امتیازی سلوک کے باوجود کروڑوں روپے کی کاروباری سلطنت کھڑی کرنے میں کامیاب رہے ہیں رتی لال مكوانا

رتی لال مكوانا ایک ہزار کروڑ روپے کے کاروباری سلطنت کے مالک ہیں۔ ان کی گنتی ملک کے سب سے بڑے صنعت کاروں اور تاجروں میں ہوتی ہے۔ موجودہ وقت میں ملک کے دلت کاروباریوں کی فہرست میں ان کا مقام سب سے اوپر آتا ہے۔ ان کی کامیابی کی کہانی بھی ہر انسان کو تحریک اور حوصلہ  دینے کا کام کرتی ہے۔ رتی لال نے اپنی زندگی میں کئی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ وہ آزادی کے بعد سے ہندوستان میں آئے تمام بڑے سماجی، سیاسی اور صنعتی تبدیلیوں کے گواہ بھی ہیں۔ زندگی میں چھواچھوت، ذات پات کا  امتیازی سلوک، سماجی بائیکاٹ اور عدم تعاون کی مار بھی جھیلی ہے۔ دلت ہونے کی وجہ سے انہیں بھی مندر میں جانے سے روکا گیا، ہوٹل میں دلتوں کے لئے الگ سے رکھے جانے والے برتنوں میں کھانا کھلایا گیا، نئے کپڑے پہننے پر طعنے مارے گئے۔ بچپن اور نوجوانی میں وہی کام کروائے گئے جوکہ صرف پسماندہ ذات کے لوگوں کے لئے ہی طے مانے جاتے تھے۔ لیکن، ان کے والد اور دادا سے وراثت میں ملی ہمت اور کاروباری سوجھ بوجھ سے انہوں نے ہر چیلنج کا مقابلہ کیا۔ اپنے تیز دماغ اور مضبوط دل سے رتی لال نے چمڑے کے اپنے آبائی کاروبار کو نئی بلنديوں پر پہنچایا اور یہ ثابت کیا کہ کوئی کاروبار سامان کی بنیاد پر اچھا یا برا نہیں ہوتا اور کاروباری، ذات کی بنیاد پر بڑا یا چھوٹا نہیں ہوتا۔ رتی لال نے بڑے بڑے لوگوں کو یہ کہنے پر مجبور کیا کہ چرم سیاہ سونا ہے اور اس کاروبار سے بھی کروڑوں کا منافع کمایا جا سکتا ہے۔ رتی لال نے اپنی زندگی میں کافی جدوجہد کی، طرح طرح کے مسائل کا سامنا کیا۔ ہار نہ ماننے کے جزبے اور ان کی اپنی کچھ خاص امتیازات وخصوصیات کی وجہ سے وہ کامیابی کی راہ پر بڑھتے چلے گئے اور کامیابی کی ایک نایاب کہانی کے ہیرو بنے۔ان کی کہانی جدوجہد، ہمت، محنت اور کاروباری سوجھ بوجھ کے قصوں سے بھری ہے اور لوگوں کو مصیبت سے لڑنے کے لئے تحرکی دیتی ہے۔

0

اس بے مثال کہانی کا آغاز گجرات میں ہوتا ہے جہاں ایک دلت خاندان میں رتی لال مكوانا کی پیدائش  آزادی سے پہلے سال 1943 میں ہوئی۔ ان کا خاندان گجرات کے بھاونگر میں رہتا تھا۔  بچپن بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی اور ذات پات کے امتیاز کے درمیان گزرا۔ یہ وہ دور تھا جب ذات کے نام پر امتیازی سلوک اپنے عروج پر تھا۔ تکلیفوں سے بھرے بچپن کی یادیں اب بھی رتی لال کے ذہن میں تازہ ہیں۔ انہیں آج بھی وہ چھوٹا گھر یاد ہے جس میں سارا خاندان رہتا تھا ۔ دادا دادی، ماں باپ، چچا-چاچی اور بچے۔ انہیں اپنے اسکول کے دن بھی یاد ہیں۔ ان یہ بھی یاد ہے کہ دلت ہونے کی وجہ سے ان کو اور ان کے گھر والوں کو مندر میں آنے نہیں دیا جاتا تھا۔   انہیں شہر میں بال کٹوانے بھی نہیں دیا جاتا تھا۔ دلتوں کو اپنے بال کٹوانے کے لئے شہر سے باہر جانا پڑتا تھا۔ دلتوں کے بال کاٹنے والا نائی بھی مختلف ہوتا تھا۔ دلتوں کے بال کاٹنے والے نائی سے اعلی  ذات کے لوگ بال نہیں كٹواتے تھے۔ دلتوں کو ہوٹلوں میں بھی آنے نہیں دیا جاتا تھا۔ دلتوں کو چھونا اور ان کی چھوئی ہوئی کسی بھی چیز کا استعمال کرنا بھی گناہ سمجھا جاتا تھا۔ رتی لال نے بتایا کہ وہ پڑھنے کے لئے سرکاری اسکول جاتے تھے لیکن اسکول میں  بھی امتیازی سلوک کیا جاتا تھا۔

غربت، چھواچھوت اور ذات پات کے امتیازی سلوک نے رتی لال کے دل  پر بہت گہرا اثر کیا تھا۔ وہ کہتے ہیں، "مجھے بہت برا لگتا تھا۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ہمارے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا جاتا ہے۔ ہم بھی تو انسان ہیں پھر ہمیں بھی مندر میں جانے کیوں نہیں دیا جاتا، ہوٹل میں کھانے کیوں نہیں دیا جاتا؟ ہم دوسروں کی طرح نئے کپڑے بھی نہیں پہن سکتے تھے۔ "

رتی لال کو 1952 کا وہ واقعہ بھی یاد ہے جب بھاونگر میں دلتوں نے مل کر جلوس نکالا تھا۔ پولیس کی مدد لے کر دلت  مندر میں داخل  ہوئے  تھے اور ہوٹلوں میں جاکر کھانا کھایا تھا۔ رتی لال کے مطابق، آزادی ملنے کے بعد حالات آہستہ آہستہ سدھرے لیکن ذات کی بنیاد پر امتیازی سلوک پھر بھی  کم نہیں ہوا۔   آزادی سے پہلے اور اس کے کئی سالوں بعد بھی بہت سے لوگ دلتوں کو نوکری نہیں دیتے تھے۔ دلتوں سے اجرت ہی کروائی جاتی اور وہ سب کام کروائے جاتے جوکہ اعلی ذات کی نظر میں گندے ہوتے تھے۔

رتی لال نے بتایا کہ ان کے دادا سے سریندر ضلع کے راپر گاؤں میں ایک یورپین کمپنی کیجننگ فیکٹری میں ملازمت ملی تھی۔ غیر ملکی کمپنیاں ہی دلتوں کو نوکری پر رکھتی تھیں۔ ويٹل اینڈ کمپنی میں رتی لال کے دادا کو بچر کی نوکری ملی تھي نوكری کرتے وقت رتی لال کے دادا کو بہت سے لوگوں سے ملنے کا موقع ملا تھا۔ انہیں ہر روز کچھ نہ کچھ نیا سیکھنے کو ملتا تھا۔ لوگوں سے بات چیت کے دوران ہی ان کے دماغ میں بھی کاروبار کرنے کا خیال آیا۔ اس کے بعد انہوں نے کاروبار شروع کیا۔ رتی لال کے دادا پہلے ایسے شخص تھے جنہوں نے خاندان میں کاروبار کرنا شروع کیا۔ دادا سے پہلے بزرگوں میں کسی نے بھی کاروبار نہیں کیا تھا۔ انہوں نے جانوروں کی ہڈیاں اور چمڑے اکٹھا کر اسے بھاونگر کی ایک بون فیکٹری میں بیچنا شروع کیا۔ لیکن، کچھ دنوں بعد یہ کام بند ہو گیا۔ فیکٹری میں کچھ مسائل آنے کی وجہ سے رتی لال کے دادا کا یہ پہلا کاروبار بند ہو گیا۔  دادا پڑھے لکھے نہیں تھے، لیکن انہوں نے کاروبار کی باریکیاں سمجھ لی تھیں۔ بون فیکٹری کا کام بند ہونے کے بعد انہوں نے کراچی جا کر بندرگاہ پر جہاز کے سامان بھی فروخت کئے۔

رتی لال کے والد پہلے کھیت میں مزدوری کا کام کیا کرتے تھے۔ چند سال مزدوری کرنے کے بعد وہ بھاونگر آ گئے اور انہوں نے 'پکر' بنانے کا کام شروع کیا۔ جننگ فیکٹری میں پکر کا استعمال پاور لوم کپڑا بنانے کے لئے کیا جاتا تھا۔ یہ جانوروں کے چمڑے سے بنتا ہے اور زیادہ تر پکر بھینس کے چمڑے سے ہی بنائے جاتے تھے۔ اس وقت کوئی اور کمیونٹی کے لوگ یہ کام کرنے میں ہچکچاتے تھے۔ دلت ہونے کی وجہ سے مكوانا خاندان یہ کام کرتا تھا۔  ایک کے بعد ایک خاندان کے دیگر اراکین بھی کام میں لگ گئے تھے۔ کام شروع تو ہو گیا تھا لیکن مصیبت یہ تھی کہ ان دنوں یہ کام کرنے کے لئے بھاونگر میں زمین ملنا بھی مشکل تھا۔ بھاونگر، راجا کرشن كمارسه کی ریاست تھی۔ رتی لال کے والد نے سنا تھا کہ راجا بہت اچھے انسان ہیں اور مہربان بھی۔ ان کی مدد بھی کر سکتے ہیں ، لیکن، دقت یہ تھی کہ مدد کی فریاد کس طرح لگائی جائے۔ دلت ہونے کی وجہ سے  راجا کے دربار میں جانا ناممکن سا تھا۔ لیکن، اسی درمیان رتی لال کے والد کے ذہن میں ایک خیال آیا۔ انہوں نے اپنی بات راجا تک پہنچانے کے لئے ان کی گاڑی کے ڈرائیور کی مدد لینے کا  ارادہ کیا۔ مكوانا خاندان ان دنوں جانوروں کا چارہ فروخت کرنے کا بھی کام کرتا تھا۔ راجا کی گاڑی کا ڈرائیور مكوانا خاندان ہی سے گھوڑوں اور دوسرے جانوروں کا چارہ خریدتا تھا۔ ایک دن رتی لال کے والد نے بادشاہ کے ڈرائیور کو اپنی پریشانی بتائی۔ ڈرائیور نے انہیں مشورہ دیا کہ جب وہ بادشاہ کو لے کر محل سے باہر نکلے گا تب وہ محل کے باہر کھڑے رہ کر ہاتھ هلاے اور وہ گاڑی روک دے گا۔ ڈرائیور نے رتی لال کے والد سے کہا تھا کہ جیسے ہی وہ گاڑی روکے گا تب انہیں فوری طور پر راجا کے سامنے آکر پھٹ سے اپنی بات کہہ دینی ہوگی۔

منصوبہ کے مطابق دن اور وقت طے ہوا۔ طے شدہ مقام پر رتی لال کے والد وقت سے پہلے ہی پہنچ گئے۔ راجا کی گاڑی کے نزدیک آتے ہی ہاتھ ہلانا شروع کر دیا۔ ڈرائیور نے بھی اپنے وعدے کے مطابق گاڑی روک دی۔ موقع ملتے ہی رتی لال کے والد نے راجاکے سامنے اپنی بات رکھ دی۔ راجاسے زمین دینے کی گزارش کی گئی۔ راجا نے عرضی مان لی اور اگلے دن محل میں آکر بات کرنے کا حکم دیا۔ بھاونگر کے راجانے اگلے دن رتی لال کے والد کو چمڑے کے پکر بنانے کے لئے  زمین کا الاٹمنٹ کر دیا۔ اس طرح مكوانا خاندان میں صنعت کی بنیاد پڑی۔ کپڑوں کی مل میں چمڑے کا  پکر لوم میں لگتا تھا۔ پہلے یورپ سے ہندوستان میں آتا تھا۔ بھارت میں  یہ بنتا ہی نہیں تھا۔ دوسری عالمی جنگ کی وجہ سے یورپ سے  پکر آنا بند ہو گیا۔ چونکہ ٹیکسٹائل مل / جوٹ مل میں اس کے بغیر لوم (پاور لوم) کا چلنا مشکل تھا۔ چونکہ یہ بھینس جیسے جانوروں کے چمڑے سے بنتا تھا دلتوں کے علاوہ کوئی دیگر کمیونٹی کے لوگ اس کام کو نہیں کرتے تھے۔ بادشاہ نے جب زمین دے دی تب رتی لال کے والد نے بڑے پیمانے پر پکر بنانے کا کام شروع کیا۔اور یہ ممبئی، کولکتہ، بنگلور، بڑودہ، بھیونڈی، سورت وغیرہ شہروں میں فروخت کیا جانے لگا۔ پکر  بنانے میں استعمال میں لائے جانے والے تیل اور چمڑے کی درآمد بیرون ملک سے کرتے تھے۔اس کے لئے ایک خاص وہیل مچھلی کے تیل کا استعمال ہوتا تھا اور رتی لال کے والد یہ تیل انگلینڈ اور ناروے سے منگواتے تھے۔ چمڑے تھائی لینڈ، ہانگ کانگ اور سنگاپور سے منگواتے تھے۔

 کاروبار شروع کرنے اور اس کا توسیع کرنے کا بڑا موقع مل گیا تھا۔ بھاونگر کے راجا کی مدد سے فیکٹری شروع ہوئی اور کاروبار چل پڑا۔ کام کئی سالوں تک کافی اچھا چلا۔ وہ ہاتھ سےمشین چلاتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ آٹومیٹک مشین خریدی جائے تاکہ کام آسان ہو سکے۔ کاروبار کو نئے پنکھ دینے کےلئے آٹومیٹک مشین کی درکار تھی۔ لیکن، آٹومیٹک مشین خریدنے کے لئے ضروری رقم ان کے پاس نہیں تھی۔  بینک سے قرض لینا چاہتے تھے، لیکن بینک کے افسر قرض دینے سے صاف انکار کر دیتے تھے۔ بینک میں بھی ذات پات کا امتیازی سلوک اس قدرتھا کہ افسر لون دینے کو تیار نہیں تھے۔ رتی لال کہتے ہیں، "میرے والد نے کئی بار قرض کے لئے عرضی دی تھی، لیکن کسی نے بھی قرض نہیں دیا۔ اسٹیٹ بینک آف سوراشٹر، جو کہ پہلے دربار بینک کے نام سے جانا جاتا تھا، کے افسر ناگر برہمن تھے اور وہ اس وجہ سے ہمیں لون نہیں دیتے تھے کیونکہ اگر وہ لون دیتے تو انہیں کاغذات پر 'چمڑہ' لفظ لکھنا پڑتا۔ وہ کاغذ پر 'چمڑہ' لفظ لکھنے کو بھی گناہ سمجھتے تھے۔ ان برہمن افسروں کی وجہ سے ہی ہمیں لون نہیں مل پا رہا تھا۔ "اس واقعہ سے صاف ہے کہ آزادی ملنے اور آئین عمل میں آنے کے باوجود ذات  پات کا امتیازی سلوک اور لوگوں کی ذہنیت نہیں بدلی تھی۔

 بھاونگر میں ہوئے ایک بڑا واقعہ کے بعد رتی لال کے والد کو بینک سے لون مل گیا۔ رتی لال نے بتایا کہ 1955 میں اس وقت کے مرکزی وزیر تجارت ٹی ٹی كرشنماچاري سرکاری دورے پر بھاونگر آئے۔ وزیر تجارت نے بھاونگر کے ضلع کلکٹر سے انہیں پانچ طرح کی انڈسٹریز / فیكٹرياں دکھانے کو کہا۔ کلکٹر نے جن پانچ فیكٹريو کو منتخب کیا ان میں  رتی لال کے والد کی فیکٹری بھی شامل تھی۔ جب وزیر ان کی فیکٹری پر پہنچے تو انہوں نے رتی لال کے والد سے پوچھا - کیا کوئی پریشانی ہے؟ تب رتی لال کے والد نے وزیر کو اپنی پریشانی بتائی۔  وزیر نے بھاونگر کے کلکٹر کو ہدایت دی کہ وہ جا کر بینک کے افسروں سے کہیں - "یہ چمڑہ نہیں بلکہ سیاہ سونا ہے۔" وزیر تجارت كرشنماچاري کی وجہ سے رتی لال کے والد کو بینک سے لون مل گیا اور انہوں نے اس رقم سے سوئٹزرلینڈ سے آٹومیٹک مشین منگوا لی۔ آٹومیٹک مشین آنے کے بعد کاروبار تیزی سے بڑھا۔ جیسے جیسے کاروبار بڑھا ویسے ویسے منافع بھی بڑھا،لیکن کچھ وجوہات سے مكوانا خاندان منتقسم ہو گیا۔ رتی لال کے والد کے چھ بھائی تھے۔ پہلے  پوراخاندان انڈسٹریز میں ایک ساتھ کام کیا کرتا تھا، لیکن تقسیم کے بعد سب نے اپنا الگ الگ کاروبار شروع کیا۔ رتی لال کے والد نے اپنی کمپنی کا نام گجرات پكرس انڈسٹریز لمیٹڈ رکھا۔ محض پچاس ہزار روپے کے سرمایہ سے گجرات پكرس انڈسٹریز لمیٹڈ کا آغاز ہوا۔ رتی لال کے والد کاروبار کو سمجھتے تھے اور اسی وجہ سے خاندان میں تقسیم کے بعد بھی انہوں نے شاندار طریقے سے کاروبار کیا۔ گجرات پكرس انڈسٹریز کو پہلے سال میں ہی دو لاکھ روپے کا ٹرنوور ہوا۔ محنت اور کاروباری سوجھ بوجھ سے رتی لال کے والد نے آہستہ آہستہ اپنے کاروبار کو آگے بڑھایا۔ لیکن، چیلنجز کبھی ختم نہیں ہوئے، جدوجہد ہمیشہ جاری رہی۔

مكوانا خاندان کا جب بٹوارہ ہوا تو رتی لال کے والد اکیلے پڑ گئے تھے۔ ان کی صحت بھی ٹھیک نہیں تھی۔ کاروبار میں والد کی مدد کرنے کے لئے رتی لال کو اپنی تعلیم چھوڑنی پڑی تھی۔ رتی لال نے چھٹی کلاس تک شہر کے میونسپل اسکول میں تعلیم حاصل کی تھی۔ ساتویں میں ان کا داخلہ شہر کے بڑے اسکول - سناتن دھرم ہائی سکول میں کروا دیا گیا۔

اسکول میں رتی لال کا سب سے پسندیدہ موضوع  سائنس ہوا کرتا تھا۔  وہ بڑے ہو کر نئے نئےتجربے کرنا چاہتے تھے۔ ان کا خواب انجینئر بننے کا تھا۔ لیکن خاندان کی تقسیم کے بعد ان کے اس خواب پر پانی پھر گیا۔ کاروبار میں والد کی مدد کرنے کے لئے رتی لال کو تعلیم  ادھوری چھوڑنی پڑی اور وہ کالج نہیں جا پائے۔انہوں نے فیکٹری کا کام کاج سنبھالنا شروع کر دیا۔  باپ اور بیٹے کی جوڑی نے کاروبار کو خوب آگے بڑھايا۔ رتی لال نے بتایا، "اگر میں اس وقت والد کی مدد نہیں کرتا تو کاروبار بند ہو جاتا۔ والد اکیلے پڑ گئے تھے اور وہ اکیلے سارا کاروبار نہیں سنبھال سکتے تھے۔ میرے بھائی بہت چھوٹے تھے اور صرف میں ہی والد کی مدد کر سکتا تھا۔  اگر میں اس وقت اور بھی پڑھتا تو میں آج جو بھی ہوں اس سے بھی بڑا ہوتا۔ پڑھائی چھوڑنے کا فیصلہ صرف میرا نہیں تھا، والد صاحب بھی چاہتے تھے کہ میں ان کی مدد کروں۔ "

رتی لال نے اپنے والد سے بہت کچھ سیکھا سمجھا ہے۔ والد کا بہت گہرا اثر ان پر پڑا ہے۔ بات چیت کے دوران   رتی لال نے بتایا کہ  بھاونگر کے راجا نے جاپان کی مدد سے بھاونگر میں ہی ربڑ کی ایک فیکٹری کھولی تھی۔ رتی لال کے والد کو اس فیکٹری میں کام کرنے کا موقع ملا تھا۔ اس فیکٹری میں کام کرتے ہوئے وہ جاپانیوں کے براہ راست رابطے میں بھی آئے تھے۔ انہوں نے جاپانیوں سے بھی بہت کچھ سیکھا اور سمجھا۔  جاپانیوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے ہی ان کے والد کے ذہن میں بہت سے نئے ايڈيا آئے تھے۔

رتی لال کے والد نے گجراتی کے عظیم ادیب اور صحافی جھویرچند میگھانی کی میگزین کے پریس میں کاغذ تہ کرنے کا کام کیا۔ چارہ بھی فروخت کیا۔ جب وہ چارہ فروخت کرتے تھے۔ بھاونگر کے راجا کے علاوہ رتی لال کے والد کا چارہ گوڈل کے راجا کے جانوروں کے لئے بھی جاتا تھا۔ ایک دن رتی لال کے والد نے گوڈل کے راجاکے جانوروں کے لئے چارہ اپنے ایک مزدور کے ہاتھوں بھیجا۔ مزدور نے غنڈہ گردی کی اور چارے کی جگہ مٹی ڈال دی اور اسے راجاکے گودام لے گیا۔ جب بادشاہ کو پتہ چلا کہ چارے کی جگہ مٹی آئی ہے تب وہ بہت ناراض ہوئے اور انہوں نے رتی لال کے والد کو اپنے دربار میں طلب کیا۔ بادشاہ کی ناراضگی کی بات سن کر رتی لال کے والد گھبرا گئے، انہیں یہ ڈر بھی ستانے لگا کہ کہیں انہیں جیل میں نہ ڈال دے۔ راجاکے دربار میں پہنچ کر رتی لال کے والد نے بتایا کہ ان کی کوئی غلطی نہیں ہے اور ان کے مزدور نے غنڈہ گردی کی ہے۔ رتی لال کے والد نے بھروسہ دلایا کہ وہ چارہ واپس بھجوا دیں گے اور دوبارہ ایسی غلطی ہونے نہیں دیں گے۔ راجا نے ان کی بات مان لی۔ رتی لال نے کہا، "میرے والد بہت ہمت والے انسان تھے۔ ان کے پاس بہت تجربہ تھا، انہوں نے بہت محنت کی تھی آپ کی زندگی میں۔ وہ مجھ سے بہت باتیں کرتے تھے اور باتوں باتوں میں ہی مجھے بہت کچھ سکھاتے تھے۔ "

رتی لال کے والد کو ایک عیسائی نے اپنے گھر میں رکھ کر پڑھایا تھا۔ اسی عیسائی شخص کی وجہ سے وہ دوسری کلاس تک پڑھ لکھ پائے تھے۔ ان دنوں دلتوں کو اسکول میں آنے ہی نہیں دیا جاتا تھا۔ وہ اپنے بیٹے رتی لال کو بھی خوب پڑھانا چاہتے تھے، لیکن خاندان کی تقسیم کے بعد وہ اکیلے پڑ گئے اور انہیں کاروبار سنبھالنے کے لئے رتی لال کی مدد لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ کاروبار کو زندہ رکھنے کے لئے رتی لال کو اپنی تعلیم روکنی پڑی تھی۔ پڑھائی روکنے کی وجہ سے ہی وہ باپ کی ہر ممکن مدد کر پائے۔

حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے بھی رتی لال کے والد کو کاروبار کرنے میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ فارن ایکسچینج کا مسئلہ بھی رہا۔ 1965 میں مرکزی حکومت نے یہ طے کیا تھا کہ جو 33 فیصد پریمیم جمع کرے گا اسی کو درآمد  کرنے کا لائسنس مل جائے گا۔ بیرون ملک سے چمڑا سستے میں ملتا تھا جبکہ ہندوستان کے بازار میں چمڑے کی قیمت زیادہ تھی۔ رتی لال کے والد اس کی وجہ سے خسارے سے بچ گئے تھے کیونکہ انہوں نے ممبئی کے کاروباریوں سے پرانی شرح پر چمڑا خرید لیا تھا۔ رتی لال نے اسی درمیان ایک اور بڑی سوجھ بوجھ والا کام کیا جس سے ان کے والد کی کمپنی کو کافی فائدہ پہنچا۔ یہ واقعہ 1967 ہے۔ رتی لال کے والد انگلینڈ سے پکربنانے والی ہیڈرولك پریس مشین منگوانا چاہتے تھے، لیکن حکومت کی درآمد کی پالیسی کی وجہ سے وہ کافی مہنگی پڑ رہی تھی۔ رتی لال نے انگلینڈ سے اس مشین کی ڈرائنگ منگوائی اور ویسی ہی مشین یہاں بنوا دی، جس سے ان کے والد کو کافی بچت ہوئی اور نئی مشین بننے کی وجہ سے کاروبار بھی خوب بڑھا۔ رتی لال کی اس پہل کی وجہ سے منافع تو ہوا ہی ساتھ ہی ایک کاروباری کے طور پر ان کا اعتماد بھی خوب بڑھا۔

ایک اور بڑا واقعہ 1971 میں ہوا۔ اس بار بھی رتی لال نے اپنی کاروباری سوجھ بوجھ کا بخوبی ثبوت دیا۔ ہوا یوں تھا کہ رتی لال کے نام تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک سے ایک ٹیلی گرام آیا۔ یہ ٹیلی گرام رتی لال کو آدھی رات کو ملا تھا۔ ان دنوں فوری طور پر کوئی اطلاع دینے کے لئے ٹیلی گرام کا ہی استعمال کیا جاتا تھا۔ اس وقت بہت ہی کم لوگوں کے پاس فون تھے اور کوئی بھی موبائل فون کا تصور تک نہیں کر سکتا تھا۔ ٹیلی گرام میں اطلاع دی گئی تھی کہ تھائی لینڈ میں وہاں کی حکومت نے چمڑے پر ایکسپورٹ ڈیوٹی لگا دی ہے۔ یہ معلومات رتی لال کے لیے کافی اہم  تھی۔ انہوں نے تھائی لینڈ میں تین ہزار روپے فی ٹن کے حساب سے 30 میٹرک ٹن کا آرڈر دیا تھا۔ حکومت کی طرف سے ڈیوٹی لگائے جانے سے چمڑے کی قیمت قریب قریب دگنی ہو گئی۔ یہ کوئی اچھی خبر نہیں تھیے۔ لیکن، رتی لال نے سوجھ بوجھ سے کام لیا۔ چونکہ انہیں تھائی لینڈ سے خبر پہلے مل گئی تھی انہوں نے بغیر کوئی وقت گواے راتوں رات ملائیشیا، سنگاپور اور ہانگ کانگ سے کوٹیشن منگوائے۔ انہوں نے راتوں رات ہی چمڑے کے بڑے آرڈر بک کروا دیئے۔ یہ سارے آرڈر ٹیلی گرام کے ذریعہ ہی بک کروائے گئے۔ رتی لال نے ان تین ممالک سے قریب اسی ٹن چمڑا بک کروایا۔ ملائیشیا، سنگاپور اور ہانگ کانگ کے کاروباریوں کو تھائی لینڈ میں چمڑے پر ایکسپورٹ ڈیوٹی لگائے جانے کی بات معلوم نہیں تھی اور انہوں نے رتی لال کا آرڈر لے لیا۔ بڑی بات تو یہ ہوئی کہ تھائی لینڈ کی دیکھا دیکھی ملائیشیا، سنگاپور اور ہانگ کانگ نے بھی چمڑے پر ایکسپورٹ ڈیوٹی لگوا دی۔ چونکہ رتی لال ایکسپورٹ ڈیوٹی لگنے سے پہلے ہی بڑا آرڈر بک کروا چکے تھے انہیں ملائیشیا، سنگاپور اور ہانگ کانگ سے نقصان نہیں ہوا۔ تھائی لینڈ میں ہوئے نقصانات کی تلافی رتی لال ملائیشیا، سنگاپور اور ہانگ کانگ سے کرنے میں کامیاب رہے تھے۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ ایکسپورٹ ڈیوٹی لگنے کے پہلے ہی ملائیشیا، سنگاپور اور ہانگ کانگ میں چمڑے بک کروانے کی وجہ سے رتی لال کو ان دنوں تقریبا چار لاکھ روپے کا فائدہ ہوا تھا اور یہ رقم ان کے ایک سال کی کمائی کے برابر تھی۔ اس سے رتی لال کو اپنا کاروبار بڑھانے میں مدد ملی۔

رتی لال کی ایک خوبی یہ بھی ہے وہ موقع  کی نزاکت کو پہچان لیتے ہے اور ہر موقع کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ فوری فیصلے لینے کا فن بھی انہیں اپنے حریف سے آگے رکھتا ہے۔ وقت کی مانگ کے مطابق رتی لال نے دوسرے کاروبار میں بھی کام کاج شروع کیا۔ رتی لال کو جب احساس ہوا کہ پِکر کا دھندہ بیٹھنے لگا ہے تب انہوں نے کچھ نیا کرنے کے بارے میں سوچنا شروع کر دی۔ ہوا یوں تھا کہ پلاسٹک سے بنے پِکر بازار میں آنے لگے۔ چمڑے کےپکر کی طلب کم ہونے لگی تھی۔ پلاسٹک کے پکر سستی تھے اور منافع دینے والے بھی۔ رتی لال جان گئے کہ اب وقت آ گیا ہے نیا کام شروع کریں۔ نیا کیا کیا جائے؟ اسی سوال کا جواب تلاش کرنے میں لگ گئے تھے وہ۔ اسی دور میں رتی لال کی نظر اخبار میں چھپے ایک اشتہار پر پڑی۔ اس اشتہار نے رتی لال کے کاروباری زندگی کو سمت دی۔

