ڈِپریشن نے ’پونم سولنکی ‘کو سِکھایا دوسروں کی زندگی سنوارنے کا سبق

چھتیس گڑھ کے رائے گڑھ ضلع میں رہنے والی’ پونم سولنکی

0

زندگی برف کی مانند ہے جو وقت کے ساتھ رفتہ رفتہ پگھل کر ختم ہوتی جاتی ہے ۔ لیکن کسی کے جینے کا انداز اِسے کبھی عام تو کبھی خاص بنا دیتا ہے ۔ کچھ لوگ اِسے نیک کاموں میں خرچ کرتے ہیں تو کچھ، یوں ہی اِس بیش قیمت زندگی کو ضائع کر دیتے ہیں ۔ ذاتی مشکلات، پریشانیوں اور ادھورے خوابوں کے درمیان اچھے دنوں کی توقعات کا بوجھ اکثر لوگوں کو دبا دیتا ہے ۔ انسان زندگی میں کرنا تو بہت کچھ چاہتا ہے لیکن کر نہیں پاتا،جبکہ کچھ لوگ اپنی تمام ترمشکلات اور مصروفیات کے باوجود دوسروں کے لئے بھی وقت نکال لیتے ہیں ۔ وہ کچھ ایسا کرتے ہیں، جو کہ اُن کا ضمیر چاہتا ہے ۔ اِس سے انہیں نہ صرف سکون اور اطمینان ملتا ہے، بلکہ معاشرہ بھی اس سےمستفیض ہوتا ہے اور ایسے لوگ معاشرے کے لئے تحریک و ترغیب کا باعث بنتے ہیں ۔ ہم آپ کو متعارف کروا رہے ہیں اُس 35 سالہ خاتون ’پونم سولنکی‘ سے، جو ایک عام عورت سے خاص بن گئی ہیں ۔ زندگی کے ایک دور میں سنگین قسم کے ڈِپریشن سے گزرنے والی ’پونم‘ اب دوسروں کی زندگی کی مشکلیں آسان کرتی ہیں ۔ عام سے خاص بننے کا’ پونم سولنکی‘ کی زندگی کا یہ سفر اُن تمام لوگوں کے لئے ایک مثال ہے جو اپنی عامیانہ سی زندگی میں بھی اوروں سے کچھ مختلف، کچھ خاص کرنا چاہتے ہیں ۔نرم گفتار، خوش مزاج، خوش اخلاق اور پُر کشش شخصیت کی حامل’ پونم ‘ بیک وقت سیاست، سماجی خدمات اور ثقافتی شعبوں میں یکساں دخل رکھتی ہیں ۔ اِس کے باوجود اپنی کامیابیوں کو جتانے کے بجائے چھُپانا انہیں زیادہ پسند ہے ۔

جذام کے مریضوں اور بے نام اولادوں کے حق کی آواز

چھتیس گڑھ کے رائے گڑھ ضلع میں رہنے والی’ پونم سولنکی‘ بڑی ہی خاموشی کے ساتھ ایسے مسائل پرکام کرتی ہیں، جن کے تعلق سےعام طور پر لوگ بات کرنا بھی پسند نہیں کرتے اور کام بھی چنندہ لوگ ہی کرتے ہیں ۔’ پونم‘ گزشتہ کئی برسوں سے علاقے میں رہنے والے جذام کے مریضوں کی مدد کرتی ہیں ۔ اُن کی شناخت کرکے اُن کا علاج اوربازآبادکاری’پونم‘ کا کام ہے ۔ ایسے مریضوں کو وہ مفت میں ملنے والے سرکاری علاج اور دواؤں کے بارے میں معلومات فراہم کراتی ہیں ۔ انہیں علاج کے لئے آمادہ کرتی ہیں۔ ایسے مریضوں کی نشاندہی کرکے، وہ انسدادِ جذام سے متعلق منصوبوں میں مشغول سرکاری اور غیر سرکاری ایجنسیوں کی مدد کرتی ہیں ۔ عام لوگوں میں جذام اور جذام کے مریضوں کے تئیں پھیلی غلط فہمیاں دُور کر کےلوگوں کو بیدار کرتی ہیں ۔ اِس کے علاوہ ’پونم ‘اُن بچّوں کے لئے بھی حق کی آواز بلند کرتی ہیں، جن بچّوں کی پیدائش کسی ناجائز تعلقات کا نتیجہ ہے ۔’ پونم‘ایسے بچّوں کو کسی یتیم خانے کے حوالے کرنے یا کسی کو گود دینے کے بجائے اُسے اس کےحقیقی باپ کا نام دِلانے میں زیادہ یقین رکھتی ہیں ۔ اُن کا خیال ہے کہ اِس سے جہاں اِس طرح کی برائی پرلگام کسے گی ، وہیں ایسے بچّوں کو اُن کا حق مل سکے گا ۔حالانکہ اِس سماجی برائی کے خلاف آواز اٹھانا کوئی آسان کام نہیں ہے، کیونکہ ایسے معاملات میں زیادہ تر معاشرے کا طاقتور اور دبنگ طبقہ ہی گناہگار ہوتا ہے ۔ اس کی مخالفت کرنا دشمنی مول لینے سے کم نہیں ہے ۔ پھر بھی’ پونم‘ اس سلسلے میں کام کرتی ہیں ۔

