ڈیزائن ‘ ویژول کمیونیکیشن کی نئی زبان

ڈیزائن کی صنعت بصری مواصلات کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی حامل ہے۔یہ ایک ایسی مہارت ہے جو ہر کوئی چاہتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کینوا کی اب اچھی مارکٹ ہے ۔

0


آن لائن گرافک ڈیزائن پیلٹ فارم ’’کینوا(CANVA)کی بانی و چیف اگزیکٹیو آفیسر میلانی پرکنس کا کہنا ہے کہ بصری مواصلات یعنی ویژول کمیونیکیشن کے لئے ڈیزائن ایک نئی زبان ہے۔ خوبصورت‘ نرم گفتاراور ملنسار پرکنس کا کہنا ہے کہ جو چیزیں انہیں سب سے زیادہ حوصلہ بخشتی ہیں وہ لوگوں کا یہ کہنا کہ 'یہ کام نہیں کیا جاسکتا۔۔۔ کسی کام کا کرنا مشکل ہے ۔۔۔ یا کوئی کام کبھی نہیں کیا گیا وغیرہ وغیرہ اس وقت پرکنس کو یہ احساس ہوتا کہ اس کو یہ کام کرنا چاہئے۔ میلانی پرکنس کی زندگی میں سوچ کا یہ عمل ایک متحرک قوت رہا ہے۔

میلانی پرکنس پرتھ ‘آسٹریلیا کی رہنے والی ہیں اور ا نہوں نے ایک نہیں بلکہ دو ملٹی ملین ڈالر کا اسٹارٹپ شروع کیا ہے۔ ڈیزائنگ ہی پرکنس کی زندگی کا حاصل ہے ۔ ڈیزائن کے لئے اس کی بے پناہ محبت ‘ آسٹریلیامیں اس کی سرگرمیوں اور ہندوستان میں کینوا کے آغاز سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے جب میلانی پرکنس سے بات چیت کی گئی تو انہوں نے ان تمام باتوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ میلانی نے کبھی ڈیزائن اسکول میں داخلہ نہیں لیا بلکہ آسٹریلیا کی یونیورسٹی میں مواصلات یعنی کمیو نیکیشن کی تعلیم حاصل کی ۔ اس دوران ڈیجیٹل میڈیا اور گرافک ڈیزائن کیلئے اس کی بے پناہ محبت اور دلچسپی کا اظہار ہوا ۔ ڈیزائن کےلئے اس کی محبت اور جانفشانی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یونیورسٹی نے آئندہ سال ڈیزائن کی تعلیم دینے کیلئے پرکنس کویونیورسٹی مدعو کیا۔ اس وقت سے ڈیزائن کے ساتھ میلانی کی وابستکی شروع ہوئی جس کے بعد اس نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔

2007میں طلباء کو ان ڈیزائن اور فوٹوشاپ سیکھاتے ہوئے میلانی نے محسوس کیا کہ طلباء سیکھنے کیلئے کافی جدوجہد کررہے ہیں ۔ اس حقیقت کو از خود محسوس کرتے ہوئے کہ ڈیزائن کے شعبہ کا مستقبل بہتر ہے لہذا اس کو مربوط‘ سہل اور قابل دسترس بنانا وقت کا تقاضہ ہے ۔اس کام کو آگے بڑھانے کیلئے پرکنس نے کلف اوبرچٹ کے ساتھ ہاتھ ملایا اور اسکولس کے سالنامے یعنی اسکول ائیر بکس کیلئے آن لائن آلہ کے طور پر فیوژن بکس( fusion books)کا آغاز کیا جس کا اچھا ردعمل سامنے آیا۔ میلانی اور اس کے شریک بانی کلف نے جب فیوزن بکس پیش کیا تو پرتھ میں جدت اور اختراعیت کیلئے انہیں سالانہ ایوارڈ عطا کیا گیا ۔اس موقع پر ان دونوں کی مائی ٹائی کے بانی اور سان فرانسیسکو کے سرمایہ کار بل ٹائی سے ملاقات ہوئی ۔بل ٹائی نے دونوں کو سان فرانسیسکو آنے کی دعوت دی اور ملاقات کرنے کا وعدہ کیا ۔انہوں نے کہا کہ یہ دونوں اگر سان فرانسیسکومیں ہونگے تو انہیں بہت خوشی ہوگی ۔ اس کے ساتھ ہی وہ فوری ہوائی جہاز کے ذریعہ سان فرانسیسکو کیلئے روانہ ہوگئے ۔ وہاں سیلکان ویلی میں گذارے ہوئے وقت کو یاد کرتے ہوئے میلانی پرکنس نے بتا یا کہ اس نے وہاں تین ماہ گذارے اور اسٹارٹ اپ دنیا سے متعلق وہ سب کچھ سیکھ لیا جو وہ سیکھ سکتی تھیں۔

سان فرانسیسکو میں پرکنس کی گوگل میاپس کے شریک بانی لارس راسموسین سے ملاقات ہوئی۔ پرکنس نے سلیکان ویلی میں سرمایہ کاروں اور انجینئرس کو اپنے کینوا کے نظریہ سے واقف کروایا۔ اس طرح2013کے اوائل میں 3ملین ڈالرس کے ساتھ کینوا کیلئے فنڈنگ کا پہلا مرحلہ ختم ہوا اور اگست 2013اس کا آغاز عمل میں آیا۔کینوا کے چندسرمایہ کاروں میں لارس ‘ بل اور میٹرکس کا نام بھی شامل ہے ۔2014کے اوائل میں ایپل کے سابق اگزیکٹیو گیکاواسا کی چیف انجیل نویس کی حیثیت سے کینوا سے وابستہ ہوئے ۔

میلانی پرکنس کے مطابق وقت کے ساتھ ساتھ ڈیزائن کی دنیا میں بھی تبدیلیاں ہونے لگیں۔آج ہر شخص ڈیزائن سے متعلق زیادہ بہ شعور ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ ہر صنعت کو ڈیزائن کی ضرورت ہے اور ہر کوئی ڈیزائن چاہتا ہے ۔مثال کے طور پر سیلز‘ مارکیٹنگ یہاں تک کہ سوشل میڈیا کے ماہرین بھی گرافک کی جانب راغب ہورہے ہیں ۔درحقیقت اس کا آغاز وسیع تر تجارتی منصوبوں کا حامل ہے ۔پرکنس نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ بتا یا کہ ہر ایک اسٹارٹ اپ بصری مواصلات یعنی ویژول کمیونیکیشن کی توقع رکھتا ہے اور ہر صنعت کس طرح بصری مواصلات کیلئے ڈیزائن پر توجہ مرکوز کررہی ہے ۔اس طرح ڈیزائن کی صنعت کی اہمیت میں اضافہ ہورہا ہے کیونکہ ڈیزائن کی صنعت بصری مواصلات کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی حامل ہے۔یہ ایک ایسی مہارت ہے جو ہر کوئی چاہتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کینوا کی اب اچھی مارکٹ ہے ۔

فنڈنگ کے موضوع پر بات کرتے ہوئے پرکنس نے بتا یا کہ آغاز کےلئے ہر کوئی فنڈز حاصل کرنا چاہتا ہے۔ خاص طور پر سلیکان ویلی کسی مستحکم کمپنی کیلئے ایک اہم نشانہ ہوتی ہے ۔پرکنس کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاری ترجیح نہیں ہونا چاہئے بلکہ مسائل کی یکسوئی کو ترجیح دینا چاہئے جو لوگوں کیلئے حقیقی رکاوٹ ہوتے ہیں۔ میلانی پرکنس کا سفر بھی آسان نہیں تھا بلکہ کئی چیالنجس اس کے درپیش تھے۔کمپنی میں ہر قدم پر مخالفت کا سامنا تھا۔ پرکنس کا کہنا ہے کہ جب کبھی آپ کی مخالفت کی گئی تو فطری طور پر اس کا ردعمل ہوتا ہے کہ آپ آئندہ ایسے حالات نہیں چاہتے، لیکن اگر آپ کسی ایسی کمپنی میں ہیں جہاںآپ یہ محسوس کرلیں کہ یہ کمپنی کے عمل کا ایک حصہ ہے۔

