صدف آپا نے بچائی حاملہ راجکماری اور اس کے بچے کی جان

انسانیت اور محبت کی زندہ مثال بن ایک غریب کے گھر خوشی لانے والی صدف جعفر کی کہانی

0

قرآن، بائبل، وید، پران، گیتا، چاہے کوئی مذہبی، سب کتابوں نے ہمیشہ ہمیں یہی بتایا ہے کہ ایک عورت 'قربانی' اور 'ممتا' کی مورت ہوتی ہے اور خدا کی بنائی اس دنیا میں ایک عورت سے خوبصورت کچھ نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ طاقت ہی توانائی کا اصل جز ہے۔ بغیر طاقت کے توانائی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔

مندرجہ بالا سطروں کو پڑھ کر شاید آپ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہوں کہ آخر ایسا کیا ہے جو آج ایک کہانی کے آغاز میں ہم اس طرح کی تمہید باندھ رہے ہیں؟ آج بات ہی کچھ ایسی ہے۔ آج کی ہماری جو یہ کہانی ہے اس کا خاکہ 22 فروری 2016 کو تیار ہوا تھا مگر یہ آج بھی اتنی ہی تازہ ہے، اتنی ہی منفرد ہے جتنی یہ 22 فروری کو تھی۔

22 فروری کو روہت پیدا ہوا تھا۔ یوں تو روہت بھی ہندوستان میں روزانہ پیدا ہونے والے کروڑوں بچوں میں سے ایک ہے مگر جو بات اس کو ان کروڑوں سے الگ کرتی ہے وہ ہے اس کی پیدائش کی کہانی۔ اس کہانی کے کردار کچھ یوں ہیں روہت، پیشے سے چوکیدار اس غریب باپ کیڈی لال روہت کی ماں راجکماری اور "سدف آپا۔"

آگے بڑھنے سے پہلے آپ کو ہم "صدف آپا" کے بارے میں بتائیں۔ صدف آپا لکھنؤ کے ایک ممتاز اسکول میں ٹیچر ہیں جنہیں ہم روہت کی دوسری ماں بھی کہہ سکتے ہیں۔ سدف آپا اور ان کی سوجھ بوجھ ہی کی وجہ سے آج غریب کیڈی لال اور راجکماری کے آنگن میں روہت کی كلكاريا گونج رہی ہیں۔

کچھ یوں ہوا تھا 22 فروری کے دن

اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ کے پالٹیکنک چوراہے کے پاس دوپہر کے وقت بھیڑ جمع تھی اور سامنے درد سے کراہتی ایک حاملہ عورت اور اس کا شوہر۔

لوگ تماشا دیکھ رہے تھے، بھیڑ میں موجود کچھ لوگ موبائل نکالے ویڈیو شوٹ کر رہے تھے۔ تو وہیں کچھ لوگ عورت کی تصاویر کلک کرنے میں مصروف تھے۔ لوگ ہدایتیں بھی دے رہے تھے، "ارے عورت کو چھاؤں میں بٹھاو" "سایہ کر دو، اس ڈیوائڈر پر ہی لیٹے رہنے دو۔"

بہر حال، صدف آپا بھی روزانہ کی طرح چھُٹی کے بعد اپنے بیٹے حمید کے ساتھ اسکول سے گھر جا رہی تھیں۔ وہاں سے گزرتے ہوئے ہجوم نے ان کی بھی توجہ اپنی طرف متوجہ کی اور وہ بھی معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے اپنی گاڑی سے اتریں۔ سامنے جو انہوں نے دیکھا اس سے ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔ ان کے سامنے ایک حاملہ عورت تھی جو "درد زہ" سے تڑپ رہی تھی اور وہاں موجود لوگ تماشہ دیکھ گزر جاتے۔

صدف آپا نے حمید کو جلدی سے گھر چھوڑا اور واپس جائے حادثہ کا رخ کیا بھیڑ اب بھی تھی، لوگ اب بھی جمع تھے، خاتون اب بھی درد سے، كراہ رہی تھی، خاتون کا غریب شوہر اب بھی کسی معجزہ کی آس میں تھا۔ آتے ہی صدف آپا نے اس عورت کے شوہر کو بلایا اور "108" پر فون کرنے کے بعد کچھ پیسے دیئے۔ اب تک ایمبولینس آ چکی تھی۔ آپا کی طرف سے، عورت کو "کنگ جارج میڈیکل کالج" لے جایا گیا جہاں خاتون نے اس "خوبصورت اور صحت مند" بچے کو جنم دیا۔ غور طلب ہے کہ صدف آپا نے اس بچے کا نام "روہت" رکھا ہے۔

صدف جعفر" بتاتی ہیں،

"ایک عورت کا درد وہ بھی خاص طور سے" لیبر پین" ایک عورت ہی سمجھ سکتی ہے اور میں نے وہی کیا جو اس ملک کی ایک ذمہ دار عورت شہری کو کرنا چاہئے تھا۔"

صدف کا یہ بھی کہنا ہے کہ مذہب چاہے کوئی بھی ہو وہ ہمیشہ ہی انسانیت اور بھائی چارے کی راہ دکھاتا ہے اور شخص اپنے کو اسی وقت انسان کہے جب اس کے اندر انسانیت باقی ہو۔

روہت کے بارہ میں بتاتے ہوئے صدف نے بتایا کہ چونکہ روہت کے والد کی مالی حالت ٹھیک نہیں ہے اور ان کا خاندان مشکل دور سے گزر رہا ہے لہذا انہوں نے پیشے سے گرد اور بچے کے والد کیڈی لال کو یقین دہانی کرائی ہے کہ جب تک ان کی زندگی ہے وہ ہی اس بچے کی پرورش اور اس کی پوری تعلیم کا ذمہ اٹھائیں گی۔ پوچھے جانے پر صدف نے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ ان کی شدید خواہش ہے کہ آگے چل کر یہ بچہ ایک بہتر شہری بن سکے تاکہ ہماری آنے والی نسل انسانیت اور ثقافت کو آگے لے جائے۔

صدف آپا نے سماج کے لئے ایک مثال قائم کرتے ہوئے یہ پیغام دیا ہے کہ ہم سب سے پہلے ایک انسان ہیں اور ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی بعد میں ہیں اگر ہمارے اندر انسانیت نہیں ہے تو پھر چاہے کسی طرح کی عبادت کریں بیکارہے۔ اگر ہمارے دل میں محبت اور قربانی کے شعلے نہ جل رہی ہو۔

قلمکار بلال جعفری۔۔۔۔۔۔مترجم : زلیخا نظیر

.......................................

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

کھوئی عزتِ نفس کی بازیفتگی ایک جنگ... ہزاروں خواتین کو راہ دکھانے والی جہد کار سنیتا کرشنن

ڈِپریشن نے ’پونم سولنکی ‘کو سِکھایا دوسروں کی زندگی سنوارنے کا سبق

5 سال تک تعلیم سے محروم صفائی ملازم کی بیٹی نے... صرف 15 سال کی عمر میں لیا پی ایچ ڈی میں داخلہ...