اداس، مایوس اور پریشان لوگوں کی امداد کرنے والی مالتی

0

حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ اتار چڑھاؤ آ تے رہتے ہیں۔ ترقی اور کامیابی ہی نہیں، خوشی اور سکوں پانے کے لئے بھی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ بہت سے لوگ زندگی کے سفر میں چھوٹے موٹے ہچکولوں سے ٹوٹ جاتے ہیں۔ مشکلوں میں الجھ جاتے ہیں۔ ان لوگوں کو آگے کا راستہ آسان نہیں لگتا۔ مایوسی انہیں گھیر لیتی ہے۔ لوگ اپنے ہی بنائے طوق میں پھنس کر رہ جاتے ہیں۔

ایسی حالت میں اگر کوئی قابل اور تجربہ کار گرو مل جائے، جس سے نئی امیدیں جا گتی رہی، حوصلے پھر سے بلند ہونے لگتے ہیں۔ جب صحیح رہنمائی ملتی ہے زندگی کو ایک نیا مقصد ملتا ہے۔ خاص بات تو یہ ہے کہ موجودہ دور میں زندگی کی رفتار بڑھ گئی ہے، چیلنج اور مقابلہ آرائی سے بھری زندگی میں ایک رہنماء کی زیادہ ضرورت ہے،جو سیدھی رہ دکھا سکے-

مالتی بھوجوانی ایک ایسے ہی 'گرو' کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ لوگ اب مالتی کو 'لائف کوچ' یا پھر 'اونكولجكل ٹرینر' کے نام سے جانتے ہیں۔ مالتی ہزاروں لوگوں کی مدد کر چکی ہیں۔ ان کی کتابیں بھی لوگوں میں بہت مقبول ہیں۔ مایوس، اداس اور پریشا ن لوگوں کی مدد کرنے اور ان کو رہ دکھانے کے علاوہ مالتی ان دنوں خواہش مند افراد کو گرو منتر دے ہی ہیں- انہیں بھی ‘لائف کوچ’ اور ‘اونكولجكل ٹرینر’ بنا رہی ہیں۔

آپ کو شاید یہ سنکرتھوڑا تعجب ہوگا کہ بڑی مشکلات کے دورسے گزرتے وقت ہی مالتی نے مشکلوں سے دو چار ہو رہے لوگوں کی مدد کرنے، ان کا حوصلہ بڑھانے، ان میں دوبارہ جوش و جذبہ بھرنے اور امنگ پیدا کرنے کے لئے کام کرنے کا فیصلہ کیا۔

یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ مالتی کے کیریئر کے شروع بطور استاد ہی ہوئی تھی۔ مالتی نے انڈونیشیا کے ایک اسکول میں انگلش پڑھانا شروع کیا تھا۔ پھرکچھ دنوں بعد مالتی نے فیشن ڈیزائن سیکھا اور ہیرے جوا ہرات کی تحقیق میں کچھ وقت لگایا۔ تعلیم کے بعد مالتی آسٹریلیا میں خاندانی کاروبار میں داخل ہو گئیں۔ جیسا کہ عموماً ہر ہندوستانی خاندان میں ہوتا ہے، مالتی کی بھی جلد ہی شادی کر دی گئی۔ شادی کے وقت مالتی نے خوبصورت، روشن اور خوشی سے بھرپور زندگی کے خواب دیکھے تھے۔ اسے امید تھی کہ وہ اور اس کے شوہر ملکر سارے خواب شرمندہ تعبیر کریں گے، لیکن جیسا سوچا تھا ویسا نہیں ہوا۔ کچھ وجوہات کی بنا پر شوہر بیوی کی رشتے میں کھٹاس پیدا ہو گئی۔ 26 سال کی عمر میں ہی مالتی اپنے شوہر سے الگ ہو گئی۔

سب کچھ اچانک بدل گیا۔ ایسے لگا جیسے ہر طرف مشکل ہی مشکل ہے۔ اپنی ایک بیٹی کے ساتھ مالتی الگ تھلگ پڑ گئی تھی۔ زندگی میں دوبارہ سکون اور جوش و خروش کے لئے کچھ کرنے کی خواہش ستانے لگی۔

مالتی نے امریکہ کے مشہور ‘لائف کوچ’ ٹونی روببنس کے سیمینار میں شامل ہونے کا فیصلہ لیا۔ اس سمینار سے مالتی نے اپنے دکھ درد کو بھلانے کی شروعات کی۔ مالتی اب آہستہ آہستہ ذاتی ترقی کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے لگی تھی۔ وہ انفرادی ترقی راستے ہموار کرنے اور لوگوں کی ذہنی، نفسیاتی پریشانیوں کو حل کرنے کے طور طریقوں میں دلچسپی لینے لگیں۔ اس نے ان موضوعات پر اپنی تحقیق شروع کی۔ ان موضوعات پر کورس بھی کئے اور ڈگرياں اور سرٹیفکیٹ بھی حاصل کئے۔

ان سب کی وجہ سے مالتی کو احساس ہو گیا کہ کوئی اور نہیں بلکہ وہ خود ہی اپنے مسائل کو حل کر سکتی ہے۔ اس نے طئے کیا کہ وہ اب کبھی اپنے آپ کو ‘متاثرہ’ نہیں مانے گی۔ کبھی حالات کے سامنے نہیں جھکے گی۔ خود کو کبھی مجبور غمزدہ یا پھر مایوس نہ ہونے دے گی اور نہ ہی اپنے آپ کو کبھی ایسا سمجھےگي۔

ذاتی-ترقی کے کورس کلاس، سیمینار میں حصہ لینے اور بڑے بڑے زندگی کوچ کی تقریر اور لیکچر سننے کے بعد مالتی کی زندگی میں بہت بڑی تبدیلی آیا۔ وہ اب بالکل مختلف عورت تھی۔ اس کی زندگی میں نیا جوش تھا، نئی امنگ تھی دوسروں کے لئے کچھ کرنے کی شدید خواہش تھی۔

مالتی نے انٹرنیشنل کوچ فیڈریشن میں اپنا نام درج کروانے میں تاخیر نہیں کی۔ فیڈریشن سے لائف کوچ بننے کی تربیت لی۔ اس کے بعد مالتی نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

انتدائی تین سال چیلنج بھرے تھے۔ مالی طور پر بھی مسائل پیش آ رہے تھے، لیکن مالتینے ہر نہیں مانی.وہ زندگی کو جینے کا فن سیکھ چکی تھی- مسلسل آگے بڑھتی گئی۔ کچھ لوگوںے اسے ‘کوچ’ کا کام چھوڑ کر ملازمت کرنے کا مشورہ دیا۔ چونکہ مالتی کے ارادے پکے تھے اور منزل مقرر تھی وہ آگے بڑھتی چلی گئی۔

مالتی کی گنتی آج ملک کے سب سے زیادہ مقبول اور کامیاب ‘لائف کوچز’ میں ہوتی ہے۔

وہ یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتی کہ لائف کوچ کے طور پر وہ کسی کے مسائل یا پریشانی کو دور نہیں کرسکتی بلکہ اسے دور کرنے کے لئے ضروری تحریک دینے، حوصلہ افزائی کرنے اور راستہ دکھانے کا کام کرتی ہیں۔

ایک دہائی سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے مالتی کو ‘‘لائف کوچ’ بنے ہوئے۔ وہ اب ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ بیرون ممالک میں جا کر بھی لوگوں کو اپنے مشورہ دے رہی ہیں اور مسایل و مشکلات سے باہر نکلنے کے راستے بتا رہی ہیں۔

ایک کامیاب ‘لائف کوچ’ ہونے کے ساتھ ساتھ مالتی آج ایک کامیاب کاروباری بھی ہیں۔ انہوں نے اب تک 500 سے زیادہ لوگوں کو تربیت دی ہے اور نئے نئے لوگوں کو ‘لائف کوچ’ بنانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

آپ ‘ملٹی کوچنگ انٹرنیشنل’ نامی وینچر کے ذریعہ مالتی ان دنوں صرف ایک فرد کو ہی نہیں بلکہ گروپ میں بھی ‘زندگی کو صحیح معنوں میں جینے اور خوش رہنے’ کے طریقے بتا رہی ہیں۔

مالتی سے مشورہ لینے والوں میں ملک کے کئی نامور شخصیات کے علاوہ دنیا کی کئی مشہور کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ وہ کئی کارپوریٹ اداروں کی مشیربھی بن گئی ہیں۔ انکے ٹریننگ پروگرام اب دنیا بھر میں موضوع بحث ہیں۔

وہ انٹرنیٹ پراپنی ویب سائٹ اور یو ٹیوب کی طرح فورم سے بھی لوگوں کی مدد کر رہی ہیں۔ ان کی کتابوں ‘ڈونٹ تھنک آف اے بلیو بال’ اور ‘تھیںك فلنیس ہی ایپرشیشن گریٹٹيوڈ’ دنیا بھر میں پڑھی جا رہی ہیں۔

اپنے تجربے کی بنیاد پر لکھا مضمون ‘سیون ریکوری سٹپس ٹو گیٹ اوؤر بریک اپ’ بھی لوگوں کو معالومات فراہم کرنے والا ہے۔خدا پر ایمان رکھنے والی مالتی کا نیا فیصلہ ہے کہ وہ ابسی خواتین پر زیادہ توجہ دیں گی۔ انہوں نے شخصی ترقی کے لئے منفرد اور کامیاب ٹریننگ پروگرام اور ان کے طورطریقے بنائے ہیں۔ ان پروگرام کا مقصد لوگوں کو ان کے ذاتی مقاصد کا تعین کرنے اور پھر انہیں حاصل کرنے میں ان کی مدد کرنا ہے۔

ایک وقت حالات کے آگے جھکنے والی اس عورت نے کس طرح سے خود کو مشکلات سے باہرنکالا اور کس طرح دوسروں کو مشکلات سے نجات دلانے میں مددگار بنی، واقعی کامیابی کی ایک عظیم مثال ہے۔22 سال کی اپنی بیٹی سے بھی تحریک حاصل کرنے والی مالتی زندگی میں خوش اور مطمئن رہنے میں لوگوں کی مدد کرتے ہوئے ان دنوں دنیا بھر میں خوب نام کما رہی ہیں۔