غریب اور پسماندہ طالب علموں کے مسیحا "سوپر 30" آنند کمار

0

اپنے اوراپنوں کے خوابوں کو تو تقریبا ہر انسان پورا کرنے کی خواہش رکھتا ہے. یہ اچھا بھی ہے، لیکن ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں جو غریب اور اقتصادی بدحالی میں پل رہے بچوں کے خوابوں کو پورا کرنا ہی اپنی زندگی کا مقصد بنا لیتے ہیں۔ پٹنہ میں پیدا ہوئے، پلے-بڑھے اور تعلیم یافتہ آنند کمار ایسے ہی شخص ہیں. آج دنیا آنند کمار کو سوپر 30 ادارے کے بانی کے طور پر جانتی ہے. ہر سال آئی آئی ٹی نتائج کے دوران سوپر 30 کی بحث اخبارات کی سرخیوں میں رہتی ہیں. 2014 میں بھی 'سوپر 30 ' کے 30 بچوں میں سے 27 بچوں کو آئی آئی ٹی میں داخلہ ملا ہے. سن 2003 سے ہر سال آئی آئی ٹی میں 'سوپر 30 ' کے بچے کامیابی حاصل کر رہے ہیں. اتنی بڑی کامیابی آنندکمار کو یوں ہی نہیں ملی. اس کے پیچھے ان کی زندگی کا طویل جدوجہد اور مضبوط ارادوں کی دل کو چھو لینے والی اور سبق آموز کہانی ہے۔

آنند کمار ایک متوسط خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ والد پوسٹل شعبہ میں کلرک تھے. بچوں کو انگریزی اسکول میں پڑھانے کا خرچ نکالنا ان کے لئے مشکل تھا. اس لیے بچوں کوہندی میڈیم کے سرکاری اسکول میں ہی پڑھایا. بچوں کی تعلیم کو لے کر وہ بیدارتھے ۔ آنند بھی جانتے تھے کہ انہیں موجودہ محدود ذرائع سے ہی جتنا بہتر ہو سکتا ہے وہ کرنا هےحساب میں آنند کو خصوصی دلچسپی تھی اور وہ بڑے ہوکر انجینئر یا سائنس داں بننا چاہتے تھے. سب نے کہا اگر انجینئر یا سائنس داں بننا چاہتے ہو تو سائنس موضوع کو احتیاط سے پڑھیں. آنند نے پٹنہ یونیورسٹی میں داخلہ لیا. جہاں انہوں نے ریاضی کے کچھ فارمولے ایجاد کئے. ان فار مولوں کو دیکھنے کے بعد آنند کے استاد دیوی پرساد ورما جی نے انہیں ان فا ر مولو ں کو انگلینڈ بھیجنے اور وہاں شائع کرنے کا مشورہ دیا. گرو جي کے کہے مطابق آنند نے اپنے پیپرس انگلینڈ بھیجے اور پیپرس شائع بھی ہو گئے. پھر کیمبرج سے آنند کے لیے بلاوا آ گیا. گروجی نے کہا بیٹا کیمبرج جاؤ اور اپنا نام روشن کروآنند کے گھر میں بھی خوشی کا ماحول تھا۔ ہر کوئی آنند کو مبارکباد دے رہا تھا. آنند کو کیمبرج جانے کے لئے سب سے بڑا مسئلہ پیسے کا تھا . کالج نے کہا کہ ہم صرف ٹیوشن فیس معاف کر سکتے ہیں. کیمبرج جانے اور رہنے کے لئے تقریبا پچاس ہزار روپے کی ضرورت تھی- آنند کے والد نے اپنے آفس میں بیٹے کی مزید مطالعہ کے لئے پیسوں کی مدد کی مانگ رکھی اور دہلی دفتر تک خط و کتابت ہواآنند کی قابلیت کو دیکھتے ہوئے دہلی آفس سے مدد کا بھروسہ دیا گیا۔ ایک اکتوبر 1994 کو آنند کو کیمبرج جانا تھا لیکن کہتے ہیں کہ ہوتا وہی ہے جو قسمت کو منظور ہوتا ہے. 23 اگست 1994 کو آنند کے والد کا انتقال ہو گیا. اس واقعہ نے نہ صرف آنند کی زندگی بدل دی بلکہ پورے خاندان کو سخت اقتصادی بحران میں بھی ڈال دیا. گھر میں والد ہی اکیلے کمانے والے تھے،اور چچا اپاہج .اب پورے مشترکہ خاندان کی ذمہ داری آنند کے کندھوں پر آ گئی- ایسے میں آنند نے کیمبرج جانے کا خیال چھوڑ دیا اور پٹنہ میں رہ کر ہی خاندان کی کفالت میں لگ گئے. والد کی موت کے ساتھ ہی جیسے آنند کا کیریئر بھی ختم ہو گیا تھا. اچھا یہ تھا کہ اب تک آنند کی گریجویشن مکمل ہو چکی تھی .

بے شک حالات نازک تھے لیکن آنند زندگی بھر کلرک کی نوکری نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے انہوں نے والد کی مہربانی سے حاصل کام نہیں کرنے کا فیصلہ کیا۔اب آنند اپنا دلچسپ موضوع ریاضی پڑھاكر ہی تھوڑا بہت پیسہ کمانے لگے۔ لیکن جتنا وہ کما رہے تھے، اس سے گھر کا خرچ پورا نہیں ہو پا رہا تھا۔ اس لئے آنند کی ماتاجی نے گھر میں پاپڑ بنانا شروع کیا اور آنند روزانہ شام کو چار گھنٹے ماں کے بنائے پاپڑو ں کو سائیکل سے گھوم- گھوم کر فروخت کرنے لگے - ٹیوشن اور پاپڑ سے ہوئی کمائی سے گھر چلتا. آخر ایسا کب تک چلے گا - آنند یہی سوچتے رہتے. پھر آنند نے ریاضی کو بنیاد بنایا اور 'رامانجم اسکول آف ریاضی' کھول دیا. اس اسکول میں ہر طرح کے داخلاتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طالب علموں کو کوچنگ کرائی جانے لگی. کوئی طالب علم سو روپے دیتا، کوئی دو سو تو کوئی تین سو روپے آنند رکھ لیتے، کسی سے پیسے کو لے کر بحث نہیں کرتے. آنند نے اس کوچنگ سینٹر میں دو بچوںسے پڑھانے کا کام شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے بچوں کی تعداد تیزی سے بڑھتی چلی گئی یہاں تک کہ جگہ کم پڑنے لگی. پھر آنند نے ایک بڑے ہال کا انتظام کیا اور پانچ سو روپے کی سالانہ فیس مقرر کر دی۔

ایک بار آنند کے پاس ابھیشیک نام کا ایک بچہ آیا اور بولا، سر ہم غریب ہیں میں پانچ سو روپے آپ کو ایک ساتھ نہیں دے پاؤں گا۔ قسطوں میں دے سکوں گا، جب میرے والد کھیت سے آلو نکالیں گے اور وہ آلو فروخت جائیں گے،. اب سوال پٹنہ میں رہنے اور کھانے کا کھڑا ہوا. اس بچے نے بتایا کہ وہ ایک نامی گرامی وکیل کے گھر کی سیڑھیوں کے نیچے رہتا ہے. اس واقعہ کے دو تین دن کے بعد جب آنند وہاں گئے تو دیکھا وہ لڑکا بھری دوپہری میں سیڑھیوں کے نیچے پسینے سے بھیگا ہوا بیٹھا تھا اور ریاضی کی کتاب پڑھ رہا تھا. اس واقعہ نے آنند کو جھنجھوڑ دیا. گھر آکر آنند نے اپنی ماں اور بھائی کو اس بچے کے بارے میں بتایا اور کہا کہ ہمیں ایسے بچوں کے لئے بھی کچھ کرنا چاہئے جنھیں پڑھنے کی لگن ہے لیکن اقتصادی بدحالی کی وجہ سے وہ پڑھ نہیں پاتے. ماں نے بھی اس خیال میں اپنی رضامندی کا اظہار کیا. پھر سوال یہ کھڑا ہوا کہ اگر سال میں تیس ایسے غریب بچوں کو چنا بھی جائے تو وہ رہیں گے کہاں، کھائیں گے کیا؟ پھر آنند نے ایک مکان لینے کی منصوبہ بندی کی تاکہ تمام بچے وہاں رہ سکیں. تیس بچوں کے لئے کھانے پکانے کا کام آنند کی ماں نے اپنے ہاتھ میں لے لیا- اس طرح آنند سوپر 30 انسٹی ٹیوٹ کھولنے کا خواب پورا ہو گیا۔

