افغان نوجوانوں کو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سے جوڑرہی ہیں' ایلن گیوہ'

0

انٹرنیٹ کے آغازسے ہی سوشل میڈیا کے ذریعہ تبدیلی کو متاثر کرنے کی کہانی شروع ہو گئی ہے۔ چنانچہ امریکی تاجر ایلن گیوہ بھی اسی کہانی کا حصہ ہیں جو اپنے اسٹارٹپ امپیشن میڈیا (Impassion Media ) کے ذریعہ انٹرنیٹ سے الگ پائے جانے والے سوشل میڈیا کا استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں ۔ ایک ڈیجیٹل میڈیا فرم کے طور پر قائم امپیشن میڈیا ان علاقوں میں جوجدوجہد کے دور سے گزر رہے ہیں' ٹیکنالوجی کے ذریعہ قیام امن اور جمہوریت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرنے کی کوشش میں ہے ۔ انہوں نے سب سے پہلے اپنے قدم رکھے ہیں بدامنی کے دور سے گزر رہے افغانستان میں' جہاں کی 30 ملین پر مشتمل بڑی آبادی میں سے 85 فیصد سے بھی زیادہ لوگوں کے ہاتھوں میں موبائل فون دستیاب ہے۔

'امپیشن افغانستان' ملک کی پہلی ڈیجیٹل ایجنسی ہے۔ اس کے تحت انہوں نے اور ان کی ٹیم نے پیوندگاہ کے عنوان سے افغانستان کی پہلی سٹی زن جرنلسٹ ویب سائٹ تیار کی ہے- اس کے علاوہ کئی دیگر سیاسی منصوبوں کا آغاز کیاہے ۔ ایک طرف جہاں ان کے کام نے افغانستان کے ماحول میں موجود ٹکنالوجی کومزید ماڈرن بنانے میں اہم ر ول ادا کیا ہے' وہیں دوسری طرف وہ خود بھی ایک بالکل ہی اجنبی ماحول میں زندگی گزارنے کافن سیکھنے میں کامیاب رہی ہیں ۔ ایلین کہتی ہیں: '' افغانستان وہ مقام ہے جہاں آکر میں نے حقیقت پسندی میں پختگی پائی ہے'' ۔

اپنے اس غیر معمولی کام کی وجہ سے ایلین کو سوشل میڈیا پر ورلڈ اکنامک فورم کے گلوبل ایجنڈا کونسل کے لئے منتخب کیا گیا ہے ۔ اب وہ اپنے اس تجربہ کا استعمال سرحدی بازاروں میں انٹرنیٹ کے استعمال کے ذریعہ ان علاقوں کے بارے میں بہتر معلومات حاصل کرنے اور انٹرنیٹ کے شعبہ میں دنیا بھر کے سرکردہ صنعتکاروں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چل رہی ہیں ۔

انہوں نے تفصیل کے ساتھ یوراسٹوری سے تبادلہ خیال کیا اور بتایا کہ اچانک افغانستان کے ایک سفر نے انہیں زندگی کے ایک مقصد سے کس طرح روشناس کروایا ؟ ان کے اسٹارٹپ کے ناکام ہونے کی امید ان کی کامیابی کا سب سے بڑا رازکیوں ہے؟ کس طرح ان ہندوستانی ملازمین صرف بالی وڈ کی فلموں کے سبب خصوصی درجہ حاصل کرتے ہیں؟ اور ان کی نظروں میں وہ تین سوال کیا ہیں جو کسی بھی کاروباری کو نیا راستہ دکھا سکتے ہیں ۔

ان کا بچپن کیسے گزرا؟

''میری پیدائش چین میں ہوئی اور میں صرف چار سال کی عمر میں امریکہ آ گئی ۔ میرے والدین تاجر پیشہ ہیں ۔ وہ اپنا سارا وقت اپنے کاروبار کے لئے ہی وقف کرتے تھے ۔ میری نظروں میں ان کے لئے کاروبار ایک دوسرا بھائی یا بہن تھی جسے وہ مجھ سے زیادہ چاہتے تھے۔ انہی وجوہات کی بنا پر کاروبار یا تجارت کے میدان میں نہ اترنے کے بارے میں سوچتے ہوئے بڑی ہوئی ۔ میری دلچسپی غیر منفعت بخش شعبہ میں کام کرنے میں تھی'' ۔

آپ نے آنٹرپرینرشپ کے میدان میں اترنے کا فیصلہ کب کیا؟

''میں جدوجہد اور عدم استحکام کے دور سے گزر رہے میدان میں کام کرنا چاہتی تھی لیکن مجھے اس بات کا کوئی اندازہ نہیں تھا کہ ایسا کس طرح کرنا ہے ۔ سال 2009 میں کالج کے دوسرے سال کے دوران حسن اتفا ق سی مجھے ایک ریسرچ اسسٹنٹ کے طور پر افغانستان جانے کا موقع ملا ۔ ایک بار وہاں قدم رکھنے کے بعد میرا سامنا امریکی فوج سے ہوا اور میں ان کے سائے میں تمام ملک کاسفر کرنے میں کامیاب رہی ۔ یہ میرے لئے ایک بڑے ثقافتی صدمہ کے مماثل تھا ۔ یہ صدمہ افغانستان کے لئے نہیں بلکہ امریکی فوج اور جنگ زدہ علاقوں میں ان کی سرگرمیوں کے تعلق سے تھا ۔ اس کے نتیجے میں امریکہ کی خارجہ پالیسی سے مجھے نفرت سی ہو گئی ۔ مجھے لگا کہ اس کام کو ایک بہتر طریقے سے انجام دیا جا سکتا ہے اور تبدیلی لانے کے اور بھی بہت سے بہتر طریقے اپنائے جا سکتے ہیں'' ۔

امپیشن افغانستان سے قبل افغانستان کے میڈیا میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی کیا حالت تھی؟

سال 2009 میں جب اشرف غنی صدارتی دوڑ میں تھے تب انہوں نے ایک بہت بڑا دکھاوا کیا ۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے لئے سوشل میڈیا کی حکمت عملی تیار کرنے ایک مغربی ملک کے مشیر کی مدد طلب کی ۔ یہ اپنے آپ میں ایک بہت بڑا تضاد تھا ۔ تاہم اس میں کچھ کامیابی ملی لیکن جتنی ملنی چاہیے تھی اس سے کم ۔ کیونکہ یہ ایک بڑا سودا ہوتے ہوئے بھی متضاد اور عجیب تھا ۔ میں ایسا اس لئے کہہ رہی ہوں کیونکہ اس سے پہلے سوشل میڈیا افغانستان کے باشندوں کے آپس میں اور بیرونی لوگوں کے ساتھ ہونے والے رابطوں کو تھوڑا بہت متاثر کرنے لگا تھا ۔

افغانستان کا ایک بڑا طبقہ بالخصوص نوجوان نسل فیس بک پر موجود ہے ۔ سال 2007 سے 2008 کے وسط میں کچھ بڑے دلچسپ تکنیکی منصوبوں پرعمل آوری ہو رہی تھی ۔ اگرچہ اس وقت یہاں ڈیجیٹل پر اتنا زور نہیں تھا ۔ اس وقت بہت ساری مواصلاتی ایجنسیاں موجود تھیں جو بل بورڈز' کتابچہ' سروس اناؤنس مینٹ اور یہاں تک کہ ٹی وی پروگراموں کے کام میں مشغول تھیں ۔ ڈیجیٹل پر کسی کی بھی توجہ مرکوز نہیں تھی ۔ میں نے تحقیقات میں اپنا کافی وقت صرف کیا اور اس نقطہ پر پہنچنے کے بعد جب مجھے لگا کہ اب افغانستان میں سوشل میڈیا اپنا ایک مقام بنا چکا ہے' میں نے یہ جوا کھیلنے کا فیصلہ کیا ۔

اس کے بعد میں دوسری بار افغانستان آئی ۔ اس دورہ میں میں مواصلات اور ڈیجیٹل حکمت عملی تیار کرنے کے کام میں مصرور ف ہو گئی ۔ مجھے اس کام کے لئے وہاں دو ماہ کے لئے رکنا تھا اور ساتھ ہی میں اسٹارٹپس پر کچھ ڈاکیومنٹری بھی تیار کر رہ تھی ۔ میرا ڈائریکٹر علحدہ ہو گیا اور میں صنعتکاروں سے بات کرتے ہوئے پورے ملک کے چکر لگا رہی تھی ۔ مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ مجھے تاجرین سے بات کرنا پسند ہے لیکن فلم بنانا بالکل ناپسند ہے۔ میں بات کرتے ہوئے کیمرے کو درمیان میں لانا پسند نہیں کرتی کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ وہ ایک طرح سے رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ ایسے میں ان مہینوں کے گزرنے کے ساتھ میں نے زندگی پر پھرسے غورکرنا شروع کر دیا ۔ میرے سامنے صنعت کاروں کو مدنظر رکھتے ہوئے فلمیں تیار کرنے اور فلمیں بنانے کو لے کر اپنی پسند اور ناپسندیدگی کے درمیان کشمکش یا پھر صنعتکاری کی طاقت پر یقین رکھتے ہوئے اصل میں سماجی اور اقتصادی سطح پر اس کے استعمال کرنے کے درمیان ایک متبادل راستہ تلاش کرنا تھا ۔ آخرکار میں نے اس ملک میں رہ کر سرمایہ کار کو منتخب کرنے اور اس کے ذریعہ تبدیلی کے اس تاریخی عمل کا ایک حصہ بننے کا فیصلہ کیا ۔

امپیشن کے علاوہ پیوندگاہ اور پہلے افغان سوشل میڈیا کانفرنس جیسے دیگر پروگراموں کے لئے فنڈز کا انتظام آپ کس طرح کرتی ہیں؟

'' ہماری کامیابی کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ افغانستان میں امپیشن کی بنیاد رکھنے سے پہلے ہی ہم اس کے ناکام رہنے کی امید کربیٹھے تھے۔ اسی وجہ سے ہم کافی خطرات لینے میں کامیاب رہے خاص طور پر مالیاتی شعبہ میں ۔ کیونکہ ہم اس سوچ کے ساتھ آگے بڑھتے رہے کہ اگر ہم کچھ پیسہ کھو بھی دیتے ہیں تو کوئی بڑی بات نہیں ہے ۔ آخر میں ہم کچھ نیااور مختلف کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ اگر ہم ناکام بھی رہتے ہیں تو ہم بہترین تجربہ حاصل کریں گے اور اس ملک کی بہتری میں اپنا کچھ حصہ ادا کرنے میں کامیاب رہیں گے'' ۔

اس سوچ کی وجہ سے ہم بہت حد تک وہ کرنے میں کامیاب رہے جو ہم کرنا چاہتے تھے۔ آخر کار ہم نے پہلے سوشل میڈیا سمیٹ کو منظم کرنے کے لئے امریکی وزارت خارجہ سے سرمایہ کاری کے لئے رابطہ پیدا کیا ۔ ہم کافی خوش نصیب ثابت ہوئے کہ ہمیں مطلوبہ سرمایہ کاری حاصل ہو گئی ۔

امپیشن افغانستان کس قسم کے تجارتی منصوبوں کو اپنے ہاتھ میں لینے میں کامیاب رہا ہے؟

'' ہم نے ایک معیاری ڈیجیٹل ایجنسی کے طور پر بہت کام کیا ہے ۔ ہم نے الجزیرہ کے لئے ایک سروے تیار کیا جس میں ہم 34 میں سے 32 صوبوں سے ردعمل حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ یہ ایک بہت ہی شاندار منصوبہ تھا ۔ کیونکہ اس کی وجہ سے ہم واقعتا افغانستان میں سوشل میڈیا کی طاقت کو جاننے میں کامیاب رہے۔ اس کے علاوہ ہم نے فیس بک پر یورپی یونین کی تشہیر بھی کی ۔ ہم نے نجی شعبہ کے بہت سے صارفین کے لئے اسپانسرشپ پیکجوں کا بھی اہتمام کیا ہے۔ یہ ایک ایسا ماڈل ہے جسے ہم جاری رکھنا چاہتے ہیں'' ۔

امپیشن کے ذریعہ افغانستان کی مزید دریافت کرنے کے لئے کن منصوبوں کو مرتب کر رہے ہیں؟

'' ہمارے پاس ملک کے پہلے اور سب سے بڑے سٹیزن جرنلسٹ فورم کے طور پر پیوندگاہ ادارہ ہے فی الحال ہماری مکمل توجہ اس کی توسیع پر ہے ۔ اصل میں صرف چند ماہ پہلے ہی ہم سب 34 صوبوں میں سٹیزن جرنلسٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں'' ۔

'' ہم افغانستان میں انٹرنیٹ صارفین کی ایک ڈائریکٹری بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ فی الحال انٹرنیٹ کا استعمال کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو کافی اطمنان بخش بات ہے ۔ ہم اسے مزید آگے لے جانے کی کوشش میں ہیں ۔ اس کا مطلب صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ آپ فیس بک پر ہیں اور آپ کے بہت سارے افغان دوست ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ افغانستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کی سوچ کو کس طرح تقویت پہنچاتے ہیں '' ۔

ایک ایسے ملک میں جہاں انٹرنیٹ ڈھانچہ بالکل خستہ حال ہے' وہاں پر انٹرنیٹ اسٹارٹپ چلانا کتنا مشکل ہے ؟

'' ہم نے ایک مستحکم انٹرنیٹ کنکشن اور بیک اپ کے نظام پر کافی پیسہ خرچ کیا ہے ۔ اس کے علاوہ اگر ہم افغانستان میں سوشل میڈیا کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ہم انٹرنیٹ کے مقابلے کچھ آگے کی بات کر رہے ہوتے ہیں ۔

آج کے دور میں موبائل فون سوشل میڈیا کا ایک بہت بڑا حصہ ہیں ۔ ٹیکنالوجی اور میڈیا کا بہت بڑا حصہ بلوٹتھ کے ذریعہ اشتراک ہوتا ہے جب بھی سوشل میڈیا کی بات ہوتی ہے تو زیادہ تر لوگوں کے ذہن میں فیس بک' ٹویٹر یا پھر ایسی ہی دیگر سائٹس کا نام آتا ہے تاہم یہ بھی سوشل میڈیا کا ہی ایک حصہ ہیں لیکن پھر بھی بہت کچھ ایسا موجود ہے جو صرف انٹرنیٹ پر ہی انحصار نہیں کرتا '' ۔

آپ ایک ایسے ملک میں بحیثیت خاتون ٹیم کی قیادت کر رہی ہیں جو خواتین کے تعین رویہ کے لئے بدنام ہے آپ کا تجربہ اب تک کیسا رہا ہے؟

'' ہمیشہ تو نہیں لیکن زیادہ تر مواقع پر افغان خواتین کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے ۔ میں نے ایک عورت ہونے سے پہلے ایک امریکی ہوں ۔ یہاں اس کا سیدھا مطلب ہے کہ دونوں دنیاؤں کے بہترین مواقع مجھے میسر رہے ۔ میں خواتین سیاستدانوں کے ساتھ کھانے کا حصہ بنتی ہوں جہاں مردوں کو مدعو نہیں کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ میں ان واقعات کا بھی حصہ بنتی ہوں جہاں خواتین کو آنے کی اجازت نہیں ہے ۔

آفس میں بھی کئی بار ایسے لوگوں سے ہمارا سامنا ہوتا ہے جو میرے اور دیگر خواتین منیجروں کے حقوق سے ناراضگی ہوتی ہے لیکن وہ ہماری کمپنی میں زیادہ دنوں تک ٹکتے نہیں ۔

اگر ہم ہندوستانی ملازمین اور افغانستان میں رہ رہے دوسرے ہندوستانیوں کے بارے میں بات کریں تو ان کے اور یہاں کے مقامی لوگوں کے درمیان ایک اچھا ثقافتی رشتہ ہے اور ایسا صرف بالی وڈ کی وجہ سے ہے ۔ جب بھی یہاں کے مقامی لوگوں کا یہاں رہنے والے ہندوستانیوں سے سامنا ہوتا ہے تو وہ خود ہی بالی وڈ کے گانے گنگنانے لگتے ہیں اور بس یہی سے باہمی احترام اور ایک مضبوط رشتے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔

افغانستان میں انٹرنیٹ کے دلدادہ نوجوان نسل کے تعلق سے آپ کا کیا خیال ہے؟

''عام طور پر افغانستان کو سیاسی عدم استحکام اور جدوجہد کے نظریہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ لیکن نوجوان افغانی کافی پر امید ہیں ۔ اس ملک میں ٹیکنالوجی کے میدان میں اسٹارٹپ شروع کرنے والوں کی تعداد اب کم ہی سہی لیکن موجود ہے اور وہ بہت پر امید ہیں ۔ حالانکہ انہیں کافی مشکل چیلنجوں اور مصائب کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ لیکن انہوں نے جو بھی پایا ہے وہ بہت حوصلہ بخش ہے'' ۔

جنگ زدہ علاقے میں اپنے کام کے لئے ذہانت کو تلاش کرنا کیسا تجربہ رہا ہے؟

'' شروع میں تو ہم ہر کام کے لئے مقامی لوگوں کو ہی اپنے ساتھ شامل کرنے کی کوشش میں تھے' لیکن وقت کے ساتھ ہم یہ سمجھنے میں کامیاب رہے کہ جس مہارت کی ہمیں ضرورت ہے وہ تو یہاں موجود ہی نہیں ہے ۔ چونکہ ہم ایک چھوٹا سا اسٹارٹپ تھے ' ہمارے لئے اس وقت مقامی لوگوں کو تربیت وغیرہ دینا ممکن نہیں تھا ۔ اب ہم ایسا کر پا رہے ہیں ۔ ایسے میں ہمیں باہر سے لوگوں کو بھرتی کرنا پڑا ۔ سیکورٹی کو دیکھتے ہوئے اچھے لوگوں کو تلاش کرنا کافی مشکل کام ہے '' ۔

اپنے کام کے ذریعہ متاثر کرنے کی کوشش کرنے والے تاجروں کو آپ کیا مشورہ دینا چاہیں گی؟

'' اسٹارٹپ کے میدان میں پاؤں رکھنے والے نوجوان آنٹرپرینرس کو میں صرف اتنا کہنا چاہوں گی کہ اسٹارٹپ ثقافت کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہاں پر ہر کوئی آپس میں دوست ہوتا ہے اور ایسا ہونا واقعی بہت ہی اہمیت کی بات ہے ۔ اصل میں کامیاب ہونے کے لئے آپ کو خود کو ایک رہنما کے طور پر تیار کرنے کی طرف توجہ دینی پڑتی ہے۔ اس کے لئے آپ کو کئی بار سخت فیصلے بھی لینے پڑتے ہیں ۔ ابتدائی مراحل میں مجھے لگتا تھا کہ میں قیادت کی ترقی پر توجہ ہی نہیں دے پا رہی ہوں ۔ جب آپ ایک کاروباری ہیں تو' آپ قدرتی طور پر ایک رہنما بھی ہیں ۔ اگر آپ خود کو ایک رہنما کے طور پر ثابت نہیں کر پا رہے ہیں اور تیار بھی نہیں ہو پا رہے ہیں توگویا آپ اپنی ٹیم کو نیچا دکھا رہے ہیں '' ۔

اس کے علاوہ میں تمام آنٹرپرینرس سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ اپنی ترجیحات کو طے کریں اور ان کے بارے میں سوچیں ۔ ایسی کون سی چیزیں ہیں جو بہترین ہوں؟ میں کن کاموں کو کرنا سب سے زیادہ پسند کرتا ہوں؟ وہ کون سے ایسے کام ہیں جو ایک بانی اور ایک رہنما کے طور پر صرف میں ہی کر سکتا ہوں؟ کئی بار یہ چیزیں کوئی اہمیت نہیں رکھتی ہیں ۔ آپ کو یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ آپ اپنا وقت کہاں صرف کرتے ہیں ۔ میری زندگی میں یہ تینوں سوال بہت ہی زیادہ اہمیت کے حامل ہیں ۔

قلمکار: راکھی چکرورتی

مترجم: شفیع قادری