تعلیمی عدم مساوات دُور کرنے میں مصروف ’سیما كامبلے‘

0

تعلیم کے ذریعے معاشرے کی خدمت کی خاطر ایم بی اے کی ملازمت کی تجویزٹھکرا دی...

خود سرکاری اسکول میں پڑھ چکی ہیں، اس لئے بخوبی واقف ہیں پرائیویٹ اور میونسپل اسکولوں کے تعلیمی معیار سے ...

ممبئی کے ’ ویلِنگ کر‘ انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سے 100 فیصد اسکالر شپ کے ساتھ حاصل کی فیلو شپ ...

3.2.1 اسکول کے ساتھ ہیڈ آف اکیڈیمکس کی حیثیت سے غریب بچّوں کی تعلیم میں کر رہی ہیں مدد ...


’’ بعض خاندانی وجوہات کی بِنا پر تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کے لئے مجھے پرائیویٹ اسکول چھوڑ کر ایک سرکاری میونسپل اسکول میں داخلہ لینا پڑا، اور یہ ایک ایسا اسکول تھا جہاں تعلیم دینے کے بجائے سارا زور طالب علموں کومحض’ تعلیم یافتہ ‘بنانے پر رہتا تھا اور وہاں سکھانے کی بجائے صرف’ رٹنے ‘کے رجحان کو فروغ دیا جاتا تھا۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہیں پر میَں نے ایک طالب علم کی حیثیت سے زندگی میں پہلی بار جسمانی سزا کا سامنا بھی کیا، جو اس وقت اسکول میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کا ایک رائج طریقہ تھا ۔ تعلیم کے میدان میں پھیلی عدم مساوات سے میں پہلی بارواقف ہوئی تھی اور اپنے تعلیمی معیار میں اس پستی کا سامنا نہیں کر پا رہی تھی۔ اِس کے علاوہ میرے لئے اُس طرح کے ماحول میں رہ کر اپنی تعلیم پر توجہ مرکوز کرنا بہت مشکل محسوس ہو رہا تھا کیونکہ وہاں پر ہر وقت شور شرابہ اور توجہ بھٹکانے والے کئی ایسے کام ہوتے رہتے تھے جن کے سبب آپ یکسوئی سے کوئی کام نہیں کر سکتے ۔‘‘

’سیما كامبلے ‘ہمارے ملک کی اکثریت یعنی کم آمدنی والے طبقےکی نمائندگی کرتی ہیں اور جب وہ پانچویں کلاس میں پڑھ رہی تھیں تب اُن کے خاندان کو رہائش کے لئے ممبئی کے معروف علاقہ’ ورلی‘ آنا پڑا۔ گلی، محلّےوالے کسی معاشرے میں رہنے کا یہ اُن کا پہلا تجربہ تھا ۔ یہاں آکر پہلے پہل تو اُن کی کچھ سمجھ میں ہی نہیں آیا کیونکہ وہ اب تک ایک انتہائی نظم و ضبط والےماحول میں پلی بڑھیں تھی اور یہاں آکر اچانک انہیں چاروں طرف پھیلی افراتفری سے نبرد آزما ہونا پڑا ۔ اِسی دوران اُن کی خود اعتمادی متزلزل ہوئی اور انہوں نے خود کو الگ تھلگ محسوس کرنا شروع کر دیا، لیکن وہ صرف کبھی ہار نہ ماننے کے اپنے جذبے کی بدولت ان تمام چیزوں کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھتی رہیں۔

