔

بچپن سے ہی کچھ الگ کرنے کی سوچ

جودھ پور کے برہماپوری کی رہنے والی بھانوپریاپڑھائی میں ہمیشہ اول رہیں۔ اسکول میں ہمیشہ85سے90فیصدنمبرات کے ساتھ ٹاپ کرتی تھیں۔ جودھ پور کے سب سے مشہور کالج ’’لاچھوکالج آف سائنس اینڈٹیکنالوجی، سے بی ایس سی کرنے کے بعد انھوںنے ایک سال کا ڈپلوماان ملٹی میڈیا کیا۔ اس کے بعد ایم بی اے کیا۔ پھرجودھ پورانسٹی ٹیوٹ آف ایکسپورٹ اینڈ شپنگ مینجمنٹ سے ڈپلوما ان ایکسپورٹ اینڈامپورٹ کیا۔پڑھائی کا شوق رکھنے والی بھانوپریا کو بچپن سے ہی عظیم شخصیات کے جدوجہد کی کہانیاں پڑھنے کا شوق تھا۔ دھیرے دھیرے ان کایہ شوق ان کے لئے تحریک کا باعث بن گیا۔ بچپن سے ہی کچھ الگ سوچ اورخواہش رکھنے والی بھانوپریا ایک دن اپنی معلمہ کے ساتھ انھیں سب باتوں پر بحث کررہی تھیں۔ اسی دوران انھوںنے ایک اسکیم بنائی۔ جو بچوں کی تعلیم وترقی کے لئے وقف ہو اور اس طرح وجود میں آیا بھارتی سنگرہتا۔

بھارتی سنگرہتا کاقیام

گیان کی دیوی سرسوتی سے گیان اور عقل حاصل کرنے کے مقصد سے اسکیم کانام بھارتی سنگرہتارکھاگیا۔ لیکن اسکیم شروع کرنے کے لئے بہت ساراحوصلہ اور رہنمائی درکار تھی اور اس میں انھیں ساتھ ملاان کی معلمہ سارکااوجھا کا۔ جو نہ صرف ان کی گروہیں بلکہ ان کی محرک اور نگراں بھی ہیں۔ سارکاموسیقی اورسنسکرت میں ایم اے ہیں اور انھوںنے بی ایڈبھی کیا ہے۔ سرکاری اسکول میں پڑھانے کے بعد وہ بغیر تھکے اور بغیر کسی مالی منفعت کے بھارتی سنگرہتاکے بچوں کوپڑھاتی ہیں۔ سارکاکو سب سے اچھی معلمہ کااعزاز بھی مل چکا ہے۔ بھانوپریا جب آٹھویں جماعت میں پڑھتی تھیں تب سے وہ سارکاسے موسیقی سیکھ رہی ہیں۔ ان کے بھجنوں کی سی ڈی بیچ کرجو پیسہ آتاہے وہ ادارے کے کاموں میں خرچ کیا جاتاہے۔ بھانوپریا کے ہم خیال لوگوں کی ایک پوری ٹیم ہے جس میں سی اے، ڈاکٹر س، انجینئر اور سائنس داں ہیں جو اپنے اپنے دائرہ عمل کا تجربہ بچوں کوبتاتے ہیں اور ان کی رہنمائی کرتے ہیں۔

یوراسٹوری سے بات چیت میں بھانوپریانے کہا:

’’ سب سے پہلے 11طلباء نے یہاں ایڈمیشن لیا۔ آج یہاں کل101طلباء ہیں ۔ فروری 2012میں ہم نے نیا سینٹر کھولا۔ یہاں طلباء کو بچپن سے ہی مقابلہ جاتی امتحانات اور الگ الگ مضامین کے ساتھ مختلف شعبوں کی معلومات فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اسپوکن انگلش،پرسنالٹی ڈپولپمنٹ،سائنس، آرٹ اور کمپیوٹر کی بھی تعلیم دی جاتی ہے۔ ورکنگ پروفیشنلز جیسے ڈاکٹر، انجینئر، سائنس داں ان طلباء کو گائیڈکرتے ہیں۔ بچوں کو ایجوکیشنل ٹور پربھی لے جایاجاتاہے اورغریب بچوں کومالی مدد بھی دی جاتی ہے۔ بھارتی سنگرہتا میں بچوں کے مکمل ارتقاء پر توجہ دی جاتی ہے۔ ہرمہینے مختلف شعبوں سے وابستہ مقابلہ جاتی امتحانات منعقد کئے جاتے ہیں۔ بیس پروفیشنلز کی ٹیم بے لوث جذبے سے بچوں کوگائیڈ کرتی ہے اور تعلیم میں ان کی مدد کرتی ہے۔ بچوں کو سائنس کے پروجیکٹ اورماڈل بناناسکھاتی ہے۔2011سے یہ ادارہ مسلسل بچوں کی ترقی کرلئے کوشاں ہے۔ پہلے جودھ پورکے چاندپال میں اسکیم کی شروعات ہوئی اور سردارپورہ میں اس کی دوسری شاخ بھی کھل گئی ہے۔ بھانوپریا کہتی ہیں:
’’ایک ایم بی اے ہمیشہ منافع کے بارے میں سوچتاہے۔۔ میں نے بھی یہی سوچاکہ بچوں کامنافع کیسے ہو۔دیش کامنافع کیسے ہو۔ میرامنصوبہ ہے کہ دیش کا ہر بچہ تعلیم یافتہ ہو۔ ہر شہرمیں بھارتی سنگرہتا ہوکیوں کہ کوئی بھی اہل طالب علم مالی تنگی کی وجہ سے نہ پچھڑے۔ مہذب اور تعلیم یافتہ بچے اچھے سماج کی تعمیر کرتے ہیں اور ملک کے مفاد میں تعاون کرنا ہے توہمیںپوسٹ اورپیسے سے آگے سوچناہوگا۔‘‘

بھارتی سنگرہتا کے لئے پیسے کا انتظام

’ریزہینڈٹوہیلپ، سرگرمی کے ذریعے ادارے کے لئے چندہ جمع کیا جاتاہے۔ بھارتی سنگرہتا کی جانب سے چھپی کتابوں اورطلباء کے آرٹ ورک کو بیچ کربھی ادارے کے لئے رقم جمع کی جاتی ہے۔ بھانوپریا خود ایک گلوکارہ بھی ہیں اور ان کے بھجن اورگیتوں کی سی ڈی بیچ کرجوبھی پیسہ آتاہے وہ بچوں کی ترقی پرخرچ کیا جاتاہے۔ اس کام میں اسکول کے بچے بھی بھانوپریا کی مددکرتے ہیں۔ ’رن فارآن‘ کو اپنے ادارے کا مقصد بنانے والی بھانوپریا کاخیال ہے کہ زندگی میں ہمیشہ نمبرون بننے کی خواہش ہونی چاہئے۔ اس لئے انھوںنے بچوں کویہ سبق دینے کے لئے اسکول کی فیس ایک روپیہ رکھی ہے جو بچے اپنی پاکٹ منی سے دیتے ہیں۔ آج بچوں کو اپنی معلمہ پرناز ہے۔

ابتدائی مشکلیں

جب بھانوپریانے اس انوکھے اسکول کی شروعات کی تب علاقے کی باشندے کچھ الگ ہی سوچ رکھتے تھے۔ بھانوپریا کہتی ہیں:

’’شروع شروع میں لوگ کہتے تھے کہ میری جیسی لڑکی اتنی بڑی غلطی کیسے کرسکتی ہے،اس نے اپنا کیرئیر خراب کرلیا۔ہم اپنے بچوں کوکبھی ایسانہیں کرنے دیں گے۔ لوگ سمجھتے تھے کہ کچھ ایساکروجس میں پوسٹ ہو، پیسہ ہو۔ آج انھیں کے بچے میرے اسکول میںپڑھتے ہیں اور اس سے زیادہ خوشی کی بات کیا ہوگی جب بچے آپ سے کہیں۔۔۔۔ ’وی آرپراؤڈآف یومیم۔‘

اس نیک کام میں بھانوپریا کوخاندان کابھی ساتھ ملااورماں باپ نے کبھی ان کے سامنے اپنی مجبوری کارونانہیں رویا۔ دوستوں کابھی پوراساتھ ملااور آج بھانوپریا اوران کی ٹیم 101بچوں کے مستقبل کو سنوارنے میں لگی ہے۔

کیوں ہے ضروری

اعدادوشمارپر نظر ڈالیں توملک میں اب بھی لگ بھگ پچاس فیصدبچے اسکول نہیں جاتے۔ پانچ سے نوسال کے درمیان تقریباً 53فیصدلڑکیاں غیر تعلیم یافتہ ہیں۔ تقریباً پچاس فیصد لڑکے اور58فیصد لڑکیاں تیسری سے پانچویں جماعت تک جاتے جاتے درمیان میںہی اسکول چھوڑ دیتی ہیں۔ حکومت نے2001میں ’سب کے لئے تعلیم مہم‘کاآغازکیا جس کے تحت 6سے14سال کے عمر کے بچوں کے لئے مفت تعلیم کا بندوبست ہے۔ لیکن کاغذی اعداد وشمار اور زمینی حقیقت میں اب بھی بہت بڑافرق ہے۔ ایسے میں بھانوپریا کاانوکھااسکول ایک مثال ہے۔ جنھوںنے اپنے علاقے کے بچوں کی ذمہ داری اپنے کندھوں پراٹھائی ہے۔ وہ ملک کے ہر شہر میں ایسا اسکول چاہتی ہیں جہاں پیسے سے زیادہ تعلیم کواہمیت ملے۔ سب کو راغب کرنے کے لئے ان کے ادارے کا ایک نغمہ ہے جو ہم سبھی کو آگے بڑھنے کی ترغیب دیتاہے۔۔

ہم چلے زمیں کے پار، ہواکے ساتھ، چھولیں آسماں...

آنکھوں میں خواب، ہونٹوں پہ چاہ، منزل کے قدموں کے،بڑے ارماں...

چلو چلیں ساتھ، لیں ہاتھوںمیں ہاتھ، محنت سے پائیں گے اپنا مقام...

...................

قلمکار : شکھاچوہان

مترجم : محمد وصی اللہ حسینی

Writer : Shikha Chouhan

Translation by : Mohd.Wasiullah Husaini

...................

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

یہ کہانیاں بھی ضرور پڑھیں۔

’ڈوراسٹیپ اسکول ‘طلباء تک پہنچنے والا اسکول ، تعلیم کوہر دہلیز تک پہنچانے کی منفردکوشش

91سالہ ڈاکٹر 64برسوں سے کر رہی ہیں مریضوں کا مفت علاج