غزل کی جانی پہچانی آواز........شرد گپتا

...اور پھر میں حیدرآباد لوٹ آیا

0

کون کہتا ہے کہ بددھو ہی لوٹ کے گھر آتے ہیں، کبھی کبھی ہوشیار لوگ بھی گھر لوٹ کے آ جاتے ہیں۔ ان کا گھر لوٹ کے آنا کامیابی کو پیٹھ دکھانا نہیں ہوتا، بلکہ صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کرنا بھی ہوتا ہے۔ حیدرآباد کے ممتاز غزل گلوکار شرد گپتا کی کہانی بھی یہی بتاتی ہے کہ پلے بیک گانے کی ایک بڑی دنیا کو چھوڑ کر وہ اپنے شہر واپس چلے آئے تھے۔ اس لئے بھی کہ وہ اپنے شوق کو دکھاوے کی چکاچوند کے حوالے نہیں کرنا چاہتے تھے اور نہ ہی اپنے خاندانی خوشی کو غیر یقینی صورتحال کے غبار میں گم کرنا انہیں اچھا لگا۔ گائیکی انہوں نے چھوڑی نہیں اور وکالت کو بھی اپنایا۔

شرد گپتا انپ جلوٹا کے شاگرد ہیں۔ وہ غزل اور زبور دونوں گاتے ہیں۔ ایک مختلف آواز کے مالک ہیں۔ وہ اپنے بارے میں بتاتے ہیں،

- پیشے سے میں وکیل ہوں۔ پریکٹس اچھے سے کر رہا ہوں۔ موسیقی میرا جذبہ ہے۔ اسی کی وجه سے میں ساری دنیا گھوما ہوں۔ موسیقی میرے پیشے میں دخل نہیں دیتی۔ 24 گھنٹے ہیں دن میں۔ اس میں میں موسیقی کے لئے وقت نکال ہی لیتا ہوں۔ دوسری طرف پیشہ بھی میرے نزدیک بہت اہم ہے۔ دیکھا جائے تو گائیکی اور وکالت کافی پینڈولم کی طرح ہے۔ ایک موضوع ایسا ہے، جس میں صرف، محبت، عشق، درد وفا، بہت نرم جذبے ہیں۔ دوسرا پیشہ ہے، جس میں صرف ٹیكنكالٹی ہے۔ وہاں جذبات کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ کاغذ قالم اور قانون پر چلنا ہے۔ وہاں آپ کسی کو سینٹمینٹ کے بنیاد پر جج نہیں کر سکتے۔ دوسری طرف موسیقی میں جذبات کی گہرائی ہے۔ رس ہی رس بھرا ہوا ہے۔

- شرد گپتا یوں تو بچپن سے ہی گانے کا شوق رکھتے ہیں، لیکن انہوں نے آج سے تقریبا 25 سال پہلے اسٹیج پر گانا شروع کیا تھا ۔ ان کے 18 البم آئے ہیں۔ جس میں بھجن اور غزل دونوں طرکی گائکی شامل ہے۔ حال ہی میں ان کا ایک اور ابلم 'کہنا اسے' بنا ہے۔ ساقب کمال صاحب کی کمپوجشن میں کئی نامی شاعروں کا کلام انہوں نے گایا ہے۔ خاص طور پر قیسرالجعفری کی غزل ۔۔

چاندنی تھا کہ غزل تھا کہ صبا تھا کیا تھا

میں نے ایک بار تیرا نام سنا تھا کیا تھا

اس خوبصورت غزل کے علاوہ ۔۔۔

اس طرح جائے نہ مجھ کو چھوڑ کر کہنا اسے

جی نہ پائے گا مجھ سے خفا ہوکر کہنا اسے

۔۔۔۔ سننے کے قابل ہیں۔ آپ کے ابتدائی زندگی اور گائیکی کے شوق کے بارے میں ۔ شرد بتاتے ہیں،

- میری عمر چھ سات سال کی تھی کہ میرے ماں باپ کو یہ پتہ چل گیا تھا کہ مجھے گانے کا شوق ہے، لیکن مجھ میں سنجیدگی نہیں تھی۔ گھر والوں نے موسیقی سکھانے کے لئے ایک ٹیچر بھی رکھا، لیکن کئی بار انہیں چائے ناشتہ دینے کے بہانے باتوں میں لگا دیتا تھا اور اسی میں سیکھنے کا وقت ختم ہو جاتا تھا۔ اسکول میں 9 ویں کلاس میں تھا۔ تب ایک پروگرام میں گانا گانے کا موقع ملا تھا۔ فیرویل پارٹی تھی۔ طلعت صاحب کی گائی ہوئی ایک غزل میں نے اس پروگرام میں گائی تھی۔ ۔۔۔ کس طرح سکون پاؤں تجھے دیکھنے کے بعد ۔۔۔ اس پروگرام میں کچھ لوگوں نے میری آواز پسند کی اور ماں سے کہا کہ موسیقی سکھانے کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ پھر ایک بار للتا كلاتورم میں میں نے گایا تھا، مسافر ہوں یارو ۔۔۔ کافی پسند کیا گیا تھا۔

شرد گپتا نے گلوکاروں کی بھیڑ میں اپنی الگ شناخت بنائی۔ بلکہ انہوں نے اپنے آپ کو نام نہاد مقابلہ آرائی سے بھی الگ رکھا۔ اس کا کریڈٹ ضرور مشہور غزل گلوکار انوپ جلوٹا کو جاتا ہے۔ اپنے استاد کے ساتھ کچھ یادگار لمحوں کو یاد کرتے ہوئے شرد بتاتے ہیں،

- میں انوپ جلوٹاجي سے 1986 میں ملا تھا۔ حیدرآباد میں ان کا كنسٹرٹ تھا اور اس کے بعد وہ کسی کے گھر پر ڈنر کے لئے رکے تھے۔ وہاں ان سے ملاقات ہوئی۔ جن کے گھر میں دعوت تھی، انہوں نے انپجي کے سامنے میرے گانے کا ذکر کیا۔ انہوں نے مجھے سنا۔ انہیں میں صرف ایک فنکار کے طور پر ہی جانتا تھا۔ ان کے بارے میں بہت زیادہ معلومات یا کشش جیسی کوئی بات نہیں تھی۔ اور میری ان سے پہلی ملاقات تھی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے ان کے سامنے۔۔۔ آج جانے کی ضد نہ کرو ۔۔۔ گایا۔ ان کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ تھی ۔۔۔ جیسے یہ کہہ رہے ہوں کہ ۔۔۔ دیکھو یہ بچہ میرے سامنے ۔۔ گانے کی کوشش کر رہا ہے ۔۔۔

 وہ اتنے بڑے عظیم آرٹسٹ، لیکن میری نامجھی یہی تھی کہ مجھے ان کی عظمت کے بارے میں بالکل پتہ نہیں تھا اور ان کی جادوئی شخصیت کا سرور مجھ پر چڑھا نہیں تھا۔ میں تو ایسے ہی گا رہا تھا، جیسے کسی اور کے سامنے گاتا ہوں۔ آج ان کے سامنے گانے کے لئے میرے ہاتھ کانپتے ہیں۔ انہوں نے میرے والدین سے کہا ۔۔ لڑکے کی آواز کچھ مختلف ہے۔ یہ بہت سوپر نہیں گا رہا ہے، لیکن یہ آواز پلے بیک اور غزل کے لئے بہت مناسب ہے۔ اس کے بعد میں انوپ جلوٹا سے ملنے ممبئی گیا تو پھر سرور چڑھنے لگا۔ تب میں ان کے حقیقی حیثیت سے آگاہ ہو گیا تھا۔ ان کا ریاض ان سے ملنے آنے والے لوگ اور ان کے پروگرام بہت ساری چیزیں دیکھ کر ان کی عظمت کا احساس ہونے لگا تھا۔

در اصل شرد کی کی طبیعت میں نرمی اور شرارت دونوں یكساں پائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ طویل عرصے تک شوقیہ گائیکی سے مطمئن ہوتے رہے۔ اپنے ان دنوں کی یادیں تازہ کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں،

