57 ممالک کے 11000 طلباء میں آدتیہ گوجربنے ریاضی کے ننھے عالمی چیمپئن

0

عالمی معیارکے ایک ریاضیاتی مقابلہ میں راجستھان کے بھرت پور کے آدتیہ سنگھ گوجرچیمپئن بن گئے ہیں۔ حال ہی میں دہلی میں منعقد ہوئی يوسی ماس کی 14 ویں قومی اور 20 ویں 'اباكس اینڈ منٹل ارتھمیٹك مقابلہ 2015 میں نو سالہ گوجر نے 'چیمپئنز آف دی چیمپئنز' کا ایوارڈ اپنے نام کیا۔ وہ بھرت پور میں ہی چھٹی کلاس کے طالب علم ہیں۔آدتیہ اپنی اس کامیابی پر بہت خوش ہیں۔ وہ کہتے ہیں، 'لوگوں کے درمیان میں بہت خوش ہوں۔'

ان کی خواہش ہے کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کریں۔آدتیہ کے والد گنگا سنگھ جسمانی ورزش کے استاد ہیں اور ماں سمتا گوجر راجستھان روڑویز میں کنڈکٹر کا کام کرتی ہیں۔

آدتیہ کو ریاضی میں دلچسپی اپنی ماں کی وجہ سے پیدا ہوئی، جو ریاضی میں ماسٹرز ہیں۔ والد گنگا نے بتایا کہ اس مقابلے کو جیتنے کے بعد شہر کے کئی معزز لوگوں نے ان کا اعجزاز سے نوازا اور وزیر تعلیم كاليچرن صراف نے وزیر اعلی وسندھرا راجے سے ملانے کا یقین دلایا ہے۔

آدتیہ سال 2013 سے اباكس پر ریاضی کی پریکٹس کر رہے ہیں۔ اس مقابلے میں 57 ممالک کے تقریبا 11000 بچوں نے اپنی صلاحیت کی نمائش کی، جن کی عمر چار سے 15 سال کے درمیان تھی۔ يوسی ماس کے ایک ترجمان کے مطابق ہندوستان کی تقریبا 22 ریاستوں کے 5500 بچوں نے اس میں حصہ لیا۔ اس مقابلے میں پہلے 36 چیمپئن منتخب گئے اور اس کے بعد ان میں سے آدتیہ کو 'چیمپئن آف دی چیمپئن' کا خطاب دیا گیا۔

اس مقابلے میں تمام شرکاء کو ان کی عمر اور سطح کے مطابق 200 ریاضی کے حساب کا ایک سوال نامہ دیا گیا، جسے آٹھ منٹ کے اندر اندر اباكس کی مدد سے حل کرنا تھا۔آدتیہ نے بتایا کہ انہوں نے پورے 200 سوال حل کئے جس کی وجہ سے انہیں یہ ایوارڈ ملا۔

يوسی ماس ایک عالمی تنظیم ہے جس کا ہیڈکوارٹر ملائیشیا میں ہے۔ یہ بچوں کے درمیان ریاضی کا رجحان بڑھانے کے لئے کام کرتا ہے اور ہندوستان میں اس کے تقریبا 1500 مرکز ہیں۔