لوک اور’ا وڈیسی‘ رقص کی تربیت

’پونم سولنکی‘ ایک کامیاب لوک اور ’اوڈیسی‘ رقاصہ ہیں ۔’ا وڈیسی‘ کے ساتھ چھتیس گڑھی، راجستھانی اور گجراتی قومی رقص’ گربا‘ میں وہ ماہر ہیں ۔ رقص اُن کی زندگی کا ایک اٹوٹ حصہ ہے ، ریاضت اور عبادت ہے ۔ ہر فنکار کی طرح انہیں بھی اپنے فن سے عشق ہے۔ گھنگھروؤں کی جھنکار اورطبلوں کی تھاپ پر ان کی مخصوص ادائیں اور قدموں کی جنبش اُن کے کسی بھی رقص کو انتہائی خاص بنا دیتی ہیں۔ اِس فن کی باریکیاں جاننے والے ناظرین اُن کی پیشکش دیکھ کر پہلی ہی نظر میں اُن کی رقاصانہ مہارت کے قائل ہو جاتےہیں ۔ وہ اب تک کئی بڑے پروگراموں میں اپنا رقص پیش کر چکی ہیں ۔ انہیں کئی ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے ۔ اُن کا اپنا ایک ڈانس گروپ بھی ہے۔ وہ خود چھتیس گڑھ میں پیدا ہوئیں اور پلی بڑھی ہیں، لیکن گجرات کے لوگوں کو’ گربا‘ رقص سکھاتی ہیں ۔ وہ اقتصادی طور پر کمزور بچیوں کو مفت میں رقص کےمختلف اسٹائلز کی تربیت دیتی ہیں ۔ اُن کے فن کو نکھار کر انہیں سنوارتی ہیں۔

2004 میں رہ چکی ہیں کاؤنسلر

’پونم سولنکی ‘ کئی فنون میں ماہر ہیں۔ آرٹ، ثقافت کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی انہیں انتہائی دلچسپی ہے ۔ سال 2004 میں وہ اپنے علاقے کی کاؤنسلر رہ چکی ہیں ۔ تقریباً 15 برسوں سےکاؤنسلر کےعہدے پر برقرار کانگریس کے امیدوار کے خلاف لوگوں نے انہیں میدان میں اتارا تھا ۔ ان کی مقبولیت کے سبب انتخابات میں انہیں ریکارڈ ووٹوں سے کامیابی حاصل ہوئی اور اگلے پانچ برسوں تک ’پونم‘ کاؤنسلر رہیں ۔ اپنی مدّت کے دوران انہوں نے اپنے علاقے کی ترقی کے لئے ہر ممکن کوشش کی ۔ وارڈ میں بنیادی سہولیات میں توسیع کے ساتھ ساتھ خواتین کو بااختیار بنانے اور تعلیم پر انہوں نے خاص توجہ دی۔ خواتین کو خود کفیل بنانے اور ان کے تحفظ کا انہوں نے خاص خیال رکھا ۔آئندہ انتخابات میں ریزرو سیٹ ہونے کی وجہ سے وہ دوبارہ الیکشن تو نہیں لڑ پائیں لیکن علاقے میں سماجی کاموں کا اُن کا سلسلہ بدستور آج بھی جاری ہے ۔

معاشرے سے مٹانا چاہتی ہیں عدم مساوات

’پونم سولنکی‘ معاشرے سے ذات پات کی روایات اور تمام طرح کی اقتصادی اور سماجی عدم مساوات کو دُور کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے ’يوراسٹوری‘ سے بات کرتے ہوئے کہا،

’’ملک تبھی ترقی کرے گا جب معاشرے سے غیر برابری (عدم مساوات) کو ختم کر دیا جائے گا ۔ سماجی اتحاد میں ذات پات سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کے سبب لوگ تنگ نظری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ لوگ انسانیت، معاشرے اور ملک کا بھلا سوچنے اور کرنے کے بجائے اپنی ذات تک ہی سمٹ کر رہ جاتے ہیں ۔ ذات پات کے نظام سے ملک میں انتخابی عمل بھی غیر جانبدار انہ طور پر نہیں ہو پاتے ہیں۔ ایک قابل اور اچھے امیدوار کو ووٹ دینے کے بجائے لوگ اپنی ذات کے نااہل اور یہاں تک کہ داغدارشبیہہ کے امیدواروں کو بھی انتخابات میں کامیابی دِلا دیتے ہیں ۔‘‘

ذات پات کے نظام پر’ پونم‘ کی سوچ اور بیان محض کسی لیڈر کا بیان نہیں ہے بلکہ وہ خوداپنی زندگی میں بھی اپنے قول پر عمل پیرا ہیں ۔

لڑکیوں کی آزادی کے حق میں

خواتین کے تعلق سے گفتگو پر بھی ’پونم‘ کی رائے بے باک اور واضح ہے ۔ وہ کہتی ہیں، خواتین کو بااختیار بنانے کی راہ میں سب سے پہلا قدم لڑکیوں اور عورتوں کی آزادی کو مانتی ہوں ۔ ملک اور دنیا کی آدھی آبادی کو حاشیئے پر رکھ کر کوئی بھی ملک یا معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا ہے ۔ خواتین کو بھی اپنی مرضی کے مطابق اپنا کیریئر منتخب کرنے کی آزادی ہونی چاہئے، تاکہ وہ اپنی انفرادی اہلیت کو ثابت کر سکیں۔زندگی میں اپنی ایک الگ پہچان بنا سکیں۔ اپنا مقام حاصل کر سکیں۔ملک اور معاشرے کی تعمیر و تشکیل کے عمل میں وہ خواتین کی مکمل شراکت چاہتی ہیں ۔ پونم کہتی ہیں،

’’ایک عورت اگر اپنے خاندان کا بہتر ڈھنگ سے خیال رکھ سکتی ہے ، اپنے بال بچّوں کی پرورش کر سکتی ہے، تو وہ اُسی ذمہ داری اورخلوص سے اپنے ملک اور پورے معاشرے کی ذمہ داری بھی اپنے کندھوں پر اٹھا سکتی ہے ۔ بس اُسے ایک موقع چاہئے ۔‘‘

اِس کے لئے وہ لڑکیوں کی تعلیم کو بے حد ضروری مانتی ہیں۔ تعلیم میں ہی انہیں خواتین کی آزادی کا راستہ نظر آتا ہے ۔ وہ چاہتی ہیں کہ بیٹیاں خوب پڑھیں اور زندگی میں آگے بڑھیں۔

لڑکیوں کی مرضی سے ہو اُن کی شادی

’پونم ‘ بچّوں کی شادی اور بے جوڑ شادی دونوں کے سخت خلاف ہیں ۔ وہ کہتی ہیں،

’’بچّوں کی شادی سے جہاں لڑکیوں کا بچپن ختم ہو جاتا ہے اور وہ پڑھ لکھ نہیں پاتی ہیں، وہیں بے جوڑ شادی سے لڑکی کی پوری زندگی برباد ہو جاتی ہے ۔ شادی میں لڑکیوں کی رضامندی بے حد ضروری ہے ۔ والدین کو چاہئے کہ اپنی بیٹی سے اُس کے ممکنہ و متوقع شریکِ زندگی کے سلسلے میں رائے ضرور لیں ۔ اپنی مرضی لڑکی پر مسلّط کرنے کے بجائے اُسے خود حسبِ منشا فیصلہ کرنے دیں ۔‘‘

’پونم ‘خود چھتیس گڑھ کی ہیں، لیکن انہوں نے شادی گجراتی خاندان میں دوسری ذات کے لڑکے سے کی تھی ۔ دو مختلف نسلوں کے مابین شادی پر اُن کا نظریہ بالكل واضح ہے ۔ وہ کہتی ہیں اس کو فروغ ملنا چاہئے ۔ حکومت بھی اسے پروموٹ کرنے اور حوصلہ افزائی کے لئے آج ایسے نوجوانوں کو 50 ہزار سے لے کر ڈھائی لاکھ تک کی رقم دے رہی ہے ۔

ڈِپریشن کی وجہ سے ملی دوسروں کے لئے کچھ کرنے کی ترغیب

’پونم سولنکی‘ کی عوامی زندگی کی شروعات کافی دلچسپ ہے ۔ رائے گڑھ کالج میں بی ایس سي کی تعلیم کے دوران اپنے کالج کے ایک ہم جماعت ’دیویش سولنکی‘ سے وہ محبت کر بیٹھیں۔ گھر والوں کی ممانعت کے باوجود انہوں نے ’دیویش‘ سے شادی کر لی ۔ حالانکہ شادی کے برسوں بعد وہ آج بھی یہی کہتی ہیں کہ وہ نہیں، بلکہ’دیویش‘ اُن کے پیچھے پڑے تھے! خیر، معاملہ جو بھی رہا ہو، خاندان میں پہلی بار کوئی محبت کی شادی اور وہ بھی غیر ذات میں، ہر کسی کو ناگوار گزری۔ دونوں کے خاندان والوں نے اُن کا بائیکاٹ کر دیا ۔ اس خاندانی بے اعتنائی اورعلیحدگی کا پونم پر کافی بُرا اثر پڑا ۔ وہ گہرے ڈِپریشن میں چلی گئیں ۔ ڈاکٹروں سے اُن کا علاج کرایا گیا ۔ اس درمیان گھریلو تعلقات میں شادی کے سبب آئی تلخی میں بھی مٹھاس بھرنے لگی ۔’ پونم ‘کے میکے اور سسرال دونوں فریقوں نے آہستہ آہستہ انہیں قبول کرنا شروع کر دیا ۔ لیکن وہ ڈِپریشن سے باہر نہیں آ پا رہی تھیں ۔ اسی دوران ڈِپریشن سے نجات کے لئے انہیں رقص کی طرف راغب کیا گیا، جس کا شوق بچپن سے اُن کے دماغ کے کسی کونے میں دبا پڑا تھا ۔ پونم نے رقص کی شروعات تو ڈِپریشن سے نکلنے کے لئے کی تھی، لیکن انہیں پتہ ہی نہیں چلا کہ کب اور کس طرح اُن کے قدم سیاست اور سماجی خدمت کے راستے کی جانب بڑھتے چلے گئے ۔

پونم کہتی ہیں

’’زندگی کی خوبصورتی اور کامیابی اِس بات پر منحصر نہیں کرتی کہ آپ کتنا خوش ہیں ،بلکہ زندگی کے حقیقی معنی تو اِس بات میں پوشیدہ ہیں کہ دوسرے آپ کی وجہ سے کتنا خوش ہیں ۔‘‘

قلمکار : حُسین تابِش

مترجم : انور مِرزا

Writer : Husain Tabish

Translation by : Anwar Mirza

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والی ایسی ہی حوصلہ مند خواتین کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے

’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

یہ دلچسپ کہانیاں بھی آپ کو ضرور پسند آئیں گی۔

پُرانے جوتے جمع کرنے سے اولمپک مشعل تک... دُنیا بدلنے کے عزائم رکھنے والی 17سالہ لڑکی ...

’سولر دیدی‘ جیسی خواتین کچھ بھی کر سکتی ہیں...