سن 2002 میں آنند نے سپر 30 کے آغاز کی اور تیس بچوں کو مفت آئی آئی ٹی کی کوچنگ دینا شروع کیا. پہلے ہی سال یعنی 2003 کے آئی آئی ٹی کے داخلاتی امتحانات میں سوپر 30 کے 30 میں سے 18 بچوں کو کامیابی حاصل ہو گئی. اس کے بعد 2004 میں 30 میں سے 22 بچے اور 2005 میں 26 بچوں کو کامیابی ملی. اس طرح کامیابی کا گراف مسلسل بڑھتا گیا. سن 2008 سے 2010 تک سپر 30 کا نتیجہ سو فیصد رہا۔

سپر 30 کو مل رہی بے پناہ کامیابی سے وہاں کے کوچنگ مافیا پریشان ہو گئے. انہوں نے آنند سے مفت میں نہ پڑھانے کا دباؤ ڈالنا شروع کر دیا. آنند نہیں مانے تو ان پر حملے کئے گئے، بم پھینکے، گولیاں چلائیں اور ایک بار تو چاقو سے حملہ بھی کیا. لیکن چاقو آنند کے شاگرد کو لگ گیا. تین ماہ تک وہ اسپتال میں رہا اور اس دوران تمام بچوں نے اس کی خوب خدمت کی اور وہ صحت مند ہو گیا۔

آنند کمار کے سوپر 30 کو ملی بے پناہ کامیابی کے بعد بہت سے لوگ تعاون کے لئے آگے آئے. بڑے بڑے صنعت کاروں نے آنند کو مدد کی پیشکش کی. وزیر اعظم تک کی طرف سے آنند کو مدد کی پیشکش کی گئی لیکن آنند کمار نے سپر 30 کے آپریشن کے لئے کسی سے بھی مالی مدد لینے سے انکار کر دیا. کیونکہ یہ کام وہ خود بغیر کسی کی مدد سے کرنا چاہتے ہیں. سوپر 30 کا خرچ ان کے کوچنگ سینٹر رامانجم ا سٹڈی سینٹر سے چلتا ہے۔

آج آنند قومی اور بین الاقوامی فورم سے خطاب کرتے ہیں. ان سوپر 30 کی بحث بیرون ملک تک پھیل چکی ہیں. بہت سے غیر ملکی عالم اس انسٹی ٹیوٹ کو دیکھنے آتے ہیں اور آنند کمار کے طریقہ کار کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

آنند مانتے ہیں کہ انہیں جو بھی کامیابی ملی اس کا مکمل کریڈٹ ان کے طالب علموں کو جاتا ہے. طالب علموں کی محنت اور لگن کو جاتا ہے. جبکہ آئی آئی ٹی میں ہر سال پاس ہونے والے تمام شاگرد آپ کی کامیابی کا پورا کریڈٹ اپنے استاد آنند کمار کو دیتے ہیں. سوپر 30 آنند کمار جیسے استاد اور شاگردوں کی لگن اور سخت محنت کا نتیجہ ہے. آنند کمار کو کئی ایوارڈز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

آنند کمار مانتے ہیں کہ کامیاب ہونے کے لئے بھرپور کوشش، مثبت سوچ، سخت محنت اور صبر کی ضرورت ہوتی ہے.

سن 2003 سے 2014 تک سوپر 30 کے 360 بچے آئی آئی ٹی کے داخلاتی امتحان میں بیٹھے، جس سے 308 کامیابی ملی. یہ اعداد و شمار کسی بھی کوچنگ سینٹر کے لئے مثال ہے. نہ جانے کتنے ہی بچوں کے خواب کا احساس کرنے والے آنند کمار کا خواب ہے کہ ایک ایسا اسکول کھولا جائے جہاں چھٹی کلاس سے طالب علموں کو ریاضی، طبیعیات اور کیمیا کی تعلیم دی جائے. یقینا آنند کمار اپنے اس خواب کو بھی جلد مکمل کر لیں گے. کیونکہ آنند جو سوچتے ہیں اس کی قدرت بھی رکھتے ہیں۔