مادری زبان دل کی زبان ہوتی ہے،اس میں بہت طاقت ہے: میناکشی لیکھی

0

رکن پارلینٹ میناکشی لیکھی نے کہا کہ ہندوستان کے نواجونوں میں میک انڈیا کو آگے بڑھانے توانائی ہے۔ نوجوان اپنے خود سے کئے ہوئے وعدے پورا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ان کے پیروں پر کھڑے کرنا ہی اسٹارٹپ انڈیا کے پیچھے حکومت کا خاص مقصد ہے۔

نئی دہلی سے ایم پی اور دہلی کی مشہور وکیل نے یور اسٹوری کے اسٹیج سے اپنی زندگی کے بہت سارے تجربات بتائے اور ہندوستان زبانوں سے محرومی کے نقائص اور ان کے جاننے کے فوائد پر آظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہندوستان میں میک انڈیا کے لئے نوجوانوں مالی کا تعاون بھی کر رہی ہے۔ کچھ کمپنیاں روپیہ بھی بنا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا۔''خوتین کا مختلف میدانوں میں اچھا کام کے لئے آگے آنا چاہئے۔ اس کے لئَے ان کے شوہر اچھے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ میری اپنی مثال ہے کہ میں اپنے شوہر پر انحصار رکھتی ہوں۔ اس لئَے سماج میں ذیادہ کام کر پاتی ہوں۔''

میناکشی نے کہا کہ کسی بھی کام میں ايمانداری بہت ضروری ہے۔ انہوںے یور اسٹوری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ہندوستانی زبانوں میں بہترین کام ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا،

''میں اس کی ہر کہانی کے ساتھ منسلک ہوں، ملک کو تبدیل کرنے والے آئیڈیا دینے والوں کو پلیٹ فارم دینا ضروری ہے۔ اور یور اسٹوری ایسا کر رہا ہے۔''

انہوں نے بیٹیوں کو بچانے کی مہم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال کے اندرانٹرنیٹ پر مہم چلائی گئی اورنوجوانوں میں اس کا خاصہ اثر دیکھا گیا۔ کئی لوگوں نےبچیوں کو پیدا ہونے دیا پیدا کرکے فخر محسوس کیا۔ یہ بہت بڑہ بات ہے۔ یور اسٹوری نے خوبصورت کہانیوں کو لوگوں کی زبان میں ان تک پہنچانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ اس کام کو تیزی سے آگے بڑھانا چاہئے۔

اہنی زبان کی اہمیت کا بتاتے ہوئے میناکشی لیکھی نے کہا کہ چاہے کسی کت دل سے تعریف کرنی ہو یا پھر کسی پر ناراضگی کا اظہار کرنا ہو تو اپنی زبان ہی سب سے بہتر ہے۔ گالی دینا ہو یا تعریف کرنا ہو۔۔ یہ کام انگریزی میں نہیں کیا سکتا۔ آپ خوش ہیں یاغمزدہ اپنی زبان میں ہی بات ہو سکتی ہے۔''

میناکشی نے دہلی کے گرینڈ ہوٹل میں یور اسٹوری کی جانب سے منعقدہ اجلاس میں کہا کہ یہ زبانوں کا بہترین پلیٹ فارم دیا ہے۔ انہوں نے بتایا،

''ملک کے 30 کروڑ لوگوں میں صرف 10 فیصد لوگ ہی انگریزمیں بات کرتے ہیں، لیکن انٹرنیٹ پر56 فیصد مواد انگریزی میں ہے۔ انہوںے کہا، نوجوانوں میں ملک کو تبدیل کرنے کی طاقت ہے۔انہیں ایک سے ذائد زبانیں سیکھنی چاہئے۔ اس سے ملک کے سمافی اور اقتصادی حالات بھی بدلیں گے۔ ''

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج (FACEBOOK ) پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem