عمررسیدہ دو بہنوں نے شروع کیا ’ہوم اِسٹے‘ بزنس اورلکھ دی کامیابی کی نئی عبارت

0

سیاّحوں کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے گرینيج اِن ...

’ہوم اِسٹے‘ کے لئے مارچ کے مہینے میں ہی ہو گئی ستمبر تک کی بکنگ ...

دنیا کے کونے کونے سے آتے ہیں سیاّح ...

یہ کہانی بنارس کی اُن دو بہنوں کی ہے، جن کے لئے 65 یا 68 سال کی عمر کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اِن کے حوصلے اور ہمّت کے آگے بڑھتی عمر بھی ہار گئی ۔ اِن کے جذبے کے سامنے اکیلا پن کہیں نہیں ٹھہرتا ۔ زندگی جینے کا نظریہ ایسا کہ اب یہ دونوں بہنیں لوگوں کے لئے نظیر بن چکی ہیں۔ عمر کی ڈھلان پرحوصلہ مندی کی اُڑان بھرنے والی یہ دو بہنیں ہیں’ ارونا‘ اور’آشا‘۔ وزیر اعظم کے پارلیمانی علاقے بنارس میں یہ دو بہنیں کیوں شہ سرخیوں میں ہیں، یہ بتانے سے پہلے’ ارونا‘ اور’آشا‘ کی عمر جان لیجئے ۔’آشا‘ کی عمر جہاں 68 سال ہے، وہیں ’ارونا ‘زندگی کی 65 بہاریں دیکھ چکی ہیں ۔ دونوں بہنیں عمر کو پیچھے چھوڑکر زندگی کو نئی سمت دینے میں مصروف ہیں ۔ عمر کے جس پڑاؤ پر دوسروں کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے، اُس دور میں یہ بہنیں کامیابی کی نئی عبارت لکھ رہی ہیں ۔ دوسروں پر بوجھ بننے کے بجائے یہ بہنیں ہزاروں لوگوں کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیر رہی ہیں ۔ یہ سب کچھ ہوا ہے ’آشا‘ اور’ ارونا‘ کے’ 'گرینيج اِن‘ کی بدولت ۔

نئی نسل کو آئینہ دکھاتے ہوئے اِن دونوں بہنوں نے عمر کے آخری پڑاؤ پر’ہوم اِسٹے‘ یعنی’ گھر میں رہنے‘ کا بزنس شروع کرکے دوسروں کے لئے مثال پیش کی ہے ۔ کچھ ہی دنوں میں یہ بزنس کامیابی کی بلندیاں چھونے لگا ہے ۔’ہوم اِسٹے‘ کا بزنس آج اُن کی گزر بسر کا سہارا توہے ہی، مہمانوں کی شکل میں خاندان کی نت نئی خوشیاں بھی ان کے حصّے میں ہیں۔ انہوں نے اپنے ’ہوم اِسٹے‘ بزنس کو نام دیا ہے’ 'گرینيج اِن‘ یعنی دادی نانی کا گھروندا۔ سننے میں آپ کو ضرور عجیب لگتا ہوگا لیکن جب آپ اِس گھروندے میں آئیں گے تو آپ کو ایک مختلف قسم کا سکون ملے گا۔ اس میں اپنا پن ہے، یہاں ان بہنوں کو دیکھ کر ایک مثبت طاقت و توانائی ملے گی۔

’ یور اسٹوری‘ سے بات کرتے ہوئے’آشا‘کہتی ہیں ،

’’ہمارے لئے عمر کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ ہم نے تنہائی اور بڑھاپے کی مایوسی کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ ہم دونوں انتہائی پُر اعتماد ہیں اور جو بزنس شروع کیا ہے، اُسے ایک بہتر مقام تک لے جائیں گے ۔‘‘

دراصل بنارس میں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں سیاّح پہنچتے ہیں ۔ ان میں سے کچھ ہوٹلوں میں ٹھہرتے ہیں۔ کچھ دھرم شالہ تو کچھ گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرتے ہیں ۔ لیکن ان جگہوں پر سیاّحوں کو وہ سکون نہیں ملتا جس کی تلاش میں وہ بنارس آتے ہیں ۔ اِن دونوں بہنوں نے سیاّحوں کی اِسی پریشانی کو سمجھا اور ’ہوم اِسٹے‘ بزنس کی شروعات کی ۔ اِس کے لئے انہوں نے اپنے گھر کو ’ گرینيج اِن‘ کا نام دیا اور اپنے گھر کے دروازے مہمانوں کے لئے کھول دیئے ۔ باقاعدہ اس کی ویب سائٹ بنائی ہے، اسی کے ذریعے بکنگ ہوتی ہے۔ یہ بہنیں مہمانوں کو اپنے آشیانے میں ٹھہرنے اور کھانے پینےکی تمام سہولیات مہیا کراتی ہیں ۔ وہ بھی بالکل اپنے گھر جیسے ماحول میں ۔ چاہے وہ کوئی ہندوستانی ہو یا غیر ملکی، اسے بالکل گھر جیسا ماحول ملتا ہے ۔انٹیرئر اور دیگر سہولیات بھی گھر جیسی ہی ہیں۔

