گاؤں کی خواتین کا بینک جہاں قرض میں ملتا ہے صرف گندم

0

کانپور کے پاس دیہات میں خواتین نے بنایا منفرد گندم بینک ۔۔۔

گاؤں کی ہر عورت کو قرض پر ملتا ہے گندم ۔۔۔

وزیر اعظم مودی نے جب دھن یوجنا کی شروعات کی تھی ان کے اہم منشا یہی تھی گاؤں میں رہنے والوں کے بینک اکاؤنٹ کھلیں اور پیسے ان کے اکاؤنٹ میں جمع کئے جائیں۔ چونکہ براہ راست سادہ گاؤں والوں کو بینکوں کی زیادہ سے زیادہ معلومات نہیں ہوتی، جب ان کے اکاؤنٹ میں پیسے ہوں گے تو وہ اپنے پیسے سے ضروری کام کر سکتے ہیں۔ اس کے تحت حکومت نے کروڑوں لوگوں کے اکاؤنٹس میں رقم جمع بھی کرائی ہے۔ لیکن کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو وزیر اعظم کی اس منصوبہ سے پہلےسے ہی کچھ ایسا کام کر رہے ہیں جو واقعی شاندار ہے۔

ہم آپ کو اتر پردیش کے کانپورکے قریب ایک دیہات کی کچھ ایسی خواتین سے رو بہ رو کرتے ہیں، جنہوں نے ایک نئی سوچ کو انجام دیا اور عورتوں کو خود کفیل بنایا۔ کانپور کے قریب بھيكھم پور گاؤں کی خواتین نے ایسا بینک بنایا ہے، جس کے بارے میں جان کر ہرکوئی حیران رہ جائےگا۔ اس گاؤں کی خواتین نے ایک گندم بینک بنایا ہے۔ اس گندم بینک میں گاؤں کی ہر عورت اپنا گندم جمع کرتی ہیں۔ خواتین کی طرف سے جمع گندم ٹھیک رہے اس کی ذمہ داری گندم بینک کی ہوتی ہے۔ اس بینک سے گاؤں کے ضرورتمندوں کو موقع پر گندم قرض پر دیا جاتا ہے۔ اس بینک سے گندم قرض لینے والی خواتین اپنا کام ہونے کے بعد سود کے بغیر قرض لیا گندم واپس بینک میں جمع کر جاتی ہیں۔

اناج بینک کا آغاز کرنے والی رشمی نے يورسٹوری کو بتايا،

"تین سال پہلے گاؤں میں خشک سے برا حال تھا۔ کِئی خاندان ایک دانا اناج کے لئے ترس گئے تھے۔ تب ہم سب خواتین نے مل کر اس گندم بینک کی شروعات کی تھی، جس میں سب نے مل کر پہلے گندم اکٹھا کر 'پوجا گرین بینک' بنایا۔ پھر اس بینک سے ان خواتین کو گندم کا قرض دے دیا گیا۔ جب فصل ہوئی تو ان لوگوں نے اپنا اپنا گندم زیادہ سے زیادہ کر واپس کر دیا۔ بس اس کے بعد ہمارا یہ بینک ایسا کامیاب ہوا کہ آج اکبر پور علاقے کے 20 سے زیادہ گاؤں میں یہ گندم بینک کامیابی سے چل رہا ہے۔ "

اس بینک کی یہ خوبی ہی ہے گندم قرض لینے والی ہر عورت ٹھیک وقت پر اپنا گندم قرض ادا کر جاتی ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے اس گندم بینک کے لئے ان خواتین کو نہ کسی سرکاری مدد کی ضرورت پڑی، نہ کسی تاجر کے تعاون کی ضرورت محسوس ہوئی۔

گاؤں کی ایک خاتون وملا کا کہنا ہے ،

''میرے بیٹے کی سالگرہ تھی۔ گھر میں گندم نہیں تھا۔ میں نے بینک سے گندم قرض پر لیا اور بعد میں جب میرے پاس گندم آیا تو میں نے خود سے اس میں کچھ اضافہ کر بینک کو گندم لوٹا دیا۔ "

قابل ذکر بات یہ ہے کہ خواتین میں باہمی تال میل اتنا اچھا ہے کہ ہر کوئی دوسروں کی مدد کے لئے تیار رہتی ہیں۔ ظاہر ہے ان سب کے پیچھے کوشش ایک ہی ہے۔۔۔ ہر گھر میں چولہا جلتا رہے، کوئی بھی بھوکا نہ رہے۔ گاؤں کے خواتین نادانستہ وہ کام کر رہی ہیں جو حکومت کرتی ہے۔ اسی لئے تو کہا جاتا ہے کہ اگر خواتین کچھ ٹھان لیں تو اس کو کامیاب بنا کر ہی رہتی ہیں۔ اس کا جیتی جاگتی مثال ہے گندم بینک۔

قلمکار وجیے پرتاپ سینگھ

مترجم زلیخا نظیر