امید کی پہلی کرن

’سیما‘ اس وقت کلاس 6 میں پڑھ رہی تھیں جب’آکانکشا‘ فاؤنڈیشن نے ورلی کے نہروسینٹر میں اپنا ایک تربیتی مرکز شروع کیا تھا۔ اِس مرکز کے متعلق مزید واقفیت کے اشتیاق میں اور یہ سوچتے ہوئے کہ یہ شاید غریب بچّوں کے لیے مُفت ٹیوشن سینٹر جیسا کچھ ہو گا، سیما وہاں چلی گئیں ۔ جب انہوں نے اُسے اپنے اُس اسکول سے بالکل مختلف پایا جس میں وہ گزشتہ ایک سال سے پڑھ رہی تھیں تو وہ حیرت زدہ رہ گئیں ۔ ’سیما‘ نے دیکھا کہ وہاں بطورِ خاص بچّوں کی ذہنیت اوراخلاقی اقدار پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے اور انہوں نے وہاں زندگی کے بے پناہ روشن امکانات کو محسوس کیا ۔ انہوں نے دیکھا کہ وہاں کے ٹیچرز اپنے طالب علموں پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں اور اسی وجہ سے انہوں نے بھی اِس کا ایک حصّہ بننے کا فیصلہ کیا ۔ ’سیما‘ کہتی ہیں

’’بالکل شروع سے ہی میری ٹیچر راج شری دیدی (یہاں پر خاتون ٹیچر کو’ دیدی‘ یعنی بڑی بہن اور مرد اساتذہ کو’بھیّا‘ یعنی بڑے بھائی کہہ کر پكارا جاتا ہے) نے میری بہترین رہنمائی کی ۔ انہوں نے مجھ پر اس وقت اعتماد کیا جب کہ مجھے ہی خود پر یقین نہیں تھا اور وہ میری توقعات کو پورا کرنے کے سفر میں ہر قدم میرے ساتھ چلیں ۔‘‘

اصل میں ریاست مہاراشٹر میں میونسپل اسکولوں كا طریقۂ کار ایسا ہے کہ انگریزی میڈیم کے اسكول صرف ساتویں کلاس تک ہی ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے جب ’سیما‘ نے ساتویں کلاس پاس کر لی تو انہیں دوبارہ ایک پرائیویٹ اسکول میں داخلہ لینا پڑا ۔ چونکہ پرائیویٹ اسکولوں کی تعلیمی سطح ان سرکاری اسکولوں کے مقابلے کافی اعلیٰ درجے کی ہوتی ہے جن سے ’سیما‘ پڑھ کر آئی تھیں، اس لئے انہیں خود کو بہتر بنانے میں کافی مشکلات کا سامنا پڑا اور ان کی کارکردگی دوبارہ متاثر ہوئی۔ اُن کی خود اعتمادی ایک بارپھر متزلزل ہوئی۔ لیکن ’سیما‘ ان تمام رکاوٹوں کو پار کرنے میں کامیاب رہیں اور اس کا کریڈٹ وہ اپنی ٹیچر کو دیتی ہیں ۔’’ اُس پورے دور میں راج شری دیدی نے انتہائی صبر اور محبت کے ساتھ میرا حوصلہ بڑھایا ۔ میں اُس وقت تعلیم کے معاملے میں ایک اوسط طالبہ تھی اور اکثر بِلا وجہ’آکانکشا‘ کی کلاسیز میں غیر حاضر رہتی تھی ۔ وہ هربار میرے گھر آ دھمكتيں اور مجھے دوبارہ کلاس میں لے جاتیں! ‘‘

’سیما‘جب دسویں کلاس میں آئیں، تب ان کی ماں نے انہیں سمجھایا کہ کس طرح پورے خاندان کی امیدیں اور توقعات ان ہی سے وابستہ ہیں۔’’ وہ چاہتی تھیں کہ میں دنیا کے سامنے یہ ثابت کروں کہ ہم نے ایک خاندان کے طور پر چاہے جن حالات یا چیلنجز کا سامنا کیا ہو، مگر وہ حالات بہتر اور اعلیٰ معیاری تعلیم کا راستہ روکنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں ۔‘‘