رتی لال نے اپنے کاروباری زندگی کے اس اہم پڑاؤ کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ بھاونگر میں جس جگہ  كورواڈا میں پکر بنانے کی ان کی فیکٹری تھی اس کے ارد گرد پلاسٹک کی رسیاں بنانے کی فیكٹريا کھل گئی تھیں۔ اس فیكٹريوں میں رسی بننے کے لیے ضروری مختصر مال یعنی ہیچ ڈی پی - ہائی ڈینسٹی پاليتھلين (پلاسٹک) ایک ہی کمپنی بناتی تھی اور وہ بھی محدود مقدار میں۔ اس وجہ سے بازار میں مال کی کمی تھی اور کئی بار بیرون ملک سے خام مال منگوانا پڑتا تھا۔ بازار میں اس کی قیمت زیادہ تھی۔ اسی دوران 1968 میں حکومت ہند انڈین پیٹرو کارپوریشن لمیٹڈ نے بڑودہ میں اپنی ایک فیکٹری کھولی۔ ائی پی سی ایل نے ایک اشتہار جاری کر اطلاع دی کہ انہیں ڈسٹريبيوٹر کی ضرورت تھی۔ ائی پی سی ایل کو بھاونگر، بڑودہ اور راجکوٹ میں ڈسٹريبيوٹر چاہئے تھے۔ رتی لال کو ائی پی سی ایل کے اشتہار میں ایک بہت بڑا موقع نظر آیا۔ ویسے تو انہوں نے پلاسٹک کا کام پہلے نہیں کیا تھا لیکن وہ جانتے تھے کہ پلاسٹک کے کاروبار سے بھی بڑے پیمانے پر منافع کمایا جا سکتا ہے۔ رتی لال نے ائی پی سی ایل کی ایجنسی کے لئے درخواست دے دی۔ درخواست کرتے وقت رتی لال یہ جانتے تھے کہ ائی پی سی ایل پاليپروپلين اور لوڈیسٹي پاليیتھلين بناتا تھا اور اس کی مانگ بھاونگر میں کم تھی۔ائی پی سی ایل ہائی ڈینسٹي پاليیتھلين نہیں بناتا ہے جس کی مانگ ان کے علاقے کی فیكٹريو میں زیادہ ہے، پھر بھی انہوں نے درخواست دے دی۔ درخواست کرنے کے پیچھے پلاسٹک کی رسیاں بنانے والے ایک کاروباری سے ملی معلومات تھی۔ اس کاروباری نے رتی لال کو بتایا کہ اگر ہائی ڈینسٹی پاليیتھلين کے بجائے پاليپروپلين کا استعمال کیا جاتا ہے تو رسیاں مضبوط بنتی ہیں اور ان کا وزن بھی کم ہوتا ہے۔ اتنا ہی نہیں، ہائی ڈینسٹي پاليتھلين کے مقابلے میں پاليپروپلين کافی سستی ہوتی ہے۔ اس معلومات سے رتی لال کے دماغ کی بتی جل گئی اور انہوں نے فٹ سے درخواست کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ بھاونگر کی ایجنسی کے لئے رتی لال کے علاوہ دو دیگر دعویدار بھی تھے- ایک اونچی ذات کا تاجر اور دوسری پلاسٹک کی رسی بنانے والی ایک کو-آپریٹو سوسائٹی۔ رتی لال بھی جانتے تھے کہ ایجنسی حاصل کرنے کی دوڑ میں وہ سب سے کمزور کھلاڑی تھے کیونکہ نہ ان کے پاس بینک گارنٹی تھی، نہ پلاسٹک کی دنیا میں کام کرنے کا تجربہ۔ درخواست کرنے کے بعد رتی لال بڑودا ائی پی سی ایل کے دفتر گئے اور اپنی درخواست کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔ دفتر میںائی پی سی ایلکے مارکیٹنگ منیجر نے رتی لال سے کہا کہ ان کی درخواست کی تحقیقات کے لئے افسر بھاونگر بھی آئیں گے۔ سیلز منیجر کی بات پر یقین کر رتی لال بھاونگر آ گئے۔ وہ ائی پی سی ایل کے حکام کا انتظار کرنے لگے۔ انہیں لگتا تھا کہ افسر جانچ پڑتال کرنے ان کے یہاں آئیں گے۔ تب انتظار لمبا ہوتا گیا اور دو ماہ سے زیادہ کا وقت گزر گیا تب رتی لال کو شک ہوا۔ انہوں نےاپنی درخواست کی صورت حال جاننے کے لئے اپنے خاندانی دوست اور ایم پی پرسن ودن مہتا کی مدد لینے کا ارادا  کیا۔ رتی لال کے والد کانگریس پارٹی کے کارکن تھے اور اس وقت کے ایم پی پرسن ودن مہتا سے ان کی اچھی دوستی تھی۔ رتی لال نے رکن پارلیمنٹ پرسننودن مہتا سے جب مدد پوچھی تو انہوں نے اس وقت کے وزیر پٹرولیم ہیموتی ندن بہوگنا کو چٹھی لکھی۔ چٹھی کے جواب میں وزیر هیموتي ندن بہوگنا نے رکن پارلیمنٹ مہتا کو بتایا کہ رتی لال کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے۔ درخواست کو مسترد کرنے کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ رتی لال نے پاس پلاسٹک پروسیسنگ کا تجربہ نہیں ہے۔ درخواست مسترد ہونے کی وجہ جان کر رتی لال بہت دکھی ہوئے۔ انہوں نے مہتا کو یہ بتایا کہ یہ کہنا غلط ہے انہیں پلاسٹک کی دنیا میں کام کرنے کا تجربہ نہیں ہے۔ رتی لال نے پارلیمنٹ کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ انہوں نے پلاسٹک کے پیکر بنانے کا کام کیا اور اس طرح کا کام صرف جاپان، جرمنی اور امریکہ میں ہی ہوتا ہے۔ رتی لال کی دلیلیں سننے کے بعد مہتا نے ان سے دہلی آنے کو کہا تاکہ وہ براہ راست وزیر بہوگنا سے ان کی بات کروا سکیں۔ رتی لال ٹرین پر سوار ہوکر دہلی کے لئے روانہ ہوئے۔ رتی لال نے بتایا کہ یہ ان کا پہلا دہلی سفر تھا اور انہوں نے بھاونگر سے میٹر گیج والی ٹرین پکڑی تھی۔ ان دنوں بھاونگر سے دہلی کے لئے براڈگیج والی ٹرین نہیں تھی۔ بھاونگر سے دہلی پہنچنے میں انہیں دو دن لگے تھے ۔ رتی لال کو اپنے ساتھ لے کر ممبر پارلیمنٹ مہتا وزیر هیموتي ندن بہوگنا کے یہاں پہنچے۔ جب مہتا نے رتی لال کی درخواست مسترد ہونے کی بات بتائی تو وزیر ناراض ہو گئے اور کہا کہ میں درخواست نہیں دیکھتا۔ وزیر کو سمجھانے کی کوشش کی کہ غلط بنیاد پر درخواست منسوخ کیا گیا ہے۔ اس بات پر وزیر نے انہیں ایک خط لکھ کر ساری بات کہنے کو کہا۔رتی لال بھاونگر واپسی کی تیاری کرنے لگے۔ اسی درمیان ان کو اپنے ایک دوست کی یاد آئی جو کہ اتر پردیشں اسمبلی میں تھے۔ یہ ممبر اسمبلی بھاونگر میں ان کے گھر پر بھی آئے ہوئے تھے۔ دوست سے ملنے کے لئے رتی لال لکھنؤ کے لئے روانہ ہوئے۔ لکھنؤ پہنچنے پر رتی لال کو پتہ چلا کہ اتر پردیش اسمبلی کا اجلاس نہیں چل رہا اور ان کے رکن اسمبلی دوست لکھنؤ میں نہیں ہیں۔ جب رتی لال لکھنؤ میں تھے تب انہیں پتہ چلا کہ بابو جگ جیون رام کا ایک اجتماع چل رہا ہے۔ رتی لال وہاں پہنچ گئے اور اجتماع کے بعد بابو جگ جیون رام سے مل کر انہیں اپنی درخواست کی ایک کاپی دی اور مدد کرنے پر زور دیا کیا۔ بابو جگ جیون رام نے رتی لال کو بھروسہ دیا کہ وہ ائی پی سی ایلکو چٹھی لکھیں گے۔ بابو جگ جیون رام ان دنوں بہت بڑے لیڈر ہوا کرتے تھے اور مرکزی حکومت میں بڑی ذمہ داریاں سنبھال  رہے تھے۔

دلت برادری سے ہونے کی وجہ سے بابو جگ جیون رام کو دلت اپنا سب سے بڑا لیڈر مانتے تھے۔ بابو جگ جیون رام سے ملنے کے بعد رتی لال نے اپنے رکن اسمبلی دوست کے یہاں فون لگایا۔ پتہ چلا کہ رکن اسمبلی دوست الہ آباد میں ہیں۔ دوست سے ملنے رتی لال لکھنؤ سے الہ آباد کے لئے روانہ ہوئے۔ الہ آباد میں ان کی دوست سے ملاقات بھی ہوئی ۔ دوست نے بتایا کہ و ہ ہیموتي ندن بہوگنا کی بیوی کملا بہوگنا کو بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں اور وہ ان کی ہر ممکن مدد کریں گے۔  رتی لال کو ساتھ لے کر ان کے دوست دہلی گئے اور انہیں کملا بہوگنا سے ملوایا۔ کملا بہوگنا نے رتی لال کے حق میں اپنے شوہر کو سفارشی خط لکھا۔ لیکن اسی درمیان مرارجی دیسائی کی حکومت گر گئی اور چودھری چرن سنگھ ملک کے نئے وزیر اعظم بنے۔ اسی دوران ائی پی سی ایل نے تینوں درخواست دہندگان کو درکنار کرتے ہوئی چوتھی پارٹی - گجرات حکومت کی گجرات اسمال انڈسٹریز ٹریڈنگ کارپوریشن کو بھاونگر کی ایجنسی دے دی۔ لیکن رتی لال نے اپنی کوششیں نہیں روكي۔ انہوں نے راجیہ سبھا رکن یوگیندر مكوانا کی بھی مدد لی۔ یوگیندر مكوانا ائی پی سی ایلکے IP سیل کے ڈائریکٹر وینکٹ سبرامنیم کو اچھی طرح سے جانتے تھے۔ یوگیندر مكوانا نے رتی لال کے معاملے میں سبرامنیم سے بات کی۔ سبرامنیم سے صاف صاف الفاظ میں کہا کہ نئی حکومت کے بننے تک وہ کوئی فیصلہ نہیں لے سکتے ہیں۔ لیکن سبرامنیم نے رتی لال کو ایجنسی نہ لیکرپلاسٹک کے بیگ بنانے کی فیکٹری شروع کرنے کا مشورہ دیا۔ مرکز میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے رتی لال کا کام تقریبا ایک سال تک زیر التوا پڑا رہا۔ رتی لال نے مشورہ نہیں مانا اور ایجنسی پر ہی اڑے رہے۔ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کی شاندار جیت ہوئی اور اندرا گاندھی دوبارہ ملک کی وزیر اعظم بنیں۔ اندرا گاندھی نے یوگیندر مكوانا کو مرکزی وزیر داخلہ بنایا۔ یوگیندر مكوانا کے وزیر بنتے ہی رتی لال نے ان سے پھر رابطہ کیا۔ یوگیندر مكوانا نے بتایا کہ وہ اگلے دن احمد آباد آ رہے ہیں ۔ ملنے پر يوگندر مكوانا نے رتی لال کو بڑودہ جانے اور آئی پی سیل کے چیئرمین وردراجن کو ایک پیغام دینے کو کہا۔ پیغام تھا کہ وزیر یوگیندر مكوانا رات ایک بجے وردراجن کو فون کریں گے اور فون ریسیو کرنے کے لئے ان کے تیار رہنا ہوگا۔ وزیر یوگیندر مكوانا نے ایسا اس وجہ سے کیا کیونکہ وہ وردراجن کے یہ جتانا چاہتے تھے کہ رتی لال ان کے خاص آدمی ہیں اور وہ ان کے لئے رات 1 بجے بھی جاگ کر کام کر سکتے ہیں۔ یوگیندر مكوانا کو وردراجن نے بتایا کہ رتی لال کو ایجنسي نہ دینے کا فیصلہ ان کا نہیں بلکہ بورڈ کا تھا۔ یہ بات سن کر وزیر یوگیندر مكوانا نے وردراجن سے کہا - آپ سیاستدان جیسی بات مت کرو۔ اس کے بعد رتی لال نے بورڈ کے ارکان کے بارے میں پتہ لگایا۔ انہیں اطلاع ملی کہ بورڈ میں گجرات حکومت کے چیف سکریٹری اور صنعت سیکرٹری بھی شامل ہیں۔ یہی معلومات رتی لال نے وزیر یوگیندر مكوانا کو دی۔ وزیر کے کہنے پر بورڈ کی میٹنگ بلائی گئی اور رتی لال کے معاملے کو 'اسپیشل کیس' مانتے ہوئے انہیں ایجنسی دی گئی۔ تقریبا دو سال کی سخت محنت، جدو جہد کے بعد رتی لال کو ائی پی سی ایل کی ایجنسی ملی تھی۔ رتی لال کی ضد کے سامنے سب کو جھکنا پڑا تھا۔

رتی لال کو ائی پی سی ایل کی ایجنسی ملنے پر بہت خوشی ہوئی، یہ ان کے لئے بہت بڑی فتح تھی۔ لیکن، ان کے لئے یہ خوشی زیادہ دیر تک نہیں رہی۔ ان کے سامنے ایک نیا مسئلہ آ کھڑا ہوا۔ بھاونگر میں ائی پی سی ایل کی دو ایجنسیاں ہوگئیں تھی۔ رتی لال کی ایجنسی کی افتتاحی تقریب کا بہت سوں نے بائیکاٹ کیا۔ ایک بار پھر رتی لال ذات امتیازی سلوک کا شکار ہوئے، لیکن ہمیشہ کی طرح ہی انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور ہار بھی نہیں مانی۔ ایک طرح کی سماجی بائیکاٹ کی وجہ رتی لال کو کئی طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھاونگر کے کچھ کاروباریوں نے ائی پی سی ایلکے افسروں کو رتی لال کی ایجنسی کی افتتاحی تقریب میں آنے سے روکنے کے لئے ہرممكن کوشش کی۔ اعلی ذات کے ان کاروباریوں کو یہ اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ اب انہیں پلاسٹک کی رسی بنانے کے لئے خام مال ایک دلت سے خریدنے پڑے گا۔ لیکن رتی لال نے بھی اپنی کاروباری سوجھ بوجھ کا ثبوت دیا اور قیمت کو کم کر خام مال فروخت۔ کاروباریوں نے جب رسیاں بنانے کے لئے ہائی ڈینسٹي پاليیتھلين کے بجائے رتی لال سے لوڈینسٹي پاليیتھلين لیا تب انہیں احساس ہوا کہ اس سے رسیاں مضبوط بن رہی ہیں اور ساتھ ہی ان کا وزن بھی ہلکا ہے۔ آہستہ آہستہ ایک ایک کرکے کئی کاروباریوں نے رتی لال کی ایجنسی سے خام مال خریدنے شروع کر دیا۔ رتی لال کی ایجنسی نے بھاونگر کی پلاسٹک انڈسٹری کو رنگ-رروپ ہی بدل کر رکھ دیا۔ائی پی سی ایلسے ملنے والے خام مال سے کاروباریوں نے پی یویسی شیٹ، ٹیپ جیسی چیزیں بھی بنانی شروع کیں۔ سینکڑوں مزدوروں کو روزگار ملا، جن میں سے زیادہ تر دلت تھے۔

رتی لال کی کمپنی گجرات پكرس انڈسٹریز لمیٹڈ نے بہترین کام کیا۔ دو تین سال کے اندر اندر ہی یہ کمپنی  ٹاپ 10 ڈسٹريبيوٹرس کی فہرست میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئی۔ 1986 میں یہ کمپنی ملک کی نمبر دو ڈسٹريبيوٹر بن گئی۔ 1988 میں گجرات پكرس انڈسٹریز لمیٹڈ کو احمد آباد سے پورے گجرات میں مال فروخت کرنے کی ذمہ داری ملی۔ یہ سفر آسان نہیں تھا، گجرات پكرس انڈسٹریز لمیٹڈ کا منافع مسلسل بڑھتا چلا گیا۔ منافع سے حوصلہ افزاء رتی لال نے نئے سرے سے اپنے کاروبار کو وسعت دینے کا من بنایا۔ سال 1992 میں رتی لال نے رینبو پیکیجنگ لمیٹڈ کو خرید لیا۔ ی یہ کمپنی رتی لال کی ایجنسی ہی سے خام مال خرید کر پوليتھن فلم بناتی تھی۔ اس فلم کا استعمال دودھ کی پیکیجنگ میں ہوتا ہے۔ 12 ریاستوں کے سرکاری ڈیری اس کمپنی کے کسٹمر تھیں۔ اس طرح رتی لال نے دودھ کے پیکٹ بنانے کا کام بھی شروع کر دیا۔

سال 2002 میں رتی لال کو کرارا جھٹکا لگا۔ اٹل بہاری واجپئی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے سرکاری اداروں / کمپنیوں کے ڈی سینٹرلائزیشن کا فیصلہ لیا۔ اس فیصلے کے دائرے میں ائی پی سی ایل بھی آ گئی۔ دوسری سرکاری کمپنیوں کی طرح کی ائی پی سی ایل  کمپنی کو فروخت کرنے کے لئے نوٹس مدعو کی گئیں۔ نوٹس میں بولی کی بنیاد پرائی پی سی ایلکا ایک حصہ ریلائنس گروپ کا ہو گیا۔ نئے انتظامیہ نے رتی لال سے ڈسٹريبيوٹرشپ واپس لے لی۔ رتی لال نے اپنی ڈسٹريبيوٹرشپ برقرار رکھنے کی خوب کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔ بات چیت کے دوران، رتی لال نے کہا کہ ریلائنس گروپ کے حکام سے بات چیت کے ان کے تجربے اچھے نہیں رہے ہیں۔

ویسے، رتی لال کی کئی خوبيا ہیں۔ ایک اچھے کاروباری کی ساری خصوصیات ان میں موجود ہیں۔ ان کی بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ وہ ہمیشہ کچھ نیا کرنے کی سوچتے رہتے ہیں ۔  خطرات کا سامناکرنے کے لیے بھی ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔  رتی لال نے اپنے کاروباری سلطنت کو افریقہ تک پھیلایا۔ سال 2007 میں رتی لال نے افریقہ کے یوگنڈا میں شوگر مل کی شروعات کی۔ رتی لال بتاتے ہیں کہ افریقہ میں شوگر مل کا کام بھی تنازعات سے بھرا ہوا تھا۔ افریقہ میں شوگر انڈسٹری میں مہتا اور مادھواني نام کے دو صنعت کاروں کا قبضہ تھا۔ یہ دونوں کسی دوسرے کاروباری کو جمنے نہیں دیتے تھے، لیکن رتی لال گڑ بنانے کے کام کے ذریعے اس نشعبے میں گھس گئے۔ بعد میں جب شوگر کی پیداوار شروع کی تو وہ پہلے سے نصب دونوں کاروباریوں کے نشانے پر آ گئے۔ ان کاروباریوں نے ہر طرح سے رتی لال کو دبانے کی کوشش کی اور ہر ممکن دباؤ بنایا کہ رتی لال چینی کا کاروبار چھوڑ دیں۔  رتی لال نے ان دونوں کاروباریوں سے نمٹنے کے لئے اپنے طور طریقوں سے کام کرنا شروع کیا۔ افریقہ میں شوگر مل کے ان کے مالکان کا گجرات میں بھی کاروبار تھا، ایسے میں رتی لال نے اپنے سیاسی دوستوں کی مدد لی۔ 

 رتی لال کے چاروں بیٹے - راجیش، گوتم، چراغ اور مکیش کاروبار چلانے میں ان کی مدد کر رہے ہیں۔ رتی لال بتاتے ہیں کہ ان کمپنیوں کے گروپ کا سالانہ کاروبار / ٹرنوور 800 سے 1000 کروڑ روپے کے درمیان ہے۔ رتی لال نے پہلے گیل انڈیا لمیٹڈ اور پھر بعد میں انڈین آئل سے بھی ایجنسی لی۔ دونوں ایجنسیاں شاندار طریقے سے کام کر رہی ہیں۔ رتی لال کو بڑا منافع دودھ کے پیکٹ بنانے کے کاروبار میں ہو رہا ہے۔  رتی لال بیرون ملک سے پیٹروکیمیکل درآمد کر تے ہیں۔ رتی لال دلت چیمبر آف کامرس کی گجرات شاخ کے سربراہ بھی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ دلتوں کو کامیاب کاروباری بنانے میں بھی وہ اپنی طرف سے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑ تے۔ 

ایسا بھی نہیں ہے کہ رتی لال کو ہر کاروبار میں فائدہ ہی ہوا ہے۔ دو ایسے واقعات  ہیں جہاں رتی لال کے تجربخوشگوار نہیں رہے۔ 90 کی دہائی میں رتی لال نے شپ بریکنگ کے کاروبار میں  ہاتھ آزمائے۔ اس میں  ان کو نقصان ہوا اور انہیں لگا کہ وہ جتنا زیادہ وقت اس میں لگائیں گے اتنا زیادہ نقصان ہوگا۔ اسی وجہ سے رتی لال نے شپ بریکنگ کے کاروبار سے اپنے ہاتھ واپس کھینچ لئے۔ 1994 میں ایک بڑی پبلک لمیٹڈ کمپنی شروع کی تھی، مہوا میں ایک اسٹیل پلانٹ بھی کھول دیا۔ اسٹیل پلانٹ کے لئے بینک سے 15 کروڑ روپے کا قرض بھی لیا، لیکن ساری رقم اووررن ہو گئی۔ رتی لال کے مطابق، انہوں نے اپنے پارٹنر کو اسٹیل پلانٹ کی ساری ذمہ داری سونپ دی تھی۔ وہ گجرات میں رہتے تھے اور اپنا گجرات کا کاروبار سنبھال رہے تھے۔ وہ اسٹیل پلانٹ پر صحیح طرح سے توجہ نہیں دے پائے تھے۔ پارٹنر کی غلطیوں کی وجہ سے اسٹیل پلانٹ خسارے میں چلا گیا اور اسے بند کرنا پڑا۔ رتی لال کے مطابق، اس اسٹیل پلانٹ سے جو انہیں نقصان ہوا اس سے انہیں بہت بڑا جھٹکا لگا اور خسارے پر قابو پانے کے لئے انہیں کافی محنت کرنی پڑی تھی۔ رتی لال کہتے ہیں کہ اگر وہ خسارے سے نہیں ابھر پاتے تو اس سے ان کے دوسرے کاروبار پر بھی برا اثر پڑنے کے آثار تھے۔ وہ اس بحران کو اپنے کاروباری زندگی کا سب سے بڑا بحران مانتے ہیں

Dr Arvind Yadav is Managing Editor (Indian Languages) in YourStory. He is a prolific writer and television editor. He is an avid traveler and also a crusader for freedom of press. In last 19 years he has travelled across India and covered important political and social activities. From 1999 to 2014 he has covered all assembly and Parliamentary elections in South India. Apart from double Masters Degree he did his doctorate in Modern Hindi criticism. He is also armed with PG Diploma in Media Laws and Psychological Counseling . Dr Yadav has work experience from AajTak/Headlines Today, IBN 7 to TV9 news network. He was instrumental in establishing India’s first end to end HD news channel – Sakshi TV.

Related Stories