مہارشٹر ریاستی سِول سروس میں ٹاپ کرنے والی حنا انصاری چھوٹے گاؤں کے کسان خاندان کی بیٹی اور بہو

خواتین میں اول اور کُل امیدواروں میں دسواں مقام حاصل کرکے سرکاری افسر بن گئیں حِنا انصاری

0

ہندوستان دیہاتوں کا شہر ہے کیوں کہ ہندوستان کی اکثریت دیہاتوں میں رہتی ہے۔ جب تعلیم کی بات ہوتو لوگ کہتےہیں کہ تعلیم حاصل کرنی ہو تو شہروں میں جاؤ۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ایک سچائی ہے کہ بہت سے کامیاب لوگوں کا تعلق دیہاتوں ہی سے رہا ہے۔ ہم آج آپ کو ایک ایسی ہی خاتون حِنا انصاری کی کامیابی کی داستان سنانے جارہے ہیں جس کا بچپن دیہات میں گزرا اور پھر اس کی شادی بھی ایک دیہات ہی میں ہوئی۔ آئیے، دیکھیں کہ کیسے ایک کسان خاندان کی بیٹی اور پھر ایک کسان خاندان کی بہو ایک سرکاری افسر بن پائی۔

ہندوستان کی ریاست مہاراشٹرا کے ضلع واشِم کی تحصیل رِسوڑ کے گاؤں گوبھنی کے ایک کسان جناب لطیف انصاری کی بیٹی حِنا انصاری نے جب 7 جولائی 2015 کوانکم ٹیکس افسر کے عہدے کے لئے منعقدہ مہاراشٹرا ریاستی سِوِل سروسیز امتحانات میں لڑکیوں میں اول اور کُل امیدواروں میں دسواں مقام حاصل کیا تو یوں سمجھئے کہ پوری ریاست کی نگاہیں گوبھنی کی جانب مڑگئیں۔ اخبارات، ٹی۔وی چینل اور میڈیا کے لوگ حیران رہ گئے ۔ حال ہی میں ان امتحانات کے نتائج کا اعلان ہوا تو ساری ریاست میں حِنا پروین انصاری راتوں رات ایک اسٹار بن گئیں۔ ایک ایسی لڑکی جس کی پرورش ایک چھوٹے سے گاؤں گوبھنی میں ہوئی اور پھر جب اس کی شادی ہوئی تو گوبھنی گاؤں سے محض تین کلومیٹر دور ایک اور گاؤں وڑجی سے ان کا تعلق بن گیا۔ یعنی وہ ہر لحاظ سے دیہی زندگی کی علامت ہیں ۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ گاؤں میں مواقع بہت کم ہوتے ہیں لیکن حِنا انصاری نے اس کمزوری کو ہی اپنی طاقت بنالیا۔ انہوں نے گاؤں میں حاصل ہونے والی فراغت سے فائدہ اٹھاکر تعلیم کے حصول کو اپنا مقصد بنالیا۔ پھر اس کے بعد ایک کسان کی بیٹی ، ایک کسان کی بہو اور ایک کسان کی بیوی نے وہ کردکھایا جس کا خواب شہر کے بہت سے لوگ نہیں دیکھتے۔ کیوں کہ اس میں بہت محنت درکار ہوتی ہے۔

حِنا انصاری اپنی کامیابی کے بارے میں بتاتی ہیں،

"کامیابی میرے لئے بہت معنی رکھتی ہے۔ میرے والد ایک کسان ہیں، میرے شوہر ایک کسان اور میرے سسرال والے بھی کسان ہیں۔ لیکن جب میں نے اپنے اس خواب کی تکمیل کی بات گھر میں کی تو میرے شوہر تیواز خان نے نہ صرف میری حمایت کی بلکہ میری پوری پوری مدد کی۔ میرے والدین کی دعا اور میرے شوہر کے تعاون نے مجھے یہ کامیابی دلوائی ہے اور میں ایم ۔ پی ۔ ایس ۔ سی میں ٹاپ کرپائی ہوں۔ "

حنا انصاری کے والدین بھلے ہی کسان ہیں لیکن انہوں نے اپنی اولاد کو اعلیٰ تعلیم دلوانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ ان کی دو بیٹیاں بھی ہیں جو معلمہ ہیں۔ لطیف انصاری نے اپنے بچوں کو اسی گاؤں میں تعلیم دلوائی جہاں وہ رہتے ہیں ۔ حِنا انصاری نے بھی اپنی بارہویں تک کی تعلیم گوبھنی ہی میں مکمل کی۔ اس کے بعد انہوں نے یشونت راؤ چوان اوپن یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے دوران ہی انہوں نے ارادہ کرلیا تھا کہ انہیں اب مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنی ہے۔ اور پھر ان کے اسی عزم نے انہیں وہ کامیابی دلائی جس کے لئے شہروں کے ہونہار اور باصلاحیت نوجوان بھی جی توڑ کوشش کرتے ہیں لیکن ان میں سے بہت سے لوگ اس کامیابی سے دور ہی رہ جاتے ہیں ۔ لیکن حِنا انصاری نے اس کامیابی کو بخوبی حاصل کیا،ان کے شوہر تیواز خان نے 'یوراسٹوری' سے بات کرتے ہوئے کہا،

''حِنا تعلیم میں بہت محنتی تھی۔ جب اس نے مجھ سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تو میں نےصدق دل سے اس کی حمایت اور تعاون کا عزم کرلیا۔ میں نے سوچا کہ حِنا میری شریکِ حیات ہے۔ اس کی کامیابی، میری ہی کامیابی ہے۔ لہٰذا میں نے ہر ممکن طریقے سے اس کی حوصلہ افزائی اور تعاون کیا۔ اور آج نتیجہ آپ سب کے سامنے ہے۔ "

حناپروین انصاری نے نہایت لگن اور محنت سے اپنی طے کردہ منزل کو پالیا ہے۔ فی الحال حِنا انصاری جلگاؤں ضلع میں پٹواری کے عہدے پر فائز ہیں ۔ جلد ہی مزید اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوسکتی ہیں۔ ان کے سامنے اب ایک نیا اُفق روشن ہے۔ انہوں نے اپنی منزل اس لئے حاصل کی کیوں کہ انہوں نے منزل کو محض ایک خواب ہی نہیں سمجھا بلکہ اس کی تعبیر حاصل کرنے کے لئے مسلسل ، متواتر اور پیہم سرگرمِ عمل رہیں۔

حنا انصاری کے والد لطیف انصاری نے

یواسٹوری سے بات کرتے ہوئے کہا

"میں نے اپنی بیٹیوں کو بیٹوں سے الگ نہیں سمجھا۔ میں نے انہیں اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ میری دو بیٹیاں معلمات ہیں۔ حنا کی پرورش بھی میں نے انہی خطوط پر کی۔ پھر اس کے سسرال والوں نے بھی اس کی تعلیم کے سلسلے میں اس کی مدد کی اور آج حنا نے پوری ریاست میں لڑکیوں کا نام روشن کردیا ہے۔ "

ہمارے ملک میں فی الحال دختر کشی ایک بڑا سماجی مسئلہ بن کر ابھری ہے۔ اس تناظر میں ہم حنا انصاری کی اس کامیابی کو لوگوں کی اکثریت کے اس غلط خیال کا جواب سمجھ سکتے ہیں کہ بیٹیاں ماں باپ کے لئے شرم نہیں بلکہ فخر اور وقار کی علامت ہیں۔

حِنا انصاری کی اس کامیابی سے ایک بات تو ثابت ہوجاتی ہے کہ اگر انسان کوئی عزم کرلے تو منزل اس کے قدم چومتی ہے۔

منزل اسی کا حق ہے جو اس کی طرف بڑھے

پھرتے ہیں یوں تو کتنے ہی منزل کے آس پاس ...

-  خان حسنین عاقبؔ

.............................................

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کری

ملٹی نیشنل کمپنی کی ملازمت چھوڑ کراکیلی لڑکی نے بدل دی گاؤں اور پنچایت کی تقدیر

کالج ڈراپ آؤٹ ششانک نے لکھی کامیابی کی نئی کہانی

ایک خاتون ٹیچر, جنہوں نے نکاح کے دن بھی نہیں لی اسکول سے چھٹی