جذبۂ خدمتِ خلق

جذبۂ خدمتِ خلق تو اُن میں شروع سے ہی تھا۔ ایک مددگار انسان نے ان کی زندگی کو مثبت شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا اس لئے وہ اپنے جیسے دوسرے بچّوں کے لئے بھی ایسا ہی کچھ کرنا چاہتی تھیں ۔ ایک بار کالج جانا شروع کرنے کے بعد انہوں نے اپنی تعلیم کو اپنے ہی جیسے دوسرے بچّوں کی زندگی کو سنوارنے کے کام میں لگانے کے مقصد سے ایک بنیادی انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ، کسی دوسری ’سیما‘ 'کے لئے’ راج شری دیدی‘ بننے کے لئے، رضاکارانہ خدمات شروع کر دیں۔ اب ان کے روزانہ کے معمولات کسی’ سپر ہیرو‘ سے کم نہیں تھے اور وہ روزانہ صبح ان مراکز کے لئے گھر سے نکل پڑتیں، اس کے بعد کالج جاتیں اور پھر اس کے بعد اپنی اضافی كلاسیز میں بھی حصّہ لیتیں! وہ بتاتی ہیں، ’’ وہ وقت انتہائی مصروف تھا لیکن پھر بھی کتنا سکون دینے والا تھا! اگرچہ میں روزانہ رات کو تقریباً دس بجے گھر پہنچتی تھی لیکن پھر بھی میَں ہر میّسرلمحے کا استعمال سماج کے بچّوں کو پڑھانے کے لئے کرتی تھی ۔ میرا مقصد بالکل صاف تھا کہ مجھے زیادہ سے زیادہ بچّوں کو خود کفیل اور بااختیار اور کرنا ہے ۔‘‘

’سیما‘ نے ’آکانکشا‘ کے ساتھ کُل وقتی طور پر پی آر اور مارکیٹنگ کی نوکری کرنی شروع کر دی اور اُسی دوران انہیں ’بی‘ اسکول کا چسکا لگ گیا ۔ اس کی ترغیب انہیں اس جذبے سے ملی کہ ایم بی اے کرنے کے بعد وہ اپنے خاندان کے لئے انتہائی ضروری مالی استحکام کے سلسلے میں کامیاب رہیں گی ۔

’سیما‘ کہتی ہیں، ’’ سال 2009 میں اُسی دوران ’ٹی ایف آئی‘ فیلوکے اپنے پہلے گروپ کے استقبال کی تیاریاں کر رہا تھا۔ حالانکہ ’آکانکشا‘ فاؤنڈیشن اور '’ٹيچ فار انڈیا‘ کی بانی شاہین مستری جنہیں میں پیار سے شاہین دیدی کہتی ہوں اور میَں، ہم دونوں ہی ہمیشہ سے ایسے اداروں کے ساتھ منسلک رہے ہیں لیکن میَں نے کبھی بھی ایک’ فیلو ‘کے طور پر اس کا حصّہ بننے کے بارے میں نہیں سوچا تھا اور انہوں نے مجھ سے ایسا کرنے کا اصرار کیا ۔ اس کے بجائے میَں نے ایم بی اے کے انٹرنس امتحان کو ترجیح دی ۔ مجھے سال 2010 کا وہ لمحہ یاد ہے جب شاہین دیدی نے مجھے ایک کانفرنس روم میں بیٹھ کر سمجھایا کہ کیوں میرے لئے اس تحریک کا حصّہ بننا بہت ضروری ہے اور مجھے ایسا ہی کرنا چاہیے ۔ بالاخر ان کے ساتھ ہوئی گفتگو کے اِسی دور نے مجھے درخواست کرنے کے لئے رضامند کیا ۔‘‘

شروع میں انہیں کامیابی پر شک تھا۔ انہیں اندر سے کہیں یہ ڈر ستا رہا تھا کہ علم اور مہارت کے معاملے میں وہ دوسرے درخواست گزار وں کے مقابلے میں کمتر ہیں لیکن بچّوں کے مزاج سے واقفیت کی اپنی قابلیت پر انہیں پورا یقین تھا ۔ شاید ہونی کو یہی منظور تھا اور وہ فیلوشپ کے لئے منتخب کر لی گئیں اور انہیں 100 فیصد اسکالر شپ کے ساتھ ممبئی کے ’ ویلنگ کر ‘انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ میں داخلہ مل گیا ۔ حالانکہ ان کے سامنے زندگی کے دو انتہائی مشکل متبادل تھے لیکن وہ کسی بھی تذبذب میں نہیں تھیں۔’سیما‘ بتاتی ہیں،

’’اس وقت تک میَں ملک میں تعلیم کے میدان میں پھیلی عدم مساوات کو دُور کرنے کے سلسلے میں کچھ مثبت کرنے کا فیصلہ کر چکی تھی ۔ حالانکہ میرے لئے یہاں ان مشکلات کا سامنا کرنے اور حل تلاش کرنے کی کوشش کرنے کے مقابلے ایم بی اے کرکے ان چیلنجز سے دُور بھاگنے کا ایک اچھا موقع تھا۔ لیکن چیلنجز کے راستے پر چلنے کی اپنی فطرت کے سبب میرا مقصد اور ہدف بالکل واضح تھا۔‘‘

خود کو آرام دہ ماحول سے باہر نکالنے کے لئے ’سیما‘ نے اپنے گھر سے دُور’ پونے‘ شہر میں فیلوشپ شروع کی اور پہلے ہی سال میں ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے ۔ انہیں محسوس ہوا کہ وہ اپنے طالب علموں کے لئے ایک ٹیچر کے طور پر خود کو نہیں ڈھال پا رہی ہیں ۔ اس کے علاوہ ان کے سامنے آنے والی مشکلات کی بھی کوئی کمی نہیں تھی ۔ پہلے سے ہی طالب علموں کی کمی کا شکار اُن کی کلاس میں بندر گھُس آتے تھے جن کے خوف سے بچّے اور کم ہوتے جا رہے تھے۔ اس کے علاوہ’سیما‘ کی پرنسپل جو اُن سے دوگنی عمر کی تھیں، انہیں ’سیما‘ کی تعلیمی قابلیت پر شک تھا ۔ اِسی دوران وقت کے ساتھ حالات بدلے اور انہیں حوصلہ افزا ردِعمل ملنے لگے۔ اُن کا ایک طالب علم آکر اُن کے گلے لگا، پرنسپل نے دیر سے ہی سہی، اُن کے کام کی تعریف کرنی شروع کی اور آخر کار اُن کے طالب علموں نے اسکول کےامتحانات میں اچھے نمبر حاصل کرنے شروع کر دیئے ۔ دوسرا سال آتے آتے انہوں نے کورس ڈیزائن وغیرہ میں بھی ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ اس سماج کے ساتھ گزارا گیا وقت انہیں اس قسم کی تعلیم کی گہرائی کو سمجھنے میں انتہائی مددگارثابت ہوا۔’سیما‘ کہتی ہیں،

’’ میَں نے اپنے طالب علموں کے ذریعے تیار کی گئی ایک موسیقی ریز پیشکش ’چارلی اینڈ دی چاكلیٹ فیکٹری‘ کے ساتھ اپنی فیلو شپ مکمل کی اور اصل میں وہ ایک خواب کے حقیقت میں بدل جانے جیسا تھا! یہ پیشکش بعض سرکاری تعلیمی حکام کے سامنے آئی تو اُن میں سے ایک کے لئے تو یہ یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ یہ کسی سرکاری اسکول کے بچّے ہیں ۔ اپنے طالب علموں کے ساتھ گزارے گئے لمحوں میں میَں نے یہ سیکھا ہے کہ اصل میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے ۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہے جسے آپ کےطالب علم حاصل نہ کر سکتے ہوں، بس آپ کو ان پر اعتماد جتانے کی ضرورت ہے ۔‘‘

تعلیم کے میدان میں ہی آگے بڑھنا

’’فیلو شپ کے بعد میرے سامنے تعلیم کے میدان میں کچھ مثبت کرنے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں تھا کیونکہ مجھے اس بات کا علم تھا کہ چھوٹی سے چھوٹی سطح پر کن تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔ میَں اس کام کو ایک دُور اندیشی کے تحت کرنا چاہتی تھی۔ 3.2.1 اسکول کے بانی ’گورو‘ ٹی ایف آئی کے وقت کے میرے ایک دوست ہیں اور مجھے اچھی طرح یاد تھا کہ ایک بار ایک تقریب میں انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ اگر وہ کبھی کوئی اسکول کھولیں گے، تو وہ مجھے اس کا حصّہ ضرور بنائیں گے ۔ سال 2012 کے دوران میَں ٹی ایف آئی میں تقرری کے لئے درخواست فارم بھر رہی تھی کہ تبھی میری نظر 3.2.1 اسکول میں ایک’ کِنڈرگارڈن‘ ٹیچر کی نوکری کے اشتہار پر پڑی۔ مجھے یاد ہے کہ میَں اپنی صحت کے سبب کُل وقتی ٹیچر کی نوکری کی خواہاں نہیں تھی لیکن ’گورو‘ نے جلد ہی مجھے بُلا کر میری سوچ کو بدلا اور بس فیصلہ ہو گیا ۔‘‘ سیما نے پہلے دو سال کِنڈرگارڈن کے بچّوں کو پڑھایا اور اس دوران وہ’ 'گریڈ لیڈر‘ بننے میں کامیاب رہیں ۔ ہر گریڈ میں 120 طالب علم تھے اور ان کی ذمہ داری ان کے سبق تیار کرنے، اخلاقی اقدار اور ذہنیت کو بھی بہتر کرنا تھا ۔ فی الحال وہ 3.2.1 اسکول کی ہیڈ آف اکیڈیمِکس ہیں جو اصل میں ایک پرنسپل کے کردار جیسا ہی ہے ۔ سیما مزید کہتی ہیں، ’’ میں اپنے تجربات کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ بالغ بھی بچّوں سے کچھ مختلف نہیں ہیں اور آپ کو دونوں کو ایک ہی طریقے سے تعلیم دینا پڑتی ہے ۔‘‘

تعلیم کے موجودہ منظر نامے پر ان کی رائے

سیماکے مطابق تعلیم کے میدان میں پھیلی بے ضابطگی اب بھی ہندوستان کے سب سے بڑے مسائل میں سے ایک ہے ۔ وہ کہتی ہیں،

’’اصل میں تعلیم کے میدان میں پھیلی عدم مساوات ابھی تک ایک بحران کی شکل نہیں لے پائی ہے ۔ جب کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہےتو آپ اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ بحران کی صورت میں آپ براہِ راست میدان میں کود پڑتے ہیں اور خود کو بچائے رکھنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں ۔ آج ہمارا ملک تعلیم کے معاملے میں جس نازک موڑ پر کھڑا ہے وہاں ایسے ہی عمل اور ردِ عمل کی ضرورت ہے ۔‘‘

ہندوستان میں تعلیم کے میدان میں موجود مسائل کی فہرست بہت طویل ہے اور یہ کئی مسائل کا ایک ڈھیر ہے. جن میں سے کچھ اہم ہیں:

صحت اور حفظان صحت کی کمی :

اگر کسی خاص معاشرے یا کمیونٹی میں حفظان صحت کی طرف توجہ نہیں دی جاتی ہے جس کی وجہ سے اُن کے بچّے مستقل طورسے بیمار پڑتے رہتے ہیں تو آپ کس طرح توقع کر سکتے ہیں کہ وہ بچّے باقاعدگی سے اسکول آئیں گے اور تعلیم پر توجہ دیں گے؟

غربت کی مثال :

کسی خاندان کی کُل ماہانہ آمدنی تقریبا 5ً ہزار روپے ہے اور اُس میں کُل 9 افراد ہیں۔ ایسے میں کس طرح آپ کسی شخص سے توقع کر سکتے ہیں کہ وہ بھوک اور اپنے وجود کے بقا کی لڑائی کوپسِ پشت رکھ کر اپنے بچّوں کی تعلیم و تربیت پر توجہ دے گا؟

تعلیمی شعبے کا ایک پیشے کے طور پر انتخاب :

یہ ایک انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ ہندوستان جیسے ملک میں جہاں’ کبیر‘ جیسے عظیم لوگوں نے اپنے’ دوهوں‘ کے ذریعے اساتذہ کو خالق سےبالاتر درجہ عطاکیا ہے، وہاں آج تعلیم کا کام بالکل آخری پیشے کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔ نہ تو ہمارے اساتذہ کی صحیح قدر و قیمت ہوتی ہے اور نہ ہی انہیں مناسب محنتانہ ملتا ہے۔ ایسے ماحول میں ہم اپنے ملک سے کیسے بہترین نتائج کی توقع کر سکتے ہیں جب کہ یہاں تعلیم اور اساتذہ کی حالت ہی ٹھیک نہیں ہے؟

سیما سرکاری پالیسیوں کے بارے میں اپنے خیالات واضح کرتے ہوئے کہتی ہیں، ’’میرے خیال سے تعلیم کے حق (آر ٹی ای) کی کئی پالیسیاں بہت اچھے نتائج لانے والی ہیں ۔’ مڈ ڈے میل‘ کی ہی مثال لیں ۔ اسکول میں مُفت کھانے کا خیال کم از کم بچّوں کی کلاس میں روزانہ موجودگی تو یقینی بناتا ہے ۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ میرا یہ بھی ماننا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر پالیسیاں بہت سوچ سمجھ کر تیار نہیں کی گئی ہیں۔

مثال کے طور پر آر ٹی ای میں ہر بچّے کا اندراج یقینی بنانے کا ایک منصوبہ ہے لیکن عملی سطح پر کچھ بھی نہیں ہے جو میرے خیال سے بہت بڑی بھول ہے ۔‘‘

آر ٹی ای کے تحت تعلیم کو صرف خواندگی سے منسوب کیا گیا ہے جس میں بچّے کی مجموعی ترقی کیلئے ضروری چیزیں سیکھنے کے بجائے صرف لکھنے اور پڑھنے پر زور دیا جاتا ہے ۔ ان پالیسیوں کو تیار کرتے وقت زمینی سطح پر معلومات رکھنے والے اساتذہ اور پرنسپل کو بھی شامل کرنے کی ضرورت ہے ۔ اگر حکومت بغیر سخت پابندی لگائے تعلیم کے میدان میں مثبت کام کر رہے این جی او اور دیگر اداروں کو اپنے ساتھ لے کر چلے تو مزیداچھے نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ عام شہری بھی ٹیچر وغیرہ کا کردار نبھاتے ہوئے تعلیم کے میدان میں کُل وقتی تعاون دے سکتے ہیں۔

ہمارے زیادہ تر طالب علم کم آمدنی والے طبقوں سے آتے ہیں۔ اس کے باوجود تعلیم کے میدان میں پھیلی اس عدم مساوات کو دُور کرنے کے سلسلے میں مثبت کوشش ہوتی دکھائی نہیں دیتی ہے ۔ ایسے میں ’سیما‘ جیسے سُپرہیرو جو خود اسی معاشرے سے آتے ہیں اور جنہوں نے تعلیم کے میدان میں کچھ مثبت کرنے کے لئے ایم بی اے جیسے متبادل کو ترک کر دیا ،امید کی ایک کرن کی طرح ہیں ۔ ان ہیروز کو کریڈٹ ملنے یا نہ ملنے کی کوئی پرواہ نہیں ہے لیکن اس کا مطلب یہ بالکل نہیں ہے کہ ان کی تعریف بھی نہیں ہونی چاہیے ۔ وہ صرف ہم سب سے اتنا ہی چاہتے ہیں کہ ہم تعلیمی میدان کی عدم مساوات کو عوامی مسئلہ کی طرح لیں اور اسے حل کرنے کے متبادل تلاش کرنے میں مددگار ثابت ہوں ۔ حالانکہ ان کی یہ کوشش بہت چھوٹی ہو سکتی ہے لیکن یہ صحیح سمت میں اٹھایا گیا ایک مثبت قدم ہے۔

قلمکار : نِشانت گوئل

مترجم : انور مِرزا

Writer : Nishant Goel

Translation by : Anwar Mirza

Related Stories