جسے ماں کے پیٹ میں مارنے کی کی گئی تھی کوشش، اس نے لوٹایا  850 کا بچپن

0


کریتی نے قائم کیا 'سارتھی ٹرسٹ' ۔۔۔

850 سے زیادہ بچوں کی شادی کو روکنے میں کامیاب

بیٹیوں کا ماں کے پیٹ میں ہی ختم کیا جانا، جہالت کے دور کی پہچان رہی ہے، لیکن آج بھی یہ سلسلہ رکا نہیں ہے، لیکن کہا جاتا ہے کہ خدا جسے رکھے اسے کون چکھے، یہ کہانی ایسی ہی ایک خاتون کی ہے۔

جس معاشرے نے اسے پیدا ہونے سے پہلے موت کے حولے کرنے کی کوشش کی تھی، آج وہ اسی معاشرے کی سماجی برائی کو ختم کرنے کی کوشش میں سر گرم ہیں۔ بچپن کی شادی کو کے رواج کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

بات راجستھان کی کریتی بھارتی کی ہے، جسے بیٹی کے روپ میں جنم لینے کے پاداش میں قتل کرنے کے مقصد سے زہردے دیا گیا تھا۔ ، وہ آج بچپن کی شادی کا شکار ہوئے بچوں کو اپنی زندگی جینے کے مواقع فراہم کر رہی ہیں۔ راجستھان کے جودھپور میں رہنے والی 28 سال کی کریتی بھارتی راجستھان کو بچپن کی شادی کے رواج سے آزاد کرانےکے لئے کام کر رہی ہیں۔ وہ ملک کی پہلی خاتون ہیں جنہوں نے سال 2012 میں بچوں کی شادی کے قانون کو رد کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ ان کی یہ کامیابی 'لمکا بک آف ركارڈس' میں تو درج ہے ہی اس کے علاوہ مرکزی ثانوی تعلیمی بورڈ کے نصاب میں بھی ان کی کہانی کو شامل کیا گیا ہے۔

سال 2011 میں بچپن کی شادی رکوانے اور اسے قانونی طور پر رد کروانے کی مہم کے لئے سارتھی ٹرسٹ قائم کرنے والی کریتی پر کئی بار حملے بھی ہوئے ہیں، لیکن ان کے حوصلے میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ اب تک ان کی یہ ادارہ 850 سے زاید بچوں کی شادی روک چکا ہے۔ اگرچہ بچوں کی شادی روکنے کا کام حکومت سے لے کر کئی تنظیمیں کر رہی ہیں، لیکن بچوں کواس بوجھ سے باہر نکالنے کا کام 'سارتھی ٹرسٹ' اکیلے کر رہا ہے۔

اس کے علاوہ یہ تنظیم بچوں سے منسلک مختلف مسائل پر کام کرتی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ بچپن کی شادی کو منسوخ کرنے کے مقدمے کی پیروی کریتی نے خود کی ہے۔ اس کے علاوہ وہ بچوں کی مشاورت، خاندان والوں کی مشاورت اور ذات پنچوں کی مشاورت بھی کرتی ہیں۔ اتنا ہی نہیں جو بچے اس سماجی بیڑی سے باہر آنا چاہتے ہیں، کریتی اور ان کی ٹیم ایسے بچوں کی آزادی کا ذمہ اٹھاتی ہیں۔ کریتی کے مطابق "اگر کوئی پچپن کی شادی کو رد کرتا ہے تو معاشرے کے لوگ اسے نہیں مانتے۔ ان حالات میں متاثرہ بچوں کے حق میں لڑنا بہت ضروری ہے۔"

بچوں کو شادی کے تحت ہونے والے استحصال سے بچایا جا سکتا ہے۔ اگرچہ زیادہ تر لوگ یہ سمجھ نہیں پاتے کہ طلاق اور بچوں کی شادی کا رد ہونا دو مختلف چیزیں ہیں۔ بچوں کی شادی کو منسوخ ہونے کے بعد جس دن سے بچے کی شادی ہوئی ہے اس دن سے لے کر کیس کے آخری دن تک بچے کی شادی کینسل ہو جاتی ہے۔ وہ بچہ كنوارا ہی کہلاتا ہے۔ بچوں کی شادی کو منسوخ کروانا کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتا۔ باوجود بچوں کی شادی کو منسوخ کرنے کے لئے یہ لوگ سب سے پہلے بچے کے خاندان والوں سے بات کرتے ہیں، کیونکہ ایک بار اگر بچے کے والدین اس چیز کے لئے مان جاتے ہیں تو بچے کی مشکل تھوڑی کم ہو جاتی ہے۔ ۔ سب سے زیادہ مشکل ذات کے پنچوں کو سمجھانے میں آتی ہے، کیونکہ یہ ان کے معاشرے کی ناک کا سوال ہوتا ہے۔

قابل ذکر ہے ہے کہ لڑکا 24 سال کی عمر تک اور لڑکی 20 سال کی عمر تک اپنی بچپن کی شادی کو خود منسوخ کر سکتے ہیں۔

اس کام میں انہیں کافی دھمکیاں بھی ملتی رہی ہیں۔ کریتی اور ان کی ٹیم پر کئی حملے بھی ہوئے ہیں۔ وہ بتاتی ہیں، "مجھے یاد نہیں ہے کہ ایسا کوئی کیس رہا ہو، جس میں دھمکیاں نہیں ملی ہوں، لیکن ہمیں بچوں کو انچاہی مصیبت سے باہر نکالنا ہے تو یہ باتیں کوئی معنی نہیں رکھتی۔"

ان کی کوشش ہوتی ہے کہ دونوں طرفین باہمی رضامندی سے بچپن کی انچاہی شادی کو منسوخ کرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔ اگر دونوں طرفین مان جاتے ہیں تو بچوں کی شادی جلد رد ہو جاتی ہے لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا تو اس میں تھوڑا سا زیادہ وقت لگتا ہے۔ کریتی کا کہنا ہے کہ "اگر دونوں طرفین کا راضی کر کے میں نے اسی سال 3 دن کے اندر بچوں کی شادی کو منسوخ کیا ہے۔"

وہیں دوسری طرف جب کوئی بچہ ان کے پاس مدد کے لئے آتا ہے تو کریتی اور ان کی ٹیم ایک ساتھ دو محاذوں پر کام کرتی ہے۔ ایک طرف وہ جہاں بچپن کی شادی کو منسوخ کرنے کے لئے قانونی جنگ کے لئے تیاری کرتی ہیں تو دوسری طرف اس بچے کی بحالی پر بھی توجہ دیتے ہیں۔ اس کے لئے سب سے پہلے بچے کی بنیادی ضروریات پر توجہ دینا ہوتا ہے۔ اس میں بچے کی تعلیم، ووکیشنل ٹریننگ، ذریعہ معاش جیسی چیزیں شامل ہوتی ہیں۔ کریتی اپریل، 2012 سے اب تک 29 بچوں کی شادی کو منسوخ کروا چکی ہیں۔ یہ کریتی کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ راجستھان ایسی پہلی ریاست ہے جہاں سب سے زیادہ بچوں کی شادی کو منسوخ کیا جا سکا ہے۔ ان کا سارتھی ٹرسٹ کیمپ بھی لگاتا ہے۔ یہ کیمپ مختلف آنگن واڑی، اسکول، کالج یا عوامی مقامات پر لگائے جاتے ہیں۔ جہاں پر لوگوں کو نہ صرف معلومات فراہم کی جاتی ہے بلکہ یہ لوگ ایسے بچوں کو پہچاننے کی کوشش بھی کرتے ہیں جو بچپن کی شادی کے شکار ہوتے ہیں۔ اس کے بعد یہ لوگ اس بچے کو اس بات کے لئے تیار کرتے ہیں کہ وہ اس سے ہونے والے نقصان کو سمجھے۔ اس کے علاوہ یہ ٹرسٹ ایک ہیلپ لائن بھی چلاتا ہے، جہاں پر شکار بچے یا کوئی دوسرا ان تک بچوں کی شادی ہونے کی معلومات پہنچا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ میڈیا کے ذریعے جو کیس سامنے آتے ہیں ان ان پر بھی کاروائی کی جاتی ہے۔ کئی لوگ خود بھی مدد کے لئے ان کے پاس آتے ہیں۔

کریتی کی اپنی کہانتی بہت دردناک ہے۔ ان کے والد ڈاکٹر تھے، لیکن انہوں نے کریتی کی پیدائش سے پہلے ہی ان کی ماں کو چھوڑ دیا تھا۔ ایسے میں رشتہ دار نہیں چاہتے تھے کہ کریتی پیدا ہو اور ان کی ماں کو دوسری شادی کرنے کی سفارش کرتے تھے۔ پیدائش کے بعد بھی کریتی کی مشکل آسان نہیں ہوئی۔ بچپن میں انہیں زہر بھی دیا گیا، اس وجہ سے ان کی تعلیم درمیان میں چھوٹ گئی۔ لیکن ارادوں کی پکیّ کریتی آج بچوں کے حقوق کے تحفظ پر پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ بچپن کی شادی کے میدان میں ان کے کام کو دیکھتے ہوئے انہیں قومی اور بین الاقوامی سطح پر کئی ایوارڈ بھی ملے ہیں۔ حال ہی میں انہیں لندن میں وہاں کی حکومت اور تھامسن رائٹرز فاؤنڈیشن نے مل کر فیلوشپ سے بھی نوازا ہے۔ آج کریتی کی یہی خواہش ہے کہ معاشرے سے بچپن کی شادی کا رواج ختم ہو اور وہ صرف کتابوں میں پڑھا جائے کہ بچوں کی شادی جیسی کوئی چیز بھی اپنے وقت میں تھی۔

قلمکار ہریش بشٹ

ترجمہ – زلیخہ نظیر