بہار کے’ مونگیر ‘ضلع کی رہنے والی’آشا‘ اور’ ارونا‘ چچیری بہنیں ہیں۔’ ارونا ‘اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہیں اور’ راماپورہ ‘میں واقع مکان میں ہی رہتی ہیں ۔ شوہر کے انتقال کے بعد’ ارونا ‘نے خاندان کی ذمہ داریوں کو بخوبی سنبھالا۔’ ارونا‘ کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے ۔ دونوں دوسرے شہروں میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتے ہیں ۔ اسی طرح’آشا‘ کی بیٹی اپنے شوہر کے ساتھ گڑگاؤں میں رہتی ہے ۔ عمر کے اس پڑاؤ پر دونوں بہنیں بنارس میں زندگی گزار رہی تھیں۔ تبھی دو سال پہلے سیاّحوں کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے اُن کے دماغ میں ’ہوم اِسٹے‘ بزنس کا آئیڈیا آیا ۔ اُن کے اِس کام میں مدد کی’آشا‘ کی بیٹی’شِلپی‘ اور داماد ’منیش سنہا‘ نے۔ آشا نے’ یور اسٹوری‘ کو بتایا،

’’گرینيج اِن‘ میں آنے والے ہر شخص سے خاندان کے فردجیسا رشتہ بن جاتا ہے ۔ مہمانوں کو گھر جیسا ماحول ملتا ہے اور ہمیں اپنا سا کوئی خاندان ۔ وقت کیسے نکل جاتا ہے، پتہ ہی نہیں چلتا۔‘‘

چھ کمرے والے’ گرینيج اِن‘ کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ ستمبر ماہ تک کی بکنگ مارچ میں ہی ہو چکی ہے ۔ ان میں زیادہ تر بیرون ملک سے آنے والےسیاّح ہیں۔’ہوم اِسٹے‘ کی مالکن’آشا‘ کے مطابق دنیا کے کونے کونے سے یہاں پر سیاّح رہنے کے لئے آتے ہیں، اُن کے بزنس کے لئے اس سے بڑی اور کیا بات ہو سکتی ہے ۔ ’گرینيج اِن‘ میں 5 ڈبل بیڈ کے کمرے اور ایک سنگل بیڈ کا کمرہ ہے۔ اِن کمروں کا کرایہ دو ہزار سے لے کر تین ہزار روپے تک ہے ۔ صبح کا ناشتہ مفت رہتا ہے ۔’ گرینيج اِن‘ میں سیاّحوں کی ہر سہولت کا خیال رکھا جاتا ہے ۔ اس کی سب سے بڑی خاصیت یہاں ملنے والا کھانا ہے ۔ اور کھانے کی بات کریں تو یہاں ہر طرح کی ڈش ملتی ہے ۔ ان کھانوں کا ذائقہ بالکل گھر جیسا ہوتا ہے ۔

موجودہ وقت میں کل پانچ ملازم ’گرینيج اِن‘ میں کام کر رہے ہیں ۔بنارس کے علاوہ ’ارونا‘ اور’آشا‘ کی خواہش ’ہوم اِسٹے‘ بزنس کو دوسرے شہروں میں بھی شروع کرنے کی ہے ۔ خاص طور سے وہ شہر جہاں سیاّح زیادہ تعداد میں آتے ہیں۔ سیاّحوں کی خدمت کے ساتھ ’ہوم اِسٹے‘ بزنس کے ذریعے ان بہنوں نے’اسٹارٹپ‘ کرکے دکھا دیا ہے کہ اگر حوصلہ اور ہمّت ہے تو کوئی کام ناممکن نہیں ہوتا ۔

قلمکار : آشوتوش سنگھ ؍ مترجم : انور مِرزا

Writer : Ashutosh Singh / Translation by : Anwar Mirza

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے

’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

یہ دلچسپ کہانیاں بھی آپ کو ضرور پسند آئیں گی۔

دو غیر ملکی بہنوں نے بدل دی بنارس کی سڑکوں پر بھیک مانگنے والی عورتوں کی قسمت

سيتاپھل بیچنے والی ان پڑھ قبائلی خواتین نے بنائی کروڑوں مالیت کی کمپنی