سائنس موبائیل لیاب کا کامیاب تجربہ...سائنس اکیڈیمی کا قیام محمد عبداللطیف عطیرکاعزم

0

12سال تک مرچنٹ نیوی کی حیثیت سے کیا کام

حیدرآباد کے 18سرکاری اسکولوں میں موبائیل لیاب کے ذریعہ پراکیٹکل کلاسیس

سائنس اکیڈیمی قائم کرنے کی کوشش جاری


دنیا کو کچھ دینے کے جذبے کی کہنیاں ہمشہ ہزاروں لوگوں کہ تحریک و ترغیب دیتی رہی ہیں۔ سابق مرچنٹ نیوی محمد عبداللطیف عطیرکی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ وہ ایک سائنس اکیڈیمی قائم کرکے سرکاری اساتذہ اور طلبہ کو مفت سائنسی تعلیم فراہم کرنا چاہتے ہیں۔

لطیف نے یور اسٹوری ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد میں بین الااقوامی سطح کی سائنس اکیڈیمی قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔ مہیندراٹیک فاؤنڈیشن اورسہایتاٹرسٹ کی جانب سے سائنس اکیڈیمی کی تعمیر کے لیے مالی امداد فراہم کا تیقن دیا گیاہے۔ سائنس اکیڈیمی کے ذریعہ ہنرمند اورذہین طلبا کو سائنسدان بنانے کا عزم ہے۔

سائنس اکیڈیمی قائم کرنے کے عزائم ظاہر کرنے والے محمد عبداللطیف عطیرنے چارسال پہلے حیدرآباد کے سرکاری اسکولوں کے طلباء میں سائنسی شعور پیدا کرنے اور انہیں سائنسی تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے ایک کامیاب اور منفرد پہل کی تھی۔ ان کی پہل کے مثبت نتائج بھی سامنے آرہے ہیں۔ دراصل حیدرآباد کے 18سرکاری اسکولوں میں موبائیل سائنس لیاب کوکافی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ سہایتا ٹرسٹ کی جانب سے چلائے جانے والے اس موبائیل لیاب کو محمد عبداللطیف عطیرنے ہی تیارکیاہے۔ ہم سے بات چیت کرتے ہوئے عبداللطیف نے کہا کہ سال 1999ء میں تعلیم کے اختتام کے بعد انہوں نے مرچنٹ نیوی کے حیثیت سے اپنے کریئرکی شروعات کی۔ لیکن درسی کتابوں کی تعلیم اورعملی میدان میں انہیں کافی فرق محسوس ہوا۔ وہ بتاتے ہیں،''میں نے اس فرق کی وجوہات کا پتہ لگانے کی کوشش کی اور میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ ہمیں کلاس روم اور نصاب میں جوپڑھایا گیا وہ سب اس وقت آؤٹ ڈیڈیٹ ہوگیا۔ اس لیے ہمیں اب مشکل اوردشواری کاسامنا کرنا پڑا رہاہے۔ اس لیے میں نے اسکولی طلبا کو سائنس کے پراکیٹکل یعنی عملی مشقیں کرانے کا فیصلہ کیا۔''

12سال تک مرچنٹ نیوی کی حیثیت سے کام کرنے کے بعد عبداللطیف عطیر2011ء میں ممبئی سے حیدرآباد واپس ہوئے۔اور اسی سال حیدرآباد کے 7000ہزاراسکولوں کاجائزہ لینے کے لئے سروے کیا۔ اس سروے میں اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کی گئی کہ حیدرآباد کے کتنے اسکولوں میں بائیولوجی،کیمسٹری، اور فزیکس کے پراکیٹکل (تجربے ) کرائے جاتے ہیں۔

سروسے کے ذریعہ ایک تلخ حقیقت سامنے آئی کہ حیدرآباد 7000اسکولوں میں سے صرف 600اسکولوں میں سائنسی تجربے کرائے جاتے ہیں۔ اس سروے کی رپورٹ آنے کے بعد عبداللطیف عطیرنے موبائیل سائنس لیاب بناکر کے سرکاری اسکولوں کے طلبا کومہینہ میں ایک مرتبہ بائیولوجی،کیمسٹری، اور فزیکس کے پراکیٹیکل کرانے کا فیصلہ کیا۔ اور6 ستمبر2011 کو موبائیل سائنس کا آغاز کیاگیا۔ سہایتا ٹرسٹ کی جانب سے موبائیل سائنس لیاب شروع کرنے کے لیے مالی مدد فراہم کی گئی ہے۔

دوسال بعد مہیندرٹیک فاؤنڈیشن کی جانب سے بھی موبائیل سائنس لیاب کے امداد فراہم کی جارہی ہے۔ اس طرح سے اب تک اس موبائیل لیاب کے ذریعہ ہرسال سرکاری اسکولوں میں زیرتعلیم 40 ہزار بچوں کو سائنس مضامین کے پراکٹیکل کرائے جارہے ہیں۔ اس موبائل لیاب کے ذریعہ معروف اسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹر بھی سرکاری اسکولوں کے طلبا کو سائنس کے کلاسیس دے رہے ہیں۔ عبداللطیف عطیر نے کاکہناہے' ''اس وقت ڈاکٹر آرایف ترکی، خدیجہ فاطمہ، ثنا جبین،ابوبکر اور راجیش گھنا طلباء کوسائنسی مضامین کے پراکیٹکل کلاسس کرارہے ہیں۔ حیدرآباد ضلع کے تمام منڈلوں میں دو اسکولوں کا انتخاب کرکے غریب طلبا کو سائنسی تعلیمی سے آراستہ کیاجارہاہے۔ جبکہ تربیتی سمیناروں کے ذریعہ 600 اساتذہ کو تربیت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ موبائیل سائنس لیاب کے ذریعہ ملک کی 9ریاستوں مہاراشٹرہ، کرناٹک، آندھراپردیش، ہریانہ ،اترپردیش، کیرالا،مغربی بنگال،دہلی،اڈیشہ کے طلبا کو پراکیٹکل کرائے گئے ہیں۔''

عبداللطیف عطیر نے کہا کہ اب حیدرآباد کے 18سرکاری اسکولوں میں موبائیل لیاب کے ذریعہ ہرمہینے میں ایک پر پراکیٹکل کلاسیس منعقد کی جارہی ہے۔ جس کی وجہ سے ان اسکولوں میں سائنس مضامین کے نتائج میں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ موبائیل لیاب کو اب تک کئی ایوارڈس بھی مل چکے ہیں۔ سال2012میں انڈین اسکول آف بزنس کی جانب سے منعقدہ Global Social Venture Competition, Asia-Africa Regional Finals.میں موبائیل سائنس لیاب کو اٹھارہ پروجیکٹوں میں پہلا مقام حاصل ہواہے۔ جبکہ انڈین اسکول آف بزنس کی جانب سے اس موبائیل سائنس لیاب کو 3rd iDiya challenge social venture competition کا بھی اعزاز مل چکا ہے۔ اسطرح انڈین انسٹی ٹیویٹ آف مینجمنٹ بنگلورو کی جانب سے سال 2011میں منعقدہ Next Big Idea Competition, میں موبائیل سائنس لیاب نے سرفہرست 10پروجیکٹوں میں جگہ بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

محمدعبداللطیف عطیر کا کہناہے کہ موبائیل سائنس لیاب کی شروعات کے بعد بھی انہیں کئی مسائل کا سامنا کرناپڑا۔ طلبا کو بائیولوجی ۔کمیسٹری۔اور فزیکس پرھنے والے اساتذہ کی کمی کی وجہ سے کئی مرتبہ موبائیل سائنس لیاب کی خدمات متاثرہوئی ہے۔ اس لیے اب محمد عبداللطیف عطیر نے سائنس اکیڈیمی قائم کرنے کا فیصلہ کیاہے۔

لطیف نے بتایا کہ سائنس اکیڈیمی کے قیام کے لیے 80لاکھ روپئے تک کے اخراجات کاسامناہوگا۔ مہیندرٹیک فاؤنڈیشن اورسہاتاٹرسٹ کے اشتراک سے بہت جلد ہی سائنس اکیڈیمی کے قیام کا خواب بھی پورا ہوجائیگا۔ سائنس اکیڈیمی میں داخلے کے لیے سائنس تعلیمی میں دلچسپی رکھنے والے4000طلبا کے لیے ایک انٹرنس ٹسٹ منعقد کیاجائیگا۔جن میں صرف 90بچوں کومفت داخلہ دیاجائیگا۔ جبکہ اس سائنس اکیڈیمی میں محکمہ تعلیم کے اساتذہ کوبھی مفت تربیت دی جائیگی۔اسکے علاوہ ملک اور بیرون ملک کے ریسرچ اسکالرس بھی سائنس اکیڈیمی سے استفادہ کرسکیں۔ محمدعبداللطیف نے بتایا کہ سائنس اکیڈیمی کے قیام کے لیے زمین کی نشاندہی کا کا م کیاجارہاہے اور نئے تعلیمی سال سے سائنس اکیڈیمی کا قیام عمل لائیگا جائیگا