خواتین کرسکتی ہیں ہندوستان کی مجموعی گھریلوپیداوار (GDP) میں 2.4 فیصداضافہ

0

کچھ مستثنیات کو چھوڑدیں تو ہندوستان کی زیادہ تر کاروباری خواتین خودکو رول ماڈل اور مشہورشخصیات کے طور پر اپنی شناخت قائم کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔لیکن اگر آپ بہت ہی جلد ان حالات میں تبدیلی ہوتے دیکھیںتو حیرانمتہوں۔ہندوستان خواتین کاروبار کے سلسلے میں انقلاب کے دہانے پر بیٹھاہے۔اور وقت کے ساتھ تبدیلی کی ان علمبرداروں کی فہرست طویل ہوتی جارہی ہے۔

سال 2012میں لنکڈ اِن کے ذریعے تحویل میں لی گئی کمپنی سلائڈ شیئر(Slide Share)کی بانی رشمی سنہاکو فاسٹ کمپنی کے ذریعے ویب 2.0میں دنیاکی ٹاپ 10وومن انفلوئنسر کی حیثیت سے نامزد کیاگیا۔مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے مسائل کو حل کرنے والی کمپنی میڈ اسٹریٹ ڈین کی بانی اشونی اشوکن لاکھوں کا ریونیو کمانے والی آن لائن ریٹیلر انفیبیم کی بانی نیروشرماشہری علاقوں کے مکینوں کو پائپڈ پانی کی فراہمی کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والی نیکسٹ ڈراپ کی بانی انوشری دھرن شانتی لائف کے توسط سے جھگیوں میں رہنے والے لوگوں کو کاروبار شروع کرنے کیلئے امدادفراہم کرانے والی شیتل والش اور باصلاحیت خواتین پیشہ وروں کو کام کاج کے مواقع فراہم کرانے میں مددکرنے والی شیروس کی بانی سائری چہل۔وقت کے ساتھ فہرست مسلسل بڑھتی ہی جارہی ہے اور اسی کے ساتھ دنیا میں یہ خیال پختہ ہوتاجارہاہے کہ آنے والے وقت میں خواتین کاروباری ہندوستانی معیشت پر ایک زبردست تاثر چھوڑنے میں کامیاب رہیں گی۔

خواتین کےذریعے تجارتی مہم جوئی کو اپنانے کا رجحان بہت ہی خاموشی سے بڑھتاجارہاہے۔لیکن اگر تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہندوستان میں خواتین کے ذریعے پاپڑ اور اچار تیارکرکے بیچنے کا رواج بہت قدیم زمانے سے چلاآرہاہے۔اور اسی سلسلے میں سال 1959میں ایک ہندوستانی خاتون امداد باہمی کی شکل میں مشہور ’لذت پاپڑ ‘ کاجنم ہواتھا۔آج کی تاریخ میں یہ ادارہ 42ہزارلوگوں کو روزگار فراہم کرنے کے علاوہ 800کروڑ روپئے سے زائد کا ٹرن اوور رکھتاہے۔کیاایک ایسی وراثت کے ساتھ ہندوستانی خواتین انٹرپرینیورشپ کے شعبے میں قائدانہ کردار نہیں اداکرسکتی ہیں؟بی این پی پریباس کے ذریعے امریکہ،یورپ،مشرق وسطیٰ اور ایشیاکے علاقے کااحاطہکرتے ہوئے سال 2015میں جاری ایک رپورٹ کے مطابق ان تمام شعبوں میں خواتین صنعت کاروں کے لحا ظ سے ہندوستان سب سے سرگرم ملک کی حیثیت سے سامنے آیاہے۔یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ ہندوستان میں موجود کاروباریوں میں سے 49فیصد بیحد حیرت انگیز طورسے خواتین ہیںاور اس طرح ہندوستان سرگرم خواتین صنعت کاروں کے معاملے میں ہانگ کانگ اور فرانس سے کہیں آگے کھڑاہے۔خواتین کوتجارتی مہم جوئی کے شعبے میں اترنے کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے پس پشت سب سے بڑاسبب ان کے درمیان تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کا بڑھتاہوارجحان ہے۔لیکن ان کے بجائے کئی اور سماجی ومعاشی محرکات کی وجہ سے آج زیادہ سے زیادہ خواتین پالتو جانوروں کی نگہداشت کرنے والے کلنک ،قرض وصولی کمپنیاں ،وہیل چیئر سازی ،ٹیلی مارکیٹنگ کمپنیاں ،ہربل مصنوعات،طباعت واشاعت وغیرہ جیسے کاروباروں میں اپنی حصہ داری بڑھارہی ہیں۔فی الوقت خاندانوں کی روایتی ہیئت میں تبدیلیاںدیکھنے کو مل رہی ہیں جو خواتین کو آزادی عطاکررہی ہیں۔اس کے علاوہ عورتوں اور مردوں کے درمیان جنسی امتیاز کم ہوتاجارہاہے جس کے سبب خواتین اپنے پیروں پر کھڑی ہورہی ہیں اور اپنی صلاحیتوں کو پہچان رہی ہیں۔وہ صحیح معنوں میں ایک کامیاب کاروباری بننے کے لئے ضروری خوداعتمادی کا مظاہرہ کررہی ہیں ۔

خواتین پہلے کے مقابلے کہیں زیادہ بہتر طریقے سے نیٹ روکنگ کرنے،سرمایہ پانے اور رہنماہدایات حاصل کرنے میں کامیاب ہورہی ہیں۔اس پورے سلسلے میں خواتین صنعت پزیری کی حوصلہ افزائی کرنے کی ذمہ داری اٹھانے والی سرکاری اسکیمیں اور پالیسیاں سب سے نچلے اور اور بالکل مقامی پائیدان پر کھڑی ہیں جو اپنے فروغ ہنر مندی پروگراموں کے توسط سے ان کے درمیان صنعت کاری کے ہنر کو فروغ دینے کے علاوہ ان کے لئے ادارہ جاتی سرمایہ کاری ،بنیادی ڈھانچے اور صلاحیت کی تلاش میں مدد کرتی ہے۔سال 2013 میں وجودمیں آنے والا ہندوستانی خواتین بینک ،جس کی زمام کار اوشا آنند سبرامنیم کے ہاتھوں میں ہے، ہندوستانی خواتین کیلئے ایک اور محرک ادارہ ہے جس کا نصب العین بینکوں تک رسائی نہ رکھنے والی شہری اور دیہی خواتین کو تجارت شروع کرنے میں مدد کرناہے۔

مالی تعاون اور ترقیاتی ادارہ(او ای سی ڈی) کی رپورٹ کے مطابق اگر ہندوستان ترقی معاون اور جنس حامی پالیسیاں اختیارکرتاہے تو اس کی معیشت کی سالانہ شرح میں 2.4فیصد تک کا اضافہ ہوسکتاہے۔درحقیقت ایسا کرنے کیلئے ہندوستان کو یہ یقینی بنانا ہوگاکہ تعلیم وتربیت،اکاؤنٹنگ،مارکیٹنگ،انسانی وسائل اور پیداوارجیسے بنیادی ہنر کے فروغ میں معاون ورکشاپوں تک خواتین کی رسائی آسان ہو۔اس کے علاوہ یہ بہت ضروری ہے کہ ان خواتین کو ہندوستان میں اور بین الاقوامی سطح پر منعقد ہونے والےتجارتیمیلوں اور سیمیناروں تک آسان پہنچ ملے تاکہ انھیں اپنے جیسے دوسرے لوگوں سے ملنے کا موقع ملے اور وہ بڑے بازار کے خریداروں کے ساتھ بات چیت کرنے میں کامیاب رہیں۔اس کے علاوہ تجارتی مہم جوئی میں مصروف عورتوں کے مسائل کو جاننے اور ان کا تصفیہ کرتے ہوئے فوری کارروائی کرنے کیلئے ایک قومی شکایت سیل کا قیام بھی وقت کا سب سے بڑاتقاضاہے ۔

خواتین کاروباری ایک بیحد قیمتی وسائل ہیں اور خواتین کے مابین صنعت کاری کا بڑھتاہوارجحان خیرمقدم کے قابل ہے۔خواتین فطرتاً مضبوط ،متحمل،مقابلے کا جذبہ رکھنے والی اور وسائل سے مالامال ہوتی ہیں۔ان کے پاس کاروبارچلانے کیلئے بیحد ضروری نئے نقطہائے نظر اور نئی فکر کو اپنانے کی صلاحیت ہوتی ہے ۔عالمی معاشی فنڈ(ڈبلیو ای ایف) کی سال 2014کی گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ملازمین کی کل تعداد کا ایک تہائی سے کچھ زیادہ حصہ خواتین کا ہے جس کے سبب جی ڈی پی کو بڑھانے میں ان کا کرداراور روزگارکے مواقع پیداکرنے کی ان کی صلاحیت ہندوستانی اقتصادیات کیلئے ایک گیم چینجرثابت ہوسکتی ہے۔

خاص: اس مضمون کے مصنف اتل راجہ ودھوانی فاؤنڈیشن کے کارگذار نائب صدر -مارکیٹنگ ہیں۔

ترجمہ: محمد وصی اللہ حسینی