- نظام کالج میں تھا تو مستی کا دور تھا۔ وہاں بھی سنجیدگی نہیں تھی، لیکن ایک دن رامكرشا مشن میں ایک بھجن کا پروگرام تھا انوپ جی آنے والے تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ ان کے آنے میں 15 منٹ تاخیر ہوگی، تب تک میں سنبھال لوں۔ میرے پاس بھجن کا بالکل کلیکشن نہیں تھا۔ میں نے کچھ تیاری کی اور گانے لگا۔ بہت اچھا رسپانس تھا۔ بہت سارے لوگ جو مجھے نہیں جانتے تھے، سمجھ بیٹھے کہ میں انوپ جلوٹا جی کا بیٹا ہوں۔ زندگی میں پہلی بار میں اسٹیج سے اتر کر آٹوگراف سائن کر رہا تھا۔ تب سمجھ میں آیا کہ گائیکی کی کیا اہمیت ہے۔ اس واقعہ کے بعد میری زندگی میں نیا موڑ آیا۔ اس کے کچھ دن بعد ہی مجھے لندن بلایا گیا۔ غلام علی خان صاحب کے پروگرام سے کچھ دیر پہلے مجھے گانے کے لئے کہا گیا تھا۔

گائیکی کا پیشہ آسان نہیں ہے ۔ بہت مشکل ہے، ڈگر پنگھٹ کی۔۔ مصداق ہزارولوگ میں سے کچھ کچھ کو ہی کامیابی کی بلندی نصیب ہوتی ہے۔ کچھ لوگ اپنا راستہ بلندی سے مختلف بنا لیتے ہیں تو کچھ بھیڑ میں کھوکر رہ جاتے ہیں۔ شرد گپتا ایک اچھے خاندان سے ہیں۔ انہیں مالی طور پر تو کوئی پریشانی یا مسائل نہیں تھے۔ لیکن کبھی کبھی سب کچھ ہو کر بھی بڑے فیصلے لینے پڑتے ہیں۔ ان کی زندگی میں بھی ایک ایسا وقت آیا، جب بڑا فیصلہ لینا پڑا۔ اس واقعہ کے بارے میں شرد بتاتے ہیں،

- ایک ایسا وقت بھی آیا جب مجھے اپنی زندگی کا بڑا فیصلہ لینا پڑا۔ انوپ جی کے کہنے پر میں کافی دن تک ممبئی میں رہا۔ سیکھنے کے دوران بہت سے موسیقی ڈائریکٹرز سے میری بات ہوتی تھی۔ ایک بریک مجھے ملنے والا تھا، جیسے منزل بالکل میرے سامنے ہو۔ اب فیصلہ یہ لینے کا تھا کہ حیدرآباد میں ہی رہنا ہے، یا ممبئی شفٹ ہو جانا ہے۔ میں نے اپنی بیوی اوربچچو کے ساتھ ممبئی شفٹ ہو جاتا ہوں۔ بچے دادا دادی سے بچھڈ جائیں گے۔ میرے ماں باپ کی عمر بھی بڑھ رہی تھی۔ کیا میں اپنے پروفیشن کے لئے مشترکہ خاندان کا ساتھ چھوڑ دوں۔ یا پھر پورا پروفیشن چھوڑ کے حیدرآباد چلا آؤں۔ پلے بیک کے لئے ممبئی میں رہنا ضروری ہے۔

 میں نے فیصلہ لیا کہ میں حیدرآباد میں ہی رہوں گا اور وہیں سے اپنی گائیکی کا شوق پورا کروں گا۔ کیونکہ ایک غیر یقینی پیشے کو خاندان پر ترجیح نہیں دے سکتا تھا۔ میری قسمت میں گائیکی ہے تو میرے ساتھ رہے گی اور نہیں ہے تو میں کتنا بھی اس کے پیچھے بھاگوں میرے ہاتھ نہیں آئے گی۔

شرد آج اس فیصلے کے ساتھ خوش ہیں اور موقع بموقع وکالت کے ساتھ ساتھ گائکی کا شوق پورا کر لیتے ہیں۔ 

........................

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں.

امرتا پریتم کی یاد میں...

حیدرآباد اورلکھنؤ کی بو باس میں بسی ہے غزل:پيناز مسانی

لامکان ...حیدرآباد کامنفرد ثقافتی مرکز 

كہانياں مجھے وراثت میں ملی ہیں. ماں، باپ، چچا، چاچی،خالہ، پھوپھی، نانی دادی، سب کی مختلف کہانیاں تھیں. اسی وراثت کو پاس پڑوس، دوست رشتہ دار، نکڑ، گلی، محلہ، شہر، ملک اور بیرون ملک کے چہروں میں چھپی کہانیوں کے ساتھ ملا کر پیش کر رہا ہوں۔ پسند آئے تو مسکرانا ضرور۔

Related Stories

Stories by F M SALEEM