میلانی پرکنس کا شریک بانی اس کا بوائے فرینڈ بھی ہے۔ دونوں میں مضبوط و مستحکم سوجھ بوجھ اور کام کی لگن وجستجو ہے جو انہیں ایک ٹیم بناتی ہے۔ دونوں ہر چیز کے بارے میں تفصیلی بات چیت پر کافی وقت گذارتے ہیں اور یہ حقیقتاً بہت اہم بھی ہے ۔ایک سال کی تحقیق کے بعد انہیں ٹیک کے شریک بانی کیمرون آدم کی خدمات حاصل ہوگئیں جو 2012میں ان کی ٹیم میں شامل ہو گئے۔

آسٹریلیا میں اسٹارٹپ سے متعلق میلانی نے بتا یا کہ جب 2007 میں اس نے اپنے کام کی ابتداء کی تو وہ اس سے بالکل واقف نہیں تھی لیکن اب سب کچھ شروع ہوچکا ہے ۔لوگ بالعموم نئی شروعات و نئی کمپنی سے متاثر ہوتے ہیں اور وہ بھی ایسا ہی آغاز کرنا چاہتے ہیں ۔ پرکنس کا کہنا ہے کہ میڈیا میں اس سے متعلق عام شعور بیداری میں اضافہ ہوا ہے ۔لوگ اس کو کیرئیر کے طور پر اپنانے پر اب غور کررہے ہیں لیکن یہ اس سے بھی بہت زیادہ ہے ۔ جہاں تک خواتین کا تعلق ہے ان کےلئے اس کا آغاز اچھا ہے ۔ پرکنس کا کہنا ہے کہ اب زیادہ سے زیادہ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ کام حقیقت میں ممکن ہے اور سچ تو یہ ہے کہ ایسا ہوسکتا ہے۔

کینوا نے اسی ماہ ہندوستان میں اپنے باقاعدہ آغاز کا اعلان کردیا ہے۔ کینوا کے استعمال کنندگان کے اعتبار سے ہندوستان چوتھی بڑی مارکٹ ہے اور ایک ملین سے زیادہ ڈیزائن پہلے ہی تیار کئے جا چکے ہیں ۔کمپنی کے آغاز کے لئے ہندوستان وسیع مرکز ہے اور یہی وجہ ہے کہ میلانی پرکنس ہندوستان کھینچے چلیں آئیں۔ ہندوستان کیلئے کمپنی کے منصوبوں کو لیکر وہ کافی پر جوش ہے اور اس کیلئے پہلے ہی ہندوستان بھر کا دورہ بھی کیا گیا اور جو ردعمل سامنے آیا وہ کافی حوصلہ افزاء ہے۔کمپنی نے ہندوستانی تہواروں اور فسٹیولس کیلئے ڈیزائن تیار کئے اور اس کیلئے ہندی زبان کا بھی استعمال کیا گیا ۔کمپنی ‘ ہندوستان سے ڈیزائنرس اور مصوروں کو تلاش کررہی ہے جو کمپنی میں اپنا حصہ ادا کرسکیں کیونکہ وہ ہندوستان سے بہت متاثر ہیں ۔کمپنی 2016 تک ہندوستان میں اس کے استعمال کنندگان کی تعداد میں بھاری اضافہ کرنا چاہتی ہے۔ اکتوبر2015 میں کینوا نے موجودہ اور نئے سرمایہ کاروں سے 15ملین ڈالر حاصل کئے ۔ ان سرمایہ کاروں میں ہالی ووڈ اداکار اوین ولسن اور ووڈی ہیر یلسن بھی شامل ہیں ۔میلانی کا کہنا ہے کہ 165ملین امریکی ڈالرس کے ساتھ ڈیزائن کے شعبہ کو بااختیارو مستحکم بنانا اور پراڈکٹس کو دنیا بھر میں پہنچانا ان کا نشانہ ہے ۔

.........................

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں