آن لائن رنٹنگ پلیٹ فام RentSherکو300,000ڈالر سیڈ فنڈ حاصل، نئے شہروں تک منصوبے

0

آن لائن رنٹنگ پلیٹ فام RentSher نے اپنی تشکیل کا ایک سال مکمل کرنے کے بعد سیڈ فنڈنگ میں زائد از 300,000 ڈالر اکٹھا کرلئے ہیں۔ اس راؤنڈ کی قیادت McKinsey کے سابق سرمایہ کار ویبھو دوشی نے کی اور ان کے ساتھ انٹریپرینرز سے سرمایہ کار بننے والی دیگر شخصیتیں بھی رہیں، جن میں ابھے سنگھل، شریک بانی In Mobi؛ وبھو گارگ شریک بانی اور سی او او Unicommerce؛ جابی بابو، سی او او Nimbuzz؛ ابھیشک اچاریہ، جی ایم Philips Inida اور وپرو (یو کے) کے منیش شاہ شامل ہیں۔

(دائیں سے بائیں) کرندیپ، ہرش اور ابھجیت
(دائیں سے بائیں) کرندیپ، ہرش اور ابھجیت

آئی آئی ٹی دہلی اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ابھجیت ساہا، ہرش دھند اور کرندیپ ایس ووہرا کی جانب سے ڈسمبر 2014ءمیں شروع کردہ RentSher رنٹل پراڈکٹس کے لئے اُفقی شہری منڈی ہے۔ یہ موجودہ طور پر بنگلور اور دہلی میں کام کررہی ہے۔

فنڈز کو پراڈکٹ ڈیولپمنٹ، تکمیل اور فروغ کے لئے مساوی حصوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اب فنڈنگ کے ساتھ یہ پلیٹ فام اپنی رسائی کو نئے شہروں تک وسعت دینے اور اپنی سرگرمی والے موجودہ شہروں میں تقویت حاصل کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ہر شہر میں معمولی سرگرمی کے ساتھ وسعت حاصل کرنے کی بجائے قابل رسائی مگر پائیدار آپریشنس کا فروغ مقصود ہے۔

یہ بھی پڑھئے : سلم علاقوں کی تعلیمی غربت کو دور کرنے کے جذبے سے آگے بڑھ رہے ہیں محمد انور۔

ہرش دھند، سی ای او، رنٹ شیئر کا کہنا ہے: ”سپلائی کا ہمارا مضبوط پہلو اور آپریشنس کی قابلیت نے ہمیں ایونٹس کے بہت بڑے آرڈرس کی بھی تکمیل کے قابل بنایا ، جہاں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ ہمارا ویژن ہے کہ RentSher کو ایسے پلیٹ فام کے طور پر فروغ دیں جو شیئرنگ اور آن ڈیمانڈ اکانومی کے مشترک مقام پر ہو جب کہ پراڈکٹس جب جب ہمارے کسٹمرز کو ضرورت پڑے انھیں فراہم کئے جائیں۔“

انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ایسی مضبوط ٹیم فروغ دے رہے ہیں جس کی توجہ ماہ در ماہ 30 تا 40 فی صد پائیدار ترقی پر مرکوز ہے۔ اس سے یہ پلیٹ فام رواں سہ ماہی مدت میں ہی ماہانہ 1000 آرڈرس تک رسائی حاصل کرنے کے قابل ہوجائے گا اور اگلی ایک چوتھائی تک اسے دوگنا کرسکے گا۔

بے کار پراڈکٹس اور سرویسز کا دیگر کے ساتھ تبادلہ peer to peer services کے ذریعے انجام دینے کے نظریہ ایک نئی قسم کی معیشت کو جنم دیا ہے۔ اس قسم کی اشتراکی معیشت میں Uber اور Ola کامیابی کی زبردست مثالیں ہیں۔

یہ بھی پڑھئے :  ممبئی کے ایڈٹک اسٹارٹپ Toppr میں Manch کا انضمام

پرائس واٹر ہاوس کوپرز (PWC) کی تازہ رپورٹ کے مطابق یہ اشتراکی معیشت عالمی وصولیات کو موجودہ لگ بھگ 15 بلین ڈالر سے 2025ءتک 335 بلین ڈالر تک بڑھانے کی قوت رکھتی ہے۔

یہ بزنس RentSher کے علاوہ کئی دیگر فرمس جیسے RentSetGo، GrabOnRent، RentoMojo اور Rentomo مختلف زمروں میں چلارہے ہیں۔

سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد کے ساتھ رنٹنگ پلیٹ فام فرمس کا فروغ اسی زمرے میں منحصر ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ہندوستان جیسے کمتر فی کس آمدنی والے ملک میں شیئرنگ اکانومی کے آئیڈیا کا پائیدار مستقبل ہوسکتا ہے۔

ویب سائٹ : http://www.rentsher.com/

قلمکار : توصیف عالم

مترجم : عرفان جابری

Writer : Tausif Alam

Translator : Irfan Jabri