چار مینار کے دامن میں ایرانی چائے اور عثمانیہ بسکٹ  کی لذت پروستے نمرہ کیفے اینڈ بیکری

نمرہ کیفے اینڈ بیکری نے اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے۔ یہ ہر خاص و عام میں مشہور ہے۔ یہاں کے ذائقہ سے لطف اندوز ہونے والوں میں وی آئی پی حضرات اور عام لوگ سبھی شامل ہیں۔

0

حیدرآباد دکن کی شہرت چار مینار کی وجہ سے ہے۔ چار مینار کے دامن میں مشہور و معروف ہوٹل نمرہ کیفے اینڈ بیکری ہے۔ یہ ہوٹل اپنی شہرت نہ صرف حیدرآباد بلکہ ہندوستان اور بیرون ملک بھی رکھتی ہے۔ صبح 4 بجے سے رات کے 11 بجے تک یہاں پر گاہکوں کا تانتا لگا رہتا ہے۔ نمرہ کیفے اینڈ بیکری نے اپنی بہترین خدمات کے ذریعہ سے نام کمایا ہے۔ آج یہ ایک ٹریڈ مارک کی حیثیت رکھتاہے۔ بیرون ملک یا اندرون ملک کوئی بھی شخصیت یہاں آتی ہے تو وہ صرف نمرہ کی چائے پینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہاں کے عثمانیہ بسکٹ اور ایرانی چائے کی خوشبو دور تک پھیلی ہوئی ہے۔

ہوٹل کے آغاز کی کہانی بھی دلچسپ ہے۔ چارمینار کے دامن میں ہوٹل کے آغاز سے پہلے اس کے مالک نے اور بھی کئی جگہ پر ہوٹل کا بزنس کیا تھا۔ ہوٹل کے بانی عبود بن اسلم عرف سلطان نے 1993ءمیں نمرہ کیفے اینڈ بیکری کا آغاز کیا۔ ان کے والد اسلم بن صالح 19 سال کی عمر میں یمن سے حیدرآباد آئے تھے۔ عبود بن اسلم نے 1967ءمیں ہوٹل بزنس میں قدم رکھا تھا۔ اس وقت انھوں نے القباءکے نام سے مغل پورہ میں ایک ہوٹل شروع کی تھی۔ اپنی محنت اور لگن سے کاروبار میں ترقی کی۔ اس ہوٹل نے بھی کم وقت میں بہت ساری کامیابیاں حاصل کی۔ نیلوفر کیفے اینڈ بیکری کے نام سے ریڈہلز پر بھی ایک ہوٹل کا آغاز کیا۔ پھر اس کے بعد انھوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اپنے کام کے ذریعے انھوں نے ہوٹل کی دنیا میں اپنا نام روشن کیا۔

نمرہ ہوٹل کے مینٹینس میں سلیم بن اذان شامل ہیں۔ عبود بن اسلم کے فرزند اسلم بن عبود بھی نمرہ ہوٹل سے جڑے ہوئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ”ہماری ہوٹل اپنی خدمات کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں گھر کر گئی ہے“۔

نمرہ کیفے اینڈ بیکری نے اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے۔ یہ ہر خاص و عام میں مشہور ہے۔ یہاں کے ذائقہ سے لطف اندوز ہونے والوں میں وی آئی پی حضرات بھی شامل ہیں۔ جیسے تلنگانہ کے پہلے وزیراعلیٰ کے چندرشیکھرراﺅ نے انتخابات کے دوران یہاں کا دورہ کیا تھا۔ اس تعلق سے اسلم بن عبود نے بتایا، ”کے چندرشیکھرراﺅ نے انتخابات سے قبل جب وہ یہاں کے دورہ کررہے تھے ہماری ہوٹل آئے اور انھوں نے یہاں پر 15 سے 20 منٹ تک وقت بتایا۔ یہاں کے چائے اور بسکٹ سے استفادہ کیا۔ یہاں آنے والوں میں وزیراعلیٰ آندھراپردیش چندرابابونائیڈو، حشمت جاہ اور بہت سارے لوگ شامل ہیں۔ ''

جب بھی کوئی چارمینار آتا ہے نمرہ ہوٹل ضرور جاتاہے۔ چار مینار دیکھنے والے سیاح بھی یہاں آکر ذائقہ دار چائے پی کر تروتازہ ہوجاتے ہیں اور یہاں کے ذائقہ کے گن گاتے نہیں تھکتے۔ نمرہ کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے 51 ہزار سے زائد مداح انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ جنھوں نے اسے پسند کیا۔ انٹرنیٹ پر اسے 4.9 رینک دیا ہے۔ سینکڑوں لوگوں نے اس پر اپنے تجربات شیئر کئے ہیں۔

دو لوگوں کی نمرہ ہوٹل کے بارے میں جو رائے اسے یوراسٹوری کے قارئین کے لئے پیش کرنا مناسب سمجھتاہوں ایک دہلی کے رمیش کمار سکھ پال ہیں جنھوں نے لکھا ہے”11اگست 2015ءکو تلنگانہ حیدرآباد میں چارمینار کے پاس نمرہ بیکری اینڈ کیفے کو گیا۔ زور سے بھوک لگی تھی ، چائے اور ڈرائی فروٹ بسکٹ کا ناشتہ کیا۔ دل خوش ہوگیا۔ اپنے ساتھ دو کلو ڈرائی فروٹ بسکٹ لے کر دلی لایا۔ آج ختم ہوگئے۔ دل کررہا ہے اڑکر جائیں اور ڈھیر سارے لے آئی۔ “

نکھل ریڈی نے لکھا ہے ”ہم ہمارے دوستوں کے ساتھ ہفتہ کے اختتام پر چار مینار جاتے ہیں۔ صبح4 بجے ہائی ٹیک سٹی سے نکلتے ہیں اور قریب 5 بجے چارمینار پہنچتے ہیں۔ یہاں پر چارمینار کے قریب نمرہ ہوٹل میں کافی رَش دیکھ کر ہمیں تھوڑی دےر رکنا پڑتاہے۔ جب 5منٹ بعد اندر جگہ خالی ہوئی تو ہم پھر اندر جاکر بیٹھ گئے اور یہاں کے چائے اور بسکٹ سے لطف اندوز ہوئے۔ اگر کوئی بھی علی الصبح چائے اور بسکٹ کا مزہ لینا چاہتے ہیں تو یہاں بہترین مقام ہے“۔

اسلم بن عبود نے بتایا کہ ”ہماری ہوٹل بلدیہ کے تمام اصولوں پر چلتی ہے۔ ذائقہ اور کوالٹی میں نمبر وَن رہنے کے سبھی معترف ہےں۔ پارکنگ وغیرہ کے لےے بھی انتظام کیا گیا ہے۔ “

مستقبل کے پلان کے بارے میں اسلم بن عبود نے بتایا کہ ”نمرہ ہوٹل کومزید نئے علاقوں میں توسیع دی جائے گی۔ اس کے برانچس دیگر مقامات عنقریب کھلنے والے ہیں۔ جہاں پر لوگ یہی ذائقہ کو پائےں گے“۔