حیدرآبادی چٹانوں کے زریعہ شعور بیدار کرتی آونی راؤ کی انسٹالیشنس

0

پیڑ، پودھے، پہاڑ، ندیاں، واديا یہ سب کچھ اس تہذیب کا حصہ ہیں، جس کی قدریں اور علامتیں انسان کو وراثت میں ملی ہیں، لیکن اس کا لالچ ہے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ وہ زندگی کی ان تمام نشانیوں کو ایک ایک کرکے ختم کرتا چلا جا رہا ہے۔ پیڑ کاٹ دئے ہیں، ہرے بھرےعلاقوں کو سمنٹ اور کنکریٹ کے میدانوں میں بدل دیا ہے، دریاؤں کو آلودہ کر دیا اور پهاڈو کے دامن کو تار تار کر دیا اور پھر رو رہا ہے کہ ماحولیات میں تبدیلی آ رہی ہے۔ فطرت اس کا ساتھ نہیں دے رہی ہے۔ جب خودفطرت کے خلاف کام کرےگا اور قدرتی نظام کا ساتھ نہیں دے گا تو بھلا وہ اس کا ساتھ کیونکر دے گی۔ شاید یہی باتیں ڈاکٹر آونی راؤ اپنے ان انساٹیلیشن کے فنپاروں میں کے زریعہ سے کہنا چاہتی ہیں، جو انہوں نے حیدرآباد لٹرری فیسٹیول ایچ ایل ایف کے لئے بنائی ہیں، جس کی نمائش حیدرآباد پبلک اسکول میں جاری ہیں۔

'ہسٹری لوسٹ ان اے راک سٹی' کے عنوان سے تنصیب آرٹ کی تخلیقات ناظرین کی شائق نظروں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں۔ ان کا جائزہ کرتے ہوئے شائقین کچھ دیر کے ہی سہی ان نظاروں کا تصور کرنے لگتا ہے، جو فطرت نے اسے وراثت میں دئے تھے۔ جن حیدرآباديو نے چٹانوں سے بھرپور حیدرآباد شہر کے سرحدی علاقوں کو دیکھا ہے، انہیں یاد ہے کہ ان پہاڑو میں چٹانوں کی ثقافت، لاکھوں سال پرانی زمینی عبارت کا ثبوت دیتی ہیں۔ دیکھتے دیکھتے گزشتہ بیس پچیس برسوں میں وہ ساری علامتیں غائب ہو گئیں۔ آونی راؤ بتاتی ہیں کہ حیدرآباد اور دکن کے میدانوں کا یہ علاقہ 25000 لاکھ سال پرانا ہے۔ ان کے مطابق، ''جب زمین پر ابھی انسانی تہذیب کا ظہور نہیں ہواتھا، اس سے پہلے ہی دکن پر چٹانوں کے خوبصورت ڈزائن کی تعمیر قدرت نے کر دی تھی، لیکن حالیہ برسوں میں انسان کی لالچی نگاہوں نے ان پہاڑوں کو چکناچور کر دیا۔ اس کی لالچ رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے''۔ آ

ونی کہتی ہیں،

''یہ ٹھیک ہے کہ آدمی اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے جدوجہد کرے، لیکن اس کی حوس اسے یہاں رکنے نہیں دے رہی ہے، وہ ضرورتیں پوری ہونے کے بعد بھی بہت آگے تک بھاگ رہا ہے۔ اب جبکہ ماحول ڈگمگانے لگا ہے، توزن بگڑنے لگا ہے، سب کچھ انسان کے خیال کے مطابق نہیں ہو رہا ہے تو پھر اس کے پاس اپنے کئے پر رونے اور ہاتھ ملتے رہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔

آونی راؤ کی تنصیب میں حیدرآباد کے بنجارہ ہلز، جوبلی ہلز، مادھاپر، گچی باولی سمیت کئی علاقوں میں پہاڑی چٹانوں کی ثقافت کی کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ چٹانوں کے درمیان توتے، بندر درخت، پانی کے جھرنے اور ہوا اور آلودگی سے صاف سوتھرے ماحول کا اپنا دور دورہ تھا۔ چٹانوں کے مختلف قسم کے سائز کچھ ایسی شکلوں میں ڈھلے ہوئے تھے، کہ دیکھنے والے کی نگاہیں اس میں زندگی تلاش کرتی تھیں۔ اب کوئی اس کو محبت کرنے والے عاشق و معشوق کے جوڑے کے طور پر دیکھتا، تو کوئی ماں بیٹی، کہیں کوئی چٹان پھل سے لدے پیڑ کی طرح تو، کہیں کوئی تپسیہ میں بیٹَھے سادھو کی طرح، جب ان چٹانوں کو بچانے کی تحریک تیز تھی تو بہت حیرت اگیزتصویریں سامنے آئی تھیں۔ سب کچھ ایک دوسرے سے جڑ کر انسان کو اپنے سے جوڑتا تھا۔ شاید آونی راؤ 'ایوری تھنگ از کنیکٹیڈ' کے عنوان سے انہی خیالوں کا اظہار کرنا چاہتی ہیں۔

'بیوٹی اینڈ دی ڈسٹركشن' کے عنوان سے آونی راؤ فطرت کی خوبصورتی اور اس کو برباد کرنے کی انسانی کوششوں کو ظاہر کرتی ہیں۔ ان کے مطابق، ماحول میں ایک طرح کی روحانیت پوشیدہ ہے، جسے اس کے توازن میں ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ جب یہ متوازن ہوتا ہے تو زندگی کو سروں میں ڈھالتا ہے او عدم توازن سب کچھ بےسُرا کر دیتا ہے۔ وہ کہتی ہیں،

''جب مصیبتیں آتی ہیں، تب محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے غلط کیا ہے، لیکن اس کا احساس کسی بھی قدرتی علامت کو تباہ کرنے سے پہلے ہونا چاہیے۔ چنئی میں جب بارش کا غضب ہوا تو احساس ہوا کہ فطرت کے ساتھ کھلواڑ کی وجہ ہی یہ انسان کی خود ساختہ مصیبتیں اس کی بربادی کا تماشہ دکھا رہی ہیں۔

ایچ ایل ایف کے دوران ان کے ان سٹالیشن کو دیکھا سمجھا جا سکتا ہے۔ آونی آندھرا کےہمعصر پینٹنگ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھتی ہیں۔ آئی کان آرٹ گیلری کی بانی ہیں اور انہوں نے کئی ورکشاپس کا انعقاد کیا ہے۔ نوجوان صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کرتی رہتی ہیں۔ ایک پینٹر اور فوٹو گرافر کے طور پر بہت سے نمائشوں میں حصہ لیا ہے۔ فن کے زریعہ انسانی شعور بیدار کرنے کا ان کا سلسلہ جاری ہے۔

..............................

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج    (FACEBOOK ) پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں...

اِس اسکول میں مُفت تعلیم کے ساتھ لڑکیوں کو دیئے جاتے ہیں 10 روپے روز ...

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem