ملک کے بازاروں میں بڑھتی جا رہی ہے مقامی زبانوں کی اہمیت

0


ایک دور تھا جب سمجھا جاتا تھا کہ انگریزی کے بغیر اس دنیا کا کچھ ہونے والا نہیں ہے، لیکن اب حالات بدل رہے ہیں۔ ملکی تو ملکی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو بھی ہندوستان کے بازاروں میں اپنی جگہ بنانے کے لئے مقامی زبانوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔

دہلی میں يورسٹوری کی جانب سے منعقدہ بھاشا پروگرام میں ایک پینل مباحثے کے دوران میڈیا اور موبائل فون کمپنیون کے عہدداران نے حصہ لیا اور مقامی زبانوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق،

''مقامی زبانوں کی اپنی الگی اہمیت ہے اور کمپنیاں زمینی سطح تک جا کر مارکیٹ میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اور اس سمت میں تخلیخی اور تحقیقی کاموں کے علاوہ پروڈکٹ ڈیولپمینٹ کا کام کیا جا رہا ہے۔''

ریڈیو والا کے انل شریواستو نے کہا،

"ذریعہ نہیں مواد زیادہ اہم ہے۔ بالی ووڈ کو پنجابی نے مجبور کیا اپنانے کے لئے، آج پنجابی زبان کا زور ہندی فلموں میں نظر آنے لگا ہے۔ گانوں میں پنجابی الفاظ کا استعمال ہوتا ہے اور لوگ اسے پسند کرتے ہیں۔''

مائكرومیكس کے کمار شاہ نے کہا کہ میک ان انڈیا ایک اچھی پہل ہے۔ اس سے ملک کی تصویر بہتر ہوگی اورفنی مہارت کے علاوہ ترقی پر زور دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا،

"مائكرومیكس کا خیال ہے کہ موبائل سے زیادہ سے زیادہ لوگ انٹرنیٹ سے مربوط ہوتے ہیں اور 200 ملین لوگ آنے والے دنوں میں فون کے ذریعے انٹرنیٹ سے جڑیںگے۔ ہمارا خیال ہے کہ مواد پیدا کرنے پر زور دینا ہوگا۔انوویشن زیادہ سے زیادہ جگہوں پر ہو سکتا ہے۔ ہم اپنا وقت زیادہ سے زیادہ تحقیق اور پروڈکٹ ڈیولپمنٹ پر خرچ کر رہے ہیں۔ ہم ہر سال ملٹی لینگویج فون لانچ کر رہے ہیں تاکہ گاہک اپنی زبان اور مقام ماحول کے حساب سے فون کی خریداری سکیں۔ ابھی ہم 14-16 زبانوں میں فون فروخت رہے ہیں "

Erelego.com کے سدھیر شیٹی کا خیال ہے کہ مارکیٹ میں مواد نہیں ہونے پر ہمارے گاہکوں کو دقت ہوتی ہے. ان کے مطابق نئی جنریشن میں بہت زیادہ امکانات ہیں. مارکیٹ میں ڈیجیٹل انڈیا کی وجہ امکانات میں اضافو ہوا ہے۔

کمار شاہ نے بتایا کہ ان کی کمپنی نے گزشتہ دو سالوں میں اسٹارٹپس کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ان کا مقصد ہے ایسے پروڈکٹس کو تیار کرنا جسے فون مں پیش کیا جا سکے۔

ریڈیو مرچی کے عہددار آکاش بنرجی نے کہا ہے ،

"ریڈیو بہت طاقتور ذریعہ ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے من کی بات استعمال کیا۔ اسے اور وسعت دینے کی ضرورت ہے "

اس جشن میں ہندوستانی زبانوں میں ٹیکنالوجی کے ساتھ کام کرنے ولے 13 کاروباریوں نے اپنے تجربات کا بتائے۔ لوگوں نے شاعری اور موسیقی کا بھی بھرپور لطف اٹھایا۔ خصوصاً نرالی اور کارتک کے ماٹیبانی نے خوب داد حاصل کی۔

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج (FACEBOOK ) پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں..

لوکل کے بغیرنہیں ہوں گے گلوبل !...مادری زبان کو چھوڑ کر ترقی بے معنی

جب سستے جوتوں میں دھوپ کی وجہ سے پیر جلنے لگتے تھے: مرکزی وزیر مہیش شرما کی کہانی

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories